دیگر نثری اصنافشخصیات

علامہ اقبال کی کہکشانِ فکر

 اقبالؒ ملی خوابوں، اعتقادی آدرشوں اوراسلامی تصورات میں ڈھلا ہوا وہ نگینہ تھے جس کی چمک آنکھوں ہی کو خیرہ نہیں کرتی تھی بلکہ قلب کو گداز اور روح کو طراوت بخشتی تھی۔

منیر احمد خلیلی

 علامہ اقبالؒ بلا شبہ ہر بڑی صاحبِ فکر شخصیت کی طرح فکری ارتکا کے مراحل سے گزرے تھے۔ ارتقا کی یہ ساری علامتیں ان کی اردو شاعری کے مجموعہ بانگِ درا میں ملتی ہیں ۔ وطنیت سے آفاقیت تک کے سفر کے سارے نشاناتِ راہ ان کے کلام میں محفوظ ہیں۔ انہی نشانات کو دیکھ کر اشتراکی اور لبرل اور دیگر فکری رجحانات اور نظریاتی رویوں سے وابستہ لوگوں نے اقبالؒ کو اپنے اپنے رنگ میں دیکھنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ مہم اب ختم ہو چکی ہے لیکن جب یہ جاری تھی تب بھی کسی کے لیے یہ ثابت کرنا ممکن نہیں تھا کہ اقبال ؒ کے دل میں ایمان کی روشنی کے سواکوئی اور روشنی اور اسلام سے تعلق کے سوا کوئی اور تعلق ہے۔ اقبال ؒ کے شعور و وجدان میں اسلام کی ضیا پاشی اور قُرآن حکیم کی نور آفرینی کی موجیں پختہ عمری میں آ کر نہیں بلکہ ان کے بچپن ہی سے اٹھ رہی تھیں ۔ اسے عجیب بات نہ سمجھا جائے کہ وہ بیک وقت فیضانِ نظراور مکتب کی کرامت سے بہرہ یاب ہوئے۔ اپنے والدِ گرامی کی صحبت و تربیت سے انہیں آدابِ فرزندی سے سرفراز کر دیا تھا۔ تصوف کے مروجہ نظام سے اقبالؒ کے مزاج کی مناسبت کا میں تو قائل نہیں ہوں لیکن اگر اس سے مراد روح کی شادابی، قلب کی آبادی اور باطن کی تنویر ہے تو اس کے لیے ان کے  والد کا اثر کافی تھا۔ اس مزاج کو شعرو ادب کے ذوق سے سیراب کرنے کا کام ان کے استاد سید میر حسن نے بخوبی کر دیا تھا۔ تسلیم کہ بہت سے بڑے آدمی رجحانات اور رویوں کی کئی وادیوں میں بھٹکنے کے بعد کسی مقام کو اپنی حتمی منزل قرار دیتے ہیں لیکن مزاج کے اعتبار سے اقبالؒ کے بچپن سے شباب اور جوانی سے رحلت تک ایسا ’بھٹکنا‘ کہیں نظر نہیں آتا۔ وہ سیالکوٹ میں تھے یا لاہور میں مقیم ہوئے، لندن یا جرمنی میں قیام کیا یا ماضی کی عظمتوں کا مشاہدہ کرنے اسپین کی سیاحت کرنے گئے، ظلمت کدۂ ِ ہند میں محوِ سفر ہوئے یا کہیں اور اقامت گزیں ہوئے، ان کا رشتہ اسلام کے اصولوں اور تہذیبی اقدار سے کبھی نہیں ٹوٹا۔

 زمستانی     ہوا    میں    گرچہ    تھی     شمشیر    کی     تیزی

   نہ   چھوٹے    مجھ   سے    لندن   میں  بھی   آدابِ  سحر  خیزی   

 اقبالؒ ملی خوابوں، اعتقادی آدرشوں اوراسلامی تصورات میں ڈھلا ہوا وہ نگینہ تھے جس کی چمک آنکھوں ہی کو خیرہ نہیں کرتی تھی بلکہ قلب کو گداز اور روح کو طراوت بخشتی تھی۔ ان کا جذبِ دروں ہو یا تفکّر و تدبّر اور تفلسف سب کوئی چیز ایسی نہ تھی جس پر اسلام کا رنگ نہ چڑھا ہو۔ سیاست میں اترے تو یہی ’اسلامیت‘ ایک نئی آن کے ساتھ ان کی سرگرمیوں اور نظریات سے جھلکتی رہی۔ ایک جدا آزاد مسلم ریاست کے لیے ان کی تجویز میں بھی ان کا اصل مقصد اسلام کی نشاۃثانیہ اور مسلمانوں کی بقا و سلامتی اوردیرپا مفادات کا تحفظ تھا۔ بیسویں صدی میں وطنی قومیت نے ایک مذہب کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ اسی بت کی پرستش جاری تھی۔ دو

 عالمگیر جنگوں میں یورپی اقوام نے کروڑوں لوگوں کی جانیں اسی کی بھینٹ چڑھا دی تھیں ۔ اقبال ؒ نے جب مسلمانوں کے لیے جدا اور آزاد ملک کا تصور پیش کیا اس وقت مغرب کی قوم پرستانہ فکر کے اثر سے کانگریسی زعمابھی ہندوستان میں وطنی قومیت کے نغمے گارہے تھے۔ متعدد مسلمان سیا ست دان اور کئی بااثر علماء بھی اسی زلف کے اسیر بن گئے تھے اور باور کرا رہے تھے کہ ملت کے قصر کی پر شکوہ عمارت کسی عقیدہ اورنظریہ سے نہیں بلکہ وطنیت کے بھٹّے میں ڈھلی ہوئی اینٹوں ہی سے تعمیر ہونی ممکن ہے۔ تصورِ قومیت کے بغیر سیاست کے کوئی معنی باقی نہیں رہے تھے۔ یہ پرچار عام تھا کہ قومی آزادی کے تحفظ اور اقتصادی ترقی کا مقصد حاصل کرنے کے لیے قومیت کو بطورِمذہب اختیار کرنا ضروری ہے۔ عجیب بات یہ تھی کہ مسلمانوں میں فروغ پانے والے ’ مسلم قومیت‘ کے تصور پر بھی یہی رنگ چڑھ رہا تھا۔ آگے چل کر تحریکِ پاکستان میں یہ جو سیکولر اور لبرل، سوشلسٹ، کمیونسٹ اور جاگیردار اور سرمایہ دار داخل ہو گئے تھے ان کو قومیت کا یہی تصور کھینچ کر ایک ایسے ملک کے قیام کی تحریک میں لے آیا تھا جس ملک کی بنیاد اسلام تھی۔ اسلام بیزار دانشوروں اور سیاست دانوں کی نظر میں آج بھی حصولِ پاکستان کی اہمیت اس کے اساسی نظریے کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلمانوں کی مجردآزادی اور اقتصادی ترقی اور فلاح و بہبود کی بنیادپر ہے۔ اقبالؒ اگرچہ تحریکِ پاکستان کے آغاز سے دو سال قبل اپنے رَب سے جا ملے تھے لیکن انہوں نے پہلے ہی اس فکری روش کی چاپ سن لی تھی۔ غلام بھیک نیرنگ کو ایک خط میں اس پر افسوس کرتے ہوئے لکھا تھا۔ :

  ’مسلمانوں کی سیاست کا مقصد محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظتِ اسلام اس مقصد کا عنصر نہیں ہے جیسا کہ آج کل قوم پرستوں کے رویے سے معلوم ہوتا ہے تو مسلمان اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ‘ ’

 اقبالؒ نے شعور کی آنکھ کھولی توان کی زوال نصیب قوم کا دل شکستہ کارواں ہمتِ سفر کھو کر بیٹھ گیا تھا۔ دلوں اور دماغوں پر جمود چھایا ہوا تھا۔ نہ کہیں حرکت تھی اور نہ کوئی حرارت۔ اقبالؒ نے اپنے ذوقِ سخن اور جوش ِ فکر کو اس جمود کو توڑنے میں لگا دیا۔ اقبال ؒ کی شاعری جمود کی یہی چٹانیں توڑنے اور ملی وجود میں حرکت و حرارت کی لہریں دوڑانے کے لیے وقف رہی۔ ممتاز محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سید عبداللہ مرحوم نے کہیں لکھا تھا کہ اقبالؒ کے کم و بیش بائیس ہزار اردو فارسی اشعارمیں سے حرکت و حرارت کی لہریں اٹھتی محسوس ہوتی ہیں ۔ ان کی شعری علامتوں کو دیکھا جائے تو خورشید، شعاع، موج، خون، جگنو، لالہ، شاہین، چیتاوغیرہ اسی تصورِ حرکت و حرارت کی غماز ہیں ۔ انہوں نے جمود پرور رویوں پر تنقید کے برمے مار مار کر اس کی برفانی سلیں توڑیں اوران کے اندر سے متحرک زندگی کے چشمے جاری کیے۔ اقبال ؒنے اپنے دور کی علم و عمل کی وادیوں میں چھائی ہوئی ویرانیوں کے ماتم پر اکتفا نہ کیا۔ ان کے خیال میں علمِ دِین اور روحانیت کے نام پر قائم یہ مدرسہ و خانقاہ کا نظام ہی تھا جس نے شعور کی روشنی، جذبات کی گرمی اور احساس کی حرکت چھین رکھی تھی۔ وہ مدرساتی اور خانقاہی نظام کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے۔ بالِ جبریل میں ’خانقاہ ‘ کے عنوان سے دو شعروں پر مشتمل نظم کے دوسرے شعر میں کہتے ہیں :

   ’قُم باذن اللہ ‘   کہہ   سکتے   تھے   جو،  رخصت  ہوئے 

     خانقاہوں   میں    مجاور    رہ     گئے    یا   گورکن!

بالِ جبریل کی بائیسویں غزل میں اہلِ مدرسہ کاکڑا محاکمہ کرتے ہوئے کہا:

 گلا    تو   گھونٹ    دیا    اہلِ    مدرسہ    نے    ترا

 کہاں    سے     آئے    صدا    ’لا    اِلٰہ    اِلّا    اللہ‘

اور اسی غزل کے آخری شعر میں شکوہ کناں ہیں :

اُٹھا     میں     مدرسہ    و     خانقاہ     سے    غمناک

   نہ    زندگی،   نہ   محبت،  نہ   معرفت،   نہ    نگاہ! 

          مسلم اُمت اور بالخصوص مسلمانانِ ہند کازوال کسی ایک شعبہ ٔ ِ زندگی تک محدود نہیں تھا۔ ہرگوشے پر زوال کے تاریک سائے مسلط تھے۔ ارد گرد کی مدتوں سے خوابیدہ قومیں انگڑائی لے کر نئے عزم کے ساتھ شاہراہِ تعمیر و ترقی پر جادہ پیما ہو رہی تھیں لیکن مسلمان نوع بنوع عملی، فکری، اخلاقی اور تمدنی امراض کا شکار تھے۔ بالِ جبریل کی معرکۃُ الآرا نظم ’ساقی نامہ ‘ میں دائیں بائیں کی قوموں اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی حالت کی یوں تصویر کھینچی ہے:

 زمانے    کے     انداز     بدلے     گئے

   نیا    راگ      ہے،    ساز     بدلے     گئے

     ہُوا    اس    طرح    فاش     رازِ   فرنگ

   کہ   حیرت   میں   ہے    شیشہ    باز   فرنگ

 پرانی    سیاست    گری     خوار    ہے    

         زمیں    میر   و    سلطان   سے   بیزار  ہے

   گیا      دَورِ     سرمایہ    داری      گیا    

 تماشا        دکھا     کر     مداری      گیا

   گراں    خواب     چینی   سنبھلنے    لگے 

  ہمالہ      کے      چشمے      ابلنے      لگے

 اطراف و اکناف کے ان تغیرات میں مسلمان کس حال سے دوچار ہیں ؟ان کا وہ طبقہ جسے ساری ملت کی فکری، اعتقادی، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا فریضہ انجام دینا تھا اس کے خالی از حسابِ سود و زیاں مشاغل اور افکارِ بے ثمر کا اگلے اشعار اس کی حالت کا نقشہ پیش کرتے ہیں :

تمدّن،      تصوُف،    شریعت،    کلام

 بتانِ     عجم     کے     پجاری      تمام 

  حقیقت   خرافات      میں     کھو     گئی         

  یہ   اُمت    روایات     میں    کھو   گئی  

  لُبھاتا   ہے    دل    کو     کلامِ    خطیب  

      مگر    لذّتِ    شوق   سے   بے   نصیب 

  بیان    اُس   کا   منطق  سے   سلجھا   ہوا 

           لُغت  کے  بکھیڑوں     میں    الجھا    ہوا

 وہ   صوفی  کہ  تھا   خدمتِ  حق   میں   مرد  

  محبت     میں   یکتا،    حمیّت   میں    فرد

عجم     کے    خیالات     میں   کھو    گیا

  یہ    سالک   مقامات     میں    کھو   گیا

  بجھی    عشق    کی    آگ    اندھیر     ہے 

مسلماں     نہیں ،  راکھ   کا    ڈھیر   ہے

  معاملہ کیا تھا؟ کمی کس چیز کی تھی؟ خلا کون سا تھا؟ اقبالؒ نے اس نہج پر سوچا اور ان سوالوں کا جواب تلاش کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ خودی سے محرومی ہی سارے امراض کا سبب ہے۔ یوں تو اقبالؒ کے سارے اردو کلام میں جابجا درسِ خودی موجودہے لیکن بالِ جبریل کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں جوہر ِ خودی کی بازیافت کو گویا اقبالؒ نے اپنی اصل مہم قرار دے لیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ خودی چیز کیا ہے جسے اقبالؒ کے ہاں اتنی اہمیت ہے؟ اقبالؒ کے سارے کلام کا خلاصہ نکالا جائے تویہ تین لفظوں میں سمٹ آتاہے۔ ہیں تو یہ بس تین لفظ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقبالؒ کے نظامِ فکر کا سارا دریا بلکہ سمندر خودی، عشق اور فقرکے تین کوزوں میں بند ہے۔

   اقبالؒ اجتماعیت کی صالح بنیادوں پر تشکیل کے نقیب تھے۔ اردو، فارسی اور عربی کے شعر و ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قوموں کے عروج و زوال میں ان کا شعری اور نثری ادب گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ مرزا غالب سمیت بڑے بڑے نامور شاعروں نے تمنا کی تھی کہ کاش انہیں دبستانِ دلی کی قلم رو کے شہنشاہِ غزل میرتقی میرجیسی کلام کی سادگی، بیان کی بے ساختگی، جذبے کی تاثیراور اسلوب کی کشش نصیب ہوجائے۔ ان خصوصیات کے اقبالؒ بھی شیدائی تھے مگراقبالؒ کی نظر میں میر کے مقابلے میں غالب کی اہمیت کا ایک دلچسپ سبب تھا۔ غالب کے کلام میں فکری بلندی اور نکتہ آفرینی اور فلسفیانہ رفعت اور شوخی بیان کے ساتھ ایک اور امتیاز یہ ہے کہ ان کی شاعری سے میر کی غم انگیزی کے بر عکس زندگی کی شعاعیں پھوٹتی محسوس ہوتی ہیں ۔ اقبالؒ کے دوست شیخ عبدالقادر نے ’بانگِ درا‘ کے مقدمہ کے دوسرے پیرے میں غالب سے اقبالؒکی شعری مماثلت کا بڑے عمدہ انداز میں ذکر کیا ہے۔ شعری اثرات کے یہی بیداری بخش اور جمود شکن پہلو تھے جن کی وجہ سے اقبالؒ نے سعدی شیرازی کو حافظ شیرازی پر فوقیت دی۔ اہلِ تصوف سے لے کر صحیح العقیدہ علماء کے حلقوں تک حافظ کا دیوان بڑی تقدیس کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ دیوان اظہار کا ایک ایسا خم خانہ ہے کہ پڑھنے والوں کو اس کی حکایاتِ جام و سبو اور بادہ و ساغر خمارآلود بنادیتی ہیں ۔ کلامِ حافظ ایسی وادی ہے جس میں قوائے عملیت و حرکیت پر کیف و مستی اوراز خود رفتگی چھا ئی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس میں کوئی زندگی بخش  پیغام نہیں ہے۔ اس کے بر عکس شیخ سعدی کا کلام ایک سماج ساز اور اصلاح کار کردار ادا کرتا ہے اور ا س سے ا خلاقی بنیادوں پر زندگی کی روانی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ فن اور طرزِ ادا کے اعتبار سے اقبالؒ نے بلا شبہ غالب کی پیروی بھی کی اور ان کی فنّی عظمت کا اعتراف بھی کیا لیکن فکر و نظرکے لحاظ سے ان پرمولاناحالی اوراکبر الہ آبادی کااثر نمایاں تھا۔

 اقبالؒ نے کئی اصطلاحات کے متداول اورمنفی معنی کو بدل کران کو مفہوم کا بالکل نیا جامہ پہنایا۔ ان میں اہم ترین تین لفظ خودی، عشق اور فقرہیں ۔ ان کوکو فکرِ اقبالؒ کی رفیع الشّان عمارت کے بنیادی ستونوں کی حیثیت حاصل ہے۔ عشق اور فقر کی اپنی جداحیثیت بھی ہے۔ اس جدا حیثیت میں بھی اقبالؒ نے ان کو کثرت سے برتا ہے۔ وہ عشق کو طاعت و پیروی کی شرطِ اوّل قرار دیتے ہیں ۔ جذبۂ ِعشق رَب اور شارحِ دِین ﷺ سے ہوتا ہوا نظامِ دِین اور احکامِ شریعت پر بھی محیط ہو جاتا ہے۔ عشقِ صادق کے بغیر شیوۂ ِ طاعت اور دعویِ تسلیم و رضا ایک کھوکھلے گورکھ دھندہ کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ اقبالؒ کے ہاں احکام کی روحِ عشق سے سرشار بجا آوری ہی اصلِ طاعت ہے۔

  عقل   و   دل   و   نگاہ     کا    مرشدِ    اوّلیں  ہے   عشق  

  عشق   نہ   ہو   تو   شرع   و   دِیں   سب   بت کدۂ ِ   تصورات

 صِدقِ   خلیلؑ  بھی   ہے   عشق،  صبر حسینؒ  بھی  ہے  عشق              

  معرکۂِ    وجود    میں    بدر    و     حنین   بھی    ہے   عشق

سولھویں صدی میں یورپ سے عقلیت (Rationalism)کی تحریک اٹھی اور اس نے قلب و روح کی مرکزیت کے بجائے دماغ کی حاکمیت کا فلسفہ پیش کیا۔ اس نے یہ تصور دیا کہ حقائق کا تعلق خواہ مادّی دنیا کے امورسے ہویا یہ مابعد الطبیعاتی نوعیت کے معاملات ہوں ، ان کو دلیل اور تجربہ و مشاہدہ کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ احساسات وجذبات، الہامی تعلیمات اور مذہبی معتقدات چونکہ عقلیت کے اس پیمانے پر جانچنے کی چیزیں نہیں ہیں اس لیے انسان کی عملی زندگی میں ان کو معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ عقلیت (Rationalism)یونانی فلسفیوں افلاطون اور ارسطو اور پھر سولھویں سترھویں صدی میں آ کر ڈیکارٹ، سپائنوزا اور کانٹ وغیرہ کے دماغوں کی پیداوار ہے لیکن کتابِ حکیم میں دیکھیں تو یہ عقلیت ہمیں اللہ کے ہر نبی کی دعوت کی حریف نظر آتی ہے۔ ابلیس نے لاکھوں سال پہلے آدمؑ و اولادِ آدم ؑ کے لیے یہ جال تیار کیا تھا۔ اگرچہ ابولہب رسول اللہ ﷺ کا چچا اوراسلام اور داعیِ اسلامؐ کے سخت ترین حریفوں میں سے ایک مکروہ کردار تھا لیکن اقبالؒ نے مصطفویت ؐ اور بو لہبی کی اصطلاحات کو حق و باطل کی دائمی کشمکش کے لیے بطورِ تلمیح و استعارہ استعمال کیا ہے اور اسے معرکۂِ کہن کا نام دیا ہے۔

تازہ    میرے    ضمیر   میں   معرکۂ    کہن      ہوا              

 عشق     تمام      مصطفیٰؐ،      عقل     تمام     بولہب

          جہاں تک فقر کا تعلق ہے توعامیوں کے حلقے میں یہ افلاس و تہی دستی، محرومی و مظلومی، بے دولتی و رنجوری اور اندوہ و دلگیری کے ہم معنی اصطلاح ہے۔ فقر کا ایک برانڈنذرانہ خور اور خرقہ پوش فقیری و درویشی ہے جس کے بارے میں اقبالؒ کا انتباہ ہے :

  حذر   اُس    فقر   و    درویشی     سے    جس   نے 

 مسلماں     کو     سکھا       دی       سر     بزیری 

سماجی سطح پر فقر کے یہی مفہوم راسخ تھے اور شعر و ادب کے آئینے میں بھی اس کی یہی شکل ملتی۔ میر امن دہلوی کی ’باغ و بہارکاقصۂ ِچہار درویش شاید پہلا ادبی مقام ہے جہاں لفظ فقرکی لفظی تحلیل کر کے اسے کسی قدر مثبت باطنی کیفیت کی صورت میں پیش کیاگیا۔ ف سے فاقہ، ق سے قناعت، ر سے ریاضت و عبادت کے معنی نکال کر اسے اعتبار بخشا گیا۔ اقبالؒ نے۔ ۔ ۔ میرا فقر بہتر ہے سکندری سے۔ ۔ ۔ کہہ کر اس اصطلاح کو بے پناہ معنوی رفعت عطا کی۔ اقبالؒ جس فقر کو خودی کا نگہبان سمجھتے تھے وہ کوئی ذلّت و مسکنت یا عار اور انفعال نہیں ہے۔ وہ صیّاد کو نخچیری سکھانے اور مسکینی و دلگیری کی صورت بن جانے والا فقر نہیں ہے۔ وہ تو اس جوہرِ فقر کے قصیدہ خواں تھے جو اسرارِ جہانگیری کھولتااور مٹی میں خاصیتِ اکسیر ی پیدا کرتاہے اور عُرف ِ شبّیری اور میراثِ مسلمانی ہے۔

  تجھے   گُر  فقر   و  شاہی   کا   بتا    دوں 

غریبی     میں   نگہبانی    خودی   کی

 بالِ جبریل کی 59غزل ہو، ضربِ کلیم میں ’جاوید سے‘ کے عنوان کے تابع تیسری غزل کھولیں ، دیگرمقامات پر بکھرے ہوئے اشعار کو دیکھیں ، خزف کو نگیں کر دینے کی تاثیر والے اسی فقر کا تذکرہ ملتا ہے۔

 عشق اور فقر اُس فلسفۂ ِ خودی کے جوہری اجزا ہیں جس کی معجزکاری یہ ہے کہ یہ مومن میں دنیا پر چھا جانے کی صلاحیت پیدا کر دیتی ہے۔ :

 خودی       کے    زور       سے      دنیا       پہ        چھا         جا

          اقبال ؒ کے فلسفہ ِ حیات کو سمجھنے کے لیے ان کے تصورِ خودی کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کی ساری شاعری خودی کا درس ہے۔ خودی کیا ہے؟ اقبال شناسوں نے اس کی بہت تعبیریں پیش کی ہیں ۔ بعض نے خودی کو انگریزی کے لفظ egoism کا مترادف بتایاہے۔ لیکنegoismکی اخلاقی، نفسیاتی اور فلسفیانہ تشریحات میں سے کسی کے اندر بھی اقبالؒ کے فلسفۂ ِ خودی کی بے پایانی نہیں ملتی۔ اقبال ؒ کی خودی کے شجر کی بیسیوں شاخیں ہیں ۔ ہم ہر شاخ پرکھلنے والے ازہار اور برگ و بارکے نئے رنگ اور نئی خوشبو محسوس کرتے ہیں ۔ خودی کا مغز خُود بینی، خود شناسی، خود اعتمادی اور خود انحصاری میں پوشیدہ ہے۔ تزکیہ ٔ نفس، تہذیبِ نفس، ضبطِ نفس اور عزتِ نفس جیسے اجزا نے اسے روحانیت سے ہم آہنگ بنا دیاہے۔ خودی دینی غیرت ا ور ملی حمیت جیسے احساسات اور رویوں کو بھی شامل ہے۔ غیرت و حمیت اورجرأت و بے باکی اقبالؒ کی نظر میں عشق اور فقر کا بھی جوہر ِ خاص ہیں ۔ آج ملّتِ  اسلامیہ کی زبوں حالی کے اسباب میں بڑی اہم چیز اس کے مذہبی اور سیاسی رہنمائوں میں اسی غیرت و جرأت کا فقدان ہے۔ اقبالؒ کہتے ہیں :

خوار     جہاں    میں   کبھی    ہو    نہیں   سکتی    وہ   قوم          

عشق   ہو   جس   کا    جسور ،   فقر    ہو   جس   کا     غیّور        

 خودی میں عزم و استقلال اور امید ویقین نے اسے ایک انقلاب آفریں اور جہاں سازقوت بنا دیا ہے۔ زوال اور ادبار کی تاریکیوں میں یہی امید و یقین کاستارہ ٔ ِ سحری ہے جو صبحِ عروج و اقبال کی نویددیتا ہے۔ خودی کا یہ عنصر کارگاہِ حیات میں سرگرمی اور فعالیت کے لیے مثلِ مہمیز ہے۔ امید افزائی سے سرشار تمام ا شعار میں در حقیقت یہی خودی جھلکتی ہے۔ بانگِ درا کی نظم  ’شمع و شاعر ‘ میں ملی بد حالی کا منظر سامنے لا کر چوتھے بند میں اقبال مندی کی امیدکا سماں پیش کر دیا۔

 شامِ     غم     لیکن     خبر    دیتی    ہے   صُبحِ    عید   کی        

ظلمتِ    شب     میں   نظر    آئی    کرن    امید    کی 

اور پھر کہا:

    شب   گریزاں   ہو   گی    آخر    جلوۂ ِ     خورشید     سے       

   یہ     چمن     معمور     ہو    گا     نغمۂ ِ     توحید     سے

 دلوں میں آرزو کی فصل اگنا بند ہو جائے تویاسیت کی دائمی خزاں کا مسلط ہو جانالابدی امر ہے۔ اقبال ؒ آرزو کو زندگی کی علامت سمجھتے ہیں ۔ آرزوبمعنی خواہش اور امید باہم توام ہیں ۔ آرزو پیدا ہی تکمیل کی امید پر ہوتی ہے۔ ’شمع و شاعر‘، ’طلوعِ اسلام‘، ’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘، ’شکوہ‘ و ’جوابِ شکوہ‘، ’مسجدِ قرطبہ‘، ’ ساقی نامہ‘اور ’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘ جیسی عالمی ادب کے مقابلے میں رکھی جانے والی شاہکار نظموں میں سے ایک’خضرِ راہ‘ بھی ہے۔ اس کے تابع عنوانات میں سے ’دنیائے اسلام‘ کا آخری شعر قنوطیت و دل شکستگی کے مرض کے لیے گویا نسخۂ ِ شفا ہے جس میں اللہ کی رحمت و نصرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

  مسلم     استی    سینہ     را   از     آرزو     آباد    دار         

  ہر   زماں     پیشِ     نظر    ’لاتُخلفُ المیعاد‘     دار 

بالِ جبریل کی ساتویں غزل میں امید کا یہی موضوع براہِ راست پیرائے میں سامنے آتا ہے۔

 نہیں     نا     امید     اقبال    اپنی     کشتِ     ویراں    سے        

  ذرا   نم    ہو   تو    یہ   مٹی     بڑی     زرخیز     ہے     ساقی

  اقبالؒ کی حیات اور فکر و فلسفہ پر کتابوں کے بھی انبار ہیں اور مقالات و مضامین اور لیکچروں اور تقاریر کے بھی ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔ ہرعقیدت مند اقبالؒ کو اپنی عقیدت اور اپنے فہم کے آئینے میں دیکھتا ہے۔ چنانچہ دور کی ہر کوڑی لائی گئی۔ کسی نے کہا کہ اقبالؒ کی خودی ایک حدیث سے ماخوذ ہے جس کے الفاظ ہیں مَنْ عَرَفَ  نَفْسَہٗ  فَقَدْ  عََرَفَ رَبَّہٗ یعنی جس نے اپنی ذات کی تہ تک پہنچ کر اس کی حقیقت پا گیا اس نے گویا اپنے رَب کی معرفت حاصل کر لی۔ یہ اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے بہت عمدہ قول ہے لیکن یہ رسولِ پاک ﷺ سے ثابت شدہ حدیث نہیں ہے۔ اسے حدیث متعارف کرا کے کہنے والوں نے یہ کہا کہ اقبالؒ نے خودی کا تصور رسول اللہ ﷺ سے لیا ہے۔ میرے پیشِ نظریہاں اقبالؒ کا اردو کلام ہے۔ ’اسرارِ خودی‘ اور’ رموزِ بے خودی‘کی گہرائیوں میں اتر گئے تو بات ایک مضمون سے نکل کر کسی مقالے کی حدود میں داخل ہو جائے گی۔ جو شخص اسلام کے عقیدۂ ِ توحید کی روح کوپا لے اور معرفتِ کردگار کی منزل پر پہنچ جائے اس پر ’اسرارِ خُودی‘ خود بخود کھلنے لگتے ہیں ۔ اقبالؒ نے یہ جو کہا ہے: خودی کا سِرِّ نہاں ، لَا اِلٰہ ‘تو یہ

 اسی طرف اشارہ ہے کہ خودی کا راز لَااِلٰہ میں پوشیدہ ہے۔ لَا اِلٰہ کیا ہے؟یہی توحید ہے جس کا اصل مفہوم جس پر واضح ہو گیا اس پرگویا  فلسفۂ ِ خودی کی حقیقت کھل گئی۔ قُرآن مجید کا کوئی صفحہ تصورِ توحید سے خالی نہیں ۔ خودی کی ساری رمزیں قرآن میں پوشیدہ ہیں ۔ اقبال ؒ کا وہ مردِ مومن یا مردِ کامل جس کے بارے میں کئی ماہرینِ و نقادانِ اقبالؒ کی رائے ہے کہ جرمن فلسفی اور شاعر نطشے (Nietzche) کے Superman  کے مقابل پیش کیا گیا ہے۔ یہ مردِ مومن خودی کا پیکر ہوتا ہے۔ اس کی خودی کو آن بان اور شان قُرآن سے ملتی ہے۔ ضربِ کلیم کی نظم ’مردِ مسلماں ‘ اسی حاملِ خودی مسلمان کی لفظی تصویر ہے۔ :

  ہر    لحظہ    ہے   مومن   کی   نئی    شان،   نئی     آن  

گُفتار     میں ،   کردار    میں ،     اللہ    کی     برہان!

  یہ     راز    کسی    کو    نہیں    معلوم    کہ     مومن

  قاری    نظر   آتا     ہے،  حقیقت    میں   ہے    قُرآن !

عشق، فقر اور خودی کی اصطلاحات کے موتی فکرِ اقبال ؒ کے بحر کی تہوں سے جا بجا اچھلتے نظر آتے ہیں لیکن اگر یکجا دیکھنے ہوں تو’خودی‘کو ’ساقی نامہ‘ کے آخری دو بند خوب آشکارا کرتے ہیں ۔ ’عشق‘ کی رمز کو پانا مقصود ہو تو شاہکار نظم ’مسجدِ قرطبہ ‘کا دوسرا بنداس کی حقیقت کھولتاہے۔ بالِ جبریل ہی کی نظم ’عِلم و عشق‘ میں عشق کا عِلم سے موازنہ کرتے ہوئے وہ ’عشق سراپا حضور‘  ’عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ ِ کائنات ‘’عشق تماشائے ذات ‘ ’عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات ‘جیسی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا :

   عشق   کے    ہیں   معجزات   سلطنت  و   فقر   و   دِیں              

 عشق    کے   ادنیٰ    غلام    صاحبِ    تاج    و    نگیں

    عشق     مکان    و    مکیں ،  عشق    زمان   و   زمیں              

  عشق     سراپا     یقیں ،   اور     یقیں     فتحِ     باب !

مزید یہ کہ عشق پر شورشِ طوفاں اور بجلی حلال اور عشرتِ منزل، لذّتِ ساحل اورحاصل سب حرام بتانے کے بعد آخر میں کہتے ہیں:

عِلم     ہے    ابن    الکتاب،   عشق     ہے    اُمُّ      الکتاب!

بالِ جبریل کی 59  ویں اور ضربِ کلیم کی ’جاوید سے‘ کے عنوان کے تحت تیسری غزل فقر ہی کی حقیقت بتاتی ہے جس کا مقطع ہے:

مومن     کی       اسی      میں       ہے      امیری                  

   اللہ        سے        مانگ         یہ        فقیری   

 ذاتِ کبریا اور محبوبِؐ کبریا سے محبت اقبالؒ کے عشق کے دو باہم لازم و ملزوم اجزا ہیں ۔ حبیب سے محبت محب سے محبت کے مترادف ہے۔ ایک روایت ہے  مَن ْ  اَحَبَّنِیْ فَقَدْ اَحَبَّ  اللّٰہ  وَ  مَنْ  اَطَاعَنِیْ  فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہ یعنی جس نے مجھ سے محبت کی اس نے گویا اللہ سے محبت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ سند کے اعتبار سے یہ روایت غریب ہے لیکن سورہ النّسآء کی 80 ویں آیت مَنْ یُّطِعِ  الرَّسُوْلَ  فَقَدْ  اَطَاعَ اللّٰہَ۔ ۔ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تواس کی معنوی صحت واضح ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کاپہلا مرحلہ تعارف باللہ ہے۔ تعارف باللہ تعلق باللہ کا پہلا زینہ ہے۔ تعلق قائم ہو جائے جذب و قرب سے گزرتے ہوئے من و تو کے مٹ جانے کی منزل آجاتی ہے۔

 مٹا   دیا      مرے     ساقی    نے    عالَمِ    من   و      تو     

   پلا     کے      مجھ     کو       مئے     ’’لَا   اِلٰہ   اِلّا    ہُو‘

 حُبّ اِللہ اور حُبّ رسول ﷺ کی یہ فراوانی جس کے لیے کلامِ اقبالؒ میں عشق کی اصطلاح آئی ہے، اس سے نمو پانے والی خودی کی وسعت و رفعت کو قیاس کیجیے۔

  خُودی  کی   جلوتوں   میں    مصطفائی       

   خُودی   کی   خلوتوں    میں   کبریائی

  زمین   و  آسمان    و   کرسی    و   عرش          

 خُودی  کی  زد  میں  ہے  ساری  خُدائی

 اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اقبالؒ کی شخصیت اور فکر و فلسفہ پر سب سے گہرے نقوش مولانا روم ؒ کے ہیں ۔ دنیائے تصوف کی اور بھی بڑی عظیم شخصیات گزری ہیں ۔ اقبالؒ نے ان کا ذکر بڑی عقیدت و محبت سے کیا ہے لیکن اپنی روحانی اقلیم میں مرشد کی مسند پر رومی کے سوا کسی کونہیں بٹھایا۔ بالِ جبریل کی تین شعروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی نظم ’یورپ سے ایک خط ‘ میں اقبالؒ نے اپنے مرشد رومیؒ کو ’اِک بحرِ پُر آشوب و پراسرار ‘، ’قافلۂ ِشوق کا سالار‘ اور ’چراغِ رہِ احرار ‘ کے لقب دیے ہیں ۔ تا ہم رومیؒ اور اقبالؒ کے تعلق اور فلسفۂ عشق کی مولانا روم ؒسے نسبت کی بحث میں ایک اور چیزبہر حال لائقِ توجہ ہے۔ اقبال ؒ جبلی طور پر بھی کچھ روحانی خصوصیات لے کر آئے تھے۔ ان خصوصیات کو عمر کے ابتدائی عرصے میں ان کے والد نے صیقل کر دیا تھا۔ حیاتِ اقبالؒ پر موجود لٹریچر میں یہ بڑی قوی روایت ملتی ہے کہ قرآن پڑھتے ہوئے ان پر گریہ کی ایسی کیفیت طاری ہوتی تھی کہ اوراق ِ قرآن ان کے آنسووں سے بھیگ جاتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر ہوتا تب بھی وہ رقت میں ڈوب جاتے تھے۔ گویا ان کی کشتِ دل میں اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی ہستی سے محبت کے بیج عمر کے اولین مرحلوں میں بیجے جا چکے تھے۔ رومیؒ کے افکار سے اس کھیتی کی سینچائی ہوئی۔ عشق ِ رسول ﷺ کی لہریں لاکھوں ویران زندگیوں کو آباد کر گئیں اور ہزاروں پست اس سے بالا ٹھہرے۔ یہی عشق ہر افتادہ و درماندہ مسلمان کی تیرہ و تار شبِ حیات کی روشنی ہے اور اسی کے بل پر قعرِ مذلّت میں گری ہوئی راہ گم کردہ مسلمان ملت راہِ منزل کا نشان پا سکتی ہے۔ ’ جوابِ شکوہ‘ کا یہ شعر دیکھیے:

  قوتِ  عشق  سے  ہر   پست  کو   بالا  کر   دے   

     دہر   میں   اسمِ   محمدؐ   سے   اجالا   کر   دے

وفا کے بغیر عشق سراسر دغا ہے۔ ہماری اجتماعی زندگی میں عشقِ رسولؐ کے غلغلے بہت ہیں ۔ لیکن یہ چونکہ وفا سے خالی ہیں اس لیے رَب العالمین کی نگاہِ توجہ نصیب نہیں ہوتی۔ صحابہ کرامؓ نے محض دعوائے عشق و محبت پر اکتفا نہیں کیاتھا۔ تھا۔ انہوں نے اپنے آقا آقاجناب محمدﷺسے وفا کا حق ادا کیا تھا۔ ان کی خودی کی رفعتوں کے باعث ہی ان کی فتح مندیوں اور کامرانیوں کے فیصلوں سے پہلے گویا ’خُدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟‘ والی فضا پیدا ہوتی تھی۔ قدم قدم پر انہیں اللہ تعالیٰ کی معیت و قربت و نصرت ملتی تھی۔ اب خالی خولی میلاد کی محفلوں ، جلوسوں اور نعت خوانیوں سے عشق جتلایا جاتا ہے اسی لیے خالق و مالکِ کائنات کی اپنائیت سے محروم ہیں۔

  کی    محمد ؐ    سے    وفا   تو   نے   تو   ہم   تیرے      ہیں 

  یہ   جہاں   چیز    ہے  کیا    لوح    و    قلم   تیرے   ہیں

  بجا کہ اقبالؒ مدرسہ و خانقاہ کے بے عملی سے پتھر بنے ماحول کو دیکھ کر غمگین تھے۔ انہوں نے دورِ حاضر کے مسلمان کو ’کُشتہ ٔ ِ سلطانی و ملّائی و پیری ‘ قرار دیا۔ یہ تصور عام ہو گیا کہ اقبالؒ فہمی کا سارا میدان جدید درس گاہیں ہیں اور اقبالؒ سے فکری و نظری تعلق کا دائرہ صرف ان درس گاہوں کے سکالرز تک محدود ہے۔ اسی لیے اقبالؒ کی پیدائش اور وفات کے یوم جدید تعلیم یافتہ حلقوں میں ہی منائے جاتے ہیں ۔ تقریریں ہوتی ہیں ، مضمون لکھے اور مقالے پڑھے جاتے ہیں ، اخبارات و جرائد کے خصوصی نمبر شائع ہوتے ہیں ، اقبالؒ کے بارے میں کتابوں کی رونمائیاں ہوتی ہیں ۔ یہ تاثر پختہ ہو گیا کہ ان مدرسوں سے کوئی دینی علوم میں گہرا درک و فہم رکھنے والا تو نکلا ہو گا لیکن اقبال ؒ سے عقیدت رکھنے اور ان کی اہمیت جاننے والوں کا دینی محافل و مجالس میں گزر نہیں ہوتا۔ صحیح الفکرروایتی دینی مدارس اور عُلماء کے ہاں چونکہ ایّام ’منانے ‘ کی روایت نہیں ہے، اس لیے وہاں اقبالؒ کے چرچے کم ہوتے ہیں لیکن یہ خیال درست نہیں ہے کہ وہاں اقبال ؒ کے تصورات سے دلچسپی رکھنے والے اور ان کی عظمت ِ فکر کا اعتراف کرنے والے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں ۔ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے میں یہاں ان حلقوں میں اقبالؒ سے عقیدت کا ایک نمونہ درج کررہا ہوں ۔ ’الاصلاح‘ رسالہ اعظم گڑھ میں معروف دینی درس گاہ ’جامعۃُ الاصلاح‘ کا ترجمان تھا۔ اقبالؒ کی وفات کے اگلے ہی ماہ یعنی مئی 1938کواس رسالے میں اس جامعہ کے نامور سپوت، معروف عالمِ دِین اور مفسّر مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی درج ذیل تحریر شائع ہوئی تھی :

 ’اقبالؒ اس بزم میں یا تو بہت بعد آئے تھے یا بہت پہلے۔ اتنے بعد کہ اہلِ مجلس کے دماغوں اور دلوں میں اُن خیالات و افکار کے لیے ایک چھوٹے سے نقطہ کے برابر بھی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی، یا اتنے پہلے کہ جس صبحِ صادق کے وہ مبشّر تھے نہ صرف افق میں ابھی اُس صبح کاذب کا کوئی نشان بھی نمودار نہ ہوا تھا، بلکہ دنیا پر ابھی نصف شب کی ہولناک تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ لیکن اقبالؒ کو اللہ تعالیٰ نے تسخیرِ قلوب و ارواح کے لیے اس نفوذ میں سے ایک حصہ عطا فرما دیا تھا جس سے وہ اپنے اُن بندوں کو مسلح فرماتا ہے جو وقت کی فاتحیت کا تاج پہن کر آتے ہیں ۔ چنانچہ تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے دیکھا کہ جس شخص کی باتیں اہلِ مجلس کے لیے اتنی بیگانہ تھیں کہ ایک شخص بھی اُن کو سمجھنے والا نہ تھا، اب اتنی مانوس و محبوب ہو گئی ہیں کہ ہر بزم و انجمن کا افسانہ ہیں اور کوئی دل ایسا نہیں جو اقبالؒ کی عظمت کے آگے جھک نہ گیا ہو۔ ‘

مزید دکھائیں

منیر احمد خلیلی

منیر احمد خلیلی تقریباً چالیس برس شعبہ تعلیم سے وابستہ رہ کر ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ موصوف گزشتہ پچاس برس سے قلم و قرطاس سے وابستہ ہیں۔ مختلف اخباروں میں شائع ہونے والی ہزاروں تحریروں کے علاوہ آپ کے قلم سے مختلف موضوعات پر کم و بیش 16 کتب نکل کر شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں انفاق فی سبیل اللہ، تزکیہ نفس کیوں اور کیسے؟، عصر حاضر کی اسلامی تحریکیں، مقالات تعلیم، عورت اور دور جدید، اور مغربی جمہوریت کا داغ داغ چہرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

متعلقہ

Close