شخصیات

مولانا ابو الکلام آزاد کی ہمہ گیرشخصیت

عبدالباری شفیق السلفی

 اجمل خا ں صاحب نے مولانا ابوالکلا م آزاد کے بارے میں ان کے مایہ نازخطوط کے مجموعے ’’ غبار خاطر ‘‘کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’ حضرت مولانا کی زندگی مختلف اور متضاد حیثیتوں میں بٹی ہوئی ہے، وہ ایک ہی زندگی اور ایک ہی وقت میں مصنف بھی ہیں، مقرر بھی ہیں، مفکر بھی ہیں، فلسفی بھی ہیں، ادیب بھی ہیں، مدبر بھی ہیں اور ساتھ ہی سیاسی جدوجہد کے میدان کے سپہ سالار بھی ہیں۔

بقول پروفیسر نورالحسن نقوی ’’ آپ کا آبائی وطن دہلی تھا لیکن مولانا ابوالکلام آزاد  ۱۱ ؍نومبر ۱۸۸۸؁ء مطابق ذی الحجہ ۱۳۰۵ ؁ھ کو دنیا کے سب سے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں پیداہوئے۔ آپ کا اصلی نام احمد، تاریخی نام فیروز بخت، لقب ابوالکلام اور قلمی نام آزادتھا۔

آپ کی پیدائش کے دو سال بعد ہی آپ کے والد محترم خیرالدین نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے ہندوستان کے مشہور کلکتہ میں سکونت اختیار کرلی۔ آپ کی والدہ کا نام عالیہ بیگم تھا جو نہایت ہی نیک سیرت اور خدا ترس تھیں۔

علامہ آزاد ایسے تہجد گذاراور تعلیم یافتہ گھر میں آنکھیں کھولتے ہیں جو قرآن و حدیث اور عربی زبان و ادب کا گہوارہ تھا آپ کی تعلیم وتربیت اسی دینی اوراخلاقی گھر میں ہوتاہے آپ مکتب اورقواعد وغیرہ کی تعلیم والد محترم اور کچھ ماہر فن اساتذہ سےوہیں حاصل کرتے ہیں آپ بہت ذہین و فطین اور نیک سیرت انسان اورغیر معمولی صلاحتیوں کے مالک تھے، حافظے کا یہ حال تھا کہ بارہ برس کی عمر میں فارسی کی تعلیم سے فارغ ہو چکے تھے اور عربی کی مبادیات سے واقف ہوگئے تھے، پندرہ برس کے بھی نہ تھے کہ طلباء کا ایک حلقہ ان سے درس لینے لگاتھا۔ آپ کے شوق علم کا یہ حال تھا کہ عربی کی تعلیم فجرکی اذان اور اقامت کے درمیان اپنے استاد سے حاصل کرتے تھے۔

تعلیم و تربیت کے بعد جب آپ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو اس وقت ہندوستان کا ماحول نہا یت ہی گندہ اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہو اتھا انگریزوں کی ظالمانہ و آمرانہ حکومت نے ہندوستانیوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا اور اس ملک میں ہندوستانیوں اور خصوصا مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھا تھا ایسے نازک حالات میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اپنی تقریروں و تحریروں کے ذریعے نوجوانوں کے قلوب و اذہان کو جھنجھوڑا اور ان کے اند ر آزادی کی تحریک پیدا کرنی شروع کی اور اسی آزادی کی تحریک کو لے کر ۱۳جولائی ۱۹۱۲؁ء کو ایک اخبار ’’ الہلال ‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ جس نے ملک میں نہ صرف سیاسی بیداری پیدا کرنے کا ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیا، ان رسالوں میں مولانا کے اداریے اور مضامین ایسے مدلل اور اتنے پرجوش ہوتے تھے کہ انھیں پڑھ کر اہل وطن کے دلوں میں آزادی کا ولولہ اور جدوجہد کا عزم پیدا ہوجاتا تھا تودوسری طرف ایوان حکومت لرز اٹھتا تھا۔ جس نے نہ صرف اردو صحافت میں ایک نئے باب کا اضافہ کررہاتھا بلکہ اس سے مسلمانوں کو قوت ملی، مولانا نے صحافت کے ذریعہ مسلمانوں کویہ باور کرایا کہ تحریک آزادی میں ان کا حصہ لینا ایک دینی فریضہ ہے جس کی وجہ سے انہو ں نے مسلمانوں کو جذبات کو جھنجھوڑا اور اس نے ہندوستانیوں میں تحریکیت کی آگ پھونک دی اور ان دبے ہوئے شعلوں کو چنگاریاں فراہم کرنے لگے جو راکھ کی تہوں میں جمے ہوئے تھے جس سے انگری سیاست کی چولیں ہلتی نظر آئیں اور بالآخر انگریزوں نے آپ کے مقصد کو بھانپ کراس اخبار پر پابندی عائدکردی، لیکن مولانا بہت ہی عزم و حوصلے اور مضبوط دل گردہ کے مالک تھے انہوں نے۱۹۱۴ ؁ء میں ’’البلاغ ‘‘کے نام سے دوسرا اخبار جاری کیا۔ جس نے بھی کافی دھوم مچاتے ہوئے ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت پیدا کردی۔ اور انگریزوں نے آپ کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا اورآپ آزادی کی خاطر کئی بار جیل گئے اورعمر عزیزکا تقریبا دس گیارہ سال جیل کی سلاخوں میں گذارا، جیل سے رہائی کے بعد آپ نےنگریس پارٹی میں شمولیت اختیا ر کرلی اور ۹۲۳ ؁۱ء میں متفقہ طور پر آپ کو کانگریس پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا، بحثیت قومی صدر آپ نے آزادی کی تحریک میں مزید بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے قلم و قرطاس سے ہندوستانیوں اور مسلمانوں کے جذبات کو جھنجھوڑا اورانگریزوں کے شکنجوں سے نکلنے کےلئے مزید جدو جہد شروع کردی جس کا ثمرہ جان و مال کی عظیم قربانیاں پیش کرنے کے بعد ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ ؁ ء ملا۔

ملک عزیز کو آزادی کا پروانہ ملتے ہی ۱۵؍اگست ۱۹۴۷؁ء ہی کو آپ کوملک کا سب سے پہلا وزیر تعلیم بنایا گیا اور تاحیات (تقریبا گیارہ سال )آپ اس منصب جلیلہ پر فائز رہے۔ وزیر تعلیم رہتے ہوئے آپ نے تعلمی میدان میں کارہائے نمایاں خدمات انجام دیں جنگی پیمانے پر نصاب تعلیم اور منہج تعلیم میں تبدیلیاں کیں اور اسکول کی سطح سے لے کر یونیورسٹیزاور جامعات تک کے تعلیمی نظام کو اپنی بصیرت و بصار ت اور حکمت عملی نیز خداد اد صلاحتیوں کے ذریعہ بدل کررکھ دیا اور ایک نیا نظام تعلیم پیش کیا۔ جس سے قوم و ملت کے نونہالوں کو کافی فائدہ پہنچا۔

مولانا آزاد ماہر تعلیم اور مفکراسلام کے ساتھ ساتھ ایک بہتر ین قائد، لیڈر اور سیاستداں بھی تھے آپ برصغیر کے مسلم و غیر مسلم سیاسی رہنمائوں میں اپنا الگ انداز اور منفر د مقام رکھتے ہیں تحریک آزادی میں ان کے افکار وخیالات اور نظریات نیز سیاسی بصیرت نے مسلمانوں کے لئے آزاد ہندوستان میں سر اٹھا کرجینے کا موقع فراہم کیا ان کی وسعت نظری، فراخدلی اور سیکولرازم مولانا آزاد کی شخصیت کا اٹوٹ حصہ تھے، آپ نے ملک کے ہندو مسلمان کو ایک قوم سمجھا، اور سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بارہا کوششیں کیں، اور ہندوپاک کے بٹوارے اور تقسیم کے سخت مخالف بھی تھے ہندو مسلم اتحاد ان دونوں مذہبوں سے بننے والے ایک بہت بڑے ملک کی تعمیر ان کا بہت عظیم خواب تھا جو تقسیم ہندوپاک سے چکنا چور ہوگیا، دونون ملکوں کے تقسم سے ان کو سخت دلی تکلیف ہوئی جس کا تذکرہ وہ اپنی آخری عمر تک کرتے رہے۔

مولانا آزاد بہترین قائد، لیڈر، مفکر اور ماہر تعلیم کے ساتھ بہترین قلم کار، ادیب، انشاءپرداز شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف اور مولف اور فلسفی بھی تھے۔ غبار خاطرمیں جا بجاان کے فلسفیانہ خیالا ت کی جھلک ملتی ہے اور بعض خطوں میں اس کی ہلکی ہلکی لہریں نظر آتی ہیں۔ اس سلسلے کا سب سے اہم خط وہ ہے جس میں فلسفہ، سائنس اور مذہب تینوں کا موازنہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ سائنس کا علم ناقص ہے، فلسفہ شکوک کے دروازے کھول دیتاہے، البتہ مذہب ایک ایسی دیوار ہے کہ انسان کی دکھتی ہوئی پیٹھ اس کا سہارا لے سکتی ہے۔ اسی طرح چڑیا چڑے کی کہانی بظاہر ایک سیدھی سادی کہانی ہے لیکن یہاں فلسفہ خودی اور فلسفہ جہد و عمل پیش کیاگیا ہے۔ وہ حوصلہ مند چڑا جسے مولانا نے ’’قلندر ‘‘ کا خطاب دیاہے جو دراصل ایک رہنماہے اور یہ ثابت کرناہے کہ جب رہنما کے قدم منزل کی طرف اٹھ جاتے ہیں تو قوم کا پورا کارواں اس کے پیچھے چل پڑتاہے۔ اسی طرح ایک خط میں خوشی کا فلسفہ پیش کیا گیاہے، مولانا فرماتے ہیں کہ اصل خوشی جسم کی نہیں دماغ کی خوشی ہے جو قید و بند میں بھی برقرار رہتی ہے کیونکہ ’’قید خانے کی چار دیواری کے اندر بھی سورج ہر روز چمکتاہے اور چاندنی راتوں نے کبھی قیدی اور غیر قیدی میں امتیاز نہیں کیا ‘‘ غرض یہ تو صرف چند مثالیں ہوئیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ غبار خاطر مولانا کے ادب، حکمت اور فلسفیانہ افکار و خیالات کا مجموعہ ہے

اسی طرح آپ کی انشاپردازی کا کمال دیکھنا ہو تو آپ کے رسالے الہلال اور البلاغ اور لسان الصدق کا مطالعہ کیجئے جس نے ہندوستان کی تاریخ میں جو ولولہ انگیز کارنامہ انجام دیا ہے جو تاریخ کے صفحات پر درج ہے۔ مضمون نگار ی کے علاوہ جیل کی سلاخوں میں آپ کے تحریرکئے گئے خطوط کا مجموعہ ’’غبار خاطر ‘‘ ادبی دنیا میں اپنا الگ مقام رکھتاہے۔جو ۱۹۴۲ ؁ءاور ۱۹۴۵ ؁ء کے درمیان زمانہ اسیری میں لکھے گئے اس لئے کہ مولانا کی زندگی کا ایک بڑا حصہ قید و بند کی صعوبتوں میں گزرا۔ اسی زمانہ اسیری میں دل کا غبار نکالنے کے اپنے ایک قدیم اور مخلص دوست مولانا حبیب الرحمن شروانی کے نام خطوط لکھتے رہے جو بعد میں ’’غبار خاطر ‘‘ کے نام سے شائع ہو ا۔جس کے بارے میں نیاز فتح پوری نے مولانا کے نام ایک خط میں درست ہی لکھا تھا ’’ مولانا ! آپ کا اسلوب بیان مجھ سے تو وداع ِجاں چاہتاہے۔ اگر آپ کی زبان میں مجھے کوئی گالیاں بھی دے توہل من مزید کہتارہوں گا ‘‘۔ اسی طرح  ڈاکٹر سنبل نگار اپنی کتاب ’’ اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ ‘‘ میں کہتی ہیں کہ ’’غبار خاطر کی دلکشی کا اصل راز اس کی طرز تحریر میں ہے۔ تخلیقی نثر کا یہ شاہکار صدیوں تک جمال پرستوں کو انبساط و سرور کی دولت عطا کرتااور اس کے عوض ان سے خراج تحسین وصول کرتا رہے گا ‘‘اس کے علاوہ مولانا کی انشاء پردازی، نثری خدمات اور طرز تحریر پڑھ کر کسی نقاد نے کہا تھا ’’کہ اگر قرآن اردو زبان میں نازل ہوتا تو مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریر اس کے لئے منتخب کی جاتی ہے غرض قرآن مجید کی تفسیر ’’ ترجمان القرآن ‘‘ آپ کی علمی بصیرت کی عظیم شاہکارہے۔ ۔۔جس پوری دنیا میں اردو جاننے والے استفادہ کررہے ہیں۔ اسی طرح سے تذکرہ، ام الکتاب، خطبات آزاد، انسانیت موت کے دروازے پر، حیات سرمد، آزاد کے افسانے، مسئلہ خلافت، اصحاب کہف اور یاج ماجوج، تحریک آزادی، اسلام میں آزادی کا تصور، قول فیصل وغیرہ آپ کی علمی، ادبی بصیرت و بصارت اور خداد اد صلاحتیوں کی عظیم شاہکا رہیں۔
مولاناکے انہی نثری ادبی و دینی خدمات اوراوصا ف حمیدہ کی وجہ سے مولانا حسرت موہانی کو اپنے دل کی بات اس شعرکے ذریعے کہنی پڑی کہ ’’  ؎

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر نظم حسرت میں کچھ مزانہ رہا

یہ ہے مختصر مولانا آزادکی مایہ ناز شخصیت، جسےہم نے نہایت ہی عجلت میں لکھا ہے چونکہ مجلہ اپنے آخری مرحلے میں تھا اور پریس میں جانے ہی والا تھا کہ یکایک ذہن میں بات آئی کہ نومبر مولانا کی ماہ پیدائش ہے اسی مناسبت سے مولانا کی زندگی کے کچھ گوشوں پر خامہ فرسائی کی جسارت کی ہے ورنہ اصل تو یہ ہے کہ مولانا کہ زندگی اتنی وسیع اور ادبی دنیاکی نگاہ میں اتنی بلند ہے کہ ان کی شخصیت پر کئے کتابیں اور مقالے لکھے گئے لیکن پھر بھی مدتوں ان کی شخصیت اور کارناموں پر لکھا جاتا رہے گا۔

 رب کے اٹل قانون کہ ’’ کل نفس ذائقۃ الموت ‘‘ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھناہے  کے جام کو نوش کرتےہوئے کئی کتابوں کے مصنف ومولف، ادبی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بہترین قائد اورامت کے عظیم سپہ سالار اور اہل ہند کو غلامی کے شکنجوں سے نکالنے والےمولانا آزاد ۲۲؍فروری ۱۹۵۸ ؁ء کو تقریبا ۶۹ سال کی عمر میں اس دنیا سےرخصت ہوگئے اور آپ کو دہلی ہی میں جامع مسجد کے سامنے سپر د خا ک کیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد ۱۹۹۲ ؁ء کو آپ کو بھارت رتن ایواڈ سے نوازا گیا۔

مزید دکھائیں

عبدالباری شفیق

مضمون نگار ماہنامہ مجلہ ’’النور‘‘ (ممبئی) کے ایڈیٹر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Back to top button
Close