شخصیات

لقمان حکیم (پانچویں قسط)

حکمت

بیٹا !حکمت ودانائی مفلس کوبادشاہ بنادیتی ہے۔ (قصص القرآن ، تالیف محمد حفظ الرحمان ، جلد 3اور4 صفحہ 48طبع دارالاشاعت اردو بازار ، ایم اے جناح روڈ ، کراچی پاکستان)

بیٹا !میں نے سات ہزار حکمت کی باتیں یاد کی ہیں ۔ لیکن تم ان میں صرف چار یادکرلو تو میرے ساتھ داخل بہشت ہوجائو گے۔

(1) اپنی کشتی کومضبوط و مستحکم بنائو۔اس لئے کہ تمہارادریا گہراہے۔

(2)اپنا بار ہلکا کرلو چونکہ سختی اورپرپیچ و خم راہیں سامنے ہیں ۔

(3)اپنے ہمرازیادہ توشہ رکھو کیوں کہ سامنے دوردراز کا سفر ہے۔

(4)خالص اعمال انجام دواس لئے کہ جو تمہارے اعمال کو تولے گاوہ ہر چیز سے آگاہ اور باخبر ہے۔ (اختصاص شیخ مفیدصفحہ 337)

بیٹا !تم حکمت سیکھو۔ اس کے ذریعہ تم شرافت اوربزرگی حاصل کروگے۔ حکمت سیکھنا آدمی کی دین داری کی علامت ہے اور یہ حکمت ومعرفت ہی ہے جو آدمی کوغلامی سے آزاد ، فقیری سے امیری اور چھوٹوں کوبڑوں پر برتری بخشتی ہے۔ فقیروں کوبادشاہ کی جگہ بٹھادیتی ہے۔شریفوں کی شرافت اوربزرگوں کی بزرگی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ مالدار کوبزرگی عطا کرتی ہے۔

بیٹا !اولاد آدم یہ کیسے گمان کرتاہے کہ وہ دین و معاشرہ کی ضروری باتیں حکمت کے بغیر حاصل ہوجائیں گی ؟حالانکہ خداوندعالم نے دین کی باتیں بغیرعلم وحکمت کے کسی کے لئے بھی نہیں قرار دیں ! میرے فرزند ! اطاعت و فرماں برداری کی مثال بے جاں جسم اور بے آب زمین کی سی ہے۔ جس طرح کوئی بھی جسم بغیر روح کے فائدہ نہیں رکھتا اسی طرح بے آباد زمین آباد نہیں ہوتی۔اسی طرح حکمت بھی بغیر اطاعت و بندگی کے موثر نہیں ہوتی۔ (حقوق اولاداور ہدایات اہل بیت صفحہ ؍224، ناشر :تنظیم المکاتب ، لکھنو ، انڈیا )

حلال و حرام

بیٹا !چھوٹے چھوٹے حلال کا بھی شمار کیاگیا ہے تو بڑے حرام کاحساب کیوں نہیں ہوگا!؟(اختصاص مفید صفحہ 334)

بیٹا !خاموشی میں کبھی بھی ندامت نہیں اٹھا نی پڑتی ہے۔ کلام اگر چاندی ہے تو سکوت سونا۔ (قصص القرآن ، تالیف محمد حفظ الرحمان ، جلد ۳اور۴ صفحہ 48طبع دارالاشاعت اردو بازار ، ایم اے جناح روڈ ، کراچی پاکستان)

دنیا

 ’’یابنی !ان الدنیا بحر عمیق وقد ھلک فیھا عالم کثیر فاجعل سفینتک فیھا الایمان واجعل شراعھا التوکل واجعل زادک فیھا تقو ی اللہ فان نجوت فبرحمۃ اللہ و ان ھلکت فبذنوبک۔ ‘‘

بیٹا! دنیا ایک گہرا اور عمیق سمند رہے جس میں بہت سی مخلوق غرق ہو چکی ہیں ۔ لہٰذا! اس سمندر میں تمہارا سفینہ خد اپر ایمان ہوناچاہئے جس کا بادباں توکل ، جس کا زاد راہ خداکا تقوی ہو۔ اگر تم نے اس سمندر سے نجات پا لی تو سمجھو کہ رحمت خدا کی بر کت سے ہے اور اگر ہلاک ہوگئے تو جا ن لو کہ اپنے گناہوں کی بدولت ہے۔ (اصول کافی ج 1 صفحہ 13)

’’یابنی! ان الدنیا بحر عمیق قد غرق فیھا عالم کثیر فلتکن سفینتک فیھا تقوی اللہ وحشوھا الایمان و شراعھا التوکل و قیمتھا العقل و دلیلھا العلم و سکاھاالبصر۔‘‘

بیٹا ! دنیا ایک عمیق اور گہرا سمندر ہے جس میں بہت بڑی دنیا غرق ہوچکی ہے اس سمندر میں تمہاری کشتی خدا کاتقویٰ ہونا چاہئے اور زاد راہ توشہ ایمان ، اس کابادباں توکل ، ناخداعقل اور راہنما علم اور اس کا ساکن صبر و شکیبائی۔ (تفسیر نمونہ زیر نظر آیۃ۔۔۔ناصر مکارم شیرازی جلد ۹صفحہ ۴۳۲ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ )

بیٹا !اس دنیا میں لوگوں سے لڑائی نہ کرو۔اس لئے کہ ان کی وجہ سے لوگ تمہاری طرف اپنے دل میں نفرت اورکینہ رکھیں گے۔ (بحارالانواز جلد ۱۳صفحہ 419)

بیٹا !خبردار! تم اس دنیاسے کچھ سرمایہ لئے چلے جائو اس حال میں کہ اپنے کام کواور اپنے اموال کو دوسرں کی سرپرستی میں کر جائو اور اسے اپنے امور کاحاکم بنادو۔ (اختصاص مفید صفحہ 332)

بیٹا !دنیا سے ، اس کے گناہوں سے اور شیطان سے ہرگز مطمئن نہ ہونا۔(اختصاص شیخ مفید صفحہ 332)

بیٹا !دنیا کو اپنی تکیہ گاہ نہ قرار دو اوراپنا دل دنیامیں مشغول نہ کرو۔ اس لئے کہ خداوند عالم نے دنیا سے زیادہ پست کوئی اورچیز نہیں خلق کی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا نے دنیاکی نعتوں کو اطاعت کرنے والوں اور نیکو کاروں کے لئے بدلہ نہیں قرار دیاہے اور دنیا کی بلاء و مصیبت کو بھی گناہگاروں کی سز انہیں قرار دیا ہے۔ (بحار الانوار جلد 13صفحہ 412)

بیٹا !دنیا کے معاملات میں اس طرح داخل نہ ہو کہ تمہاری آخرت کو نقصان پہونچائے اور اسی طرح دنیاوی معاملات کو اس طرح ترک نہ کرو کہ دوسرں کے لئے سر کابوجھ بن جائو (کوئی کام دھندہ نہ کرواور دوسروں کے ٹکڑوں پر زندگی بسر کرو )۔(مجمو عہ ورام صفحہ ۶۵اور بحار الانوار جلد ۱۳صفحہ ۱ ۴۱ پر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ )

بیٹا !دنیا کے مال و دولت کو زیادہ نہ بڑھائو۔ اس لئے کہ اس کی حقیقت سے تم غافل اور بے خبر ہو اور جس کی طرف قدم بڑھارہے ہوا س پر غور فکر کرنا۔ (اختصاص صفحہ 335)

بیٹا !دنیاکو قید خانہ قرار دو تاکہ آخرت بہشت ہوجائے۔(اختصاص مفید صفحہ 335)

بیٹا !اپنی دنیا کوآخرت کے بدلے بیچ ڈالو اس طرح دونو ں سے فائدہ اٹھا ئو گے اور آخرت کو اپنی دنیا کے بدلہ فروخت نہ کرو کہ دونوں جگہ نقصان اٹھائو گے۔ (حقوق اولاد اور ہدایات اہل بیت صفحہ ؍242ناشر ، تنظیم المکاتب، لکھنو ، انڈیا )

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close