شخصیات

مولاناقاضی محمداسرائیل گڑنگی: ایک درویش صفت عالم دین

قاری محمد عبداللہ گجر

میں کافی عرصہ سے ایک درویش صفت عالم دین کے ساتھ رہا جب ان سے کوئی سوال کرتاآپ عالم ہیں تو وہ فرماتے لوگ ہمیں عالم تصور کرتے ہیں اللہ کرے کہ ہم ان کے اعتماد پر پورا اتریں وہ ہمیشہ اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں نماز پڑھاتے وقت کبھی روتے ہیں تو سب کو رلاتے ہیں، غریب پرور اور ہر ایک سے اچھے اخلاق سے پیش آنے والے ہیں وہ اپنے اساتذہ کے علوم و معارف  کے امین ہیں وہ مطالعہ کی دنیا کے انسان ہیں بات طویل ہو یا مختصر اخلاق کے دامن کو سجا کر رکھا جائے تو مناسب ہو گا وہ یکم جنوری ۱۹۶۵ ؁ کو ضلع مانسہرہ کی یونین کونسل جبوڑی کے ایک گاوٗں گڑنگ میں پیدا ہوئے مختلف مدارس اور مساجد میں پڑھتے رہے ۱۹۸۵ ؁ میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے دورہ حدیث کر کے سند فراغت حاصل کی اس کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہامختلف مساجد میں بھی جا کر درس قرآن دیتے رہے مختلف علاقوں میں دوست واحباب سے تعاون کرا کر مساجد کو تعمیر کروایااللہ کے فضل و کرم سے ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے ان کی زبان سے نکلے ہوئے جملے جو میری بیاض میں موجود تھے ان میں قارئین کرام کو بھی شامل کیا جا رہا امید ہے کہ انشاء اللہ قارئین کو فائدہ ہوگا آپ کے دل و دماغ میں آیاہوگاکہ یہ کون شخصیت ہیں ؟تو زبان بول پڑی اور قلم نے ساتھ دیا اور لکھ دیا یہ تو قاضی محمد اسرائیل گڑنگی ہو سکتے ہیں اب ان جملوں کو ملاحظہ فرمائیں [ہر پھول کی خوشبو نرالی قول بے مثال]

(۱)درود شریف وہ عبادت ہے جو کی جائے تو فورََا قبول ہو جاتی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ بندہ اپنی طرف سے ایک تحفہ اللہ تعالٰی کے حوالے کرتا ہے کہ یہ میرا تحفہ رحمت کائنات ﷺ کے دربار میں پیش کیا جائے اللہ پاک اس تحفہ کو فورََا دربار رسالت مآب ﷺ میں پیش کر دیتا ہے

(۲)تنہائی میں کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھا جائے اس کی وجہ سے مشکلیں حل ہو تی ہیں

(۳)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آسمان ہدایت کے ستارے ہیں ان سے روشنی حاصل کر کے ہر بندہ مشکل سفر مکمل کر سکتا ہے

(۴)اہل بیت ہظام رضی اللہ عنہم نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہیں نوح علیہ السلام کی کشتی میں جو سوار ہو گیا وہ بچ گیا ہم موجودہ دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روشنی لیتے ہوئے اہل بیت عظام رضی اللہ عنھم کی کشتی میں سوار ہو کر جنت کی طرف جارہے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں ہم دونوں کے غلام ہیں

(۵)جس بندے کو اللہ نے بڑا بنایا ہے وہ دوسروں کا بھی احترام کرتا ہے

(۶) ہر بڑا عالم عاجزی اور اخلاق وکردار کا پیکر ہوتا ہے

(۷) درویش دس ایک جگہ میں آ سکتے ہیں اور دو بادشاہ ایک ملک میں نہیں سما سکتے

(۸) دعا میں وہ اثر دیکھا ہے جو کسی چیز میں نظر نہیں آیا

 (۹) دل اگر نرم ہو تو ایک آیت ِقرآن زندگی تبدیل کر دیتی ہے دل  اگر سخت ہو تو سارا قرآن سنایا جائے تو اثر نہیں ہو تا

(۱۰) اچھے اخلاق اچھے خون کی پہچان ہیں

(۱۱)انسان کردار سے پہچانا جا تا ہے

(۱۲) میٹھی زبان والے رس چوس لیا کرتے ہیں

(۱۳) بری زبان والے کے منہ میں کوئی پتھر ڈالنے کے لیے تیار نہیں

(۱۴) رب سے مانگو جو دیکر لیتا نہیں

(۱۵) ماں باپ تھوڑے پر ہی راضی ہو جاتے ہیں

(۱۶)نصیحت خواہ دیوار پہ لکھی ہو اپنا لو

(۱۷)ہر منزل میں کوئی نہ کوئی کانٹاضرور ہوتا ہے

(۱۸)محبت ایک ایسا دریا ہے جہاں صرف آنسو اور جدائی ہے

(۱۹)محبت ایک پہاڑ کی مانند ہے جسکو سیراب کرنا ہر ایک کے بس میں نہیں

(۲۰)زندگی کے دکھ انسان کو انسان بناتے ہیں اور دکھ کا مقابلہ انسان کو آنسوئوں سے نہیں بلکہ حوصلہ سے کرنا چاہیے

(۲۱) قسمت کے بھروسہ پر بیٹھے رہنے سے قسمت بھی سوئی رہتی ہے اور ہمت کر کے کھڑے ہونے سے قسمت بھی کھڑی ہوتی ہے

(۲۲)مور کے پائوں اگر خوبصورت ہوتے تو وہ زمین پر کھڑا ہونا بھی گوارہ نہ کرتا

(۲۳)تمنا کو دل میں جگہ نہ دو یہ گہرا زخم دیتی ہے

(۲۴)کسی کے آنسو کو زمین پہ گرنے سے پہلے اپنے دامن میں جذب کر لو یہی انسانیت کی معراج ہے

(۲۵) غموں کو چھپا کر چہرے پہ مسکراہٹ سجائے رکھنا ایک عظمت ہے

(۲۶) گھر کو امن وآمان کا  مرکز بنانے کے لیئے عورت کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے

(۲۷) مسکراہٹ ایک ایسی چابی ہے جو دل کے دروازوں کو کھول دیتی ہے

(۲۸) خود کو پتھر کی طرح بنائو جو نہ دھوپ میں پگلے نہ بارش میں

(۲۹) کسی کو اتنا مت چاہو کہ اس کی جدائی برداشت نہ کر سکو

(۳۰) اچھے اساتذہ کا اثر ضرور پڑتا ہے جب کہ بندہ سلیم الفطرت ہو

 (۳۱)ہمیشہ بادلوں کی طرح رہوجو پھولوں پر نہیں کانٹوں پر بھی برستا ہے

(۳۲)بہترین دوست وہ ہے جو دوست کے دل میں اتر کر اس کے دکھ کا اندازہ لگا سکے

(۳۳)لوگ مخلص دوست تلاش کرتے ہیں لیکن مخلص بننے کی زحمت نہیں کرتے

(۳۴) بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے دل میں  اتر کر اس کے دکھ کا اندازہ کر سکے

(۳۵)محبت انسان کی آخری پناہ گاہ ہے اگر اس کی چھت گر جائے تو انسان تباہ ہو جاتا ہے

(۳۶) شرافت سے جھکا ہوا سر ندامت سے جھکے ہوئے سر سے بہتر ہے

(۳۷) دوستوں کو مصیبت میں چھوڑنا بزدلی ہے

(۳۸) مصیبت کو خوشی سے قبول کرویہ تم کو ذیادہ اونچے مقام پر لے جائے گی

(۳۹) جس انسان کے دل میں روشنی نہ ہو وہ چراغوں کی محفل سے کیا حاصل کرے گا

(۴۰)بیکار ہے وہ دل جسمیں تڑپ نہ ہو

(۴۱) دوست کی خامیوں کو پیار سے دور کرنے سے دوستی رہتی ہے

(۴۲)معافی سے بہتر کوئی اور انتقام نہیں

(۴۳) پھولوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہونے کے لیے کانٹوں کی چھبن بھی برداشت کرنی پڑتی ہے

(۴۴) علم کے ساتھ عمل اور دوست کیساتھ شرافت نہ ہو تو وہ زندگی نہیں ہے مایوسیوں سے جلتا ہوا چراغ ہے

(۴۵) رات کے وقت ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو آسمان کی طرف چمکتے ستارے نظر آتے ہیں جب آسمان کے فرشتے زمین کی طرف دیکھتے ہیں ان کو چمکتی مساجد اور دینی مدارس نظر آتے ہیں

(۴۶) طلباء رب کے گھر میں رہتے ہیں وہ اللہ اور رسول ﷺ کے مہمان ہیں ہم سے تو بہت اچھے ہیں ہم اپنے گھروں میں رہتے ہیں

(۴۷) قرآن پاک کے اوراق شہید ہو جائیں تو ان کا بھی احترام کیا جاتا ہے اور کرنا چاہیے اسی طرح اگر کسی حافظ یا عالم سے کمزوری نظر آئے تو ان کی کمزوریوں پہ زیادہ نظر نہ  رکھو ان کی خوبیوں کی طرف دیکھا کرو

(۴۸) ایک سچا باعمل عالم عوام الناس کے ساتھ ماں اور باپ دونوں کا سلوک کرتا ہے کبھی لاڈ اور پیار کے ساتھ بات سمجھاتا ہے اور کسی موقع پر جلال اور کمال میں بھی بات کرتا ہے

(۴۹) بچی جب کوئی چیز مانگتی ہے تو کہتی ہے ابو! آپ کے پاس پیسے ہیں جب بچہ مانگتا ہے تو کہتا ہے مجھے فلاں چیز لا کر دو یا اتنی رقم دو

(۵۰) ماں وباپ اولاد کے ساتھ وہ کچھ کرتے ہیں جو بیان کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا اولاد کی طرف سے ماں باپ کو وہ کچھ نہیں دیا جا سکتا جس کے وہ حق دار ہیں

(۵۱) امن کے لیئے خوف خدا ہو اور قانون سخت ہو جب لوگوں میں خوف خدا نہ ہو گا تو امن کہاں ہو گا

(۵۲) وہ لوگ بڑے بدنصیب ہیں جو قوم تبدیل کرتے ہیں وہ خود اپنی ماں پر الزام دھرتے ہیں

(۵۳)قوم تو ایک پہچان ہے اور یہ اللہ کی مقرر کردہ پہچان ہے جس طرح زمین کے نشانات کو مٹانا منع ہے اور بہت بڑا گناہ ہے اسی طرح قوم کو تبدیل کرنا بڑا گناہ ہے انسان کی عزت کردار اور اخلاق کی وجہ سے ہوتی ہے قوم کے لحاظ سے بڑی قوم ابو جہل اور ابو لہب کی تھی مگر کردار اچھا نہیں تھا پھر انجام کیا ہو ا حضرت بلال رضی اللہ عنہ تو حبشی تھے مگر کردار بلند تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے انسان نے ان کو کہا سَیّدُنا بلال ہمارے سردار حضرت بلال رضی اللہ عنہ

(۵۴) دنیا بھر کے انسان جنت کی تلاش میں ہیں اور جنت صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنھم کی تلاش میں ہے

(۵۵) علماء کرام اور مشائخ عظام رحمۃاللہ علیھم کے اچھے کردار اور اخلاق کو دیکھ کر لوگ مسلمان ہوئے

(۵۶) میں نے جن حضرات کو دیکھا مجھے سب سے ذیادہ محبت اپنے استاد اور مرشد امام اہل سنت شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃاللہ علیہ سے ہے

(۵۷) تین چیزوں کا حترام کریں تو علم کا فائدہ ہو گا استاد کتاب جس ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں

(۵۸) ہمارے اکابر نے تکالیف اور مصائب کو برداشت کر کے دین پھیلایا  ہے

(۵۹) صبر کا پھل بہت میٹھا ہوتا  ہے یہ بات ضرور ہے کہ صبر کرنا مشکل ہوتا ہے

(۶۰) چوہدری رحمت علی رحمۃاللہ علیہ بہت بہادر اور دلیر انسان تھے وہ عظیم گجر قوم کے چشم و چراغ تھے  پاکستان کا خوبصورت نام رکھ کر بہت بڑا احسان کیا ہے، 1915میں اسلامیہ کالج لاہور میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی اوروہاں ہی نامِ پاکستان اورنظریہ پاکستان پیش کیا۔

(۶۱) ہمارے والد محترم محمد اسماعیل صاحب  فرماتے ہیں کہ جب ہمارے دادا جان عبداللہ مرحوم وصال فرما ر ہے تھے میں نے سوال کیا کہ آپ کو کچھ ارمان ہے فرمانے لگے میں تم جیسی اولاد کاباغ چھوڑ کر جا رہا ہوں افسوس تو ہے مگر رب کے حکم کو قبول کرنا پڑتا ہے

(۶۲) ذیادہ پڑھنے سے بندے میں کمال نہیں آتا سمجھداری اور سلیقہ سے استعمال کرنے سے کمال آتاہے

(۶۳) ایک پائو علم کے لیئے ایک من عقل کاہونا ضروری ہے اگر عقل  نہیں ہوگا تو من علم سے کیا کرے گا

(۶۴) جب سے مساجد اور مدارس کارُخ کیا ہے یاد نہیں پڑتی کہ نماز رہ گئی ہو

(۶۵) حسد کی آگ وہ ہے جسکا علاج کسی کے پاس نہیں جب تک بندہ خود حسد کی آگ کو  نہیں بجھائے گا یہ جلتی ہی رہے گی

(۶۶) جس طرح بعض جسمانی بیماریاں خاندانی ہوتی ہیں اسی طرح بعض روحانی بیماریاں بھی خاندانی ہوتی ہیں اور جب کسی کو کوئی چیز اللہ کے نام پر دی جاتی ہے تو بڑا سکون حاصل ہوتا ہے

(۶۷) کچھ لوگوں کے زبان کے زخم کے داغ کبھی ختم نہیں ہوتے جب وہ بندہ سامنے آتا ہے تو زخم سے خون جاری ہو جاتا ہے

(۶۸) میں نے بہت سے لوگوں کو حسد کی آگ میں جلتے دیکھا اور آگ کے شعلے کبھی زبان سے بھی جاری ہوئے

(۷۰) اللہ کی رضا کے لیئے کام کرو یہ لوگ کیا دیں گئے ان کے پاس ہے کیا

(۷۱) اس معاشرے نے تو اللہ کے پاک نبیوں کو بھی معاف نہیں کیا پس رب کی رضا کی طلب میں لگ جائو

(۷۲) فطرت سلیمہ والا انسان عظمت کا پیکر ہوتا ہے

(۷۳) اپنی پرانی حالت کو ہر گز نہ بھولنا محمود وایاز کا واقعہ ایک اچھا سبق ہے کہ حضرت ایاز رحمۃاللہ علیہ نے اپنے پرانے جوتے اور کپڑے سنبھال کر رکھے تھے روزانہ صبح انکودیکھا کرتے تھے دوسرے وزیر جل رہے تھے انھوں نے بادشاہ سے شکایت کی کہ ایاز نے سونے اور جواہرات کو اگھٹا کر لیا ہے کہیں بھاگ نہ جائے بادشاہ  نے اس بکس کو کھلوایا تو اس میں پُرانے کپڑے اور جوتے تھے ان سے کہا گیا یہ کیا ہے اس نے کہا کہ میں روزانہ ان پُرانے کپڑوں اور جوتوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو مخاطب کرتا ہوں اپنے آپ کو کبھی بھول نہ جانا یہ تمھارے پُرانے کپڑے اور جوتے ہیں

(۷۴) انسان کی پیدائش کے اللہ تعالیٰ نے چار طریقے بتائیں ہیں بغیر باپ اورماں کے پیدا کرنا جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو، بغیر ماں کے پیدا کرنا جیسے حضرت اماں حوا علیھاالسلام، ماں وباپ کے ملاپ سے پیداکرناجیسے تمام انسان پیداہوئے ہیں، بغیر باپ کے پیداکرناجیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

(۷۵)نسبت بڑی چیز ہے نسبت کے بدلنے سے حکم بدل جاتاہے،(۷۶)اولاد کاماں باپ کے لیے نیک ہوناضروری ہے ماں باپ جیسے بھی ہوں اولادکے لیے قابلِ احترام ہیں۔

(۷۷)میری نانی جان جب وصال فرمارہی تھیں تومیں اللہ کے فضل وکرم سے ان کے پائوں مبارک چوم رہاتھااوربڑاسرورآرہاتھا۔

(۷۸)نانی جان کے وصال کے موقع پہ دل میں باربارخیال آرہاتھاکہ اب قیامت کوملیں گے اوراللہ پاک نے فضل وکرم فرمایاتوجنت میں ملاقات ہوگی۔

(۷۹)اللہ کے فضل وکرم سے میں نے اپنے داداودادی اورناناونانی کادیدارکیاہے اورچاروں سے دعائیں بھی لی ہیں اس بات پہ رب کاجتنابھی شکراداکیاجائے کم ہے۔

(۸۰)اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے ان چاروں بزرگوں میں سب سے پہلے داداجان عبداللہ مرحوم نے وصال فرمایابعدمیں دادی جان رب کوپیاری ہوئیں جن کانام زروتھابعدمیں ناناجان کاوصاہواجن کانام خوشحال تھالوگ انہیں شالاکے نام سے پکاراکرتے تھے، ۲۶مئی ۲۰۱۲؁ء، ۱۴جیٹھ ۲۰۶۹؁بکرم گجراتی ۵رجب ۱۴۳۳؁ھ کومسجدسے اذان کی صدابلند ہوئی تونانی جان نے کلمہ کی صدالگائی اوروصال فرماگئیں ان کااسم گرامی بیگم نور تھااللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کی قبروں کونورسے بھردے اورجنت میں گھر دے (آمین)

(۸۱)کبھی ایک جملہ سے دنیابدل جاتی ہے جوانی کے دنوں میں ایک جنازہ پربیان کیاتوداڑھی مبارک کاذکرخیرکیالوگوں کے آنسونکل گئے جنازے کے بعدمحمدیو نس ولدناصرعلی مرحوم ملے اورکہاقاضی صاحب!آج کے بیان سے میری زندگی بدل گئی آج کے بعد داڑھی کونہیں منڈوائوں گااورنمازکی پابندی کروں گابچے اوربچیوں کورب کاقرآن پڑھائوں گاوہ اپنے وعدے میں سچاثابت ہوااوراسی پروگرام اورانتظام میں چمکتے چہرے کے ساتھ وسال فرماگیا،اللہ پاک جنت میں اعلیٰ مقام عطافرمائے(آمین)

(۸۲)حالات کاپتہ نہیں چلتاآج کے دشمن کل کے سجن اورآج کے سجن کل کے دشمن ہوجاتے ہیں۔

(۸۳)بے وقوف انسان رشتہ دار ہوتووہ نقصان کردیتاہے۔

(۸۴)کبھی انسان کسی کے ساتھ نیکی کرتاہے تووہ مہنگی بھی پڑسکتی ہے۔

(۸۵)سچ کی ایک بڑی طاقت ہے وہ دیروسویرکے بعداپنااثرظاہرکردیتی ہے۔

(۸۶)وہ طالب علم بڑامقام پاتاہے جواپنے اساتذہ کاادب واحترام اورخدمت کرتاہے۔

(۸۷)اصل میں اد ب ہی کانام دین ہے، بے ادب بدنصیب ہواکرتاہے۔

(۸۸)تعلیم کااثرادب واحترام ہی کی وجہ سے ظاہر ہوتاہے اوردوسروں پہ اثر بھی ہوتاہے۔

(۸۹)ہماراسلسلہ حدیث ماشاء اللہ بہت عالی ہے، مولانامحمدسرفرازخان صفدررحمۃ اللہ علیہ نے مولاناحسین علی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اجازت لی ہے انہوں نے مولانارشیداحمدگنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے اورمولانامحمدمظہر مہتمم مظاہرالعلوم سہارنپورسے بھی اجازت لی ہے۔

(۹۰)دنیاکی قدیم قوم گوجرہے جس نے اللہ کی زمیں پربڑی بڑی حکومتیں قائم کی تھیں۔

(۹۱)حضرت مولاناعبیداللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے مایہ نازشاگردعلامہ محمدصدیق رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا۔

(۹۲)۱۹۸۴؁ء میں دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث مولانامعراج الحق رحمۃ اللہ تشریف لائے تومشکوٰۃ شریف کی آخری حدیث پڑھنے کااعزازمجھ کوحاصل ہوایہ تقریب تکمیل مشکوٰ ۃ کے موقع پہ ہوئی، مشکوٰ ۃ شریف کاپہلاحصہ مولاناسیدغازی شاہ صاحب فاضل دارالعلوم دیوبند سے پڑھااوردوسراحصہ مولاناعبدالقدوس خان قارن صاحب سے پڑھا۔

(۹۳)دوسال گوجرانوالہ میں رہا،۱۹۸۴؁ء و۱۹۸۵؁ء ماشاء اللہ دونوں سال گوجرانوالہ میں جمعہ کی نمازپڑھانے کے لیے جگہ ملی اورجمعہ پڑھاتارہا۔

(۹۴)نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دوسال کمال کے تھے اساتذہ کی کرم نوازیاں اورروحانی سرورحاصل ہوا،گزراہوازمانہ یادآتاہے توعجیب دل میں ھوک نکلتی ہے۔

(۹۵)قاضی شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ سے ہماری ملاقات ہسپتال میں ہوئی انہوں نے اجازت حدیث سے بھی نوازااوردعائیں بھی دیں اس موقع پہ پردے میں حضرت قاضی صاحب کی اہلیہ محترمہ بھی موجودتھیں۔

(۹۶)جب ہم گوجرانوالہ میں گئے تومولانامحمودالحسن بالاکوٹی رحمۃ اللہ علیہ اورمولانامحمدنوازبلوچ اورعبدالغفوربٹ مولانانورحسین عارف جماعت مبلغین کے نام سے بڑاکام کررہے تھے۔ میں بھی ان حضرات کے ساتھ مختلف پروگراموں میں شریک رہا،ایک بڑادلچسپ لطیفہ یادآیاکہ مولانامحمودالحسن رحمۃ اللہ علیہ جب مانسہرہ جبوڑی آنے لگے تومیں نے عرض کیاکہ حضرت آپ یہاں شیخ الحدیث علامہ اورمناظراسلام ہیں ہزارہ میں آپ کوطالب علم بن کررہناہوگا،حضرت نے فرمایااب فیصلہ کرلیاہے کہ ہزارہ جاناہے چھٹیوں میں حضرت کراچی چلے گئے اورواپسی پرملاقات کے لیے گوجرانوالہ اپنے دوستوں کے ساتھ تشریف لائے تومجھے بھی ملے اورفرمایااوگڑنگی یار! توکہیں بزرگ اورولی ہے جوکہاوہ ہوگیا،بڑے مزے کی بات ہوئی کہ وہاں ایک عورت کے ساتھ بغیر کسی وجہ سے میرے گھر والوں کاتنازعہ ہوگیااس عورت نے عجیب وغریب اتنی بڑی بڑی گالیاں نکالیں مگر میری گھر والی کوکوئی گالی نہ آئی خاموش منظر دیکھتی رہی، حضرت نے دونوں ہاتھوں کوپھیلاکر فرمایااتنی بڑی بڑی گالیاں دیں، اشارہ کاعجیب وغریب منظر تھا،اللہ تعالیٰ کافضل وکرم رہاکہ گوجرانوالہ کے دوسال یادگار رہے بڑے بڑے اکابر کادیدارکیاان کی محافل میں وقت بسر کرنے کاموقع ملا

(۹۷)ایک عجیب  منظر!

  ۲۰۱۲  ۱۰  ۶ بعد نماز مغرب جامع سیدنا اسامہ بن ذیدرضی اللہ عنھما میں عظمت قرآن کا نفرنس تھی مولانا عبدالکریم ندیم رحیم یار خان مہمان خصوصی تھے جب ملا قات ہوئی یہ پہلی ملاقات تھی تو انھوں نے دعائیں دیں اور گردن پر بو سے دیے

ہماری پردادی جنکا اسم گرامی بیبیاں تھا ان کو جنوں نے پہاڑ سے گرا کر شہید کر دیا تھا پھر ہمارے گھر میں عجیب و غریب قسم کی چیزیں جنات لا کر دیا کرتے تھے مگر ہمارے دادا کی ایک بہن نے اس راز کو ظاہر کر دیا تو وہ انعامات وغیرہ کی برسات ختم ہو گئی ہمارے دادا اس وقت پانچ ماہ کے تھے سادات خاندان کی ایک عظیم ماں جن کا اسم گرامی حُسن جان بی بی تھا  میرے دادا نے ان کا دودھ پیا اس طرح ہماری سادات سے رشتہ داری ہے کبھی لطف و سرور کی محافل میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ماشا ء اللہ آدھا سید تو میں آپ بھی ہوں وہ یہی وجہ ہے ہمارے داداجان نے سادات کرام کا دودھ پیا میری سادات سے یہ بھی ایک رشتہ داری ہے جس کے ساتھ دودھ پیا تھا اس کا نا م رحمت شاہ تھا میں عرض کیا کرتا ہوں دو رضاعی بھائی رحمۃاللہ اور عبداللہ۔

(۹۸)ہماری کوشش رہی کہ کسی کا دل نہ دکھے کسی کا دل دُکھانا بری بات ہے

(۹۹) معاشرہ بڑا ظالم ہے یہاں اچھوں کو بھی بُرا سمجھا اور بتایا جاتا ہے

(۱۰۰) والدین اور بزرگوں کی دُعائوں کے سہارے دیکھا جائے تو بڑی امیدیں جاگ اٹھتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم فرمائے گا جب  امی جان یہ لفظ استعمال کرتی ہیں تو دل کوسرور آتا ہے اور آنکھوں میں نور آتا ہے کہ میں دیکھوں اپنی آنکھوں سے کہ جنت کے دروازیں کھلیں اور آپ اندر داخل ہو جائیں آپ نے میرا دل ٹھنڈا کیا اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کا دل ٹھنڈا کرے یہی حقیقت ہے کہ بندہ ماں وباپ اور بزرگوں کی دُعائوں سے عروج پاتا ہے سید نفیس شاہ صاحب رحمۃاللہ علیہ کی نظم کا یہ جملہ کتنا پیارا ہے

 شکر ہے تیرا خدایا

 میں تو اس قابل نہ تھا  

یہ سب بزرگوں کی دُعائوں کا ثمر ہے کہ لکھنا پڑھنا آ گیا میرے بزرگ اور اساتذہ کرام جو اعتماد کرتے رہے اور دُعائوں سے نوازتے رہے میرے پاس تحریر کرنے کے لیئے الفاظ نہیں اور قلم لکھنے کے لیئے بھی ساتھ نہیں دیتا میری کو شش رہی ہے کہ بات باحوالہ کی جائے اور دلائل اور براھین کے ساتھ لہجہ نرم رکھ کر سب کو رب کے دین کی طرف بلایا جائے جو ہو سکے بندہ کر لے باقی معاملہ رب کے حوالے کر دے اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے وہ کرم کرتے ہوئے ہمارے گناہ معاف کر دے گااللہ کے فضل وکرم ہی سے امید لگا رکھی ہے

بڑی امید تو یہی کر رکھی ہے کر اللہ تعالیٰ ایمان پر خاتمہ کر دے جسکا ایمان پر خاتمہ ہو گیا وہ کائنت کا خوش نصیب انسان بن گیا دُعا بھی بندے کے پاس بہت بڑا اور مضبوط ہتھیار ہے۔

یہ مولاناکے اقوال وارشادات تھے جنہیں محنت کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کیاامید ہے کہ ان سے اہل دل فائدہ اٹھاتے ہوئے عمل کی راہ پہ چل پڑیں گے۔ مزید تفصیل کے لیے کی تصنیف کردہ کتب اورمحترمہ فوزیہ چوہدری کی مایہ ناز کتاب ’’میرے ابومیری کائنات ‘‘ملاحظہ فرمائیں، اس کتاب کواکابر علماء اورتمام مکاتب فکر کے حضرات نے پسند کیاہے اوراپنے تاثرات سے اخبارات ورسائل اورمکتوبات میں آگاہ کیاہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close