شخصیات

مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی: حیات و تعلیمات

مجدد الف ثانی کا اصل نام احمدہے اور عوام و خواص میں ’’مجدد الف ثانی‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔

جہاں گیر حسن مصباحی

نام و نسب:

مجدد الف ثانی کا اصل نام احمدہے اور عوام و خواص میں ’’مجدد الف ثانی‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ کے والد کا نام عبدالاحد (م:۱۰۰۷ھ/۱۵۹۸ء) ہے جو اپنےزمانےکے بہترین   عالم دین اور جلیل القدر چشتی شیخ تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب چھبیں واسطوں سے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، اور اِسی کی مناسبت سے آپ فاروقی کہلاتے ہیں۔

ولادت کی بشارت:

خواجہ عبدالاحد نے ایک بار خواب دیکھا کہ ہر طرف تاریکی پھیلی ہوئی ہے اور خنزیر اور بندر لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں کہ یکایک اُن کے سینے سے ایک نور نکلا، اس سے ایک تخت ظاہر ہواجس پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے  اور اس کے سامنے ملحدوں کو قتل کیا جارہا ہے اور کوئی یہ کہہ رہا ہےکہ ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بےشک باطل مٹنے ہی والا تھا۔ ‘‘(اسرا:۸۱)

 صبح اس کی تعبیر پوچھنے پرحضرت شاہ کمال کیتھلی نے فرمایا کہ تمہارے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا اور وہ کفروالحاداِور  بدعات و منکرات کا سخت رد کرےگا۔ لہٰذاکچھ دنوں بعدجمعہ کی شب شوال ۹۷۱ھ/ ۱۵۶۳ء  میں پنجاب کے ایک شہر’’ سرہند‘‘ میں آ پ کی ولادت ہوئی۔

تعلیم و تربیت:

آپ بہت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ خواجہ محمد ہاشم کے بقول:آپ نےابتدائی عمر میں ہی قرآن کریم حفظ کرلیا، اعلیٰ کتابیں زیادہ تر اپنے والد خواجہ عبدالاحد سے پڑھیں۔  مولانا کمال کشمیری سے عضدی، یعقوب کشمیری سے کتب حدیث اور قاضی بہلول بدخشی سےتفسیر واحدی، بیضاوی، صحیح بخاری، قصیدہ بردہ وغیرہ پڑھیں۔ یہاں تک کہ ۹۹۸ھ کوسترہ سال کی عمر میں آپ نے تمام مروجہ علوم سے فراغت حاصل کرلی اور باضابطہ طورپر درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے لگے۔

شرف بیعت:

آپ اپنے والد خواجہ عبدالاحد سے سلسلہ چشتیہ میں بیعت  ہوئے اور اُن ہی سے باطنی تعلیم بھی پائی۔ اس کے علاوہ شاہ کمال کیتھلی (۹۸۱ھ/۱۵۷۳ء) کی صحبت بھی ملی۔ اس وقت شاہ کمال کیتھلی ہندوستان میں قادری سلسلے کے شیخ کامل تھے۔

خواجہ باقی باللہ سے ملاقات:

والد ماجد کے انتقال کے بعدآپ ۱۰۰۸ھ میں حرمین کی زیارت کے ارادے سےنکلے اوردہلی پہنچے۔ دہلی میں مولانا  حسن کشمیری کی تحریک پر خواجہ باقی باللہ (خواجہ اِمکنگی کے خلیفہ اور ہندوستان میں نقشبندی سلسلے کے بانی)کی خدمت میں پہنچے اوراُن سے ملاقات کی۔ خواجہ باقی باللہ نےآپ کے  ساتھ بڑی محبت و شفقت کا مظاہرہ کیا اورکہا: آپ مبارک سفرپر جارہے ہیں لیکن اگر چند دن فقرا  کی صحبت میں رہتےتو بہتر ہوتا، چنانچہ آپ ٹھہر گئے اور تین ماہ چند دنوں کی قلیل مدت میں اتنا کچھ پالیا کہ جسے کوئی طالب برسوں میں نہیں پاسکتا۔

اجازت و خلافت:

کچھ دنوں تک مرشد طریقت کی خدمت میں رہے اور روحانی ترقیات کی اہم منزلیں طے کیں، اور جب ایک دن واپسی کی اجازت طلب کی توخواجہ باقی باللہ نے آپ کو  اجازت و خلافت کے ساتھ رخصت کیا۔ اس طرح آپ ارشاد وہدایت کی اجازت کے ساتھ اپنے وطن سرہند واپس ہوئے اور وطن پہنچتے ہی مخلوق کی رشد وہدایت اور اُس کی صلاح وفلاح میں مشغول ہوگئے۔

لاہور کا تبلیغی سفر:

آپ خود بیان کرتے ہیں کہ اپنے شیخ طریقت خواجہ باقی باللہ (۱۰۱۲ھ) کی زندگی میں جب میں تیسری اور آخری بار دہلی پہنچا اور خواجہ کی خدمت میں حاضری دی تو اُنھوں نے فرمایاکہ’’ مجھ پر ضعف کا غلبہ ہے۔ زندگی کی امید کم ہے۔ تم بچوں کے حالات سے باخبر رہنا۔ ‘‘

 دہلی سے واپسی پر آپ سرہند پہنچے اوروہاں چند دنوں تک قیام کرنے کے بعدمرشد طریقت کے حکم کے مطابق لاہور تشریف لے گئے، جہاں تبلیغی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ تعلیم وارشاد کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ لاہور میں بڑے بڑے فضلا و علمانے آپ کی بابرکت صحبت سے فیض اٹھایا، اور اِس طرح تقریباً ۱۰۱۰ھ سے ۱۰۱۲ھ  تک لاہور میں آپ کا قیام رہا اوراِس دوران ایک دنیا آپ سے فیض پاتی رہی۔

مرشد کا وصال:

لاہور میں دریائے راوی کے کنارے عوام و خواص کو فیض پہنچانے میں مشغول تھے کہ خواجہ باقی باللہ کے وصال کی خبر  پہنچی، لہٰذا دہلی واپس ہوئے۔ مزارپُرانوار پر حاضری دی، پھر  اہل خانہ کی تعزیت کی اور سرہند چلے گئے۔ پانچویں بار ۱۰۱۳ھ  میں عرس کے موقع پر دہلی پہنچے، اوراِس بار واپسی کے بعدپھر کبھی دہلی نہیں گئے، البتہ! آپ نےدوتین بار آگرہ کا سفر کیا۔

کمالات و امتیازات:

آپ کی عظمت شان کی گواہی خود آپ کے مرشد برحق خواجہ باقی باللہ نے دی ہے۔ ایک بار کا ذکر ہے کہ خواجہ باقی باللہ نے آپ سے فرمایاکہ میں نے ہندوستان کا اراد کیا تو دیکھاکہ ایک طوطی آکرمیرے ہاتھوں پر بیٹھ گیا۔ میں اُس کے منھ میں اپنا لعاب  ڈال رہا ہوں اور وہ اپنی چونچ سے میرے منھ میں شکر ڈال رہا ہے۔

 اس تعلق سے اپنے شیخ خواجہ اِمکنگی(۱۰۰۸ھ) سے پوچھا تو اُنھوں نے فرمایا کہ ہندوستان میں تم سے ایک شخص تربیت پائےگا جو دنیا کو بھی روشن کرےگا اور تجھے بھی اُس سے کچھ حصہ ملےگا۔ اس کے بعدخواجہ باقی اللہ نے آپ سے فرمایا کہ وہ تم ہو۔

 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی(۱۷۰۳-۱۷۶۴ء) فرماتے ہیں :  آپ (مجدد الف  ثانی)سے ایک مومن اور متقی شخص کو ہی محبت ہوگی اور آپ سے بغض رکھنے والا شقی اورمنافق ہی ہوگا۔ کسی اور مشائخ کے نام کے ساتھ ’’ مجدد‘‘ کے لقب کی ایسی شہرت نہیں ملی جتنی کہ آپ کے نام کے ساتھ’’ مجدد‘‘ لقب کی شہرت ہوئی، بلکہ یہ تو آپ کےاصل نام (احمد)سےبھی زیادہ مشہور ہے۔ اس کے بعد یہ کہنے کی کچھ گنجائش باقی نہیں رہتی ہے کہ آپ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔

معمولات واعمال:

آپ کے معمولات میں فرائض پر بڑا زور ملتا ہے۔ فرائض کی ادائیگی میں معمولی غفلت بھی گوارہ نہ تھا۔ سردی ہو یا گرمی، سفر ہو یا حضر نمازیں پہلی فرصت میں ادا کرتے۔ عشا کی نماز کے بعد فوراً آرام کرتے اور اُس وقت کلام وغیرہ سے پرہیز کرتےکہ اس وقت کلام کرنا آپ کو پسند نہ تھا۔ کبھی آدھی رات میں بیدار ہوتے اور کبھی تہائی رات میں بیدار ہوتے، اہتمام سے وضو کرتے اورحدیث پاک میں وارد دعائیں پڑھتے، پھر نمازِتہجد ادا کرتے۔ کچھ دیر مراقب ہوتے۔ اتباع سنت میں ایک نیند لیتے اور فجر کے لیے صبح صادق سے پہلے بیدار ہوجاتے، وضو کرتےاورسنت گھر پر ادا کرتے، پھر  فجرکی نمازکےبعد حلقۂ ذکر کرتے، اور اِشراق، تسبیحات اور ماثورہ دعاؤں سے فارغ ہونے کے بعد گھر تشریف لے جاتے  اور اپنے اہل وعیال کی خبرگیری فرماتے۔ دوپہر کے وقت کھانے کے بعد اِتباع سنت میں کچھ دیر  ہوتے۔ ظہر اول وقت میں ادا کرتے۔ مثلین ہوتے ہی عصر پڑھتے اورحاضرین کی طرف متوجہ ہوتے۔ مغرب کے بعد اوابین ادا کرتے اور عشا کی نماز اول وقت میں پڑھتے۔

رمضان مبارک کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔ تین تین بار قرآن کریم مکمل پڑھا کرتے۔ نمازِ تراویح سفر وحضر میں بھی باجماعت ادا کرتےاوراخیر عشرہ میں پابندی سےاعتکاف  کرتے۔ قبروں کی زیارت کے لیےبھی جاتےتھے، اورچوں کہ  آپ خود اپنے عہد کے کامل فقیہ اور عالم ربانی تھے، اس لیے بڑی پابندی سے طالبانِ علوم کو حدیث وفقہ اور علم کلام کا درس دیا کرتے اور سالکانِ طریقت کی تعلیم و تربیت بھی فرماتے۔ ساتھ ہی ساتھ الحمدللہ اور استغفار کا ورد کثرت سے کرتے اور پنا قصور ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے۔

اتباع سنت:

چوں کہ آپ اللہ رب العزت کے نیک اور محبوب بندوں  میں سے ایک ہیں اور جو اللہ کا نیک اور محبوب ہوتا ہے اُسے فطری طورپراِتباع سنت سے بےحد لگاؤ ہوتا ہے، اس لیے آپ کی ذات بھی نہ صرف اتباع سنت کا نمونہ تھی بلکہ آپ اُس کےمبلغ بھی تھے۔ آپ فرماتے ہیں :

فضل الٰہی اوراِتباع سنت سے بڑھ کر کوئی فضیلت کی بات نہیں۔ ہمارا عمل اور ہماری کوششیں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں کہ یہ سب فضل الٰہی کے بغیر بیکار اور بےمعنی ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا اصل ذریعہ اور وسیلہ اتباع سنت ہے کہ  سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر فضل الٰہی کا حصول ممکن نہیں۔ لہٰذاہمیں اگرکچھ نہیں مل سکا تواُس کی اصل وجہ اِتباع سنت   میں ہماری کوتاہی اور کاہلی ہے۔ فرماتے ہیں : ایک دن بیت الخلاء(ٹوئلٹ)جاتے وقت ہم نے  دایاں پیر پہلے رکھ دیا۔ اس کی وجہ سے اُس دن ہم پربہت سے فیوض وبرکات کا دروازہ بند رہا۔

اخلاق و عادات:

  آپ کے اخلاق و عادات میں اتباع سنت کا مکمل عکس ملتا ہے، مثلاً: بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر شفقت کرنا۔ سلام میں پہل اور سبقت کرنا۔ مخلوق کے ساتھ احسان و مہربانی کرنا۔ بیماروں کی مزاج پُرسی کرنا، اور اُن کی صحت کے لیے دعائیں کرنا۔ کسی کے انتقال کی خبر سنتے ہی اِنَّالِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ (ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بےشک ہمیں اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے) پڑھنا۔ جنازے میں شریک ہونا۔ میت کے لیےایصال ثواب اور مغفرت کی دعا کرنا۔

آپ کی ایک اہم خوبی یہ بھی تھی کہ آپ تسلیم ورضا کے پیکر تھے اور تمام طرح کی مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنے کے باوجود کبھی بھی کسی طرح کے حرف شکایت زبان پر نہیں لاتے تھے۔ خود پسندی سے سخت نفرت تھی۔ آپ فرماتے ہیں :خودپسندی نیک عمل کو اِس طرح کھاجاتی ہے جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔

وصال مبارک:پہلےسانس کی بیماری لاحق ہوئی پھر بخار، اور یہ حالت تقریباً ڈیڑھ دو مہینہ تک رہی، اور جس صبح اِنتقال ہوا، اُس سے پہلےرات میں معمول کے مطابق بیدار ہوئے، اطمینان سے وضو کیا، نمازیں ادا کیں اور خدمتگاروں سے فرمایاکہ تم لوگوں نے میری وجہ سے بڑی تکلیف اٹھائی ہے، اب آج سے یہ تکلیف ختم۔ بالآخر ۲۸؍ صفر۱۰۳۴ھ کو ترسٹھ (۶۳)  کی سال عمر میں آپ کا وصال ہوا۔

آپ کےچھوٹے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد سعید نے آپ کا جنازہ پڑھایا، اور سرہند میں اپنے آبائی قبرستان میں مدفون ہوئے۔ آپ کامزار مقدس آج بھی آپ کے عقیدتمندوں  اور چاہنے والوں کا مرکز بنا ہوا ہے اورایک بڑی دنیا آپ سے فیضیاب ہورہی ہے۔

تعلیمات و ارشادات:آپ فرماتے ہیں :

ثجس طرح کفر، اِسلام کی ضدہے اسی طرح آخرت بھی  دنیا کی ضدہے۔ دنیا اور آخرت ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔

 ترک دنیا کی دو قسمیں ہیں : ایک تو یہ کہ ضروریات کے سواتمام دنیوی مباحات کو بھی چھوڑ دی جائیں، یہ اعلیٰ قسم کا ترک ہے۔

 دوسرا یہ کہ محرمات اور مشتبہات سے اجتناب کیا جائے اور مباحات سے راحت حاصل کی جائے، یہ قسم بھی خصوصاً اس عہد میں نادر الوجود ہے۔ (مکتوبات ربانی، دفتر:۱، مکتوب:۱۶۳)

 سعادت ابدی اور نجات سروری انبیا علیہم السلام کی متابعت و پیروی سے وابستہ ہے۔ بالفرض اگر ہزارسال عبادت  کی جائے اور سخت ریاضتیں اور مشکل سے مشکل مجاہدات کیے   جائیں مگر اُن حضرات(انبیا) کے نورِ متابعت سے سینہ منور  نہ ہوں تو ان تمام ریاضات اور مجاہدات کو ایک جَو کے بدلے نہ خریدا جائےگا، لیکن اگر دوپہر کا سونا (قیلولہ)جو سراسر غفلت ہے، ان حضرات(انبیا)کی متابعت میں ہے تو یہ ان ریاضات و  مجاہدات سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔ (ایضاً، مکتوب: ۱۹۱)

اکابرین اور بزرگان اسلام پر طعن ومذمت کرنے سے بچنا چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کلمۂ اسلام بلند کرنے کی خاطر سرتوڑ کوششیں کی ہیں اور رات دن خفیہ و اعلانیہ دین کی تائید کے لیے اپنے اموال خرچ کیے ہیں اور رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت میں اپنے خویش واقارب، مال و اولاد، گھربار، وطن، کھیتی باڑی، باغ و درخت، کنوؤں اور نہروں سب کو چھوڑدیااور رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی ذات کو اپنی ذات پر ترجیح دی اور اپنے اموال و اولاد کے مقابلے میں آپ کی محبت اختیار کیا۔ (ایضاً، مکتوب: ۳۶)

 اپنے عقائد کو فرقہ ناجیہ (اہل سنت و جماعت) کے عقائد کے مطابق درست کریں اور عقائد درست کرنے کے بعد  احکام کے مطابق عمل کریں، کیوں کہ جس چیز کا حکم ہوچکا ہے اس کی ادائیگی ضروری  ہے، اور جس چیز سے منع کیا گیا ہے اُس سے پیچھے ہٹ جانا لازم ہے۔ پنچ وقتی نماز کو سستی اور کاہلی کے بغیر شرائط اور تعدیل ارکان کے ساتھ ادا کریں۔

لوگوں کی غیبت و چغلی اور نکتہ چینی سے اپنے آپ کو بچائیں کہ شریعت میں اِن دونوں بُری عادتوں کے حق میں بڑی وعید آئی ہے۔ جہاں تک ہوسکے جھوٹ بولنے اور بہتان لگانے سے پرہیز کریں کہ ان پر بھی بڑی وعید آئی ہے۔

 خلقت کے عیبوں اور گناہوں کا ڈھانپنااور اُن کے قصوروں کو معاف کرنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ غلاموں اور ماتحتوں پر مشفق و مہربان رہنا چاہیے اور اُن کے قصوروں پر  گرفت نہ کرنا چاہیے، اور موقع بے موقع اُن کو مارنا، گالی دینا اور تکلیف پہنچانا مناسب نہیں ہے۔ (ایضاً، دفتر:۳، مکتوب:۳۴)

 شیطان خواہشات انسانی کی راہ سے آتا ہے، اور انسان کو مشتبہات کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ نفس امارہ کی مدد سے انسان پر غلبہ پاتا ہے اور اُس کو اپنا فرماں بردار بنالیتا ہے۔ درحقیقت ہماری بلا نفس امارہ ہی ہے جو ہمارا جانی دشمن ہے۔ لہٰذاسب سے پہلے اپنے نفس کا سر کاٹنا چاہیےاور اُس کی تابعداری چھوڑدینی چاہیے۔ (ایضاً، دفتر:۳، مکتوب:۳۳)(مستفاد از زبدۃ المقامات، حضرات القدس، مکتوبات امام ربانی)

مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Close