شخصیات

معروف اردو صحافی انیس جامعی : اُجالے تیری یادوں کے

حکیم وسیم احمد اعظمی

ہر آنے والے فون کی گھنٹی پر جس بات کا ڈھرکا لگا رہتا ، بالآخر وہ فون آج/20ستمبر2016ء کی صبح 9.15بجے آہی گیا۔دہلی سے یو این آئی کے اسٹاف امجد علی صاحب کی بھرائی ہوئی آواز آئی ’ ’کچھ معلوم ہوا آپ کو؟‘‘ اور پھر ان کے کچھ بتائے ہی بغیر مجھے سب کچھ معلوم ہوگیا۔وہ کیا بتا رہا تھے اور میں کیا سن رہا تھا؟ دونوں قوتِ سامعہ اور قوت ِ حافظہ کے دائرۂ اثر سے گویا باہر تھے۔ تھوڑی دیر بعد جب سننے اور سمجھنے کی قوت بحال ہوئی تو انیس جامعی صاحب کے چھوٹے بیٹے سہیل انیس کو فون کیا کہ شاید خبر کی عدم ِ تصدیق کی کوئی صورت نکل آئے؟ لیکن اُدھر سے گلو گیر آواز میں بتایا گیا،’انکل پاپا کا آج صبح فجر کے وقت انتقال ہوگیا‘ ۔ میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور سہیل انیس سے تعزیت کا ایک جملہ بھی مُنہ سے نہ نکل سکا۔پھرمیں نے سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈین، نئی دہلی کے سابق ڈپٹی ڈائرکٹر محمد خالد صدیقی صاحب کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن سہیل انیس سے گفتگو کے بعد میری ذہنی کیفیت کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ ہاتھ کانپ رہا تھا اور سل فون پر قابو نہ تھا، کہ اسی لمحہ خالد صدیقی صاحب کا فون آگیا، اُنہوں نے بھی مرتعش آواز میں یہی اطلاع دی اور بھی بتایا کہ نماز جنازہ بعد نماز ظہر،بٹلہ ہاؤس کی جامع مسجد کے پاس1.30بجے ادا کی جائے گی اور تدفین بٹلہ ہاؤس کے قبرستان میں ہوگی۔میں نے اپنے بیٹے ڈاکٹر کامران رشدی سے اپنے دہلی کے جانے کی کوئی سبیل نکالنے کی بات کی تو اُنہوں نے کہا،’پا پا آپ تدفین میںشریک نہیں ہوپائیں گے، اگر نماز ِ جنازہ عصر کی نماز کے بعد ہوتی ہو کوئی سبیل نکل سکتی تھی،اہلیہ نے بھی کہا کہ آپ کی ذہنی کیفیت کچھ بہتر نہیں ہے، دہلی جانا ایک، دو دن کے لیے موخر کردیں۔شام کو نمازِ جنازہ سے لے کر تدفین تک کی ساری تفصیلات برادر عزیز ڈاکٹر فخر عالم نے فون پر بتائیں اور یہ بھی کہا کہ انیس جامعی صاحب جیسے بے باک ،ملت ِ اسلامیہ کا درد رکھنے والے صحافی سے آپ کے ذاتی مراسم تھے اور یقینا آپ کے سامنے ان کے خیالات اور ملّی نظریات بھی زیر ِ بحث آئے ہوں گے، کیا ہی اچھا ہو کہ اُن کے افکار و نظریات آپ کے قلم سے عوام الناس تک پہنچیںاورمیں نے ان کی یہ بات خاموشی سے سن لی۔
ا نیس جامعی [انیس الرحمٰن ،ولادت: /5جون1953ء — وفات: /20ستمبر2016ء]سے میری پہلی ملاقات غالباً 2000ء کے اوائل میں ڈاکٹر حسین ماجد کے توسط سے ہوئی تھی۔حسین ماجد سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن، نئی دہلی میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے منصب پر فائز تھے اور کونسل کے سہ ماہی جہان ِ طب کی اشاعت کی ذمہ داریاں اُن کے سپرد تھیں اور میں اس مجلہ کی مجلس ِ ادارت کا رکن تھا،جہان ِ طب کی کمپوزنگ انیس جامعی صاحب کے قائم کردہ ’مہر گرافکس‘میں ہوتی تھی۔ ایک ،دو ملاقاتوں میں ہی اُنہوں نے گویا انہوں نے اپنی ’کتاب ِ زندگی‘ کھول کر سامنے رکھ دی اور اس کا ایک ایک باب، ایک ایک صفحہ اور ایک ایک سطر ،ایک ایک جملہ اور ایک ایک حرف مجھے پڑھا یااور جو پڑھنے سے رہ گیا اُسے سنا ڈالا،انیس جامعی صاحب کی زندگی بڑی جدوجہد بھری تھی، وہ چاندی کا چمچہ مُنہ میں لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اُن کے والد منشی افضل الرحمٰن ایک بزرگ ، صوفی صفت، محنت کش انسان اور بہت اچھے خطاط تھے، اُن کا پرانی دہلی میںایک چھاپہ خانہ تھا، جس میں اسلامی لٹریچر اور مدرسوں کی رودادیں چھاپی جاتی تھیں۔کام کوئی زیادہ نہ تھا، بس کسی طرح گزر بسر ہوجاتی ۔والدہ آمنہ بیگم صوم و صلوٰۃ کی پابند، سلیقہ شعار، نیک صفت خاتون تھیں۔چھاپہ خانہ میں مدرسوں کے مولوی صاحبان آتے چند روپوں کی رسیدیں چھپواتے،گھوم پھر کے دن بھر چندہ وصولتے ، شام کومنشی کے چھاپہ خانے میں ماحضر تناول فرماتے اور جائے قیام اور ’قیام اللیل‘ بھی اسی چھاپہ خانہ میںہوتا۔ منشی جی چھاپہ خانہ میں قیام کی لازمی شرط تہجد کے لیے اُٹھنا بھی تھا۔ منشی جی کی اس ’مولوی نوازی ‘سے کچھ سمجھ دار ہوتے انیس بہت کڑھتے،جب اس کاکچھ احساس منشی جی کو ہوا تو انہوں نے سمجھ دار ہوتے انیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا! ’’انیس !یہ فرشتہ نما لوگ اوریہ عبادت گزار بندے اور یہ روشن چہرے صرف میری وجہ سے یہاں آتے ہیں،وہ یہاں اپنے مقدر کی کھاتے ہیں اور ہمارے لیے بھی حصول ِ رزق کا ذریعہ بنتے ہیں۔ میرے بعد تم ان فرشتہ صفتوں اور برگزیدہ چہروں کو دیکھنے کے لیے ترس جاؤگے‘‘۔انیس جامعی صاحب اتنا کہہ کربہت دیر تک خلاؤں میں کچھ تلاش کرتے رہے، پھر مجھ سے کہا! ’’وسیم صاحب !والدصاحب کے انتقال کے بعد حقیقت میں اُن چہروں کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترس گئیں‘‘۔
انیس جامعی صاحب کے بقول :’’ابا جی منشی افضل الرحمٰن مرحوم جیسے متوکل انسان انہوں نے اپنی زندگی میں شاید ہی دیکھے ہوں ۔خلیق، مہر بان ،جفا کش اور شفقتیں بانٹنے والے۔ صبح چھاپہ خانہ کے پاس بیٹھ جاتے، مدرسے اور اسکول جانے والے بچے بچیاں اپنے قلم کے خط بنواتے، کبھی کبھار کوئی بچہ آنے، دو آنے حق الاجرت کے طور پر دے بھی دیتا اور منشی جی منع کرتے رہ جاتے اور بچہ ’یہ جا وہ جا ‘ہوجاتا۔ معاش کایہ حال تھا کہ اگر شام کے کھانے کا نظم ہوگیا تو صبح کا کوئی بھروسہ نہ ہوتا اور صبح کا بندوبست ہوگیا تو شام کا شام کو دیکھائے گا ۔ ابا جی کہا کرتے تھے کہ’’ اللہ نے ہمیں صرف جد وجہد کا مکلف بنایا ہے ، ہم اس کے بندے ہیں،وہ اپنے بندے کو کھلائے، پلائے یا بھوکا رکھے، اُس کی مرضی ،وہ جانے‘‘۔ اسی لیے الحمد للہ نہ ہم کبھی خالی پیٹ سوئے اور نہ کبھی ناشتہ کیے بغیر اسکول گئے‘‘۔
اب انیس جامعی صاحب کچھ بڑے اور روز نامہ پرتاپ [دہلی] میں ملازم ہوگیے تھے۔کچھ کم آٹھ سو روپے مشاہرہ کے بطور ملا کرتے تھے ، گھر سے دفتر کا فاصلہ بہت زیادہ نہ تھا۔ جانا آنا پیدل ہی ہوتا ،آج کی طرح سواریوں کی فراوانی بھی نہ تھی ،اس لیے زندگی سواری کے انتظار اور سواری کے کرائے ،دونوں جھنجھٹ سے آزاد تھی اور آج بھی پرانی دہلی کے لوگ پیدل چلنے میں زیادہ یقین رکھتے ہیں۔اس کی وجہ اژدہام بھی ہوسکتا ہے اور مزاج بھی۔جامعی صاحب بتاتے تھے گھر میں کسی صبح ناشتے کے لیے پیسے نہ ہوتے تو گلی کی ایک دوکان سے کچھ چیزیں اُدھار منگوا لی جاتیںاور والد صاحب عموماًشام تک اس کا حساب بے باق کردیتے ۔ ایک دن امی نے کہا ! ’’ انیس !گلی کی دوکان سے یہ یہ سامان لے آ‘‘ اور پیسے نہ دیئے، اس کا مطلب اُدھار لانا تھا۔ میں گلی کی دوکان گیا ، لالہ نے سامان دے دیے اور مجھ سے کہا !’’منشی جی سے کہہ دینا، تین دن سے حساب نہیں ہوا ہے‘‘۔ یہ سن کر مجھے بڑی ندامت محسوس ہوئی ،گھر کی معاشی حالت پر شدید دکھ ہوا اور ابا جی کے صبر ، شکر اور توکل پر خوشی بھی ہوئی اور یہ بھی احساس کہ ایک باپ تنگ دستی میں بھی کس طرح اپنے بچوں کی کس فراخ دلی سے پرورش کرتا ہے اوران کی خوشیوں کے لیے کس قدر جانفشانی کرتا ہے۔انیس جامعی صاحب آگے بتاتے ہیں۔’’ پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ایک شام اُدھر سے گزرتے وقت گلی کے لالہ نے آواز لگائی اور بلا کر کہا ۔ ’’انیس! تمہارے پاس پانچ، سات سو روپے ہوں تو دے دو، ابھی تقاضے والا آنے والا ہے اور میری اتنی بِکری بھی نہیں ہوئی ہے‘‘۔ انیس بھائی کو اسی شام تنخواہ ملی تھی، کوئی آٹھ سو کے آس پاس،فوراً سات سو نکال کر لالہ کے سامنے گن دیئے اور ایک نئی توانائی اورنئے کیف کے ساتھ گھر آگئے،پھر ہفتوں لالہ والی گلی سے نہیں گزرے۔ میں نے سوال کیا’’ ایسا کیوں کیا آپ نے ؟ ‘‘فرمایا، ’’ وسیم صاحب! لالہ، ابا جی کو اُدھار سودا سلف دے دیا کرتاتھا اور اُس دن لالہ نے مجھ سے قرض لیا تھا اورمیں سرشاری اورشاد مانی کی اس کیفیت کو تا دیر قائم رکھنا چاہتا تھا‘‘۔یہ انسانی نفسیات ہے، جس کو انیس جامعی صاحب بھی برت رہے تھے۔
انیس جامعی صاحب نے اپنی ذاتی زندگی کی کوئی بات ہم سے نہیں چھپائی تھی،دہلی کی گلیوں کی سرمستیوں سے لے کر فصیل بند شہر کی سیاسی ہلچلوں تک، زمانۂ طالب علمی کی شرارتوں سے لے کرروز نامہ پرتاپ کی ملازمت ،آل انڈیا ریڈیو کے اسٹوڈیو کی تگ و دو اور یو این آئی کی ملازمت تک،در اصل وہ ویژینری شخصیت کے حامل تھے ، قدیم دہلی اُن کے ذہن و دماغ میں اپنی تمام تر عظمت ِ رفتہ کے ساتھ بسا ہوا تھا۔ اُن برگزیدہ مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیتوں کی اُنہوں نے صحبتیں اُٹھائی تھیں ،جن کو ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے۔خاندان شریفی کے ایک معروف حکیم کی بلا نوشی کا بھی ذکر کر تے اور کہتے کہ اُن کے ساتھ رہنے سے بادہ کشی کے کچھ چھینٹے میری طرف بھی آتے ، لیکن گھر والوں کو اپنی تربیت پر اعتماد تھا، اسی لیے کبھی کسی حیلے بہانے بھی مجھ سے باز پُرس نہ ہوئی۔
انیس جامعی صاحب کی سیاست کے گلیاروں تک رسائی تھی، لیکن اس سے جلب ِ منفعت کبھی سوچا ہی نہیں ۔ اُن کے پاس وزیروں، گورنروں اور سفیروں کے فون آیا کر تے، لیکن یہاں شان ِ بے نیازی ایسی کہ رات دس بجے کے بعد خودنہ کسی فون کرتے اور نہ ہی عام طور سے فون اُٹھاتے، صرف شاہی امام سید احمد بخاری صاحب اس سے مستثنیٰ تھے۔ ایک بار ایساہوا کہ ایک مرکزی کابینی وزیر کا فون آیا، میں نے کہابات کرلیجئے، فرمایا،وہ میرے معمولات سے واقف ہیں، اُنہیں اس وقت فون نہیں کرنا چائیے تھا اور گویا یہ اشارہ بھی تھا کہ آپ بھی تشریف لے جائیں ۔ میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ رہی ہوگی اسی لیے ایک اور ملاقات میں اُس دن وزیر موصوف کا فون نہ اُٹھانے کا ذکر چھیڑ بیٹھا تو فرمایا،’’وسیم صاحب!ہم اُنہیں اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ یو این آئی میں پارٹی کی خبریں لایا کرتے تھے۔ اُن کو بنانے، سنورنے اور اُبھارنے میں ہمارا بھی ہاتھ رہا ہے‘‘— اور میں نے خود بھی دیکھا کہ ایک شام وزیر موصوف انیس صاحب کے گھر پر تشریف فرما ہیں اور وہ انیس صاحب کی باتیںبڑے نیاز مندانہ انداز میں اپنی سماعتوں میں محفوظ کررہے ہیں ۔ وزیر موصوف کے جانے کے بعدانیس صاحب نے کہا یہ پارٹی کا’مسلم چہرہ‘ ہیںاور آپ نے دیکھا اور سنا ہوگا کہ یہ مسلم مسائل پر جو بھی اور جب بھی بولتے ہیں، سوچ سمجھ کر بولتے ہیں۔بعد میں واضح ہوا کہ اس ’سوچ سمجھ‘ میں انیس جامعی صاحب کا’ فیڈ بیک ‘ ہوتا تھا اور یہ سلسلہ اس وقت سے جاری تھا ،جب وہ پارٹی کے ترجمان ہوا کرتے تھے۔ سچائی یہ ہے کہ اس ’فیڈ بیک ‘ نے اُن کا قد بڑھایا اور اُنہیں کبھی آزمائش میں نہیں ڈالا۔
انیس جامعی صاحب تعزیتی جلسوں میں کم ہی جاتے، جب وجہ جاننی چاہی تو فرمایا: ’’ میں وہاں جھوٹ تو بولنے سے رہا اور سچ سننے کا نہ وہاں ماحول ہوتا ہے اور نہ ہی تاب ، تو بھلا کیوں جاؤں؟ اب آپ ہی بتائیے، میں شاہد ِ عینی ہوں کہ وہ شرابی تھے،صحافت کی آڑ میںدلالی کیا کرتے تھے، خدا جانے کن کن خرافات کا حصہ بنتے تھے اور اب ان کے مرنے کے بعد ان کو پارسا اور نیکو کار بتاؤں ، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔یہ تو مرنے والے کو مزید مواخذہ میں مبتلا کرنا ہوا کہ دیکھ اصل میں تو کیا تھا اور بندۂ خداتجھے کیا سمجھتے تھے ۔ ہاں ان کی مغفرت کی دعائیں کرتا ہوں، ایصال ِ ثواب کرتا ہوں اور غالباً نہیں یقینا ،مرنے والے کوضرورت بھی اسی کی ہوتی ہوگی۔
سنٹرل کونسل فارریسرچ ان یونانی میڈیسن کی ملازمت کے دوران کئی بار ایسے مرحلے بھی آئے کہ انیس جامعی صاحب کھل کر میرے مفادات کا تحفظ کے لیے سامنے آگئے تھے، اپنے اُن ملنے والوں کے سامنے دنیاوی اقتدار بھی رکھتے تھے اور خود ان کی دوستی کا دم بھرتے تھے۔ انیس صاحب مجھے بعض اوقات ’زمانہ سازی ‘ کا بھی مشورہ دیتے ،لیکن جب میں کہتا کہ جو بدی آپ میں نہیں ہے وہ مجھ میں کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟ تو بس مسکرا دیتے، لیکن ان کی اس مسکراہٹ میں بڑا تیقن اور بے حدشادابی ہوتی ۔ یہ باتیں اُن دنوں کی ہیں جب کونسل میں کبھی کبھار ’بسوزد پرم‘ کے واقعات بھی ہوجایا کرتے تھے۔
بلا شبہہ انیس جامعی صاحب سے میں نے مجھے آداب ِ ملازمت بھی سیکھے اور معاشرتی زندگی جینے کا سلیقہ بھی۔وہ فرماتے، ’’وسیم صاحب! محکمہ کے لیے ’ضرورت‘ بن جایئے ، ایسی ضرورت کہ جس کی تکمیل آپ کے بغیر’ مشکل‘ ہو۔محکمہ کو’ اپنی ضرورت‘ نہ بننے دیجئے، کہ ہر وقت احتیاجی کیفیت طاری رہے۔ایک بات اور! ملازمت سے سبک دوشی کے بعد دوبارہ اس محکمہ میں کسی بھی حیثیت سے وابستہ نہ ہوئیے۔نہ تو جز وقتی طور سے اور نہ ہی اعزازی طور سے۔ کسی بھی طرح کی وابستگی سے اولاً جہاں آپ کے پس روؤں کی حق تلفی ہوگی ، وہی نئے لوگوں کی صلاحیتوں کے سامنے آنے میں رخنہ پڑے گا ،ثانیاًسبک دوشی کے بعد عموماً اسٹاف کی طرف سے ’نظر انداز ‘ کیے جانے کی روش اختیارکی جاتی ہے، جواسٹاف پہلے’ سجدۂ تکریمی ‘بجا لانے کے مواقع تلاش کرتا پھرتاتھا ، اب سامنے سے دندناتا گزرے گا،اس کا یہ انداز آپ کا جی جلائے گا تو پھر جان بوجھ کرجی جلانے کا سامان کیوں کیا جائے ؟کوئی کہے کہ پیسہ جو مل رہا ہے؟ تو بھائی پیسہ تو ایسی چیز ہے کہ جتنا بھی ملے، اتنا ہی کم رہے گا ۔ اس مسئلہ کاواحد حل ہے’ قناعت، بے نیازی اور استغنیٰ‘۔ بے عملی کے بطن سے جنم لینے والی قناعت نہیں، جہد مسلسل کے بطن سے پیدا ہونے والی قناعت، بے نیازی اور استغنیٰ ۔
انیس جامعی صاحب مجھے سروس میں ’بی پوزیٹیو‘ کی نصیحت کیا کرتے تھے، یہ بھی کہا کرتے ’ نیکی کر دریا میں ڈال‘۔ پھر فرماتے : انسانی فطرت ہے کہ اگر کوئی کسی پر کچھ احسان کرتا ہے تو غیر شعوری طور پربدلے میں کچھ’ توقع ‘پال لیا ہے، کچھ چاہنے لگتا ہے او ر خدا نخواستہ اگر وہ ’بدلہ روپی‘ توقع، وہ چاہت اگرکسی وجہ سے پوری نہیں ہوئی تو پھر کبیدہ خاطری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ در اصل انہوں نے نیکی تو کی ،لیکن اچھی طرح دریا بُرد نہیں کیا، بلکہ اسے ذہن کے کسی گوشے میں بسا لیا ،بس یہی’ بسانا‘ خطر ناک ہوگیا،لیکن کیا کیجئے گا؟یہی تو انسانی فطرت ہے۔
انیس جامعی صاحب میرے بچوں سے بہت شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔میری بڑی بیٹی کے رشتہ کے لیے فکر مند رہا کرتے، مجھے رشتے کے انتخاب کے اصول بتاتے، اُنہیں کے بتائے مطابق جب رشتہ طے ہوگیا تو اب ہندوستانی سماج کے تناظر میں رشتے کی نزاکت بتانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ فرمایا لڑکا ،لڑکی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لیں،دونوں کو پسند کرنے ، ناپسند کرنے کا مساوی اختیارحاصل ہے۔بیٹی کو دیکھنے والیاں ایک بار کہیں دیکھ لیں، وہ با اختیار اورفیصلہ لینے والی ہوں،بار بار دیکھنے دکھانے کا کوئی جواز نہیں۔جب بیٹی سسرال چلی جائے تو وہاں کے معاملات میں مداخلت سے احتراز کریں۔اپنے خانگی معاملات میںبیٹی ،داماد کی رائے کو بیٹے، بہو کی رائے پر ’بے جا ‘فوقیت نہ دیں، اس سے رشتوں میں کڑواہٹ پیدا ہوتی ہے۔ میری بڑی بیٹی کی شادی میں انتظامات کو لے کر بھی فکر مندرہتے۔شادی والے دن لکھنؤ تشریف لائے اور جب میں نے اپنے بڑے بھائی شمیم احمد صاحب سے ملوایا تو بے ساختہ بولے:’ پہلے بتا دیا ہوتا کہ بھائی اتنے اچھے منتظم ہیں، میں شادی کے انتظامات کے بارے میں سوچ سوچ فضول میں ہلکان ہوتا رہا، پھر فرمایا، بڑے بھائی کی تکریم وجوب کا درجہ رکھتی ہے، اس نعمت کو ہاتھ سے جانے نہ دیجیے گا اوراب اُن کی فکر مندی میرے بڑے بیٹے کے رشتہ کی طرف منتقل ہوگئی تھی۔
وہ مجھے ہمیشہ ’عفو در گزر‘کا حکم دیتے، وہی ’بی پوزیٹیو‘ والی نصیحت، —– فرماتے ،’’ آپ جس محکمہ میں ہیں وہاں اکثریت ’ مخصوص ملّی مزاج‘ والوں کی ہے،اس مخصوص ملّی مزاج کو بدلنے کی کوششیں ضرور کیجئے، لیکن اللہ سے دعا بھی کرتے رہیے کہ وہی ’مقلب القلوب ‘ ہے۔ خدانخواستہ ا گر کچھ زیادہ مثبت نتیجہ نہ نکلے تو جی نہ جلائیے،آپ صرف کوشش کے مکلف ہیں، اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔میں نے اُن کی یہ باتیں اپنی سماعت میں ، اپنے حافظہ میں محفوظ کرلی تھیں اور آج ملازمت سے سبک دوشی کے بعد بڑی شاداب، بڑی بھر پور زندگی بسر ہورہی ہے۔
انیس جامعی صاحب ایک بے باک صحافی تھے، باتیں بے لاگ کرتے، اپنا موقف بے خطر رکھتے اور اپنے موقف کی پشت پر دلائل کی سیسہ پلائی دیوار کھڑی کر دیتے، کردیتے۔حافظہ بے پناہ تھا اور علم حاضر تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ، حافظ ِ قرآن ِحکیم جو ٹھہرے۔گفتگو سلیقہ کی اور سلیقہ سے کرتے۔کلمۂ حق جابر حکمراں کے سامنے لازمی طور بلند کرتے۔ایک ملّی وفد کے ساتھ ملک کے وزیراعظم سے ملنے گئے، وہاں ملّت کے مسائل اور اُن کے حل کے حوالہ سے ڈھیر ساری باتیں ہوئیں۔وزیر اعظم موصوف نے کہا،’ وہ’ حزب المجاہدین‘ اور انداز کچھ’ آپ کے حزب المجاہدین‘ والا تھا، انیس جامعی صاحب کب خاموش بیٹھنے والے، کہا ! مہودیے چھما کیجئے گا ، اس پر ہمارا ہی ’کاپی رائٹ ‘ کیوں؟ اور لوگوں کا بھی تو ہو سکتا ہے۔وزیر اعظم موصوف نے انہیں غور سے دیکھا اور استعجاب بھرے لہجے میں کہا! ’’ انیس جامعی صاحب آپ؟ بھئی ’پرتاپ‘ کب چھوڑا؟‘‘۔
انیس جامعی صاحب کے اندر ظرافت کوٹ کوٹ کے بھری تھی، انداز وہی پرانی دہلی والوں جیسا ہوتا،طنز و مزاح کے انداز میں دل بستگی، اسی لیے تو کہا گیا ہے’دلّی دل والوں کی‘۔ہدف کے طور میں دوستوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرلیا جاتا اور پھر سلسلہ شروع ہوجاتا۔لیکن اس میں بے انتہا اپنائیت ہوتی۔آج بھی اس طرح کے کئی کردار جنہیں ہم بھی جانتے ہیں اور انیس جامعی صاحب کا حلقۂ دوستاں بھی جانتا ہے۔
انیس جامعی صاحب کو طب اور اطبّاء سے بڑا والہانہ لگا ؤ تھا۔وہ خانوادۂ شریفی کے بڑے مداح تھے، انہوں نے اپنی پہلی ملازمت ہندوستانی دواخانہ سے شروع کی تھی اور اسی خانوادہ کے ایک حکیم معروف کے خطوط لکھا کرتے اور اُن کے ساتھ پھرا کرتے تھے۔ڈاکٹر محمد خالد صدیقی صاحب کی بہت تعریف کرتے تھے،خالد صاحب انیس جامعی صاحب سے عمر میں گرچہ بڑے تھے، لیکن اُنہیں ’انیس بھائی ‘کہتے تھے اور انداز نیاز مندی والا ہوتا تھا، جب کہ دنیاوی منصب کے اعتبار سے ڈائرکٹر جنرل کے عہدہ پر فائز تھے۔1999ء میں جب سنڑل کونسل فار ریسرچ اِ ن یونانی میڈیسن، نئی دہلی کے سہ ماہی مجلہ ’ جہان ِ طب‘ کا اجرا عمل میں آیا تواس کے کچھ ہی عرصہ بعد اس مجلہ کی کمپوزنگ جامعی صاحب کے کمپیوٹر سنٹر ’ مہر گرافکس‘پر ہونے لگی۔جہازی سائز[انیس بھائی ، یہی کہا کرتے تھے] کے اس66صفحاتی مجلہ کے آٹھ آٹھ، دس دس پروف نکلتے، تب کہیں مجلہ فائنل ہوتا، اتنے پروف نکلالنے کے بعد انیس بھائی کو اس میں بچتا کیا تھا؟ وہ وہی جانیں۔ میں کبھی اس طرف توجہ دلاتا فرماتے ’ آپ ہی اتنے پرنٹ نکلواتے ہیں‘‘۔ پھر فرماتے ’’ بر صغیر ہند و پاک اور اردو کی نئی پرانی کالونیوں میں ایسا طبّی مجلہ نکل رہاہو تو بتائیں؟یہ حقیقت بھی ہے کہ جہان ِ طب صوری اور معنوی، ہر اعتبار سے ایک مثالی اردو مجلہ ہے۔ ڈاکٹر محمد خالد صدیقی کوجب اس گھاٹے کا احساس ہوا تو اُنہیں طبّی کتابوں کی اشاعت اور باز اشاعت منصوبہ کے تحت کچھ کتابوں کی طباعت کی ذمہ داریاں تفویض کیں، جس میں بھی بحیثیت ِ مجموعی نقصان ہی ہوا، کہ دم ِ آخری تک اُن کی محنت کی کمائی کے لاکھوں روپے، جو طباعت کے مد میں ایک ادارہ پر واجبُ الادا تھے، انہیں نہیں مل سکے۔اُن کے اپنے ذاتی وسائل تھے، جن کو استعمال کرکے وہ یہ رقم وصول کر سکتے تھے، لیکن اُن کے مزاج میں مروت اور دوستی کا احترام اس قدر رچا بسا تھا کہ اس باب میں اپنے مخلصین کے مشوروں کی بھی’ اَن سنی‘ کردیتے ، مجھ سے یہ بھی کہا کرتے۔’’وسیم صاحب! بات آگے بڑھے گی تو پوری پیتھی بدنام ہوجائے گی اور میں یہ قطعی نہیں چاہوں گا‘‘۔انیس جامعی صاحب کچھ ایسے ہی تھے کہ جو چیز دوسروں کے سوچنے اور اس پر عمل کرنے کی ہوتی ، وہ بھی خود پر واجب کر لیتے۔ وفات سے دو ، تین ہفتے پہلے ان سے اس موضوع پر میری بات بھی ہوئی تھی، جب میں نے واجب الادا رقم کی ادائیگی کی پیش رفت کے بارے میں جاننا چاہا تو وہی مروت، وہی احترام ِ دوستی، وہی پیتھی کی بدنامی، یعنی ڈھاک کے وہی تین پات۔صورت ِحال یہ کہ میںاسی محکمہ میں ڈپٹی ڈائرکٹر تھا، لیکن اس معاملے میں مجبور ِ محض، ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق ۔ سابق افسر ِ اعلیٰ نے انیس جامعی صاحب سے بارہا کہا کہ !’’ وسیم اعظمی آپ کی رقم کی ادائیگی کرواسکتے ہیں۔‘‘ لیکن واقعاتی سچائی یہ ہے کہ تیرا ہی جی نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں۔میں اس واقعہ کو ضبط ِ قلم نہیں کرنا چاہ رہا تھا، لیکن ابھی بیس بائیس دن پہلے انیس جامعی صاحب نے درد بھرے انداز میں مجھ سے یہ بات بتائی تھی۔
انیس جامعی صاحب حد درجہ اصاغر نواز تھے، اپنے حلقۂ احباب میں میرا تعارف جس الفاظ میں کراتے، میں قطعی اس کا مستحق نہ تھا، محترم المقام شاہی امام سید احمد بخاری دامت برکاتہم کی خدمت میں لے گئے اور پھر وہاں سے جو خلوص ، اپنائیت اور محبت مجھے ملی ، اس کو ضبط ِ تحریر میں لانا مشکل ہے،میں نے امام صاحب مد فیوضہ کو ملت اور امت کے درد میں مضطرب پایا، بڑے چھوٹے کی تفریق کے بغیر ہر طرح کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ انیس جامعی صاحب ان کے ارادت مندوں میں تھے ، لیکن امام صاحب محترم انہیں اپنا بزرگ مانتے تھے اور ملّی امور میں ان کے مشوروں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔انیس صاحب دہلی کی شاہی جامع مسجد کی مشاورتی کمیٹی کے رکن اور ’مجلس عمل ‘ کے پالیسی میکرس میں تھے۔
انیس جامعی صاحب مجھ سے عمر میں بڑے تھے اورمیں ان سے دو سال ،گیارہ مہینے ، بارہ دن چھوٹا، لیکن سچائی یہ کہ معنوی اعتبار سے میں کئی دہائی چھوٹا تھا اور اُن کی بے پایاں محبتوں، عنایتوں اور شفقتوں میں پَلا بڑھا۔ 2000ء کے بعد جب بھی عمرہ کا اردادہ فرماتے ،مجھے بھی ساتھ چلنے پر زور دیتے ۔ فرماتے ،’ سفر میری طرف سے
اور رہنے کا نظم شاہی امام احمد بخاری صاحب کی طرف سے ، یہ میری ذمہ داری ‘‘ —اور میں ہر مرتبہ یہی کہتا ’ جب سفر اور سفر خرچ دونوں کی استطاعت پالوں گا تو تب ہی عمرہ آپ کے ساتھ کروں گا۔ اپنی زندگی کے آخری عمرہ کے لیے جاتے وقت فون پر فرمایا ،وسیم صاحب! میں عمرہ کے لیے جارہاہوں اور استطاعت کے باوجود آپ ساتھ نہیں چل رہے ہیں۔‘‘ در اصل انیس جامعی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصاغر نوازی کا حصۂ وافر ملا تھا۔وہ صحافی تھے اور اپنے معاصر اور کم عمر صحافیوں کی تحریریں بہت توجہ اور حترام سے پڑھتے۔ محفوظ الرحمٰن مرحوم کا ذکر بڑی نیاز مندی سے کرتے ،نئی نسل کے صحافیوں میںمعصوم مراد آبادی اور قاسیم سید کی تحریروں کو اہمیت دیتے تھے۔ انگریزی کے ایک صحافی کی بھی تعریف کیا کرتے تھے۔
انیس جامعی صاحب حافظ ِ قرآن تھے، اسلامیات پر گہری نظر رکھتے تھے، ہندوستانی سیاست کے نبض شناس تھے،اتحاد بین المسلمین کی جدوجہد میں شاہی امام سید احمد بخاری صاحب کے ہم قدم رہا کرتے۔وہ مسلم قیادت کی مرکزیت کے قایل تھے، فرمایا کرتے ’’اگر ہم ملّت کے کسی ایک شخص کو سچے دل اور تن من دھن سے اپنا قائد تسلیم کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری آواز نہ سنی جائے ۔ در اصل ہمارا اختلاف اور انتشارہی دوسروں کی طاقت ہے ۔ہم جب تک متحد نہیں ہوں گے ،تو نہ ہی ہم اپنی بات کسی سے کہہ سکیں گے اور نہ ہی کوئی ہماری سنے گا‘‘۔ آج سوچتا ہوں کہ انیس جامعی صاحب کی وفات کے بعد سید احمد بخاری صاحب اور بھائی راحت محمود چودھری صاحب کی کیا کیفیت ہوگی،جامعی صاحب کے کنبے کو دیکھنا ہوگا، اتحاد بین المسلمین کے مشن کو آگے بڑھانا ہوگا اور خود کو بھی سنبھالے رکھناہوگا۔
آج انیس جامعی صاحب دنیا کے جھمیلوں سے آزاد، ابدی نیند سو رہے ہیں، اُن کے ہزاروں چاہنے والے غم زدہ ہیں، سوگوار ہیں،بلا شبہہ ا ن کی وفات امت ِ مسلمہ کا ایک بڑا نقصان ہے۔بس اللہ کی مرضی اور بزرگوں سے سنا ہے ’ مرضی ٔ مولا از ہمہ اولیٰ‘ ۔برادر عزیز ڈاکٹر فخر ِ عالم کہہ رہے ہیں کہ’ ’انیس جامعی صاحب کے احوال، افکار اور نظریات پر ایک مضمون لکھ دیجئے‘ ‘۔ اور میں کہہ رہاہوں کہ ابھی مجھ سے نہیں ہوسکے گا۔ ان شاء اللہ ضرور لکھوں گا اور تفصیل سے لکھوں گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے انیس بھائی کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے متوسلین کو صبر دے۔این دعا از من واز جملہ جہان آمین باد۔!!!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close