شخصیاتمنطق و فلسفہ

فلسفہ خودی اور اقبالؒ

خودی ایک ایسی بارش ہے جو دلوں کی سرزمینوں کو سیراب کرنے کے لیے برستی ہے۔ اس بارش سے وہی فیضیاب ہونگے جو لوازمات خودی کا بھرپور اہتمام کریں گے۔

طالب شاہین

انسان کی حقیقت کیا ہے؟ انسان کا مقصد زیست کیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ فرشتوں جیسی فرماں بردار آفاقی و نورانی مخلوق کے ہوتے ہوئے انسان کی  تخلیق کی گئی   حالانکہ آسمان پر چار انگل جگہ بھی خالی نہیں ہیں جہاں کوئی فرشتہ رب العالمین کی عبادت نہ کررہا ہو؟ انسان کی اصل کیا ہے؟کونسی چیزیں انسان کو انسان بنادیتی ہے اور کونسی چیزیں انسان میں فساد و بگاڑ   پیدا کرتی ہے؟ آخر انسان آپنی ساری توانائیاں اصلاح نفس کے بجائے آسائش جسم  پر کیوں صرف کررہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ انسان جان بوجھ  کر  خسارے کا سودا کررہا ہے؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہے جو سماج کے ہر ذی شعور فرد کے ذہن میں گونجتے رہتے ہے۔ اور ہر فرد چاہتا ہے کہ وہ ان سوالات کے مدلل جوابات بھی جان لے۔

چنانچہ کائنات پر غوروفکر کرنے والے دانشوران، سکالرز، علمائے حق اور مفتیان کرام وغیرہ کا ماننا ہے کہ تخلیق انسان کے پیچھے دراصل ایک  لمبا چوڑا فلسفہ ہے۔ اور یہ فلسفہ انسان زندگی کے مختلف کٹھن اور خوشحال مراحلوں میں سمجھ لیتا ہے۔ اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہرنعمت سے  نوازا۔ اسکے لئے آرام و سکون کے جائز زرایعہ میسر رکھا۔ اشرف المخلوقات کے خصوصی لقب سے نواز کر اسے پیڑ پودوں اور جانوروں سے ممتاز کیا۔ انسان کی صحیح راہ نمائی کے لیے بے شمار انبیاء علیہم السلام اور خصوصاً رحمت العالمین ﷺ کو بھیج کر مزید عنایت فرمائی۔  گھٹاتوپ اندھیرے میں روشنی کی کرنیں اور امیدیں جگانے والا رہبر اور انقلابی پیغام قرآن مجید نازل کیا۔ اسی قرآن مجید کی روشنی میں آدمی کو زندگی کے اصول و ضوابط سکھائے۔ ا نسان کو اس بات کی تعلیم دی کہ بھلائی کا راز کیا ہے اور کن اعمالِ سے آپ جہنم کا ایندھن بن سکتے ہو۔ انسان کو امن و راحت کا پیغام سکھایا کہ ایک انسان دوسرے کے لیے رحمت کا فرشتہ بن کرجئے۔ انسانیت کے تئیں درد و سوز کا مظاہرہ کرے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے اقامت دین اور شہادت حق کا فریضہ انسانکو  سونپا گیا۔ اور پھر بحیثیت داعیہر  جائز محاذ پر خدمت خلق خلوص دل سے انجام دینا فرض ٹھرایا گیا۔

انسان کی سیرت ایک کتاب کی مانند ہونی چاہیے کہ دوسرے افراد اسکی سیرت و کردار سے متاثر ہوکر بھلائی کی راہ اختیار کرے۔ انسان اپنے مقصد زندگی کو مدنظر رکھ کر زندگی کا قلیل سفر فرمان برداری اور عاجز و  انکساری کے ساتھ طے کرے۔ بقول شاعر

اے زے زارِ زندگی بیگانہ خیز

از شراب مقصدے مستانہ خیز

(راز زندگی سے بے خبر انسان، ہمت اور کسی مقصد کی شراب سے مستانہ ہو کر اٹھ)۔

مقصدے مثل سحرِ تابندہ

ما سواء را آتش سو زندہ

(ایسا مقصد جو نور کی طرح روشن ہوگا اور اٹھ غیر اللہ کو آگ کی طرح جلاکر راکھ کردے)۔

مقصدے از آسمان بالاترے

دلربائے، دلستانے، دلبرے

(ایسا مقصد جو آسمان سے بھی بلند تر اور عظیم ہو، جو دلربا بھی ہو، دلستان بھی اور دلکش بھی)۔

ماز تخلیق مقاصدِ زندہ ایم

از شعاء آرزو تابندہ ایم

(ہم تو تخلیق مقاصد ہی سے زندہ ہے اور ہمیشہ آرزو کی شفاء ہی سے روشن ہے)۔

اوپر دئے گئے چند اشعار میں حکیم الامت ؒ انسان کا مقصد زندگی واضع کرنا چاہتے ہے۔ اقبال  کے اشعار کسی تشریح کے محتاج نہیں ہے، کیونکہ علامہ کے اشعار جامعیت و معنویت سے سرفراز ہے۔ اقبال کے نزدیک مقصد زندگی ہی انسان کو زندہ رکھتی ہے۔ اور بیمقصد زندگی زوال اور روحانی انحطاط کی نشانی ہے۔ اسی مقصد زندگی پر غوروفکر نے اقبال کو اقبال بنادیا۔ علامہ فرماتے ہے

وہ زیست ہی قابل زیست ہے

جو زیست بھی ہو پیغام بھی ہو۔

علامہ چاہتے تھے کہ انسان کائنات اور اپنے وجود پر لامتناہی غوروفکر  کریں جسکے نتیجہ میں وہ اپنے مقصد زیست سے آگاہ ہوسکتا ہے۔ اقبال کی شاعری میں لفظ ”خودی ” کا استعمال بکثرت ہوا ہے۔ آسان الفاظ میں کہسکتے ہے کہ خودی خود آگاہی اور خودشناسی کا نام ہے۔ خودی نام ہے اپنے اندرونی دنیا سے متعارف ہونے کا۔ خودی کی تعمیر کے بعد ہی انسان اپنے خیالوں کو ارادوں اور ارادوں کو کارناموں میں تبدیل کرپاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اپنی انا کو شکست و زوال و انحطاط سے محفوظ رکھنا اور جمود کے بجائے حرکت کو زندگی کا اصل ضامن ماننا  خودی ہے۔ الغرض خودی کا تحفظ زندگی کا تحفظ ہے اور خودی کا زوال زندگی کا زوال ہے۔ اس حقیقت کا اظہار علامہ ان الفاظ میں کرتے ہے

میری زندگی اسی سے، میری آرزو اسی سے

جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو روسیاہی

اقبالؒ خودی کو کامل انسان زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ قرآن وسنت کی روح سے لبریز صفتِ خودی علامہ کے نزدیک تمام انسانی دولتوں پر بھاری ہے۔ بندہ خدا کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی زات میں گم ہوکر اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کی ہرممکن کوشش کریں۔ ایام زندگی میں غیرت سے کام لے، بہار کے موسم میں نیند کی غفلت کے بجائے مسلسل جاگتا رہے اور خالق کاt:پہچان کرے۔ اقبال کے نزدیک بہترین خودی تقدیر کو بھی بدلاسکتی ہے مگر اسکے لیے شرط اول یہ ہے کہ آدمی سچے دل اور خلوص نیت سے اسلام میں اترگیا ہو۔ اقبال فرماتے ہے

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

خودی کو کربلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

خودی کا سفر ایک واحد سفر ہے جو انسان کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ خودی ہی وہ انقلابی تصور ہے جو بندہ خدا میں مقصدکی   بلندی اور نظر کی وسعت سے متعارف کراتا ہیعلامہ ۔ نصحیت لہجے میں فرماتے ہے کہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں 

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہہیں

تہمی زندگی سے نہیں یہ فضائیں

یہاں سینکڑوں کاروں اور بھی ہیں

اسی روز وشب میں الجھ کرنہ رہ  جانا

کہ تیرے زمان و مکان اور بھی ہیں۔

خودی انسانی زندگی کا سب سے طویل، اہم اور دلکش سفر ہے۔ یہ انسانی ذہن کی تنگی کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم۔ نے خودی کو ایک ندی سے زیادہ نہیں سمجھا ہے بلکہ اقبالؒ کی نظر میں خودی کی وسعت ایک ایسے بحر کی مانند  ہے جسکے کنارے ہی نہیں ہیں۔

خودی ہے وہ بحر جسکا کوئی کنارہ نہیں

تو آب جو اسے سمجھا اگر کوئی چارہ نہیں

علامہ ملت کے عقابوں کو خودی کے رنگ میں رنگ جانے کی تلقین کرتے ہے۔

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا

خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجمان ہوجا

تعمیر خودی کی والہانہ گزارشات کے ساتھ ساتھ علامہ امت کو وحدت، اتحاد، محبت اور جزب باہمی کا درد بھرا پیغام دیتے ہے

ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انسان کو

اخوت کا بیان ہوجا محبت کی زبان ہوجا

اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان شبنم کے چند قطروں میں سمندر کے اوصاف پیدا کرنے کے قابل ہوجائے، سورج سے بھیک کی روشنی لینے کے بجائے اپنے اندر کی چنگاری سے روشنی حاصل کرلے۔ افسوس سے کہنا پڑھتا ہیں کہ ہمارے طلبہ و طالبات نیوٹن، ڈارون، مارکس، نٹشے، ارسطو وغیرہ کے کافی علمی ذخائر اپنے ذہنوں میں ٹھوس چکے ہے مگر ہموطن، ہم زبان اور عزیز اقبال کے پیغامات پر ایک نظر روڈانا بھی بھول گئیہے ۔ ملت  اسلامیہ آج انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر جس زوال کے شکار ہے، ہمیں علامہ اقبال کے افکار و نظریات سے علمی، عملی و فکری استفادہ اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

موجود حالات تقاضا کرتی ہے کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فکرِ اقبال کو بھرپور سمجھ لیا جائے تاکہ ملت موجودہ طاغوتی اور فکری بحران کے چنگل سے آزاد ہوجائے۔ عصر حاضر میں جہاں امت مسلمہ مختلف طریقوں سے زیر کئے گئے ہے وہی اگر نوجوان اپنے اندر بہادری اور غیرت کا جذبہ پیدا کرلیں تو ملت مفلسی، فکری انتشار، اور سیاسی زوال کے باوجود دنیا کی امامت کا منصب ازسرنو سنبھال سکتی ہے کیونکہ اسکے لیے مال و دولت نہیں بلکہ غیرت، وحدت اور جذبہ باہمی درکار ہے۔ ماضی میں بھی جیسا ثابت ہے کہ اقبالؒ کی قائدانہ فکر نے ایک مردہ غلام قوم میں غیرت و جذبہ حریت کی نئی روح پھونک دی۔ یہ اقبالؒ ہی تھے جنہوں نے سوئی ہوئی روحوں کو جگا کر ایک انقلابی لاحہ عمل ترتیب دیا ۔ اقبالؒ کو اقبال سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مولانا  عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ فرماتے ہے کہ اقبال کونہ ہی قوم سمجھ سکی اور نہ ہی انگریز، اگر قوم سمجھ لیتی تو  آج غلام نہ ہوتی اور اگر انگریز سمجھ لیتے تو اقبالؒ بستر مرگ پر نہ مرتا بلکہ تخت دار لٹکایا جاتا۔ حق  تو۔ یہ ہے کہ اقبال کوسمجھنے کا حق ادا نہ ہوا۔ اقبالؒ  کی شخصیت میں جو جامعیت، بلند فکر و خیال، سوزِ درد نظر :آتی ہے، انکا تعلق اقبال کی زندگی کے اس رخ سے ہے جسے ہم یقین و ایمان کہتے ہے۔

مغربی اور لادین نظام تعلیم کا بنیادی نقص یہ ہے کہ یہ تعلیم انسان کی خودی کو جگا نہیں پاتا بلکہ الٹا اسے سلادیتا ہے۔ اس میں پلنے والا شاگرد مادہ پرستی کا شکار ہوکر مقصد حیات سے دور ہوجاتا ہے۔ انسان میں اخلاقی روح قند و بیکار ہوجاتی ہے۔  مسلسل دس بارہ سال کی اس لادینی فکری تربیت طالب علموں میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ اسی زہر ہلاہل سے ہمارے طالب علم جہالت کے گھٹاتوپ اندھیرے میں روحانی موت کے شکار ہوکر ابدی نیند سوجاتے ہے۔ وہ بظاہر زندہ لگتے ہے مگر  انکی حیثیت کسی لاش dead body سے زیادہ نہیں رہتی  ۔ یہی one dimensional education system انسان کی خودی کو تباہ کرتی ہے ۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ میت وہ نہیں جسکی روح پرواز کرگئی ہو بلکہ حقیقی میت تو وہ ہے جو سمجھ نہیں سکتا کہ اسکے رب کے اس پر کیا حقوق ہے۔ یہی بات علامہ اس لہو ٹپکتے شعر میں فرماتے ہے

گھلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا

کہاں سے آئے گی صدا لا الہ الا اللہ

بہترین خودی کی نشوونما کے لیے صالح علم اور نفس پر قابو ہونا ضروری ہے ۔ سید مودودی ؒفرماتے ہیں کہ نفس کی حیثیت اسکے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ خودی کے حضور اپنی خواہشات کو درخواست کے طور پر پیش کرے۔ فیصلہ خودی کے اختیار میں ہے کہ وہ آلات اور طاقتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے اور نفس کی گزارشات میں سے کسے قبول اور کسے رد کردے۔ اگر کوئی خودی اتنی کمزور ہو کہ جسم کی مملکت میں وہ اپنا حکم اپنے منشاء کے مطابق نہ چلا سکے اور اسکے لیے نفس کی خواہشیں مطالبات اور احکامات کا درجہ رکھتی ہوں تو وہ ایک مغلوب اور بیبس خودی ہے۔ اسکی مثال اس سوار کی سی ہے جو اپنے گھوڑے کے قابو میں آگیا ہو۔ ایسے کمزور انسان دنیا میں کسی قسم کی بھی کامیاب زندگی بسر نہیں کرسکتے۔ تاریخ انسانی میں جن لوگوں نے اپنا کوئی نقش چھوڑا ہے وہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنے وجود کی طاقتوں کو بزور اپنا محکوم بنا کے رکھا ہے، جو خواہشات نفس کے بندے اور جزبات کے غلام بن کر نہیں بلکہ انکے آقا بنکر رہے ہیں، جنکے ارادے مضبوط اور عزم پختہ رہے ہیں۔

مشہور عالم دین حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ اپنی کتاب ”انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ” میں فرماتے ہے کہ ”انسان نے پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا اور مچھلیوں کی طرح پانی میں تیرنا سیکھ لیا لیکن آدمیوں کی طرح زمین پر چلنا بھول گئے۔ بیقید و بیشعور عقل و علم نے ہررہزن اور قفل شکن کو قفل شکنی کا آلہ اور ہر بدمست کو تلوار مہیا کی۔

خدا طلبی کے عمومی ذوق کی جگہ دنیا طلبی کے بحران نے لے لی۔ اخلاق و معنویات اور حقیقی انسانی صفات و کمالات میں سخت انحطاط اور تنزل ہوا۔ غرض لوہے اور دھات کو ہرطرح ترقی ہوئی اور آدمیت کو ہرطرح زوال ہوا”۔

 حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ اپنی کتاب ”انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ” میں فرماتے ہے کہ ”انسان نے پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا اور مچھلیوں کی طرح پانی میں تیرنا سیکھ لیا لیکن آدمیوں کی طرح زمین پر چلنا بھول گئے۔ بیقید و بیشعور عقل و علم نے ہررہزن اور قفل شکن کو قفل شکنی کا آلہ اور ہر بدمست کو تلوار مہیا کی۔

خدا طلبی کے عمومی ذوق کی جگہ دنیا طلبی کے بحران نے لے لی۔ اخلاق و معنویات اور حقیقی انسانی صفات و کمالات میں سخت انحطاط اور تنزل ہوا۔ غرض لوہے اور دھات کو ہرطرح ترقی ہوئی اور آدمیت کو ہرطرح زوال ہوا”۔

خودی ایک ایسی بارش ہے جو دلوں کی سرزمینوں کو سیراب کرنے کے لیے برستی ہے۔ اس بارش سے وہی فیضیاب ہونگے جو لوازمات خودی کا بھرپور اہتمام کریں گے۔ موجودہ حالات سے مایوس ہوکر کفر کا مرتکب ہونے سے اچھا ہے کہ خودی کی نشوونما کے لیے کٹھن مرحلے برداشت کیے جائے۔      مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں انسان خودی کی لامتناہی دولت سے سیراب ہوجاتا ہے جو پھر ایک غغیر معمولی طاقت بن کر انسان کے دل کو عقابی قوت بخشش ہے۔ انسان صحراوں، سمندروں اور آسمانوں کی وسعتیں اپنے دامن میں جزب کرپاتا ہے۔ بقول اقبالؒ

دو نیم اسکی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سمٹ کر پہاڑ اس ہیبت سے رائی

مزید دکھائیں

طالب شاہین

سوپور، کشمیر

متعلقہ

Close