شخصیات

عبدالستار ایدھی ۔ ایک مثالی، ایک نمونہ

راحت علی قاسمی صدیقی
ہزاروں خواہشیں قلب میں پیدا ہوتی ہیں، تمناؤں اور آرزوؤں کا سیلاب دل میں امنڈتا ہے، جذبات میں طغیانی اورجوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے اور انسان مشکل تر مراحل سے گذرنے سے گریز نہیں کرتا، ہر حال اور ہر شرط پر اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔ انسانوں کی زندگی کا مشاہدہ و تجربہ آپسی روابط و تعلقات سے پیدا شدہ تجربات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ انسان کی خواہش عیش وعشرت کی زندگی، مال و زر کا حصول اور سامان طرب سے آگے نہیں بڑھتی۔ ہاں اگر اولاد ہو تو اس کے اعلیٰ تعلیم، بڑی تجارت اور زراعت کا خواب ہر شخص کی آنکھوں میں بسا رہتا ہے اور زندگی کا کوئی غم ان کے حصہ میں نہ آئے، مشکلات ومصائب سے ان کا مسابقہ نہ ہو، آفت وبلائیں ان کی راہ میں دیوار بن کر حائل نہ ہوں، ان خواہشات سے کوئی فردو بشر خالی نہیں ہے۔ کسی بھی مذہب، کسی بھی ذات یا برادری سے تعلق رکھنے والا ہو، اس کے قلب و ذہن پر یہ چیزیں حاوی رہتی اور انہیں پاےۂ تکمیل تک پہونچانے کے لئے کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ ہرتدبیر اور ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور ناپائیدار زندگی کو پائیدار بنانے کی فکر میں ایک دن زیست کی قید سے آزاد ہو کر موت کی بانہوں میں چلاجاتا ہے۔ اس دنیا کی یہی روش اوریہی اصول ہے لیکن کچھ ایسے افراد بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اس کائنات کو اپنے کارناموں سے وقار بخشا، ان کی نگاہوں میں زندگی صرف اپنی زندگی نہیں، درد وہ نہیں جو صرف اپنے جسم کو تکلیف پہنچائے، والدین صرف وہ نہیں جنہوں نے اسے جنم دیا، اولاد وہ نہیں جو ان سے نسبی تعلق رکھتی ہو بلکہ وہ ہر بوڑھے کو اپنا باپ اور ہر بچے کو اپنی اولاد تصور کرتے ہیں اور تکلیف میں دیکھنے کی تاب نہیں لاپاتے، انہیں لگتا ہے اگر ان کے دردوغم کا مداوا نہیں کیا گیا تو قلب پھٹ جائے گا اور وہ بھی درد ہے جو کسی دوسرے شخص کو بے چین کررہا ہو، ہمدردی غمخواری، محبت و روادای کے جذبات سے بہت سے قلوب مملو ہیں۔ ایسا ہی ایک نام ڈاکٹر عبد الستار ایدھی کا ہے، جنہوں نے وہ کارنامے انجام دئے کہ تاریخ انسانی رشک کررہی ہے۔ اکیسویں صدی سائنسی انکشافات و تحقیقات کے ساتھ ساتھ نفرت، عداوت، تعصب، شدت پسند، فرقہ پرستی کا بھی دور ہے۔ انسان درندوں کو مات کر رہا ہے، آئے دن ہونے والے واقعات و حوادثات ان الفاظ کو حقیقت کا جامہ پہناتے ہیں اور ان کی بے مثال قربانیوں کی قیمت و وقعت کا احساس دلاتے ہیں۔ ایدھی یکم جنوری 1928کوگجرات کے بانٹوا پیدا ہوئے، آپ کی پیدائش ٹاٹا برلا امبانی یا کسی دولت و شہرت کے مالک گھرانے میں نہیں ہوئی تھی، آپ کپڑے کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے، جس کی تجارت کو اس کے گھریلو تقاضوں سے آزادی بہت کم میسر آتی ہے۔ یہی حال ایدھی گھرانے کا تھا، اوسط درجہ کی آمدنی اور زندگی کے مسائل؛ مگر حوصلہ اور جذبات، درد اور احساس ہی انسان کو اعلیٰ منازل طے کرنے پر اکساتے ہیں اور ہر طرح کی محنت، جدوجہد کو آسان کردیتے ہیں۔ یہی حال ڈاکٹر عبدالستار ایدھی کا ہے۔ والد کے گذرنے کے بعد وہ گھریلو ذمہ داریوں میں قید ہوکر نہیں رہے۔ 1947میں ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے اور اپنے مشن کو مکمل کرنے کے لئے وہ بے لوث خدمت اور محنت کی کہ آج وہ پوری دنیا کے لئے مثال ہیں۔ انسانیت کی غمخواری کا جذبہ جو ان کے قلب میں موجزن تھا اس پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے انسانوں کی خدمت کے لئے ریڑھا چلایا، پھیری لگائی اور ہر تدبیر سے اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی کامیاب سعی کی۔ لوگوں کے غم اور تکالیف میں انہیں سہارا دیا، خود گاڑی چلانی سیکھی اور اس سے لوگوں ہسپتال پہنچاتے، ان کی محنت و جد و جہد کا عالم یہ ہے کہ آج ایدھی فاونڈیشن کی پاکستان میں 600گاڑیاں ہیں، جو زخمی لوگوں ہسپتال پہنچاتی ہیں، آسمانی آفات، کوئی حادثہ ہو، دہشت گردوں کا حملہ ہو،ایدھی ایمبولنسز پوری طرح سرگرم عمل نظر آتی ہیں۔ یہ ایدھی کی خدمت اور اخلاص ہی کا نتیجہ ہے کہ ایک گاڑی سے شروع ہوا سفر آج کس مقام پر ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں یہ جال پھیلا ہوا ہے اور 16اگست 2006 سے پوری دنیا میں ایدھی ایمبلونسز یہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ رنگ و نسل، امیری وغریبی کے فرق سے اوپر اٹھ کر انہوں نے یہ خدمت انجام دی اور ان کا گینز بک آف ورلڈ میں نام درج ہوا۔ اس طرح ایک ڈسپینسری سے شروع ہواان کا سفر آج بے شمار ہسپتالوں تک آپہنچا۔ انہوں نے ان نونہالوں کو زندہ رہنے کا حق عطا کیا جنہیں زمانہ ان کے ناکردہ جرموں کی سزا دینا چاہتا ہے، انہیں کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے، ایدھی نے انہیں عزت کی زندگی دی اور جھولا سروس شروع کی جس میں روز بہت سے وہ بچے ملتے ہیں جنہیں ان کے ماں باپ اپنانا نہیں چاہتے اوروہ بوڑھے جن کی اولاد انہیں لعن طعن کرتی ہے، پریشانیاں ان کا مقدر ہوچکیں، مغرب کے غلام افراد انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں، ان کے لئے اولڈ ہومز قائم کئے، زچگی کے لئے ہسپتال، نرسوں کی ٹریننگ کے لئے اسکولس قائم کئے،ہر ضرورت مند کی ضرورت پوری کرتے نظر آئے مفلسوں کی غمخواری کرتے نظر آئے۔ ایدھی کی پوری زندگی خدمت خلق سے عبارت ہے، جس میں لالچ، حرص و طمع، دولت سے محبت کا کوئی شبہ بھی موجود نہیں۔ انسانیت کے لئے جئے، سادگی سے زندگی بسر کی، اسراف سے کوسوں دور رہے، ایک ایک پیسہ چن چن کر مفلسوں، ناداروں کی تکالیف کا ازالہ کرتے رہے۔ مرتے ہوئے بھی ملک سے باہر علاج کرانے کے لئے تیار نہیں، کپڑے اتنے کم رکھتے کہ ایک پہنتے اوردوسرا دھو کر سکھاتے۔ یہ ان کی سادگی کا عالم تھا اور دنیا بھر کے انسانوں کو یہ پیغام دے گئے کہ زندگی وہی ہے جو دوسروں کے لئے ہو جس میں اپنے علاوہ کا بھی خیال ہو، جہاں انسانیت کا غم قلب میں پیوست ہو، ہر قیمت پر پیار کو عام کرنے کا جذبہ ہو۔ آج کے ان حالات میں ایدھی کی زندگی ہمارے لئے سبق ہے جس میں محنت ہے، جد و جہد ہے، مفلسی غریبی وناداری سے لڑنے کا جذبہ ہے، خدمت کا جذبہ ہے، انسانیت کی حفاظت کا جذبہ ہے، یہ سب جذبات مجتمع ہو کر ایدھی بنا ہے، تبھی تو ساری دنیا ان کی خدمات کا اعتراف کررہی ہے اور انہیں ملے اعزازات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ان کی خدمات کتنی عظیم ہیں۔ ہر وہ جو شخص جو عقل و شعور رکھتا ہے وہ ایدھی کی خدمات کا بلاشبہ معترف ہوگا۔ انہیں 1988 لینن امن ایوارڈ، یونیسٹو منجیت سنگھ ایوارڈ، 2009 احمدیہ مسلم امن ایوارڈ، متحدہ عرب امارات حکومت نے انہیں اعزاز دیا، نوبل ایوارڈ کے لئے کئی مرتبہ ان کے نام پر غور کیا گیا اور بہت سے بین الاقوامی اعزازات سے وہ نوازے گئے اور تقریبا نو ملکی اعزازات انہیں ملے، جس میں نشان امتیاز اعزاز بھی شامل ہے جو پاکستان کے بڑے اعزازات میں سے ہے۔ بلاتامل کہاجاسکتا ہے کہ ایدھی مذہبی رہنما نہیں تھے، سائنس داں، فلاسفر، طبی ماہر، جغرافیہ پر مہارت رکھنے والے نہیں تھے۔ زبان و ادب، تحقیق و تنقید سے ان کا رشتہ نہیں تھا، ان کا رشتہ صرف اور صرف انسانیت سے تھا، اس لئے وہ آج مرکر بھی زندہ ہیں اور ہمیشہ اپنی خدمات اور لازوال کارناموں سے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے اور انسایت کے لئے جو فیضان انہوں نے جاری کیا وہ ہمیشہ جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close