شخصیات

فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

شمس تبریز قاسمی

فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی میرے استاذ ،میرے مخدوم ،میر ے محسن ،میرے مربی اور مخلص رہنما تھے۔ طالب علمی کے سفر میں میرا سب سے طویل عرصہ اپنے اسی عظیم استاذ کے ساتھ گزرا۔ اشرف العلوم میں داخلہ ہونے کے بعد مولانا کی خدمت میں مسلسل رہنے کا شرف حاصل ہوا۔2009 میں مادر علمی کو الوادع کہنے کے بعد بھی رابطہ رہا اور ہمیشہ ان کی عنایتیں ،شفقتیں اور محبتیں مجھ پرجاری رہیں۔ سچ پوچھئے تو وہ میرے صرف استاذ نہیں بلکہ با پ بھی تھے۔ کہنے والوں نے کہاہے کہ حقیقی باپ آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں پر اپنے بچے کو لاتاہے اور استاذ روحانی با پ کی شکل میں ایک بچے کو زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں پر پہونچاتاہے۔ مولانا زبیر احمد قاسمی نے مجھے سبق پڑھایا ،تربیت کی۔ زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھلایا۔ لکھنے کا طریقہ بتایا زندگی کے ہر موڑ پر انہوں نے میری رہنما ئی کی اور زمین کی پستیوں سے ا ٹھاکر آسمان کی بلندیوں پر پہونچانے کی کوشش کی۔ آج میں جو کچھ ہوں،اگر میرے اند ر کوئی خوبی ہے تو میرے مشفق استاذ اور مربی مولانا زبیر احمد قاسمی کی حسن تربیت کا نتیجہ ہے انہیں کو اس کا سہرا جاتاہے۔ ہمارے شیخ اب اس میں دنیا نہیں رہے۔ آج13جنوری 2019 کو صبح سات بجے ہمیشہ کیلئے وہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ لیکن ہمارے ذہن ودماغ۔ ہماری زندگی۔ ہماری سرگرمیوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

جان کر من جملہ خاصان مے خانہ مجھے 

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے 

آج صبح جیسے ہی اپنے مخدوم کے وفات کی خبر ملی فوری طور پر ہم نے مولانا کے صاحبزداے اور اپنے دوست مولانا ظفر صدیقی قاسمی سے رابطہ کرکے کچھ تفصیلات معلومات کی۔ ذہنی طور پر جانے کیلئے خود کو آمادہ کرنے کے بعد ہم نے فلائٹ کا ٹکٹ چیک کیا دوبجے سے پہلے کی کوئی فلائٹ دستیاب نہیں تھی۔ چاربجے نمازجناز کی ادائیگی کا اعلان ہوچکاتھا۔ دوبج کر 25 منٹ پر جیٹ ایئر ویز کی فلائٹ تھی جس کے پٹنہ پہونچے کا وقت چار بجے تھے۔ پٹنہ سے مدھوبنی کا راستہ کم وبیش چار گھنٹہ سے کم کا نہیں ہے اس طرح فلائٹ سے جانے کے باوجود نمازجنازہ میں شرکت ممکن نہیں ہوپارہی تھی۔ مولانا ظفر صدیقی سے ہم نے اصرار کیا کہ کم ازکم آپ فلائٹ سے جائیں لیکن انہوں نے بھی انکار کرتے ہوئے کہاکہ ابو کی وصیت تھی کہ تدفین میں کسی طرح کی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ یہ جملہ سننے کے بعد مجھے بھی استاذ محترم کی ایک نصیحت یاد آگئی۔

غالبا 2008 کی بات ہے۔ میں مولانا مرحوم کے ساتھ تھا۔ انہوں نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں اچانک پوچھا میری موت کے بعد تم میرے لئے کیا کروگے ؟۔میں نے برجستہ کہا”دنیا میں جہاں کہیں بھی رہوں گا آپ کی جنازہ میں شرکت کی کوشش کروں گا۔ آپ کی سوانح لکھوں گا۔ آپ کے انمٹ نقوش کو دنیا بھر میں پہونچانے کا کام کروں گا “ ان جملو ں کو کہنے کے بعد میں رک گیا۔ دل میں یہ احساس بھی ہونے لگا کہ حضرت اس جوا ب سے بہت خوش ہوں گے لیکن انہوں نے کہاکہ جہاں بھی رہنا میرے لئے قرآن شریف پڑھ کر دعاءکرنا۔ میرے لئے ایصال ثواب کا اہتما م کرنا۔

مولانا زبیر احمد قاسمی کے ساتھ میرا تعلق صرف استاذ اور شاگرد کا نہیں تھا بلکہ خادم اور مخدوم سے آگے بڑھ کر باپ اور بیٹے کی طرح ہوگیاتھا۔ 2003 میں اشرف العلوم کنہواں میں میں نے داخلہ لیا۔ درجہ اعدادیہ میں آنے کے بعد مولانا زبیر احمد قاسمی کی خدمت میں جانا شروع کیا او ر پھریہ سلسلہ تادم حیات کسی نہ کسی شکل میں باقی رہا۔ اشرف العلوم کے چھ سالوں میں سفر اور حضر دونوںمیں مولانا کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا۔ بہار کے متعدد علاقوں اور شہروں کے علاوہ دہلی اور چنئی بھی فقیہ ملت کے ساتھ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سمینار میں رفیق سفر کی حیثیت سے ہمیں جانے کا موقع ملا۔

فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی کی خوبیوں ،خدمات ،کمالات اور نمایاں صفات کی فہرست طویل ہے۔ وہ صرف بہار او ہندوستان نہیں بلکہ بر صغیر کے ممتاز فقیہ اور بے مثال محدث تھے۔ سنجیدہ مزاج کے پیکر اور یکسوئی پسند تھے۔ جلسہ جلوس میں جانے سے بالکل گریز کرتے تھے۔ علمی اور فقہی مسائل میں بہت دلچسپی کے ساتھ حصہ لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کا جب قیام عمل میں آیاتو تو مولانا کوبھی رکن تاسیسی بنایاگیا چند اجلاسوں میں انہوں نے شرکت کی تاہم ان کی اس میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی دوسری طرف اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سمینار میں وہ پابندی سے شریک ہوتے رہے۔ جمعیة علماءہند کے زیر اہتما م ہونے والے فقہی سیمنار میں بھی متعدد مرتبہ شرکت کی۔ فقہ پر کئی عرب علماءکی کتاب کا بھی انہوں نے ترجمہ کیا ہے۔ شہرت اور تشہیر بازی سے انہیں بالکل نفرت تھی۔ اخبارات میں چھپنے کی انہوں نے کبھی بھی ذرہ برابر کوشش نہیں کی۔

مولانا زبیر احمد قاسمی بارعب ،وجیہ اور جلالت علمی کے پیکر تھے۔ ان میں صلاحیت ،صالحیت ،ورع اور تقوی جیسی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ اساتذہ اور طلبہ میںسے جلدی کسی کو ان کے سامنے منہ کھولنے اور کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ درس وتدریس کے ماہر اساتذہ کو ہی پسند کرتے تھے۔ محنتی طلبہ پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ اشرف العلوم کی ہر چھوٹی بڑی چیزوں پر نظر رکھتے تھے۔ ذرہ برابر فضول خرچی نہیں کرتے تھے۔ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے کا سلیقہ جانتے تھے۔ مدرسہ کی رقم خرچ کرنے میں بہت ہی احتیاط سے کام لیتے تھے۔ مہتمم اور خود مختار ذمہ دار ہونے کے باوجود کفایت شعاری سے کام لیتے تھے۔ اشرف العلوم کنہواں میںطویل عرصے سے عربی ششم کی جماعت قائم کرنے کا طلبہ مطالبہ کررہے تھے لیکن ہمیشہ یہ کہکر انکار کردیتے تھے کہ صرف دو تین طلبہ کے رکنے کی وجہ سے ہم ایک مستقل جماعت قائم نہیں کرسکتے ہیں کیوں کہ ایک جماعت کیلئے دو اساتذہ کا اضافہ ہوگا۔ کلاس روم کا استعمال ہوگا۔ کتابیں خریدنی پڑیں گی۔ 2008 میں جب دس سے زائد طلبہ نے رکنے کی یقین دہانی کرائی تب آپ نے عربی ششم کی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

مولانا زبیر احمد قاسمی نے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر۔ دارالعلو مﺅناتھ بھنجن دارالعلوم سبیل السلام حیدر آباد سمیت متعدداداروں میں تدریس کا فریضہ انجام دیا۔ تاہم سب سے زیادہ وقت انہوں نے اشرف العلوم کنہواں کو دیا۔ قاری طیب صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعد متعدد شخصیات کو وہاں کے اہتمام کی ذمہ داری سونپی گئی لیکن کامیابی نہیں مل پائی اخیر میں آپ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ حیدر آباد میں شیخ الحدیث کا منصب چھوڑ کر آپ نے یہ عہدہ قبول کیا اور اس ادارے کو چوطرفہ ترقی سے ہم کنا رکیا۔ آپ کے دور اہتمام میں متعدد عمارتیں بنیں۔ تعلیمی معیار بلند ہوا۔ اچھے اساتذہ کی بحالی ہوئی اور اس ادارے نے ہمہ جہت کامیابی حاصل کی۔

جب اشرف العلوم کنہواں کو سو سال مکمل ہورہے تھے دوسری طرف پ کی صحت بگڑتی جارہی تھی تو اس بات کیلئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے کہ سوسال پورے ہونے تک ہم باحیات رہ پائیں گے یا نہیں؟۔ اپنے شاگردوں اور عزیزوں سے بہت جذباتی ہوکر کہتے تھے کہ ہماری خواہش کہ ہم جشن صدسالہ کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔اشرف العلو م کنہواں کے سوسال مکمل ہوجانے پر ایک تاریخ ساز صد اجلاس کا انعقاد کریں۔ اللہ تعالی نے یہ دعاءقبول کی۔ اشرف العلوم نے آپ کی زندگی میںسوسال کا سفر مکمل کیا۔ مارچ 2018 میں سہ روزہ جشن صدسالہ اجلاس انعقاد ہوا جس میں ہندوستان کے نامور علماءنے شرکت کی۔ لاکھوں عوام نے اس اجلاس میں حصہ لیا۔ طبعیت کی علالت کی وجہ سے صد سالہ اجلاس کا انتظام وانصر ام آپ کو دیکھنے کا موقع نہیں ملاتاہم قدرت نے آپ کو یہ حسین موقع فراہم کیا۔ سہ روزہ اجلاس میں آپ نے شرکت کی۔ وقیع اور تاریخی خطبہ صدارت پیش کیا۔ اس طرح جس ادارے کو آپ نے خون جگر سے سینچاتھا اس کا سوسالہ سفر مکمل ہوتے ہوئے آپ نے اپنی زندگی میں دیکھ لیا۔

اجلاس کے بعد کئی مرتبہ آپ کی طبعیت خراب ہوئی اور بالاخر صد سالہ کو ایک سال مکمل ہونے سے قبل ہی 13جنوری 2019 کو آپ83 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

میرے استاذ مولانا زبیر احمد قاسمی علمی مشاغل کو ترجیح دیتے تھے او رایسے ہی لوگوں سے رابطہ رکھتے تھے۔ چناں چہ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد جب ہم نے مدرسہ سے وابستگی اختیار کرنے بجائے صحافت کی دنیا میں قدم رکھاتو انہوں نے کئی موقع پر کہا ” تمہیں کوئی علمی کام کرنا چاہیئے۔ جب بھی ملاقات ہوئی زور دیکر کہاکہ جو کچھ تم نے پڑھاہے اسے ضائع مت کرنا۔ مطالعہ جاری رکھنا “۔اپریل 2018 کے صدسالہ اجلا س میں ہماری ایک مرتبہ پھر ملاقات ہوئی۔ 2009 کے بعد تقرییا یہ سب سے تفصیلی ملاقات رہی۔ متعدد ایشوز اور مسائل پر بات چیت ہوئی۔ پہلی مرتبہ ہم نے بھی اپنے استاذ کے ساتھ بہت کھل کر بات کی۔ میرے لہجے اور گفتگو میں کوئی جھجھک نہیں تھی۔ مولانا نے دیر تک اپنے ساتھ بیٹھایا۔ من کی بات کی۔ بہت کچھ کا تذکرہ کیا اور سب سے آخری نصیحت کی کہ” زندگی میں کبھی کوئی ایسا کام مت کرنا جو اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بن جائے “۔

اپنے مخدوم فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی کے بارے میں میرے پاس لکھنے کیلئے بہت کچھ ہے لیکن مذکورہ سطور کو لکھتے وقت میری آنکھوں سے آنسو بہ پڑے ہیں۔ اپنے جذبات کو کاغذپر نقش کرنا اب مشکل معلوم ہورہاہے تاہم وعدہ ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ہم وقفہ سے وقفہ اپنے تاثرات ،حضرت کے صفات وکمالات اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے اوقات کی داستان زیب قرطاس ضرور کریں گے۔ انشاءاللہ تعالی۔ اس مضمون کے ساتھ ہم ایک تصویر بھی شیئر کررہے ہیں۔ مارچ 2018 میں ہونے والے صدسالہ اجلاس کی یہ تصویر ہے جس میں دستا ر بند ی کے بعد میرے مخدوم مجھے اپنی خصوصی دعاﺅں سے نواز رہے ہیں۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے 

سبز ہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے 

مزید دکھائیں

شمس تبریز قاسمی

کالم نگار معروف صحافی اور ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Close