شخصیات

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (تیسری قسط)

ڈاکٹر محسن عتیق  خان

شیخ مبارک بودلےؒ کے خلفاء

 شیخ مبارک بودلے ؒکے احوال وکارہائے نمایاں کے تذکرہ کے بعد یہ ضروری ہے کہ ہم آپ کے مشہور اور اہم ترین شاگردوں وجانشینوں کا بھی ذکر کریں اس لئے کہ آپ صرف ایک صوفی بزرگ اور داعی ہی نہ تھے بلکہ ایک متبحر عالم تھے اور خلق خدا کی ایک کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۴۹؎۔آپ کے شاگردوں و جانشینوں میں سے چار اہم ترین شخصیات کے نام وحالات تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں، اور وہ ہیں حضرت بندگی نظام الدین امیٹھویؒ،ملک محمد جائسیؒ، کالے پہاڑ خان اور میاں شیخ سلو نے انصاری ؒ۔ ان چاروں بزرگوں کے حالاتِ زندگی مندرجہ ذیل ہیں :

 ۱۔حضرت بندگی میاں نظام الدین امیٹھوی:

حضرت مبارک بودلےؒ کے پہلے خلیفہ بندگی میاں نظام الدین امیٹھوی تھے۵۰؎، جو چشتی سلسلہ کے ایک عظیم صوفی عالم وفقیہ تھے، اور شیخ سری سقطی العثمانی کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

  نظام الدین امیٹھویؒ900ھ ؁بمطابق 1494؁ء میں لکھنؤ سے مشرق میں واقع قصبہ امیٹھی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، اور ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔اس کے بعد جونپور کا سفر کیا اور شیخ معروف بن عبدالواسع جونپوری کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا، اور ایک مدت تک ان کی خدمت میں رہے، پھر مانکپور گئے اور وہاں شیخ نور بن حامد حسینی مانکپوری سے طریقت کی تعلیم حاصل کی۵۱؎۔ اس کے بعد حضرت انہوں نے شیخ مبارک بودلے ؒ سے کسب فیض کیا اور پدرانہ شفقت بھی حاصل کی اسلئے کہ حضرت مبارک بودلے ؒانہیں اپنی اولاد کی طرح چاہتے تھے اور کبھی کبھی ان کے وطن امیٹھی میں بھی قدم رنجہ فرماتے تھے۔۵۲؎

  ایک بار شیخ مبارک بودلے ؒ، نظام الدین امیٹھویؒ سے ملاقات کی غرض سے قصبہ امیٹھی تشریف لے گئے۔جناب نظام الدین نے انتہائی تعظیم و تکریم کے ساتھ ٓاپکا استقبال کیا اور ایک فرـزند کی طرح آپکی خدمت کی جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔ایک دن جبکہ آپ خوشگوار موڈ میں تھے نظام الدین ؒ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اللہ تعالی سے باشندگان امیٹھی کی خوشحالی کی دعا کریں۔ آپ دعا کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ اسی وقت آپکو حضرت اشرف جہانگیر  سمنا نی ؒ کا وہ واقعہ یاد آگیا جس میں امیٹھی سے گزرتے وقت ان کو وہاں کے ایک باشندے نے تکلیف پہونچائی تھی جس کے سبب انہوں نے غصے سے امیٹھی کے حق میں کبھی آباد اور کبھی ویران رہنے کی بددعا کی تھی،چنانچہ آپ نے دعا کرنے میں تردد کیا۔نظام الدینؒ کی اہلیہ حضرت مخدومئہ جہاں، جو خود بھی ایک عبادت گزارعورت تھیں، کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہ پوروہ امیٹھی قصبہ سے باہر ہے اس لئے حضرت اشرف جہانگیر سمنانیؒ کے عتاب سے خارج ہے۔نظام الدینؒ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس حقیقت کا اظہار کرنے کے بعد پھر دعا کے خواستگار ہوئے اور یہ التماس بھی کیا کہ آپ قدیم قصبہ امیٹھی اور ان کے پوروہ کے درمیان ایک حد فاصل کھینچ دیں۔ شیخ مبارک بودلےؒ کو یہ رائے بہت پسند آئی اور آپ نے اپنے عصا مبارک سے دونوں کے درمیان ایک نالی کھینچ دی اور دعا کی کہ نالی کے یہ سمت آباد رہے اور دوسری سمت ویران،چنانچہ آپ کے عصا شریف کا نشان وقت کے گزرنے کے ساتھ ایک عمیق و عریض نالے میں تبدیل ہو گیا اور آج آپکے عصا کے نام پر بعصا نالہ کے نام سے دور و نزدیک مشہور ہے۔۵۳؎

  نظام الدین بندگی میاں ؒ کی پہلی شادی مخدومۂ جہاں بنت خاصہ خداصالحی سے ہوئی تھی۔آپ نے دوسری شادی درازئی عمر کے بعد شیخ عبدالرزاق کی صاحبزادی سے کی جن سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام آپ نے جعفر رکھا۔ پہلی بیوی مخدومہ جہاں سے آپ کے چھ لڑکے پیدا ہوئے جن کے نام یہ ہیں :عبدالجلیل، عبدالوہاب، عبدالواسع،محمد، احمداور عبدالحلیم۔ آپ کے پہلے تینوں صاحبزادے آپ کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے۔

  حضرت نظام الدین علماء ربانیین میں سے تھے اور خلق کثیر نے آپ سے استفادہ کیا۔ آپ تاحیات پورے خلوص اور حسن نیت کے ساتھ زہد وعبادت وتدریس وتلقین میں مصروف رہے، اور دائمی مراقبے اور گریہ و زاری میں لگے رہے،حتی کہ آپ کو کبھی کسی نے مسجد یا گھر کے علاوہ اور کسی دوسری جگہ نہیں دیکھا، البتہ آپ کبھی کبھی شیخ نظام الدین خیر آبادی سے ملنے خیرآباد، شیخ عبدالغنی بن حسام الدین سے ملنے فتح پور اور شیخ مبارک بن شہاب سے ملنے گوپا مئو جایا کرتے تھے۔ آپ معرفت کے آثار کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے اور سلوک کے سلسلے میں احیاء العلوم، عوارف المعارف،رسالۂ مکیہ اور آداب المریدین جیسی کتابوں پر تکیہ کرتے تھے۔ آپ کی عادت تھی کہ نماز جمعہ سے قبل چار رکعت احتیاطا پڑھ لیا کرتے تھے، آپ کی خصوصیت تھی کہ آپ خطبہ میں سلاطین کا تذکرہ نہیں کرتے تھے اور شاذ ونادرہی کسی کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے۵۴؎۔آپ کی بزرگی اس قدر مشہور تھی کہ امیٹھی کو بندگی میاں کی امیٹھی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ شہنشاہ اکبر جب بنگال کو فتح کر کے واپس ہورہاتھا توامیٹھی سے گزرتے وقت آپ کی زیارت کو آیا اور آپ کو کچھ معافی زمین بھی دی تھی جو برطانوی دور میں بھی برقرار رہی اور آپ کی مزار کی دیکھ ریکھ کے لئے استعمال ہوتی تھی۔آپ کو اتنی عقیدت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے کہ علاقے سے بے دخل امیٹھیہ راجپوت بھی جب یہاں آتے ہیں تو آپ کی قبر پر چڑھاوا چڑھاتے ہیں۔ ۵۵؎

  آپ 28ذی قعدہ 979ھ ؁ بمطابق 1572؁ء میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے اوراپنے وطن امیٹھی میں مدفون ہوئے۔ آپ کے قبر پر تردی بیگ خاں نے ایک عالی شان عمارت بنوائی، اور آپ کے عزیز دوست شیخ جنید سندیلوی نے آپ کی تاریخ وفات لکھی۔۵۶؎

۲۔ ملک محمد جائسی :

  شیخ مبارک بودلے ؒ کے دوسرے خلیفہ اودھی( ہندی)کے عظیم صوفی شاعر ملک محمد جائسی تھے جو اپنے ادبی شاہکار پدماوت کی وجہ سے ہندوستان کی ادبی تاریخ میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔ ۵۷؎

 ملک محمد جائسی 900ھ؁ بمطابق1494ء؁کے آس پاس جائس میں پیداہوئے۵۸؎  اور علم ومعرفت کی تحصیل کی غرض سے ایک طویل مدت حضرت مبارک بودلےؒ کی صحبت میں گزاری۔۵۹؎  شیخ مبارک بودلےؒ سے ملک محمدجائسی کے تلمذ و بیعت کا تذکرہ تاریخ جائس کے علاوہ دیگر مصادر میں بھی ملتا ہے مثال کے طورپر نزہۃ الخواطر اور اردو انسایٔکلوپیڈیا میں ملک محمدجائسی عنوان کے تحت۔ اقبال احمد نے بھی اپنی کتاب تاریخ سلاطین شرقی اور صوفیائے جونپور میں شیخ مبارک بودلےؒ سے ملک محمدجائسی کی بیعت وارادت کا تذکرہ کیا ہے۔۶۰؎

جائسی کی صورت اچھی نہیں تھی اور انکی ایک آنکھ بھی روشنی سے عاری تھی جس کا اظہار انہوں نے پدماوت میں اس طرح کیا ہے ’’ایک آنکھ کوی محمد گنی ‘‘۔کہتے ہیں کہ جائسی ناقص الخلقت پیدا ہوئے تھے یعنی ان کا ایک طرف کا جسم مفلوج تھاچنانچہ جب وہ شیخ مبارک بودلےؒ کی خدمت میں تحصیل علم اور اکتساب معرفت کی غرض سے حاضر ہوئے تو آپ سے اپنے نقص اعضاء  اور اکتساب رزق سے اپنی عاجزی کا شکوہ کیا۔ آ پ بڑی شفقت و محبت سے پیش آئے اور فرمایا ’’ملک رنجیدہ مت ہو اور خاطر جمع رکھو،ان شاء اللہ تمہارا مقصد ریاضت و مجاہدت سے حاصل ہوگا۰۰۰۰تمہاری ریاضت یہ ہے کہ آج کے بعد سے تادم حیات تم اپنا کھانا کسی نہ کسی مہمان کے ساتھ تناول کروگے۔‘‘  جائسی نے اپنے شیخ کی اس ہدایت پر عمل کیا حتی کہ ایک روز ایک مجزوم کے ساتھ بھی کھانا تناول کرنا گوارہ کر لیا جس کے بعد آپ پر ولایت کے اسرارورموز ظاہر ہوئے۔۶۱؎

 جائسی کواپنے بزرگوں سے چند بیگھا زمین بطور وراثت ملی تھی جس کی کاشت پر گزر بسر کرتے تھے۔۶۲؎  وہ شادی شدہ تھے اور ان کے کئی لڑکے ہوئے مگر سب کے سب مکان کی چھت گرنے کے حادثے کا شکا ر ہوکر انتقال کرگئے تھے جس کا  جائسی کے اوپر گہرا اثر پڑا تھا۔۶۳؎

 جائسی جہاں ایک طرف صوفی اصولوں سے واقفیت رکھتے تھے وہیں دوسری طرف وہ ہندو مذہب کی مشہور روایات کا بھی علم رکھتے تھے۔۶۴؎جائسی کی علمی قابلیت، فنی مہارت اور بزرگی کی وجہ سے امیٹھی (سلطانپور) کا راجہ رام سنگھ انکا معتقد تھا اور بڑا احترام کرتا تھا، اس کے علاوہ جائسی کوشیر شاہ سوری کا بھی اعتماد حاصل تھا۔۶۵؎  جائسی کو اللہ تعالی نے اعلی تخلیقی قوت سے نوازا تھا اور انکی کی تصنیفات ہندی ادب میں اپنا خاص مقام رکھتی ہیں۔ جائسی کی تصنیفات کی تعداد بیس سے زیادہ بتائی جاتی ہے مگر ان میں سے صرف آٹھ کا ثبوت ملتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

 پدماوت،چیناوٹ،اکھراوٹ،چتراوٹ،آخری کلام، کہرا نامہ، مہرا نامہ، مواری نامہ، مثلہ نامہ۔ پدماوت میں آپ نے چشتیہ اشرفیہ طریقت کے نو اطوار اور سات انوار کا تذکرہ کیا ہے جو لطائف اشرفی میں مذکور ہیں۔ آپ نے سات انوار کو سات دیپوں اور نو اطوار کو نو کھنڈوں سے تعبیر کیا ہے۔ دوسری کتاب چیناوٹ بھی اسی طرز پر رکھی گئی ہے۔کتاب ’’اکھراوٹ‘‘ہندومت کے نکات واسرار پر مشتمل ہے۔ ’’چتراوٹ‘‘ عورتوں کے مکروفریب اور ہوشیاری وچالاکی کے بیان میں ہے۔جبکہ آخری کلام آثار قیامت کے سلسلہ میں ہے۔جائسی صاحب فطری طور پر عابد وزاہد قسم کے انسان تھے اور خوف خدا سے لرزا ں رہتے تھے۶۶؎۔آپ نے 1542ء؁ میں وفات پائی اور امیٹھی(سلطانپور) میں مدفون ہوئے۔۶۷؎

۳۔ کالے پہاڑخان:

  حضرت مبارک بودلے کے تیسرے خلیفہ جناب کالے پہاڑ خان تھے۔ ان کا نام اصلا پہاڑ خان تھا، مگرچونکہ وہ ایک حبشی النسل خاتون کے بطن سے تھے اس لئے ان کی رنگت گہری سیاہ تھی جس کی وجہ سے ان کے نام کے آگے کالے کا لفظ لگایا جاتا تھا۔

 یہ شیر شاہی حکومت کی طرف سے صوبہ اودھ کے گورنر تھے،اور اس کے علاوہ اڑیسہ، بہاراور بنگال کی دیکھ ریکھ بھی انہیں کے سپرد تھی۔ یہ حضرت مبارک بودلے سے غایت درجہ عقیدت رکھتے تھے،اور اپنے زہد وورع، عدل گستری، انتظام سلطنت، اور رعایا پروری کی وجہ سے مقبول خاص وعام تھے۔ ان کی مصلحانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھی لوگوں میں اسلام قبول کرنے کی تحریک ہوئی،اور راجگان اودھ کو حضرت مبارک بودلےؒ سے قریب لانے میں بھی آپ کا اہم رول رہا ہے۔۶۸؎

۴۔ شیخ سلونے انصاریؒ:

 حضرت مبارک بودلےؒ کے ایک اور جانشین تھے جو میاں شیخ سلونے انصاری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ یہ ایک عالی ہمت، باشجاعت اور اعلی شخصیت کے مالک تھے اور حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی قبر جائس کے جنوبی حصے میں انصاری محلہ میں واقع ہے۔۶۹؎  آپ ملک محمد جائسی کے ان چار دوستوں میں سے ہیں جن کا تذکرہ انھوں نے پدماوت میں کیا ہے۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں :

میاں سلونے سنگھ پریارو

بیر کھیت رن کھڑک جُجھارو

ترجمہ: سلونے میاں ایک شیر دل شخص تھے، میدانِ جنگ میں وہ بڑی بہادری سے تلوارچلاتے تھے۔۷۰؎

حوالہ جات

 ۴۹؎  الحسنی، عبدالحئی، نزہۃ الخواطر، ج4،دار ابن حزم، بیروت، 1999ء؁، ص401-402

 ۵۰؎  خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص11

۵۱؎   الحسنی، عبدالحئی، نزہۃ الخواطر، ج4،دار ابن حزم، بیروت، 1999ء؁،ص445

۵۲؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص12

۵۳؎   ایضاء، ص۱۲۔۱۴

 ۵۴؎  الحسنی، عبدالحئی، نزہۃ الخواطر، ج4،دار ابن حزم، بیروت، 1999ء؁،ص445

۵۵؎   Benett, William Charles, Gazetteer of the Province of Oudh Vol. 1, North Western Provinces and Oudh Government Press, Allahabad, (1878) Page No.42-43

۵۶؎   الحسنی، عبدالحئی، نزہۃ الخواطر، ج4،دار ابن حزم، بیروت، 1999ء؁،ص445

۵۷؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص13

۵۸؎   کھیل چند آنند، ہندی ساہتیہ کا سمیچھاتمک اتہاس،جی لال اینڈ کمپنی، نئی دہلی،ص73

۵۹؎   الحسنی، عبدالحئی، نزہۃ الخواطر، ج4،دار ابن حزم،بیروت، 1999ء؁،ص420

۶۰؎   سید،اقبال احمد،تاریخ سلاطین شرقی و صوفیاء جونپور،ص 753

۶۱؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص11-12

۶۲؎   ایضا،ص7۱

۶۳؎   کھیل چند آنند، ہندی ساہتیہ کا سمیچھاتمک اتہاس،جی لال اینڈ کمپنی، نئی دہلی،ص73

۶۴؎   ایضا،ص73

۶۵؎   ایضا،ص73

۶۶؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص15-18

۶۷؎   کھیل چند آنند، ہندی ساہتیہ کا سمیچھاتمک اتہاس،جی لال اینڈ کمپنی، نئی دہلی،ص73

۶۸؎   خان، عبدالقادر جائسی، تاریخ جائس(قلمی) نسخہ کتب خانہ ندوۃ العلماء، ص22

۶۹؎   ایضا،ص43

۷۰؎   جائسی، ملک محمد، پدماوت،،مطبع نول کشور،لکھنؤ، صفحہ ۱۱

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محسن عتیق خان

ڈاکٹر محسن عتیق خان معروف اونلائن عربی میگزین اقلام الھند کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور ہندوستان میں عربی زبان کے واحد افسانہ نگارہیں۔ آپکے مختلف افسانے، مقالے اور مضامین ملک و بیرون ملک کے مختلف رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں اور اسکے ساتھ ہی آپکی دو کتابیں بھی منظر عال پر آچکی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close