شخصیات

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

تابش سحر

پُراسرار اہرام’ مصر کے ماتھے پر ابھرے ہوے وہ تہذیبی نقوش ہیں جو فراعنۂِ مصر کی یاد دلاتے ہیں، فراعنۂِ مصر کی وہ تہذیب جہاں بادشاہت خدائی کے مترادف تھی، بادشاہ کا نعرہ انا ربکم الاعلیٰ تھا، نجومیوں اور کاہنوں کی پیشنگوئیوں پر نومولود شیرخوار بچّے ذبح کردئے جاتے تھے، طبقاتی نظام سماج کو کھوکھلا کرچکا تھا، حق کہنے پر ہاتھ پیر کاٹ دئے جاتے تھے، ایوانِ صدارت میں نبیِ وقت کو قتل کرنے کے منصوبے بنتے تھے، حکومت ظلم و فساد، قتل و غارت گری کی سرپرستی کررہی تھی۔ خدا کی خدائی کو خیرباد کہہ کر فراعنۂِ مصر نے خاص و عام کو اپنا غلام بنا لیا تھا، قبطیوں اور بنی اسرائیل کی سماجی حیثیت میں زمین و آسمان کا فرق تھا، بہرِحال وقت کے نبی نے انقلاب برپا کردیا اور کمزور سمجھی جانے والی قوم بنی اسرائیل نبی کی اطاعت اور خدا کے انعام کے سبب فاتح بن کر ابھری۔

دریائے نیل مصر کے تہذیبی ادوار اور طاقت و دولت پر ایمان رکھنے والے حکمرانوں کی سیاہ کرتوتوں کا چشم دید گواہ ہے، بہتا دریا بنی اسرائیل کی کج روی اور حق فراموشی کو بھی قریب سے دیکھ چکا ہے اسی طرح گزرے زمانے میں مصری سرزمین کبھی یوسفِؑ کنعاں کی بدولت عدل و انصاف کی ایک ذرّیں مثال بنی تو وہیں کلیمِ خدا موسیٰؑ کی بدولت ظلم و ستم کے خاتمہ کا استعارہ ہوی، ہاں ہاں وہی مصر جس کو فتح کرنے کا اشتیاق عمرو بن عاصؓ کو بےچین کرتا تھا وہ بار بار خلیفۂِ ثانی سے اجازت کی درخواست کرتے اور وہ بار بار ٹال دیتے، بالاٰخر اجازت مل ہی گئی اور عمرو بن عاصؓ کی جبیں پر اقبال مندی کا ایک اور ستارہ چمکنے لگا، وہ فاتحِ مصر کہلائے، مسجد عمرو بن عاص آج بھی اس جیالے عرب بہادر کی یاد دلاتی ہے، اسی مصری سرزمین پر کبھی صلاح الدین ایوبی کے مبارک قدم پڑے اور عیش و عشرت کے دلدادہ، چاپلوسی و چمچہ گری کے ماہر ارکانِ دولت کو زمین بوس ہونا پڑا، الغرض مصر زمانہ قدیم سے پُراسرار رہا ہے کبھی جادوگروں اور شیطان پرستوں کو اقتدار نصیب ہوا تو کبھی اسلام پسندوں کے لئے راستہ صاف ہوا۔۔۔۔۔۔

بیسویں صدی عیسوی کا قاہرہ اپنی اسلامی شناخت کھورہا تھا، اخلاقی اور سماجی انحطاط معاشرے کے لئے ناسور بن چکا تھا، یورپ کی مصنوعی روشنی اور قمقمے مصریوں کی نگاہ میں تہذیب و تمدن کی علامت بن گئے وہ ایمان و یقین سے روشن حقیقی چراغوں کو خیرباد کہنے کے کاگار پر نظر آنے لگے، مغربی کلچر کا سانپ مصری سماج کو دھیرے دھیرے نگلنے لگا، ایک خردمند و خداشناس، درویش و دوراندیش، مفکر و مدبر، عالم و مجاھد ن۹۰وجوان اِن صورتحال کا قریب سے مشاہدہ کررہا تھا اور اپنی قوم کی زبوں حالی پر اندر ہی اندر کُڑھ رہا تھا لیکن وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہونے کو جرم سمجھتا تھا لہذا میدانِ عمل میں کود پڑا، عزم و استقامت کی راہ اپنائی، مجاہدے اور کوشش و کاوش کو اپنا شیوہ بنایا، اس نے 1928ء میں ایک تنظیم کی بنیاد رکّھی، جو اخوان المسلمون کے نام سے جانی پہچانی گئی، اخوان کے جیالوں کا فریضہ مسلم سماج میں اخلاقی سماجی اور سیاسی بیداری پیدا کرنا تھا، وہ خدا کی سرزمین پر خدائی قانون کے نفاذ کا مطالبہ کرتے تھے لہذا ابلیس کے کارندوں کی نگاہ میں بیٹھ گئے، ابلیسی ہرکاروں نے ساری دنیا میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد بتایا، اسلام پسندی کو شدت پسندی سے تعبیر کیا، انصاف کے مطالبے کو بغاوت کا نام دیا، ایمان و یقین سے وابستگی جہالت قرار پائی، اخوان پر عرصۂِ حیات تنگ کردیا گیا لیکن پھر بھی اس کے جیالے حق کے لئے اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے رہے، کوئی بیباک گولیوں کا نشانہ بنا، کوئی بےخوف سولی کے پھندے پر چڑھ گیا، کسی کو سپردِ زنداں کردیا گیا اور وہ یوسفِؑ کنعاں کے نقش قدم پر چلنے کو اپنے لئے سعادت سمجھنے لگا، وہ تختۂِ مشق بنے رہے لیکن کبھی باطل کی حکومت و سیادت کے آگے نہیں جھکے، اسلامی تہذیب سے وابستگی کے معاملے میں نرم نہیں پڑے، اسلام کے ماڈرنائزیشن کے تصور کو ابلیسی ذہن کا اختراع ہی سمجھتے رہے، تمام مصر ان کے ساتھ تھا لیکن ابلیسی چوزے بھی ہر سمت پھیل چکے تھے اور یہودی سانپ نے سینکڑوں افراد کو ڈس لیا تھا، لبرل ازم اور مغربی تہذیب کی لہر معاشرے کو اپنی چپیٹ میں لینے لگی، دولت کے نشے میں چور ڈکٹیٹر حکمراں سپرپاور طاقتوں کے سامنے ناچنے لگے، پروپیگنڈوں کے ذریعہ اخوان کو ساری دنیا میں بدنام کردیا گیا لیکن پھر بھی وہ جمے رہے، ڈٹے رہے اور ان کا ہر فرد زبانِ حال سے کہتا رہا;

‏میں جھکا نہیں میں بکا نہیں 

کہیں چھپ چھپاکے کھڑا نہیں 

جو  ڈٹے  ہوۓ  ہیں  محاذ  پر 

مجھے ان صفوں میں تلاش کر

حسنی مبارک کا دورِ اقتدار جاری تھا، بڑھتی عمر اور گھٹتے سیاسی قد نے ان کے زوال کا دروازہ کھول دیا تھا، 2011ء تیونس کے انقلاب نے رہی سہی امیدوں کو توڑ دیا، سارا مصر سڑکوں پر احتجاج کرنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے کرائے دار صاحبِ مسند ایوانِ صدارت سے علیحدہ ہوگئے، جمہوری طریقے سے حکمراں چنا گیا، مصریوں نے اخوان سے وابستہ، اسلام پسند حافظِ قرآن، ڈاکٹر محمد مرسی کو اپنا رہبر و رہنما منتخب کرلیا تھا، اس خبر پر عالمِ اسلام شاداں و فرحاں تھا لیکن ابلیسی دربار میں صفِ ماتم بچھ چکی تھی، ان کی تمناؤں اور ارمانوں کا خون ہورہا تھا، تہذیبی غلام ہاتھ سے نکل رہے تھے لہذا عالمِ صہیونیت مرسی کے خلاف ہوگیا، زمینی جال بچھائے گئے، افواہوں کا بازار گرم کیا گیا، سازشوں کے سانپوں کو دودھ پلایا گیا، فوج کو ورغلایا گیا اور صرف ایک سال بعد عوام کے چہیتے رہنما اور دوراندیش و بیباک قائد کو پسِ دیوارِ زنداں کردیا گیا، جھوٹے الزاموں کی تائید میں جھوٹے گواہ کھڑے ہوے، جھوٹے ججس نے سزائے موت سنائی، سازشوں کے سرپرستِ اعلیٰ امریکہ اور آلِ سعود کی نگاہِ کرم السیسی پر پڑی اور وہ ملک کا سربراہ قرار پایا، قیدِ قفس میں مرسی یہ صدا بلند کرتے رہے کہ

مرا شہر مجھ پہ گواہ ہے کہ ہر ایک عہد سیاہ میں 

وہ چراغ راہ وفا ہوں میں کہ جلا تو جل کے بجھا نہیں

وہ عزم و استقامت کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے نظریات اور فلسفے پر جمے رہے، حکومت کی کوئی پیشکش قبول نہ کی، مصلحت کا راگ نہیں الاپا، وہ اخیر وقت تک کہتے رہے کہ

میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں 

مگر اہل بزم میں کوئی بھی تو ادا شناس وفا نہیں

ایک بوڑھا جسم کب تک ذہنی و جسمانی اذیت برداشت کرتا، کب تک قیدِ حیات کی بندشوں میں طائرِ روح جکڑا رہتا، بلاٰخر وہ پرواز کرگیا،،،،،،

 جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے 

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

نوٹ:- جنازے میں صرف دو بیٹوں اور ایک وکیل کو شرکت کی اجازت دی گئی اہلیہ نے کہا کہ "میں میت کے لیے ظالموں کی منت کرکے اپنے شوھر کو شرمندہ نہیں کروں گی۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close