شخصیات

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

حفیظ نعمانی

طبیعت تو آج بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ تمام ضروری باتیں کہہ دوں جو گذشتہ تین ہفتوں میں کوشش کے باوجود نہ کہہ سکا۔ لیکن مولانا اسلم قاسمی مرحوم کا حادثہ ارتحال ایسا نہیں ہے کہ آج بھی تماشہ دیکھتا رہوں ۔ دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم حضرت مولانا قاری طیب صاحبؒ کے بڑے سے چھوٹے بیٹے مولانا اسلم قاسمی تھے اور بڑے مولانا سالم قاسمی۔ دارالعلوم کے اندر ایک حادثہ کے بعد حضرت مہتمم صاحب نے مجلس شوریٰ سے درخواست کی کہ عمر کی وجہ سے اب میں اس کی ضرورت محسوس کررہا ہوں کہ نام کی حد تک مہتمم تو میں رہوں لیکن ذمہ داری ایک نائب کو دے دوں جو ہر اعتبار سے موزوں ہو۔ اور اس کے لئے بڑے بیٹے مولانا سالم کو میں ہر اعتبار سے موزوں سمجھتا ہوں اس لئے انہیں نائب کارگذار مہتمم بنا دیا جائے۔

مولانا سالم صاحب دارالعلوم میں مدرّس بھی تھے اور ملک میں ہونے والے ان دینی جلسوں میں بھی مقر ِر کی حیثیت سے جاتے تھے جہاں حضرت مہتمم صاحب معذرت کرلیتے تھے۔ مجلس شوریٰ صرف بااختیار ہی نہیں باخبر بھی رہتی تھی مجلس نے اسے تو منظور کرلیا کہ نام کی حد تک حضرت مولانا قاری طیب صاحب مہتمم رہیں اور نائب کسی اور کو بنا دیا جائے لیکن اسے منظور نہیں کیا کہ وہ مولانا سالم قاسمی ہوں ۔ جب یہ بات سامنے آئی تو مولانا طیب صاحب نے اسے ذاتی مسئلہ بنالیا آخرکار حضرت مہتمم صاحب کی 50  سالہ خدمات اور عظمت و شہرت کے پیش نظر یہ ترمیم کردی کہ مولانا مدظلہٗ کے صاحبزادے کو ہی نائب مہتمم بنا دیا جائے مگر مولانا سالم کے بجائے مولانا اسلم کو۔ مجلس کا خیال تھا کہ مولانا طیب صاحب وراثت کی بناء پر اپنے بیٹے کو اس وقت نائب اور بعد میں مہتمم بنوانا چاہتے ہیں تو وہ مولوی اسلم کو بنانے کے بعد مان جائیں گے۔ لیکن یہ بات آج بھی راز ہے کہ وہ صرف اور صرف مولانا سالم کو نائب بنانا چاہتے ہیں جس کے لئے مجلس شوریٰ کسی وجہ سے تیار نہیں تھی۔ اور بات اتنی بڑھی کہ مجلس شوریٰ نے ایک رکن مولانا مرغوب الرحمن صاحب کو کارگذار نائب مہتمم بنا دیا۔

اگر حضرت مولانا طیب صاحب مولانا اسلم کے نام پر آمادہ ہوجاتے تو دارالعلوم کے دو ٹکڑے نہ ہوتے اور آج کی خبر یہ ہوتی کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا اسلم قاسمی کا انتقال ہوگیا۔ ہم بہت قریب سے جاننے کے بعد بھی آج تک یہ نہ جان سکے کہ حضرت مولانا قاری طیب صاحب خود اور ان کے خاندان کے ہر فرد کو کیوں ضد تھی کہ نائب مولانا سالم صاحب ہوں اور خود مولانا اسلم صاحب بھی اس مطالبہ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہے؟

مولانا قاری طیب صاحب حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کی وجہ سے پاکستان کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے اور تقسیم کے بعد وہ اپنے بھائی مولانا طاہر صاحب کے ساتھ پاکستان چلے بھی گئے تھے اور جب حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کا انتقال ہوا تو انہوں نے پاکستان کی شہریت قبول کرلی تھی اور دارالعلوم کے عہدے سے استعفیٰ بھیج دیا تھا۔ مجلس شوریٰ کے اکثر ممبروں کی رائے تھی کہ استعفیٰ منظور کرلیا جائے لیکن حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اسے اگلی شوریٰ تک ملتوی کرادیا اور بعد میں یہ معلوم کرایا کہ مہتمم صاحب کیا چاہتے ہیں ؟ تو جواب آیا کہ اگر ممکن ہوسکے تو واپس آنا چاہتے ہیں ۔ حضرت مدنی نے پنڈت جواہر لال نہرو سے کہہ کر شہریت واپس دلادی اور مولانا واپس آگئے۔ اگر مہتمم صاحب پاکستان نہ جاتے استعفیٰ نہ دیتے اور سفارش سے واپس نہ آتے تو وہ شاید اپنی بات منوا لیتے لیکن پاکستان جاکر اور استعفیٰ دے کر انہوں نے اپنا مقدمہ کمزور کرلیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ پوری قوم نے اسے منظور کرلیا اور مولانا طیب صاحب سابق مہتمم بن گئے۔ مولانا اسلم کی علمی صلاحیت بھی اپنے بھائی سے زیادہ تھی لیکن وہ عالم تھے واعظ اور پیر صاحب نہ تھے اور نہ بننا چاہتے تھے اور اسی لئے مجلس شوریٰ تیار تھی کہ ان کو نائب مہتمم اور کارگذار بنادے۔

ہمارا تعارف تو پرانا تھا تعلق اس وقت ہوا جب دارالعلوم کا جشن صد سالہ 1980 ء تھا اس وقت کئی دن ساتھ رہا اور ان کی کارکردگی دیکھی۔ ان کے پاس علم بھی تھا اور صلاحیت بھی۔ اور زیادہ قریب سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوا کہ مجلس شوریٰ نے جو فیصلہ کیا تھا وہ کیوں کیا تھا؟ لیکن جب مولانا سالم نے دارالعلوم (وقف) بنا لیا تو دوریاں بڑھ گئیں ۔ دارالعلوم میں مقامی ملازموں کی تعداد کافی تھی ان میں سے 80  نے یہ کہہ دیا کہ ہم اس دارالعلوم کے نوکر ہیں جس کے مہتمم مولانا طیب صاحب ہیں ۔ وہ بلائیں گے تب ہم آئیں گے اور تنخواہ کا مطالبہ چھیڑ دیا۔ ماتحت عدالت نے آدھی آدھی تنخواہ دلوادی تو دارالعلوم کا بجٹ بگڑنے لگا۔ نئے مہتمم مولانا مرغوب الرحمن صاحب لکھنؤ آئے اور والد صاحب سے مشورہ کیا تب اندازہ ہوا کہ لکھنؤ کے وہ بڑے وکیل جو دینی ذہن کے ہیں تصفیہ تو کراسکتے ہیں مولانا طیب صاحب کے لڑکوں اور ان کے حمایتیوں کے خلاف مقدمہ لڑنے سے کترا جائیں گے۔

دارالعلوم کے مخالفوں کا مقدمہ عاصم سبزواری ایڈوکیٹ لڑرہے تھے جو خود دینی حلقہ کے تھے۔ اس وقت والد کے حکم سے ہم نے یہ مسئلہ اپنے ہاتھ میں لیا اور عبدالمنان ایڈوکیٹ کو سہارن پور لے گئے اور ایک ہی پیشی میں دارالعلوم کے حق میں فیصلہ ہوگیا لیکن جن آنکھوں کا سامنا ہوا وہ بہت دنوں تک چبھتی رہیں کیونکہ تعارف اور تعلق نسلوں سے چلا آرہا تھا لیکن مسئلہ ذاتی نہیں قوم کا تھا اور چپہ چپہ پر اللہ کی مہر لگی تھی۔ سہارن پور کی سیشن عدالت میں دارالعلوم کو وراثت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور سارا زور اس پر تھا کہ یہ مولانا قاسم نانوتوی کا قائم کیا ہوا ہے اور حضرت مولانا طیب صاحب پوتے کی حیثیت سے اس کے مالک اور وارث ہیں ۔ ملک میں مسلمانوں نے بہت کوشش کی کہ کوئی راستہ نکل آئے لیکن اللہ کو منظور نہیں تھا۔ اب مولانا اسلم مرحوم کے بعد اپنا دارالعلوم قائم کرنے والے بڑے بھائی مولانا سالم رہ گئے ہیں خدا کرے وہ کوئی فیصلہ اپنے قلم سے کرجائیں ۔ دعا ہے کہ مولانا اسلم کو حدیث شریف پڑھانے اور آدھی صدی تک پڑھانے کا پورا صلہ ملے اور وارثوں کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close