دعوتشخصیات

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (دوسری قسط)

ڈاکٹر محسن عتیق خان

 اسلام کی نشرواشاعت

 اودھ میں اسلام کی روشنی شیخ مبارک بودلے ؒ کی ولادت سے کئی صدیوں قبل ہی پہنچ چکی تھی، اور مختلف مسلم گھرانے اودھ کے الگ الگ خطوں میں آباد تھے۔ اس خطے میں اسلام سب سے پہلے سید سالار مسعود غازی ؒ کے ذریعہ متعارف ہواجو محمود غزنوی کے ہمشیر زادے تھے۔ وہ اپنے ماموں کے ساتھ مختلف ہندوستانی مہمات میں شریک ہوئے اور اپنے ماموں کے برخلاف ہندوستان میں مستقل طورپر سکونت اختیار کرنا چاہتے تھے۔ محمودغزنوی کے ہندوستان چھوڑنے کے بعد وہ گیارہ ہزار فوج کے ساتھ ہندوستان کی حدود میں داخل ہوئے اور دہلی، قنوج، مانک پور، کڑا، سترکھا وغیرہ فتح کرنے کے بعد آخر کار 557؁ہجری بمطابق 1162؁ء میں بہرائچ کے قریب راجہ بالادت سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔۱۴؎

آپ کے کئی نائب سپہ سالاراودھ کے مختلف مفتوحہ علاقوں میں پھیل گیے اور وہیں آباد ہوئے مثال کے طورپر زکریا حسین نے جائس میں ۱۵؎ ، قاضی بدرالدین نے انہونہ میں ۱۶؎، خواجہ بہرام وخواجہ نظام نے صبیحہ میں ۱۷؎   اورملک یوسف نے امیٹھی میں سکونت اختیار کی۱۸؎۔ اس کے بعد اسلامی حکومت کے قائم ہونے پر مختلف جاگیردارانہ و زمیندارانہ گھرانے اس خطے میں آباد ہوئے اور اسی کے ساتھ صوفیاوعلما کا بھی ورود شروع ہواجنھوں نے اسلام کی نشر واشاعت کی غرض سے اس علاقے کا دورہ کیا اور ان میں سے بعضوں نے یہاں سکونت بھی اختیار کی مثال کے طور پرسید اشرف جہانگیر سمنانی، سید قطب الدین ثانی حسنی، شیخ نظام الدین نگلامی وغیرھم۔

 اشاعتِ اسلام کی مذکورہ بالا مساعی کے باجود یہ خطہ کفر وضلالت اور جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور یہ سرزمین کسی ایسے اسلامی مصلح داعی کے انتظار میں تھی جو یہاں پر بنیادی تبدیلی پیدا کرسکے۔ اللہ تعالی نے یہ سعادت شیخ مبارک بودلے ؒ کی قسمت میں لکھی تھی جنھوں نے اپنے ارد گردپھیلی ہوئی تاریکی اور جہالت کو محسوس کیا، اس لیے  خانقاہ کی ذمہ داری سنبھالنے اور مسند ارشاد پر متمکن ہونے کے بعدآپ نے روایتی انداز میں خانقاہ میں گوشہ نشینی اختیار کرنا پسند نہ کیا بلکہ خانقاہ سے باہر نکل کر میدان عمل میں قدم رکھا اور قرب وجوار میں پھیلی ہوئی کفر وجہالت کی تاریکی دور کرنے اور اسلام کی روشنی کو مزید پھیلانے کی کوشش کی۔ آپ نے مختلف گھرانوں کو اسلام کے نور سے منور کیا، اور کئی چیدہ اشخاص کو اسلام کا سیدھا اور سچا راستہ دکھایا جن کی نسلیں آگے چل کر امت محمدیہ کا ایک حصہ بنیں ۔

کن لوگوں نے آپ کی دلی دعائوں اور دعوتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام قبول کیا؟ان کے کیا نام تھے؟ان کی کیا تعداد تھی؟وہ کس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے؟اس سلسلہ میں علامہ عبدالحئی حسنی ؒ نے صرف اشارہ کیا ہے کہ ’’وقد أسلم علی یدیہ جماعۃ من مرازبۃ اودھ‘‘۱۹؎  یعنی آپ کے دست مبارک پر زمینداران اودھ کی ایک جماعت نے اسلام قبول کیا، البتہ اس جماعت کی قدرے تفصیل ہمیں تاریخ جائس میں ملتی ہے۔ عبدالقادر خان صاحب نے تاریخ جائس میں اودھ کے پانچ ایسے  اہم راجائوں کے نام گنائے ہیں جو آپ کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۲۰؎۔ ان پانچوں راجائوں کے نام تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں ، اور ان کی ریاستوں پر ایک نظر ڈالنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نشرواشاعت کے سلسلے میں حـضرت مبارک بودلےؒ کا میدان عمل مشرق میں سلطان پور، مغرب میں لکھنؤ،جنوب میں رائے بریلی وفتح پور اور شمال میں فیض آباد جیسے شہروں تک وسیع تھا۔

   ان چاروں شہروں کے وسط میں پڑنے والے علاقے کی مسلم آبادی کا ایک معتد بہ حصہ ان خاندانوں اور گھرانو ں پر مشتمل ہے جن کے آباء واجداد آپ کے دست مبارک پر اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے تھے۔ذیل میں ان پانچوں راجائوں کا تذکرہ پیش ہے جو آپ کے دست مبارک پر اسلام لائے تھے۔

1۔ تاتار خان کا قبول اسلام :

 راجپوتوں کی بچگوٹی چوہان نسل سے راجہ تاتارخان نے آپ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا، جن کا غیر اسلا می نام تلوک چند تھا۔ راجہ تاتار خاں اودھ کے سب سے طاقتور راجا تھے۔ ان کی سلطنت کی حدود شمال میں دریائے گھاگرا جنوب میں دریائے گنگا مشرق میں جونپور واعظم گڑھ اور مغرب میں لکھنؤ تک وسیع تھیں ۔تاتار خاں کی سلطنت میں دس راجہ اور دو چودھری تھے جو ان کی سیادت کو تسلیم کرتے تھے۔ اس لئے کہ اودھ کے رجواڑوں میں تلکوتسو کے موقع پر قشقہ (تلک)لگا کر نئے راجہ کی تخت نشینی کے اعلان کا حق انہیں کوحاصل تھا۔۲۱؎

  تاتارخان کے اسلام قبول کرنے سے سارے خطے میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، اور ایسا لگا جیسے راجگان اودھ کے سرپر پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔ بیسواڑے کے ایک راجہ دیورائے نے قسم کھائی کہ ان کی آنے والی نسل تلکوتسو کے موقع پر راجہ تاتارخاں یا ان کی اولاد کی خدمات نہیں حاصل کرے گی، اور انہوں نے اپنے دوسرے لڑکے کو راجا کے لقب سے نوازا اور اپنے خاندان میں تلک لگانے کی ذمہ داری اس کے سپرد کی۔۲۲؎

  باستثناء بیسواڑے کے راجہ دیو رائے،اودھ کے دیگر رجواڑوں میں تاتارخان اور ان کی نسل کے سرداران قوم، جو آگے چل کر حسن پور کے دیوان کی حیثیت سے مشہور ہوئے، کا وہی امتیاز باقی رہا جو قبل از اسلام تھا،چنانچہ ارور کے سوم بنسی سرداران، رام پور کے بیسن، تلوئی کے کنہپوریا اور امیٹھی کے بندھلگوٹی جب تک حسن پور کے دیوان کے ہاتھوں سے تلک نہ لگوالیتے تھے اپنے اسلاف کے اختیارات کو استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے۔۲۳؎

  راجہ تلوک چند کے اسلام لانے کے سلسلے میں ایک غلط روایت عام ہے جسے ولیم چارلس بینٹ (W. C. Benett) نے گزیٹیئر آف اودھ کی تیسری جلد میں نقل کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’تلوک چند بابر کے ہم عصر تھے۔ بابر نے اپنی ایک مشرقی مہم کے دوران ان کو گرفتار کر لیا اور ان کو اختیار دیا کہ یا تو اسلام قبول کر کے پروانۂ آزادی حاصل کریں یا اپنے پرانے مذہب پر برقرار رہ کر غیر متعینہ مدت تک قید کی صعوبتیں برداشت کریں ۔قبول اسلام میں سبقت کرنے والی بہت سی قابل احترام شخصیات سے مشورے کے بعد جب آپ نے اسلام قبول کر کے آزادی حاصل کرنے کو ترجیح دی تو آپ کوغایت درجے احترام کے ساتھ آزاد کر دیا گیا اور خان بہادر کے لقب سے نوازا گیا،اور آپ کا نام بدل کر تاتارخان رکھا گیا۔‘‘۲۴؎

 پروفیسر تھامس آرنالڈ (Thomas Arnold)نے بھی مذکورہ بالا واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔مگر اس کے بعد ایک دوسرا واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ایک روایت کے مطابق تلوک چند کو بابر نے قید کر لیا تھا اور قید سے رہائی حاصل کرنے کی غرض سے تلوک چند نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ دوسری روایت کے مطابق تلوک چند نے ہمایوں کے عہد میں اسلام قبول کیا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمایوں نے جب تلوک چند کی اہلیہ کے حسن وجمال کی بڑی تعریفیں سنیں تو اسے اٹھوالیا۔ لیکن جب وہ ان کے پاس لائی گئی تو ہمایوں کا ضمیر جاگ اٹھااور اسے اپنی حرکت پر پشیمانی ہوئی۔ اس نے فورااس کے شوہر تلوک چند کو بلوا بھیجا۔ تلوک چند جنہوں نے اپنی اہلیہ کو دوبارہ نہ دیکھنے کی قسم کھائی تھی۔ ہمایوں کا حسن سلوک دیکھ کر اس کا مذہب یعنی اسلام قبول کر لیا، جس نے اسے ایسی سخاوت اور پاکی سکھائی۔ ‘‘۲۵؎

  تلوک چند یعنی تاتار خاں کے تین صاحبزادے تھے ایک فتح شاہ جو قبول اسلام کے واقعے سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور اپنے اسلاف کے قدیم مسلک پر قائم رہے، ان کی اولاد سلطانپور میں دھمور کے علاقے میں آبادتھی۔ دوسرے صاحبزادے جلال خان اور تیسرے بازید خان تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد پیدا ہوئے تھے اس لئے اسلامی تربیت پائی۔ انہوں نے اپنے والدکے لقب خان کی بنا پر اپنے لئے بطورفخرخانزادے کا  نیا لقب اختیار کیا۔

 بازید خان کے صاحبزادے حسن خان کافی شہرت اور جاہ کے مالک ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ شیر شاہ سوری نے بنگال سے دہلی کی طرف کوچ کرنے کے دوران ان کے یہاں قیام کیاتو انہوں نے شیر شاہ کے شایان شان خاطر تواضع کی اور بیش بہا ہدیے وتحائف ان کی خدمت میں پیش کئے، اور اس کے علاوہ اپنی ایک بیٹی بھی ان کی نکاح میں دی۔شیر شاہ حسن خان کی مدارات سے انتہائی خوش ہوا اور ان کو راجا کے لقب سے نوازا، اور انہیں مزید اختیار دیا کہ وہ بنودھا (اودھ) کی حدود میں جس کو چاہیں راجا کے لقب سے نواز سکتے ہیں ۔حسن خان نے ریوا کے راجہ کو شکست دے کر تمام اودھ میں اپنی عظمت وبرتری کا احساس کرادیا تھا۔حسن خان کے بعد وہ شان وعظمت ان کے خاندان کے کسی فرد کو حاصل نہیں ہوئی، البتہ ہر ایک نے اپنی اہلیت ولیاقت اور قائدانہ صلاحیت کے لحاظ سے خاندان کی عظمت کو برقرار رکھنے کوشش کی۔اس خاندان کے قائد حسین علی نے22مارچ 1857ء؁ کی سلطان پور کی  جنگ میں انگریزوں کے خلاف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور باغی فوج کی قیادت کی تھی، اور اس میں ان کا ایک لڑکا بھی شہید ہوا تھا۔۲۶؎

حسن خان نے شیر شاہ سوری کے ہی دور میں حسن پور نامی ایک قصبہ آباد کیا جو سلطان پور کے مغرب میں تقریبا چار میل کے فاصلے پر، لکھنؤ -سلطانپور قومی شاہراہ کے شمال جانب آباد ہے۔ حسن پور اور منیار پور کے تعلقے آخر تک آپ کی نسل میں برقرار رہے۔۲۷؎

2۔ راجہ ملک پال کا قبول اسلام:

سلطان پور ضلع کی بھالے سلطان نسل سے پالہن دیو نے حضرت مبارک بودلے ؒکے دست مبارک پر بعہد شیر شاہ سوری اسلام قبول کیا اور اپنا نام بدل کر ملک پال رکھا۔۲۸؎  ولیم کروک (William Crook)نے بھالے سلطانوں کی نسل سے راجہ بارم دیو کے اسلام لانے کا تذکرہ کیا ہے۔۲۹؎  جب کہ ولیم چارلس بینٹ نے رائے دودھیچ کے قبول اسلام کا ذکر کیا ہے۔۳۰؎ لیکن درحقیقت اسلام پالہن دیو نے ہی قبول کیا تھا، اسلئے کہ رائے دودھیچ اور بارم دیو مشہور بھالے سلطان راجہ رائے برار کے صاحبزادے تھے اور ان دونوں کی اولاد اپنے قدیم ہندو مذہب پر برقرار رہی، جبکہ پالہن دیو، بارم دیو کے لڑکے تھے اور سلطان پور کے مسلم بھالے سلطان انہی کی نسل سے ہیں ۔ ۳۱؎  پالہن دیو کی نسل میں ایک مشہور راجہ نہال خان ہوئے جنہوں نے1126؁ھ بمطابق 1715ء؁ میں جگدیش پور کے پاس نہال گڑھ نامی ایک  مضبو ط قلعہ بنایاتھا۔ اس قلعہ کی جگہ پر آباد نہال گڑھ نامی گائوں آج جگدیش پور میں شامل ہے،اور یہاں کا ریلوے اسٹیشن انھیں کے نام پر نہال گڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔نہال خان کے چچا زاد بھائی میغل خان نے انہونہ کے جاگیر دار کی مدد سے  1157؁ ھ مطابق1745ء؁ میں نہال خان کو راج گدی حاصل کرنے کی غرض سے قتل کر دیا تھا۔۳۲؎

3۔  راجہ باز سنگھ کا قبول اسلام:

 مشہور روایت کے مطابق راجہ باز سنگھ نے شیر شاہ سوری کے عہد میں شیخ مبارک بودلے ؒکے دست مبارک پراسلام قبول کیاتھا۔راجہ باز سنگھ کے دادا کرن سنگھ مین پوری پرگنہ کے بھینسول نامی قصبہ کے چوہان راجپوت سردار جگت سنگھ کے صاحبزادے تھے، اور راجہ بنار شاہ کے ساتھ گڑیو کی مہم میں شریک تھے۔ فتح وکامرانی کے حصول کے بعد بنار شاہ کے صاحبزادے ٹیپوراوت کی اکلوتی صاحبزادی سے آپ کی شادی کر دی گئی۔ چونکہ ٹیپوراوت کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اس لئے ان کے حصے کے بیالس گائوں کرن سنگھ کو وراثت کے طور پر ملے، جو ان کے صاحبزادے کنور سنگھ اور پھر ان کے پوتے باز سنگھ کو منتقل ہوئے۔

جب باز سنگھ اسلام لائے تو یہ بات شاہی دربار تک پہونچے بغیر نہ رہ سکی اور شیر شاہ سوری نے آپ کی قدر کرتے ہوئے آپ کو خان اعظم بھینسولیان کے لقب سے نوازا۔باز سنگھ کی اولاد خوب پھلی پھولی اور ان کے دادا کرن سنگھ کے وطن بھینسول کی نسبت سے پہلے بھینسولیان پھر آگے چل کر بھرسیاں کے نام سے معروف ہوئی۔آئین اکبری میں ان کی نسل کا تذکرہ نو مسلم چوہان کے نام سے کیا گیا ہے،جو انہونہ پرگنہ کی مالک تھی۔ آپ کی نسل میں بہوا کا تعلقہ آخر تک برقرار رہا، جو چوبیس گائوں پر مشتمل تھا۔۳۳؎

 صاحب تاریخ جائس نے باز سنگھ کے بجائے محمد عالم خاں کے اسلام لانے کا تذکرہ کیا ہے جو غالبا باز خاں کے صاحبزادے تھے۔ لیکن دراصل محمد عالم خاں ایک صوفی بزرگ عالم تھے اور شیخ مبارک شاہ بودلے ؒکے خلفاء میں سے تھے۔عالم خاں کے صاحبزادے بھیکھی خان نے جب گدی سنبھالی تو بھیکھی پور نامی قصبہ آباد کیاجہاں آج بھی بھرسیّوں کی کثیر تعداد آباد ہے۔۳۴؎

4۔  راجہ ڈینگر شاہ کا قبول اسلام:

 حیدر گڑھ وانہونہ کے نواح میں آباد گڑیو کی بیس راجپوت قوم سے ایک راجہ نے شیخ مبارک شاہ بودلے ؒکے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۳۵؎۔ اس قوم سے کس شخص نے اسلام قبول کیا اس بارے میں مختلف نام اور روایات تاریخ کی کتابو ں میں درج ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں :

٭  نعیم اشرف جائسی نے  اس خاندان کے جد اعلی بنار شاہ کے پو تے ساتن رائے کے اسلام لانے کاتذکرہ کیا ہے۳۶؎؎

  ٭  عبدالقادر خان جائسی نے ساتن رائے کے صاحبزادے دیاچند کے حضرت مبارک شاہ بودلے کے دست مبارک پر اسلام لانے کا تذکرہ کیا ہے۳۷؎؎۔

   ٭  جناب اے ایف ملیٹ(A.F.Millet)نے بنار شاہ کے پڑپوتے بھرت سنگھ کے شیر شاہ کے عہد میں اسلام لانے کا تذکرہ کیا  ہے۔۳۸؎۔

  ٭      مسٹر ڈبلیو سی بینٹ(W.C. Benett)نے بھی ملیٹ کی اتباع کرتے ہوئے بھرت سنگھ کا ہی تذکرہ کیا ہے،اور اس واقعہ کو گڑیو کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ قرار دیا ہے۔۹ ۳؎؎۔

 ٭   بیس چھتری اتہاس۴۰؎، اور اس علاقے کی عام روایت کے مطابق جناب ڈینگر شاہ نے شیر شاہ سوری کے عہد میں حضرت مبارک  بودلے کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا۔

  جہاں تک ساتن رائے کا تعلق ہے تو اشرف جہانگیر سمنانی ؒ سے ان کی ملاقات کا تذکرہ لطائف اشرفی  میں ملتا ہے لیکن ان کے اسلام لانے کی طرف کہیں کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے،بلکہ لطائف اشرفی میں مذکور واقعہ ان کے اسلام نہ قبول کرنے پر صراحتا دلالت کرتا ہے۴۱؎،اس کے علاوہ بیس چھتری اتہاس اور دوسرے ذرائع سے حاصل کردہ شجر ہائے نسب سے پتہ چلتا ہے کہ ساتن رائے کے سارے صاحبزادگان اپنے قدیم مسلک پر قائم رہے۔اور اسی طرح ان کے صاحبزادے دیا چند کی اولاد بھی اپنے قدیم مذہب پر قائم رہی اسلئے ان دونوں کے اسلام لانے کا واقعہ صحیح نہیں ہے۔

 جہاں تک بھرت سنگھ کا تعلق ہے تو راقم الحروف کو بنار شاہ کی اولاد کے شجرئہ نسب میں بھرت سنگھ نام کہیں بھی نظر نہیں آیا۔جیسا کہ اوپرذکر کیا گیا، بیس چھتری اتہاس اور اس علاقے کی عام روایت کے مطابق اس خاندان سے جناب ڈینگر شاہ نے شیر شاہ سوری کے عہد میں شیخ مبارک بودلےؒ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا،اور یہی صحیح ہے اس لییٔے کہ ان کی اولادکے نام اسلامی پاے جاتے ہیں ۔

 یہاں پر اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بھرت سنگھ اور ڈینگر شاہ دونوں نام ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال ہوتے ہوئے پائے گئے ہیں اس لیٔے غالب گمان یہ ہے کہ بھرت سنگھ ڈینگر شاہ کا اصل نام رہا ہوگا،جیسے کہ بنار شاہ کا اصل نام پرتاپ شاہ تھا۔اس کی تصدیق وہاب خاں اور سلامت خاں کے واجب العرض سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے ڈینگر شاہ کی جگہ پر بھرت سنگھ کا نام لکھا ہے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا ۴۲؎،جبکہ اس خاندان میں ڈینگر شاہ کے اسلام لانے کا ہی تذکرہ ملتا ہے۔

  ڈینگر شاہ راقم الحروف کے جد اعلی تھے،اور ان کی نسل لکھنؤ -سلطان پور قومی شاہراہ پر واقع قصبہ انہونہ کے جنوب مغرب میں تقریبا سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع موضع ساتن پوروہ اور اس کے چھ ذیلی گائووں میں آباد ہے، جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں ۔گڑھی واصل،گڑھی اللہ داد،گڑھی محکم، گڑھی دلاور،بنگرہ اور پورے ٹھکرائن۔

5۔  عجب سنگھ:

 صاحب تاریخ جائس نے بیسواڑے کی تلوک چندی بیس قوم کے ایک سردار کے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کیا ہے مگر انکا نام ذکر نہیں کیا ہے۴۳؎۔غالبا ان کی مراد عجب سنگھ یا ان کے تینوں لڑکوں رحمت علی، عنایت علی اور رستم علی سے ہے جو مسلمان ہو گئے تھے، مگر ان کی اولاد صحیح اسلامی تربیت وہدایت نہ ملنے اور خاندان کے ظلم وجور کی وجہ سے پھر اپنے قدیم ہندو مسلک پر واپس آگئی تھی۔۴۴؎

 مذکورہ بالا پانچوں راجگان جو شیخ مبارک بودلےؒ کے دست مبارک پر اسلام سے مشرف ہوئے،صوبہ اودھ والہ آباد کے عمدہ ترین رؤساء میں سے تھے اور علاقے کے سب سے بااثر خانوادوں سے تعلق رکھتے تھے۴۵؎۔ ان حضرات کے علاوہ دیگر اشخاص بھی آپ کی کوششوں سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، اس لئے کہ مذکورہ بالا راجگان کی نسل سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ اور بھی بہت سے گھرانے ایسے ہیں جو نو مسلم ہیں اور شیخ مبارک بودلے ؒکے خانوادے سے آج بھی ارادت رکھتے ہیں ،مگر چوں کہ اس سلسلے میں زبانی روایات کے علاوہ اور کوئی معلومات مہیا نہیں ہیں اس لئے اسے قلم انداز کیا جاتا ہے۔

شیخ مبارک بودلے ؒ کی وفات:

 شیخ مبارک بودلے ؒ اسلام کی نشر واشاعت اور تعلیم وتعلم سے پر ایک طویل زندگی، جو بابر، ہمایوں ، شیر شاہ اور اکبر کے پرشکوہ ادوارِ حکومت پر محیط ہے، گزارنے کے بعد 974ھ؁ بمطابق 1566ء؁ میں اکبر کے عہدحکومت میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے، اور خانقاہ اشرفیہ، جائس کے احاطے میں اپنے داداحاجی قتال اور والد محترم جلال اول کے پہلو میں مدفون ہوئے۔۴۶؎

اخلاق و عادات:

 شیخ مبارک بودلےؒ زہدو تقوی میں اپنی مثال آپ تھے اور شب و روز عبادت میں مشغول رہتے تھے۔جذب کی کیفیت بھی آپ سے منسوب کی جاتی ہے جس کی وجہ سے حکماء نے آپ کے لئے عرق کوکنار نوش کرنا تجویز کیا تھا۔۴۷؎

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی:

 شیخ مبارک بودلے ؒ کو اللہ تعالی نے کئی اولادسے نوازا، مگر سب آپ کی زندگی ہی میں فوت ہوگئیں ۔آخر کار خدا تعالی کی عنایت سے ایک اور فرزند ار جمند پیدا ہوا، جس کا نام آپ نے اپنے والد کے نام پر جلال ثانی رکھا۔شیخ جلال اپنے والد کی طرح بڑے عالی أوصاف درویش صفت بزرگ تھے۔ انہوں نے اپنی تمام عمر عبادت وریاضت میں بسر کی اور رشد وہدایت کے کام میں لگے رہے۔جناب شاہ جلال ثانی کے سات بیٹے ہوئے جن میں سے دو یعنی شاہ مبارک ثانی اور شاہ ولی اشرف مسند ارشاد پر متمکن ہوئے۔ شیخ مبارک شاہ بودلےؒ کے بھائی شاہ کمال کی نسل بھی آگے پروان چڑھی اور دونوں بھائیوں کی اولادیں آج بھی جائس میں آباد ہیں ۴۸؎،مگر اسلام کی نشر واشاعت کا جوجذبہ آپ کے اندر تھا وہ پھرآپ کے بعد کسی میں نہ دکھا البتہ علمی تبحر کے معاملہ میں چند اشخاص کے نام گنائے جا سکتے ہیں ،جنہوں نے اپنی تعلیمی لیاقت کی وجہ سے کافی شہرت پائی،مثال کے طور پرمولانا شاہ غلام اشرف عرف ملاباسو، مولانا سید محمد باقرفاضل جائسی اور مولانا اشرف علی عرف ملا علی قلی جائسی۔

 شیخ مبارک بودلے ؒ کے انتقال کے بعد آنے والی نسل اخلاق واعمال کے زوال سے دوچار ہوئی۔ ایک طرف ان کے عقائد نے ہندوستانی رنگ اختیار کیا، تو دوسری طرف ہندوستانی روایات نے اسلامی اقدار کی جگہ لینی شروع کردی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تعلیم وتبلیغ اور ارشاد وہدایت میں مشغول ہونے کے بجائے عرس وفاتحہ اور محرم وعزاداری کے مراسم میں الجھ کر رہ گئی۔ اللہ تعالی آپ کی اولاد کو صراط مستقیم پر چلنے اور آپ ہی کی طرح اسلام کی نشرواشاعت میں خاطر خواہ حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

حوالہ جات

 ۱۴؎  الحسنی، عبدالحئی، نزہۃ الخواطر، ج۱،دار ابن حزم،بیروت، 1999ء؁؁،ص80

۱۵؎   ایضا،ص81

Benett, William Charles, Gazetteer of the  Province of Oudh Vol. 2 , North Western  ؎۱۶

Provinces  and Oudh Government Press, Allahabad, (1877), page no. 90

۱۷؎     Benett, William Charles, Gazetteer of the Province of Oudh Vol. 3, North Western Provinces and Oudh Government Press, Allahabad, (1877), page no. 402

۱۸؎     Benett, William Charles, Gazetteer of the Province of Oudh Vol. 1,Oudh Government Press, Allahabad, (1877), Page No.42.

۱۹؎   الحسنی، عبدالحئی، نزہۃ الخواطر، ج۴،دار ابن حزم، بیروت، 1999ء؁؁، ص402

 ۲۰؎  خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص22-23

۲۱؎   ایضا،ص23

۲۲؎   Elliot, Charles Alfred, The Chronicles of Oonao, Allahabad Mission Press, Allahabad (1862), Page No.70

۲۳؎   Crook, William, The Tribes and Castes of the North Western Provinces and Oudh, vol 1,Office of the Superintendent of

Government Printing, Calcutta, (1896), Page No.95

۲۴؎   Benett, William Charles, Gazetteer of the Province of Oudh Vol. 3, North Western Provinces and Oudh Government Press, Allahabad,(1878) Page No.465

۲۵؎   Arnold, Thomas, The Spread of Islam in the World, Good Books, New Delhi,(2008) Page No.259-260

۲۶؎   Benett, William Charles, Gazetteer of the Province of Oudh Vol. 3, North Western Provinces and Oudh Government Press, Allahabad, (1878) Page No.466-468

 ۲۷؎  Benett, William Charles, Gazetteer of the Province of Oudh Vol. 2, North Western Provinces and Oudh Government Press, Allahabad,(1877) Page No.76

۲۸؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص32

 ۲۹؎  Crook, William, The Tribes and Castes of the North Western Provinces and Oudh, vol 1,Office of the Superintendent of Government Printing, Calcutta, (1896), Page No.254-255

۳۰؎   Benett, W.C., A Report on the Family History of the Chief Clans of the Roy Bareilly District, the Oudh Government Press, Lucknow,(1870), Page No.23

 ۳۱؎  Millet, A.F., Report on the Settlement of the Land Revenue of Sultanpur District, the Oudh Government Press, Lucknow(1873), Page No.182

۳۲؎    ایضا،ص181

۳۳؎   ایضا،ص178

۳۴؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص36

۳۵؎   ایضا،ص37

۳۶؎   جائسی، مولانا نعیم اشرف،محبوب یزدانی، دار العلوم جائس،جائس، 2009ء؁، ص61

۳۷؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص38

۳۸؎   Millet, A.F., Report on the Settlement of the Land Revenue of Sultanpur District, the Oudh Government Press, Lucknow, (1873), Page No.177

۳۹؎   Benett, William Charles, Gazetteer of the Province of Oudh Vol. 3, North Western Provinces and Oudh Government Press, Allahabad, (1878) Page No.461

 ۴۰؎  سنگھ، بھگوان  وتس، بیس چھتری اتہاس،نول کشور پریس، 1993ء؁،ص165

۴۱؎   یمنی، نظام الدین، لطائف اشرفی، لطیفہ نمبر 57،ص628

۴۲؎   خان عبدالوہاب، وسلامت،واجب العرض، دیش بندھو پریس،بارہ بنکی، 1925ء؁،ص1

۴۳؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص23

۴۴؎   سنگھ، بھگوان  وتس، بیس چھتری اتہاس،نول کشور پریس، 1993ء؁،ص173

 ۴۵؎  خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص23

 ۴۶؎  جائسی، مولانا نعیم اشرف،شجرئہ اشرفیہ،حاصل کردہ از مندرجہ ذیل لنک،

http://www.darululoomjais.com/documents/shajra.pdf

۴۷؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص11

۴۸؎   ایضاء، ص46

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محسن عتیق خان

ڈاکٹر محسن عتیق خان معروف اونلائن عربی میگزین اقلام الھند کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور ہندوستان میں عربی زبان کے واحد افسانہ نگارہیں۔ آپکے مختلف افسانے، مقالے اور مضامین ملک و بیرون ملک کے مختلف رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں اور اسکے ساتھ ہی آپکی دو کتابیں بھی منظر عال پر آچکی ہیں۔

متعلقہ

Close