شخصیات

فرحانہ میم: کچھ یادیں کچھ باتیں

نہ کہیں تکلف تھا نہ کہیں بناوٹ بلکہ ایک روانی تھی جو آپ کے تجربے  اور عربی زبان و ادب پر آپکے عبور  اور عربی ثقافت سے آپکے گہری واقفیت پر دلالت کر رہی تھی۔ 

محسن عتیق خان

ہندوستان میں عربی زبان و ادب کے اساتذہ کی فہرست  میں شاذ و نادر ہی کسی خاتون کا نام نظر آتا ہے اور ایسا ہی  ایک نادر نام  پروفیسر فرحانہ صدیقی میم کا تھا۔آپ  جامعہ  ملیہ اسلامیہ، دہلی ، میں شعبئہ عربی کی صدر تھیں اور مختلف مضامین اور کتابوں کی خالق۔  عربی زبان و ادب کا طالب علم ہونے کی وجہ سے میں نے آپ کا اور آپ کی کتاب نازک الملائکہ کا نام پہلے سے سن رکھا تھا مگر آپ کو  قریب سے جاننے اور سننے کا موقع اس وقت ملا  جب۲۰۱۰ میں مجھے جامعہ میں  پی ایچ ڈی میں دا خلہ ملا۔

 آپ شعبئہ عربی کی صدر تھیں اس لئے شروع ہی میں ایک دو  موقعوں پر دستخط کے لئے آپ سے ملنا  ہواـ،آپ خندہ پیشانی سے ملیں اور بڑے اخلاق سے پیش آئیں۔ ایک دن میرے ایک عزیز جامعہ میں داخلے کے سلسلے میں آئے، وہ شاید داخلہ لینے کی آخری تاریخ تھی اور ان کے ڈکیومینٹس اٹیسٹیڈ نہیں تھے،  اور سوء اتفاق ، انصاری آڈیٹوریم میں جو صاحب اٹیسٹ کرتے تھے  وہ بھی اس دن نہیں آئے تھے۔میں ان کو لیکر اپنے شعبے میں آیا تو دیکھا کہ لنچ ٹائم ہونے کی وجہ سے اکثر اساتذہ کے کمرے بند ہیں، میں جب میم کے کمرے  کے دروازے پر پہونچا تو دیکھا کہ آپ کہیں جانے کے لئے اپنی سیٹ سے اٹھ رہی ہیں، میں نے اپنا تعارف دینے کے بعد آپ سے اٹیسٹ کرنے کی درخواست کی تو آپ  اپنی کرسی پر واپس بیٹھ گئیں ، اور ڈاکیومینٹس پر دستخط کرنے لگیں ، میں نے جب اصل کاٖغذات آپ کی بڑھائے  تو آپ نے کہا، میں آپ کو جانتی ہوں، آپ ہمارے اسٹوڈنٹ ہیں ،اور ہمیں آپ پر پورا اعتماد ہے۔حالانکہ اب تک میں میم سے دو چار بار سے زیادہ نہ ملا تھالیکن آپ کا یہ اعتماد میرے لئے مسرت کی بات تھی۔

 آپ نہ بے جا اصول کے پابند تھیں اور نہ ہی طلبا کے لئے کسی قسم کی مشکلات کھڑی کرنا پسند کرتی تھیں البتہ صحیح اور غلط کا فرق ضرور ملحوظ رکھتی تھیں، آپ کے اخلاق سے میں کافی متاثر ہوا  اور  دھیرے دھیرے  میں آپ سے مانوس ہوتا گیا  اور یہ انس اس وقت اور بڑھ گیا جب ہمارے  پہلے سیمیسٹر کے پی ایچ ڈی کورس ورک میںلائبریری سائنس کی تدریس کی  ذمہ داری آپ کے حصہ میں آئی۔آپ نے لائبریری  کے  استعمال کے تعلق سے صرف ضروری ہدایات اورنوٹس مہیا کرانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ معمول سے آگے بڑھ کر ہمارے لئے ایک لائیبریرین کے ساتھ خاص طور سے سیشن کا انتظام کیا تاکہ لائبریری کے استعمال کی تکنیکی باریکیوں سے ہم واقف ہو سکیں ، آپ کا یہ قدل یقینا طلباء کے لئے آپ کے خلوص پر دلالت کرتا ہے۔

آپ کے خلوص کے تعلق سے ایک واقعہ اور عرض کرتا چلوں جو خود  راقم کے ساتھ پیش آیا۔ آج کے دور میں طلباء کی کثرت کی وجہ سے اساتذہ عام طور سے خود اپنے زیر نگرانی کام کررہے ریسرچ اسکالرس کے موضوع نہیں یاد رکھ پاتے دوسرے اسکالرس کی بات ہی کیا، مگر صدر شعبہ ہونے کی وجہ سے فرحانہ میم سب کی خبر رکھنے کی کوشش کرتی تھیں، اور اگر کسی کے موضوع کے متعلق کچھ مواد آپ کو دستیاب ہوتا تو آپ مہیا کرا دیتیں اور اس کا ذاتی تجربہ راقم کو اس وقت ہوا جب ایک دن ایک کاغذ پر دستخط کرانے میم کے پاس گیا۔ جب میم  دستخط کر چکیں تو مجھ سے پوچھا ــ کہ آپ غسان کنفانی پر کام کر رہے ہیں نا، جب میں نے ہاں میں سر ہلایا تو میم نے کہا مجھے ایک میگزین موصول ہوئی ہے جس میں غسان کنفانی کے اوپر ایک مضمون ہے، میں نے میگزین الگ نکال کر رکھی ہے ، دیکھ لیجئے شاید آپ کے کام کا ہو۔ جب میں میم کا شکریہ ادا کرکے وہ میگزین لیکر آپ کے چیمبر سے باہر جانے لگا تو آپ نے مسکراتے ہوئے کہا، ارے بھائے میگزین رکھ مت لینا  اپنا کام کرکے واپس کر دینا اس لئے کہ مجھے بھی کام ہے۔میں نے پلٹ کر  او کے میم  کہا اور تشکر کے جذبات سے لبریز آپ کے چیمبر سے باہر آگیا۔

فرحانہ میل قصیرالقامت تھیں اور اسکا خود انکو اعتراف تھا، اور اس سلسلے میں ایک واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ہمارے شعبے میں ہندوستان میں عربی زبان و ادب کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد  ہونے جا رہا تھا جس میں ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیز سے عربی اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا۔سیمینار کی تیاریاں زوروں پر تھیں اور ایک کارکن کی حیثیت میں بھی انتظام میں شریک تھا،سیمینار شروع ہونے سے ایک دن قبل میرے ایک عزیز دوست کو ایک ذمہ داری سونپی گئی اور وہ تھی اسٹیج کے پاس ایک الگ سے لکڑی کا ڈیسک منگواکر رکھنے کی، ابتداء میں سمجھ نہ سکا کہ آخر اسکی کیا ضرورت مگر شام کو جب فرحانہ میم  سیمینارہال  کے معاینہ کے لئے آئیں  اور آپ کے اشارے پر وہ ڈیسک ڈائس کے پیحھے رکھی گئی تب اسکا اصل مقصد پتا چلا۔آپ ڈائس کے پیحھے گئیں اور اس ڈیسک پر چڑھ کر یہ چیک کیا کہ آیا آپ مائیک تک پہنچ پا رہی ہیں یا نہیں، جب آپ مطمئن ہو گئیں اور ڈیسک سے نیچے اتریں تو زیر لب مسکرا رہی تھیں اور انہیں دیکھ کر میری زبان سے بے ساختہ عربی کا یہ شعر نکل گیا۔

 ان لم یطل جسمی طویلا فاننی

لہ بالفعال الصالحات وصول

ترجمہ: میں بلند قامت نہیں ہوں تو کیا ہوا،  میں اپنے کارناموں سے بلندی پر پہونچوں گا۔

میم نے یہ شعر سنا تو ہنس کر کہا، محسن جی اس  طرح کے میں نے بہت سے شعر یاد کئے تھے ، کیا کروں چھوٹی ہوں نا۔ آپ کی یہ بات سن کر وہاں پر موجود دوسرے لوگ بھی ہنس پڑے۔ آپ ہنستی مسکراتی  ایک زندہ دل شخصیت کی مالک تھیں اور خود اپنے اوپر ہنس کر بھی ہنساتی تھیں جو بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔  میں نے میم کو عربی بولتے سب سے پہلے اسی سیمینار میں سنا تھا، آپ انتہائی شستہ اور سلیس زبان بول رہی تھیں، نہ کہیں تکلف تھا نہ کہیں بناوٹ بلکہ ایک روانی تھی جو آپ کے تجربے  اور عربی زبان و ادب پر آپکے عبور  اور عربی ثقافت سے آپکے گہری واقفیت پر دلالت کر رہی تھی۔  مجھے آپ سے استفادہ کا بہت زیادہ موقع نہ مل سکا اس لئے کی ایک سال کے اندر ہی آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ شعبئہ عربی صدر رہتے ہوئے ہی ۳۱ دیسمبر۲۰۱۱  کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔اللہ تعالی آپ کو غریق رحمت کرے۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محسن عتیق خان

ڈاکٹر محسن عتیق خان معروف اونلائن عربی میگزین اقلام الھند کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور ہندوستان میں عربی زبان کے واحد افسانہ نگارہیں۔ آپکے مختلف افسانے، مقالے اور مضامین ملک و بیرون ملک کے مختلف رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں اور اسکے ساتھ ہی آپکی دو کتابیں بھی منظر عال پر آچکی ہیں۔

متعلقہ

Close