شخصیات

متکلم اسلام مولانا محمد اسلم قاسمی: حیات وخدمات 

عامر ظفر قاسمی

(مضمون نگار معہدالطیب نبی کریم نئی دہلی کے ناظم ہیں )

دیوبند علم وفضل کا مرکز اور اصحاب کمال کی بستی ہے، یہاں کے خمیر سے اٹھنے والے افرادو اشخاص کے کمالات، امتیازات، خدمات اور اوصاف کا احاطہ ناممکن ہے، دیوبند کے دامن میں ٹکے ستارے اس کی کشادہ پیشانی پر نور کی لکیریں اور اس کی آنکھوں میں جلتے علم وکمال کے دیئے گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے ہر حصہ میں روشن کی روایتوں کو بھی زندہ نہیں رکھا؛ بلکہ دور جدید کی تقاضوں کی تکیمل بھی کی اور کرداروعمل اور اخلاق وعادات ہی میں مفرد نہیں تھے؛ بلکہ ان کے قدم جس میدان کی جانب بھی اٹھے۔ رنگ کی بارش ہوئی، ان کے وجود سے فضائیں عطر بیزاو رماحول خوش گوار رہا، وہ جہاں پہنچے اور جس آبادی میں اس کے قدم پڑے وہاں ان کا استقبال ہو۔قدر دانوں نے اس کے اپنے دل میں جگہ دی اور قدر ومنزلت کی ہر بلندی کو انہوں نے حاصل کیا۔

دیوبند کو دیوبند بنانے اور دنیا میں اس کا مقام پیدا کرنے، میں جس خانوادے کے خدمات سب سے نمایاں ہیں وہ ہے خانوادہ قاسمی۔ متکلم اسلام حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی ؒ اس خانوادے کے روشن وچراغ ہیں ، آپ نے 3/ جون 1938ءکو حکیم الاسلام حضرت محمد طیب صاحبؒ کے گھر آنکھیں کھولیں۔ دارالعلوم دیوبند میں جناب قاری کامل صاحبؒ کے پاس قرآن کریم ناظرہ کیا،بعد ہ فارسی میں داخل ہوئے اور چارسال دارالعلوم میں فارسی پڑھی، آپ کے فارسی کے اساتذہ میں مولانا بشیر صاحبؒ، مولانا ظہیر صاحبؒ، قاری مشفع صاحبؒ، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

 فارسی کی تکمیل کے بعد درجات عربیہ میں داخل ہوئے، اور 1959ءمیں فراغت حاصل کی، آپ کے درجات عربیہ کے اساتذہ میں مولانا نصیر احمد خان صاحبؒ، حضرت مولانا عبدالاحد صاحبؒ، حضرت مولانا نعیم صاحبؒ اور برادر اکبر حضرت مولانا محمد سا لم صاحب قاسمی دامت برکاتہم وغیرہ قابل ذکر ہیں ، آپ کو سند حدیث حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ حضرت مدنی انتقال فرماگئے، ان کے بعد حضرت مولانا محمد فخرالدین صاحبؒ مسند حدیث پر جلوہ افروز ہوئے، آپ کو ان سے بھی اجازت حدیث حاصل ہے۔

دارالعلوم سے فراغت کے بعد عصری علوم میں مصروف ہوگئے، علی گڑھ سے میٹرک کا امتحان دیا اور عصری علوم میں مہارت حاصل کی، 1929ئ، میں دارالعلوم میں آپ کا تقرر ہوا، مختلف شعبہ جات میں آپ نے خدمات انجام دیں ، دارالعلوم وقف دیوبند کے قیام کے بعد آپ نے یہاں باضابطہ تدریس کا آغاز کیا، مشکوة شریف، ابودا ود شریف، ترمذی شریف، جیسی اہم کتابیں آپ سے متعلق رہیں ، اور اب گزشدہ کئی سال سے بخاری شریف جلد اول آپ سے متعلق تھی۔

 آپ کا درس بیحد مقبول شگفتہ، سلجھی ہوئی تقریر، آسان انداز بیان، الجھی ہوئی عبارتوں اور مشکل ترین مسائل کو خوبصورتی کے ساتھ ادا فرماتے تھے، طلبہ میں مقبول بھی محبوب بھی، ایک محبوب استاد کی حیثیت سے ان کی پہچان قائم تھی، اختلاقی مسائل میں علماءکے اختلاف اور ان کے صحیح مذاہب مستند کتابوں کے حوالے سے بیان فرماتے تھے پھرائمہ کے دلائل اور آخر میں امام ابوحنیفہؒ کے دلائل کا ذکر ہوتا ہے، مگر اس شان سے کہ ائمہ پر کوئی حرف نہ آئے، بخاری میں ترجمتہ الباب کی تشریح اور حدیث سے اس کی مطابقت پر پوری توجہ صرف ہوتی ہے۔

حضرت مولانا سید انظرشاہ صاحب کشمیریؒ کی وفات کے بعد 2008ءمیں آپ کو صدرالمدرسین اور ناظم مجلس تعلیمی کے منصب پر فاﺅ کیا گیا، جس کو آپ بحسن وخوبی انجام دے رہے تھے، دارالعلوم وقف دیوبند میں اعلی منصب پر فائز ہونے کے باوجود سادگی اور تواضع کا مجسمہ تھے، تدریس کے ساتھ ساتھ تحریر وقلم سے بھی آپ کا مضبوط رشتہ تھا، سیرت حلبیہ کا مکمل ترجمہ سیرت پاک کے نام سے سیرت کے موضوع پر ایک اہم مجموعہ آپ کے قلم سے نکلا۔ آپ بے مثال خطیب، انفرادی شان کے مدرس، بلند پایہ مصنف، سحر طراز صاحب قلم وادیب، بلند، کثیر المطالعہ قدیم اور جدید کے پختہ علم، گوناگوں صلاحتیوں کے حامل، خاموش طبیعت، متین، پروقار اور بردبار۔ یورپی ممالک میں حکیم الا سلا م ؒ کے رفیق سفر اور حکیمانہ خطاب کے ترجمان، اجلاس صدسالہ کے ناظم و روح رواں ، درالعلوم وقف دیوبند کے محدث، بیرون مقبول ومشہور شخصیت۔

ایک قلمکار فکر شہ پاروں کے ذریعہ اپنی موجودگی اور کام کا احساس دلاتا ہے، اپنی صلاحتیوں کے چراغ ہتھیلیوں پر سجاتا، اپنوں اور غیروں کو روشنی دکھا کے آگے بڑھ جاتا ہے، یہی عمل ہے جس نے حضرت کو زندہ رکھے ہوے تھے، حضرت مولانا لکھتے ہیں اور پوری طرح ڈوب کر لکھتے ہیں ، موضوع کوئی بھی ہو، عنوان کسی بھی نوعیت کا ہو، اس میں ان کی انفرادیت صاف نظر آتی ہے، ان کے اکثر مقالات ومضامین تحقیق دلائل سے ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں سیرت رسول آپ کا خاص عنوان تھا آپ نے اس پر لکھا اور بہت کچھ لکھا، مجموعہ سیرت رسول، ولادت نشوونما اصحاب کہف، آپ کے قلم سے نکلی ہوئی تحقیقی کتابیں ہیں ، سیرت حلبیہ جو عربی میں 3 جلدوں میں مشتمل تھی۔

 آپ نے اس میں ترجمہ کے علاوہ کچھ اہم اضافات کئے، آج یہ کتاب چھ جلدوں میں حضرت کی تحقیقات کے ساتھ دستیاب ہے، عربی کی مشہور لغت المنجد بھی موصوف کا ایک علمی کارنامہ ہے۔ اپنے والد محترم حکیم الاسلام کے شعری مجموعہ عرفان عارف کو آپ ہی نے ترتیب دیا، اپنے خود بھی فن شعر گوئی میں خاصا ملکہ رکھتے تھے اور اس کے علاوہ آپ کے متعدد مقالات ومضامین ہیں جو مختلف رسائل وکتب میں بکھرے ہوئے ہیں ، جو بہت اہم اور لائق استفادہ ہیں۔ (حوالہ عکس احمد)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close