شخصیات

علامہ اقبال ؒ: صدیوں کے رہنما

سید مزمل

’’علامہ اقبال بیسویں صدی ہی کے نہیں اکیسویں صدی میں بھی مسلمانوں اور امن عالم کے لیے فکری رہنما رہیں گے‘‘ یہ بنیادی نکتہ تھا جو گزشتہ دنوں علامہ اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے دو روزہ ورکشاپ میں ممتاز ماہر اقبالیات اور مرغدین نامی تحقیقی ادارہ کے سربراہ جناب خرم علی شفیق نے کی جو اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر کراچی سے آئے تھے۔اس ورکشاپ کا افتتاح بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کیا ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال کی فکر دراصل قرآن و سنت کی فکر سے مستنیر تھی اور یہ فکر بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کو اس کے اصل منبع کی جانب لے جانے میں پہلے بھی ممدو معاون رہی اور آئندہ بھی رہے گی۔ ڈاکٹر احمد الدریویش نے بین الاقوامی اسلامی یونیورستی اسلام آباد کو فکر اقبال کا پلیٹ فارم بھی قرار دیا۔ علامہ اقبال بین الاقوامی ادارہ کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز احمد، ادارہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طالب حسین سیال اور محقق علی طارق نے بھی ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ فکر اقبال کو عام کرنے کے لیے ادارہ اس طرح کے متعدد ورکشاپ پورے ملک میں کر چکا ہے۔

اس دو روزہ ورکشاپ کے پہلے دن خرم علی شفیق نے علامہ اقبال کی فکر کی پختگی میں عشق رسول ﷺ اور قرآن حکیم سے ان کے لگاؤ پر خصوصی طور پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ علامہ اقبال نے آگے چل کر مولانا روم کے روحانی اور علمی فیض سے بے پناہ اکتساب کیا۔ پہلے دن کی گفتگو کے ایک اور مرحلے میں انہوں نے جاوید نامہ کا خصوصی تعارف کرایا ۔ اس میں انہوں نے مولانا روم کی ملکوتی اور لاھوتی تعلیمات کو فکر اقبال میں مجسم ہوتے دکھایا ۔ ایک جہان نو کے وجود میں آنے کے لیے انسان کو جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر حضور ختمی مرتبیت ﷺ تک دنیا میں تشریف لانے والے انبیاء کرام ، مرسلین اور فکری رہنماؤں کا تفصیل سے ذکر کیا۔ ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور اکرم ﷺ نمایاں ترین ہستیاں تھیں ۔ ان کے علاوہ خرم علی شفیق نے زرتشت اور گوتم بدھ کے افکار اور خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ انبیاء کی کتب اور صحف کی طرح زرتشت اور گوتم بدھ کی تعلیمات میں بھی بڑی حد تک تحریف کر دی گئی ۔ جب کہ قرآن حکیم کی صورت میں مکمل طور پر محفوط تعلیمات الہی صرف امت مسلمہ کے پاس موجود ہیں۔

ورکشاپ کے دوسرے دن علامہ اقبال کی فکر کے دیگر نمایاں پہلوؤں کو بنیادی موضوع بنایا گیا۔ خرم علی شفیق نے بتایا کہ علامہ اقبال نے اپنی فکر اور فلسفے کے ذریعے مسلمانان عالم کو بالعموم اور مسلمانان برصغیر کو بالخصوص بیدار کرنے کانہایت اہم کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اقبال مختلف ادوار سے گزرے اور انہوں نے نظم و نثر دونوں میں نہایت مربوط انداز میں کام کیا۔ علامہ اقبال نے نثر میں 1908 میں Political Thought in Islam ، 1909 میںslam As a Moral and Plitical Ideal I اور 1911 میں The Muslim Community-a Sociological Study کے عنوان سے تین مقالات لکھے۔ جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے راہ عمل متعین کر دی۔ نظم کے میدان میں علامہ اقبال نے اسرارخودی،رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، بانگ درا، بال جبر یل ، ضرب کلیم ، زبور عجم اور ارمغان حجاز میں امت مسلمہ کے انحطاط کو عروج میں بدلنے کے لیے نہ صرف لائحہ عمل تجویز کیا بلکہ عملی اعتبار سے امت کی رہنمائی بھی کی۔ علامہ اقبال کی شکل میں ہمیں برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد کے ساٹھ سال کا عرصہ بطور خاص نظر میں رکھنا ہو گااس کا آغاز 1887 سے ہوتا ہے جب علی گڑھ میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ زمانہ 1906 تک جاری رہا ۔ 1906 سے 1926 تک کے زمانے میں ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کا فیصلہ ہوا۔ 1926 سے 1947 کے زمانے میں علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد، قرار داد پاکستان ، 1946 کے انتخابات اور بالآخر قیام پاکستان کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جناب خرم علی شفیق نے بتایا کہ 1938 میں علامہ اقبال کا انتقال ہو گیا لیکن ان کی فکر کا سفر قیام پاکستان کی صورت میں اور اب تک پاکستان کے وجود کی صورت میں برقرار ہے ۔ جناب خرم علی شفیق کی رائے تھی کہ اقبال کے ہاں تصور کو بنیادی مقام حاصل ہے اس لیے کہ تصور کے بغیر مقاصد جنم نہیں لے سکتے ۔ مقاصد کا حصول مقدم تر ضرور ہے لیکن تصور ان کے لیے قوت محرکہ کا کام دیتا ہے ۔

خرم علی شفیق نے یہ بات زور دے کر کہی کہ علامہ اقبال کی فکر کی معراج ان کا تصور وحدت اسلامی تھا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

انہوں نے بتایا کہ اقبال سے جو چیز سیکھی جا سکتی ہے وہ شعور ذات اور امت مسلمہ کی کھوئی ہوئی عظمت کی بحالی ہے ۔ علامہ اقبال نے شعور ذات کے لیے نظم و نثر کی صورت میں جو کام کیا اسی نے عملی طور پر علامہ اقبال کی ایک مکمل سیاست دان کی صورت میں جلوہ گری کو ممکن بنایا ۔انہوں نے 1926 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا۔ گویا دوسرے الفاظ میں علامہ اقبال اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو امت مسلمہ کی بھلائی کے لیے وقف کیے رہے۔ جناب خرم علی شفیق کی گفتگو ؤں کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ علامہ اقبال اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں مختلف تہذیبوں اور اقوام کے مابین ہم آہنگی اور پر امن بقائے باہمی کے علمبردار تھے۔ وہ کسی معنی میں بھی تہذیبی تصادم کے قائل نہ تھے وہ اسلام کا یہی پہلو دنیا کو دکھانا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کی رہنمائی بھی انہوں نے اسی نہج پر کی۔ یہی وجہ تھی کہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہونے کے باوجود برصغیر کے تمام مسلمان انہیں اپنا فکری رہنما تصور کرتے تھے۔ انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاسوں میں انہیں سماج کے تمام طبقات بلاتفریق مذہب و مسلک سنا کرتے تھے۔

جناب خرم علی شفیق نے اقبال کے تصور اجتہاد پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسلمانوں کے مختلف فقہی مسالک کے علمائے کرام اور ماہرین پر مشتمل اجتماعی اجتہاد کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اجتماعی اجتہادکے قائل ہونے کے باوجود علامہ اقبال اسلامی شریعت کے اس اہم ترین ادارے کو کسی صورت میں بھی بازیچہ اطفال نہیں بنانا چاہتے تھے۔

جناب خرم علی شفیق نے ورکشاپ کے آخر میں منعقد ہونے والی خصوصی تقریب میں شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close