شخصیات

مناظر عاشق ہرگانوی اور اصلاح اطفال

راحت علی صدیقی قاسمی

اکیسوی صدی ایجادات و اختراعات کی مظہر ہے، انقلاب کے سورج کی تمازت نے کائنات میں بسے افراد کے قلوب کو برانگیختہ کردیا ہے، اس کی سنہری شعائیں کائنات کو نورانی تابانی ضوفشانی عطا کررہی ہیں، مادہ کی حکومت و بادشاہت قائم ہی نہیں لا زوال محسوس ہوتی ہے ، تسخیر کائنات کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاچکا ہے، تسخیر ذات سے دنیا آگے نکل چکی ہے، انسان مادہ کا پرستار حسن کا دیوانہ آزاد خیال ہونے کے ساتھ ساتھ مادی ترقی کے اوج ثریا پر پہنچ چکا ہے، ترقی کی زعفران زار کرنوں سے کائنات ادب کے کچھ گوشے اب بھی پوشیدہ ہیں، جن پر محرومی پژمردگی کے سیاہ پردے پڑے ہوئے ہیں، ترقی کی روشنی ان گوشوں کو میسر نہیں آسکی، ان کے مقدر کا ستارہ ابھی بلند نہیں ہوا، ان گوشوں میں ادب اطفال بھی ہے۔

ڈاکٹر غلام حسین نے ہندوستان کے ان ادیبوں کو جن کا تعلق ادب اطفال سے ہے درخواست کی، انہیں دعوت دی گئی کہ اپنی طبع زاد تخلیقات ارسال کردیں، ملک بھر میں 75ادیبوں کو دعوت دی گئی تھی، لیکن تکلیف کا عالم یہ ہے کہ صرف 34ادیبوں کی تخلیقات میسر آسکیں وہ بھی انتہائی قلیل مقدار میں تھیں ، اس صورت حال سے ادب اطفال کی تیرہ بختی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے، لکھنے والوں کی قلت ہے، بچوں کے معیار پر کھرا اترنے والا ادب انتہائی قلیل مقدار میں تخلیق ہو پارہا ہے، بہت سی کہانیاں پڑھ کر افسوس بھی ہوتا ہے، اور تعجب بھی اور عقل پیہم سوالات جنم دیتی ہے کہ آخر کیا سوچ کر انہیں ادب اطفال کے زمرہ میں شامل کرلیا گیا، اگر چہ تنقید و تحقیق میں بھی یہ شکوہ زبان زد ہے، لیکن ادب اطفال کچھ زیادہ ہی نزاکت کا حامل ہے، بچے ملک و ملت کا مستقبل ہیں، ہمارا کل ان ہی پر منحصر ہے، ان کی اصلاح نہ ہوئی، تو ملک کو مشکل ترین حالات کا سامنا ہوگا، زبان و ادب کے خوگر و دل دادہ میسر نہیں آئیں گے، قوم کا مستقبل پڑھنے لکھنے کے بجائے، مخرب اخلاق چیزوں کا دلدادہ ہوجائے گا ، اس کے شب و روز کتابوں کے مطالعہ میں نہیں بلکہ موبائل کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے، ٹی وی پر تضییع اوقات کرتے ہوئے گزریں گے۔

حالات حاضرہ کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھا جائے تو شدت کے ساتھ معیاری ادب اطفال کی تخلیق کی ضرورت محسوس ہوگی، جو سینہ میں دھڑکتا ہوا دل رکھتے ہیں، وہ ضرور اس درد کا احساس کرتے ہیں، اس کا مداوا تلاش کرتے ہیں، اس کے ازالے کی تدبیر کرتے ہیں، ان احوال و کوائف کی بنا پر ان شخصیات کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے، جو ادب اطفال کے فروغ میں اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں، ان ہی شخصیات میں سے ایک مناظر عاشق ہرگانوی بھی ہیں، جن کا تعلق بھاگلپور کی سرزمین سے ہے، ننھے ننھے قلوب پر حکمرانی کرنا ان کا نصیبہ ہے، بچوں کے لئے لکھتے ہیں، بچہ بن کر لکھتے ہیں، انتہائی سادہ اسلوب دلکش طرز بیان ان کے الفاظ بچوں کے قلب میں پیوست ہوتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، کرداروں کے نام اس طرح کے رکھتے ہیں کہ بچوں کو ان میں دلچسپی محسوس ہونے لگتی ہے، بچوں کی نازک طبیعت پر ان کے کردار گراں بار نہیں ہوتے، بلکہ ان میں اپنا پن انسیت محبت اور سادگی کا بھرپور احساس ہوتا ہے، ان کے کردار بچوں کی نفسیات پر کھرے اترتے ہیں، ایمان دار کسان کلوا، شبانہ، مغرور گیدڑ، شہیر، ڈولی، سوداگر، منصف، بچوں کے لگاؤ کی تمام خوبیاں اپنے دامن میں رکھتے ہیں، ان کی طبیعت کو موہ لیتے ہیں، بچوں کو کہانی سے جوڑے رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

مناظر عاشق ہرگانوی کی خوبی یہ ہیکہ وہ اکیسوی صدی کے بچوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے کہانی لکھتے ہیں، اور ہر طرز پر کہانی لکھتے ہیں، اساطیری کہانیاں دیومالائی کہانیاں مہماتی کہانیاں البتہ ان کا عظیم کارنامہ یہ ہے، انہوں نے بچوں کی اصلاح کا پہلو ہمیشہ پیش نظر رکھا ہے، ان کی کہانیوں میں بچوں کی اصلاح کا پیغام ہوتا ہے، وہ بچوں کو ترقی کی دوڑ میں بھی یہ تلقین کرتے ہیں کہ انسان اخلاق، کردار، عادت مزاج کا اچھا نہیں تو سب کچھ ہیچ ہے، اس کی یہ خوبیاں ہی اسے اچھا کامیاب اور ترقی یافتہ انسان بناتی ہیں، ان کی کہانیوں میں لالچ کی قباحت ایمانداری کا انعام بے ایمانی کے نقصانات اچھی عادتوں کی پزیرائی، سماج کی برائیوں سے بچوں کا اثر انداز ہونا، اور اس اثر کا زوال پزیر ہونا، اس کے نقصانات اور برائی کا برا انجام، ان تمام کیفیات کو انہوں نے بھرپور انداز میں ابھارا ہے، اور صالح معاشرہ کی بنیاد رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جس کے ثمرات و نتائج وقت کے دریا مثل چاند دیکھے جائیں گے، ان کی پیدائش کردہ خوبیاں عمل میں تیرتی نظر آئیں گی، جو پیغام وہ بچوں کے مثل کورے کاغذ قلب پر نقش کر رہے ہیں، وہ دیدہ زیب تحریر کی شکل میں لوگوں کی نگاہوں کا ضرور استقبال کریں گے۔

وہ ایک خشک مزاج واعظ نہیں ہے، جس کی نصیحتیں آنکھوں کو بند اور ذہن کو پژمردہ کردے بلکہ وہ کہانی کے فن میں ماہر ہیں، اس کے نازک ترین پہلوؤں پر بھرپور واقفیت رکھتے ہیں، اس لیے جب انکا قلم کہانی کے سفر پر نکلتا ہے ، تو اپنے قارئین کے لئے، دلچسپی و دلجمعی کے سارے حربہ ساتھ رکھتا ہے، کہانی کے لئے وہ لعل و جواہر تلاش کرتے ہیں، کہ وہ ایک قیمتی ہار کی مانند ہوجاتی ہے، قاری مزہ کے ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی اپنے قلب پر محسوس کرتا ہے، اس کے مقام کا معترف اور اس کی خوبیوں کا اسیر ہوجاتا ہے، اور کہانی سے مرتسم ہونا والا قلبی اثراس کے مستقبل کی تعمیر میں انتہائی اہم رول ادا کرتا ہے، چند جملے ان کی کہانیوں سے پیش کرتا ہوں جو میرے دعوی کی دلیل اور ان کہانیوں کے رنگ کو مزید سمجھنے میں آسانی پیدا کریں گے،  ایماندار کسان کی بیوی جب قیمتی ہار دیکھ کر مچل جاتی ہے، اسے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے، تو کلوا کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو کس جوبصورتی پیش کیا گیا ہے، ملاحظہ کیجیے وہ مکالمہ اور کہانی کے حسن ظاہر و باطنی کی لذت محسوس کیجیے،کسان نے بیوی کے ہاتھ سے زنجیر لے لی اور بولا۔ جلدی سے دو چار روٹیاں بنا دو میں ابھی شاہی محل جانا چاہتا ہوں۔

کیوں؟

 آئی ہوئی دولت کو کیوں ٹھکراتے ہو؟ اس کی بیوی بولی۔ ’’ہم نے کوئی چوری تھوڑے ہی کی ہے۔اسے بیچ کر آرام کی……

کلوا نے زنجیر کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا اس میں ایک چمک دار ہیرا بھی لگا ہوا تھا۔ بیوی کی بات سن کر وہ غصے سے بولا۔ اپنی زبان کو لگام دو۔ یہ زنجیر تیری محنت کی کمائی کی ہے یا میری محنت کی کمائی ہے؟ میں اسے ضرور واپس کرنے جاؤں گا۔ اب مزید کچھ بولنے کی ضرورت نہیں۔ چُپ چاپ روٹیاں بنا دو۔’’اُن جملوں سے احساس ہوتا ہے کس طرح سے مناظر عاشق ہرگانوی بچوں کے قلوب میں ایمانداری کے پودے لگا رہے ہیں، اس ایمانداری کے عوض کلوے بادشاہ کا خزانچی بنا کر اس پودے کو اس ضروری غذا بھی مہیا کررہے ہیں، اس کے علاوہ ان کی تمام کہانیوں میں اصلاح اطفال کا پہلو غالب ہے، انہوں بہت سی کہانیاں لکھی ہیں، ان کی تیس کہانیوں کا مجموعہ شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔

انہوں نے سائنس کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے، اس عنوان کو بہت خوبی و خوبصورتی سے اپنی کہانیوں میں جگہ دی ہے، اردو کے طلبہ کی معلومات میں وسعت بخشی ہے، انہیں موجودہ حالات پر مطلع کیا ہے، انہوں نے سسپنس کہانیاں بھی لکھیں، ہر ہر جملہ میں تجسس پیدا کیا، اور اختتام پر طلبہ کے لئے اصلاحی پیغام چھوڑا، اسی طرز پر انکا ناول خونی پنجہ انتہائی عمدہ قسم کا حامل ہے، جو بچوں کو حسد، جلن اور کینہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے جرائم اور ان کے انجام سے باخبر کرتا ہے، حالانکہ اس کہانی میں قاتل قتل کرنے کے لئے ایک گدھ کا استعمال کرتا ہے اور اس کے پنجوں پر زہر لگا کر پانچ قتل کرتا ہے، لیکن مناظر عاشق خوبی یہاں پر بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہاں بھی وہ بچوں کی اصلاح سے چشم پوشی نہیں کرتے، مخرب اخلاق پیغام نہیں دیتے بلکہ قاتل کو سزا تک پہنچاتے ہیں، یہ باور کراتے ہیں جب اتنی چالاکی کے باوجود بھی قاتل بچ نہ سکا تو ہر مجرم کو جان لینا چاہئے کہ جرم کبھی نہیں چھپتا، ہمیشہ ظاہر ہوتا،مجرم سزا کا مستحق قرار پاتا ہے، لہٰذا جرائم کا ارتکاب نہ کیا جائے۔

دوسری خوبی اس کہانی کا کرکٹ سے تعلق ہے، جس بچوں کی دلچسپی ظاہر ہے،اس سے بہت سے بچوں کے قلوب میں جرائم کی نفرت بیٹھ جائے گی اور وہ زندگی کے ہر موڑ پر جرم سے احتراز کریں گے۔ علاوہ ازیں انہوں نے بچوں کی کہانیوں کے ترجمہ بھی کئے ہیں، ان کے فن کے تمام پہلوؤں پر نگاہ ڈالی جائے تو یقین ہوجاتی ہے، اکیسوی صدی میں ادب پر وہ بڑا معیاری ذخیرہ تخلیق کررہے ہیں، جو وقت کے گذر ان کے ساتھ ساتھ اور قیمتی ہوگا، ان کی اصلاح اطفال کی یہ کوششیں رنگ لائیں گی، ان کی محنتیں ثمریاب ہو ں گی اور بھی دلایل و براہین سے اپنی بات کو ثابت کیا جاسکتا تھا، لیکن وقت کی بناء پر گفتگو کو طویل نہیں کیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close