شخصیات

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی: علمی دنیا کا مرد آہن  

الطاف جمیل ندوی

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا شمار دنیا کی بلند پایہ علمی شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ آپ کی ولادت 5 دسمبر 1914ء مطابق 1333ھ کو رائے بریلی بیرون شھر دائرہ حضرت شاہ علم اللہ رح میں ہوئی، آپ کا نام علی، کنیت ابوالحسن ھے۔ آپ کے والد ماجد کا نام سید عبد الحئیتھا، جو اپنے وقت کے زبردست عالم دین تھے۔ آپ کا نسبی تعلق رائے بریلی تکیہ کے مشھور خاندان سید احمد شھید رح سے ھے ۔ وہ بیک وقت مفکر، مدبر، مصلح، قائد، زمانہ شناس، ادیب اور نباضِ وقت، خطیب تھے۔

حضرت مولانا علامہ اقبال کے بڑے شیدائیاور مداح تھے اور ہر مسلمان میں اقبال کا ‘ مرد مومن ‘تلاش کرتے تھے، مو لانا کو اس بات کا بڑا قلق تھا کہ عالم عربی رابندر ناتھ ٹیگور سے توواقف ہے لیکن وہ اتنے بڑے مفکر اور شاعر اسلامی سے ناواقف ہے، چنانچہ مولانا نے عربی میں ‘ روائع اقبال ‘ نامی کتاب لکھی جو اردو میں ‘نقوش اقبال ‘کے نام سے مشہور ہوئی اور اس طرح سے مو لا نا نے علامہ اقبال سے عالم عربی کو روشناس کروایا۔ مو لانا علماء و مشایخ کا تذکرہ بڑے والہانہ انداز میں کرتے اور ان کی دینی غیرت و حمیت اور خدمات کو خوب سراہتے تھے

اللہ تعالیٰ نے انہیں فہم وفراست اور حکمت وبصیرت کے بڑے حصہ سے نوازا تھا۔اس لئے دور حاضر کے تقاضے اور نفسیات کے مطابق وہ دین وشریعت پیش کرنے کا کام اپنے قلم اور زبان سے لیا کرتے تھے، دنیا کے جس گوشے میں جاتے وہاں دل کی گہرائیوں سے اسلام کا پیغام لوگوں کو سناتے،خاص طور سے عالم عرب اور اسلامی ملکوں میں لوگوں کو یاد دلاتے کہ تمہارے گھر سے دیئے گئے پیغام کی بدولت ہندوستان میں ہمارے آباء واجداد اسلام لائے اور آج ہم جب اسلام لانے کی قیمت ادا کررہے ہیں تو تم محوِ خواب ہو۔
انہوں نے ہندوستان کی اسلامی تاریخ سے اپنی تحریر وتقریر کے ذریعہ عربوں کو اس خوبی سے متعارف کرایا کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا یہ کام نہیں کرسکا۔ وہ ہمارے عہد کے واحد ہندوستانی تھے جو عربوں کو ان کی زبان اور ان کے لہجہ میں بغیر کسی مرعوبیت کے مخاطب کرتے تھے اور ایسی فصیح عربی بولتے و لکھتے تھے کہ اہل عرب بھی اس کے سحر میں کھو جاتے۔

اس میں تنقید واحتساب کی دعوت کے ساتھ طاقت و توانائی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھاتے، ان کے دکھ درد میں شریک رہتے، ان کے غم پر آنسو بہاتے اور بارگاہ الٰہی میں دعائیں بھی کرتے عرب قومیت کا گمراہ کن نعرہ ہو یا فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ اس کے خلاف زبان وقلم سے جہاد چھیڑ کر حضرت نے واضح الفاظ میں عربوں کو متنبہ فرمایا کہ’’ اسلامی صلاحیت اور دینی حمیت کا مطلوبہ معیار پورا کئے بغیر وہ قیادت کے مستحق نہیں ہوسکتے، عربوں کو جو بھی عزت نصیب ہوئی وہ اسلام  اور محمد عربی ﷺ کا فیض ہے، یہ مایا اگر عربوں سے چھن جائے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا‘‘ اسی طرح فلسطین کے مسئلہ کو انہوں نے عربوں کا نہیں اپنا مسئلہ سمجھا، اس پر تقاریر کیں اور کتاب لکھی، مسئلہ فلسطین کے اسباب وعوامل بیان کئے اور حل کیلئے راہ دکھائی، بارہا اپنی تحریر وتقریر میں فرمایا کہ عربوں کے اس زوال وپستی کی بنیادی وجہ ان کے یقین کی کمزوری، شک وشبہ کا نفوذ اور احساسِ کمتری ہے۔

کویت اور سعودی عرب کی یہ تقریریں ’’عالم عربی کے المیہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں، جن میں نہایت بے باکی اور دلسوزی کے ساتھ عربوں کی اخلاقی کمزوری، دینی قدروں کی زبوں حالی، فکری انارکی، ابن الوقتی اور جھوٹے معیار کے آگے سپر اندازی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے پاکستان پر اسلامی تہذیب کے تحفظ اور صحیح عقیدہ کی ضرورت واضح کی اور وہاں کے حکمرانوں کو اسلامی حکومت کے آداب و اطوار سمجھائے۔

سمجھائے  مولانا کے مزاج میں درویشی تھی وہ تصوف بمعنی احسان کے قائل تھے وہیں  حضرت مولانا علی میاں  کی شخصیت  دانائی اور دور اندیشی سے مزین  تھی  انکی شخصیت  حق پرستی وجرأت کا بھی اعلیٰ مظہر تھی، انہوں نے حق گوئی سے گریز کرکے تلخ حقائق کے اظہار پر مصلحت اندیشی کا غلاف کبھی نہیں چڑھایا بلکہ باطل کے خلاف کھل کر آواز بلند کی  مسلکی اختلافات کو امت کے رستے ہوئے ناسور سے تعبیر کیا اور اس کے تدارک میں پیش پیش وفکر مند رہے۔حضرت نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے جو خطبے دیئے، ان میں مسلمانان ہند کے لئے جہاں پرسنل لا کو ناگزیر بتایا، وہیں اسے مسلمانوں کی عزت وآبرو کیلئے اہم قرار دیا اور اس کی حفاظت کواسلامی تہذیب وتشخص کے تحفظ سے تعبیر فرمایا :

حضرت کے خطبات وتقاریر مختلف عنوانات کے تحت کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں، جن میں سے ایک اہم مجموعہ ’’پاجا سراغ زندگی‘‘ ہے ان تقریروں میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلباء کو وہ یہ پیام دیتے ہیں کہ ’’شاخِ ملت انہی کے دم سے ہری ہوسکتی ہے‘‘۔ امریکہ کے سفر پر گئے تو وہاں کی یونیورسٹیوں اور مجلسوں میں جو تقاریریں کیں ’’مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں‘‘ اور ’’نئی دنیا‘‘ کے نام سے وہ منظر عام پر آگئی ہیں، ان تقاریروں میں حضرت نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ’’امریکہ میں مشینوں کی بہار تو دیکھی، لیکن آدمیت اور روح کا زوال پایا‘‘۔ وہاں کے مسلمانوں کو تعلق باللہ، اپنے کام میں اخلاص اور انابت کی روح پیدا کرنے پر زور دیا، یہی پیغام وہ ہر جگہ ہر ملک اور ہر شہر میں دیتے رہے،جو نیا نہیں تھا لیکن کچھ ایسے ایمانی ولولے، قلبی درد اور داعیانہ انداز میں اس کا اعادہ کرتے کہ سننے والوں کے قلوب گرما جاتے، اسی طرح یوروپ، برطانیہ، سوئزرلینڈ اور اسپین کی یونیورسٹیوں اور علمی مجلسوں میں تخاطب کے دوران یہ پیام دیا کہ ’’وہاں کے مسلمان مغربی تہذیب و تمدن کے گرویدہ نہ ہوں کیونکہ اس کا ظاہر روشن اور باطن تاریک ہے، مسلمان اس سرزمین پر اسلام کے داعی بن کر رہیں، اسلام کی ابدیت پر مکمل اعتماد رکھیں اور مشرق ومغرب کے درمیان نئی نہر سوئز تعمیر کرنے کے لئے کام کریں۔

حضرت نے ملی مسائل کے حل کے لئےبھی جو بن پڑا اس سے دریغ نہیں کیا ’’دینی تعلیمی کونسل‘‘ ہو، ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ یا ’’پیام انسانیت‘‘ کا پلیٹ فارم سب کا استعمال مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے کیا، بالخصوص ’’پیام انسانیت‘‘ کے ذریعہ جہاں برادران وطن کوایک مہذب انسان اور ذمہ دار شہری بننے، اپنے اندر وسعت نظر اور وسعت قلبی پیدا کرنے کا درس دیا، وہیں مسلمانوں کوتلقین کی کہ وہ ہندوستان کو اپنا ملک سمجھیں، اس کی رنگا رنگ تہذیب کےماننے والوں کے ساتھ شرافت وانسانیت کا سلوک کریں، مل جل کر رہیں، ہندو اور مسلمانوں کو ایک ہی کشتی کا سوار تصور کرکے باہم معاملہ کریں، اس تحریک کا مسلمانوں کو اچھا پھل یہ ملا کہ اکثریت کے حلقوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہوئی اور گرم فضا کو معتدل بنانے میں مدد ملی، حضرت نے ہندوستان کی خوابیدہ ملت کو جگانے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ شہر شہر، قریہ قریہ اپنی تقریروں کے وسیلہ سے یہ بتایا کہ دنیا پر خودغرضی اور بداخلاقی کا مانسون چھایا ہوا ہے، اسے چادروں سے نہیں روکا جاسکتا لیکن انسانیت کا درد محسوس کرکے اور اپنے ملک کو نمونہ کا ملک بناکر اس صورت حال پر ضرو ر قابو پایا جاسکتا  انسانیت کا یہ پیغام زندگی کے آخری مرحلہ تک وہ لوگوں تک پہونچاتے رہے۔حضرت سرگرم سیاست سے دور رہے لیکن وطن کی محبت اس کی بھلائی اور ترقی کی فکر نے انہیں ہمیشہ بے چین رکھا، ’’پیام انسانیت‘‘ تحریک بھی گویا ایک نسخہ کیمیا تھی جس کے ذریعہ وہ قوم اور ملت کو مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا درس دیتے تھے۔ اس کی بنیاد اگرچہ ایک تقریر کے ذریعہ ۱۹۵۴ء میں رکھی گئی لیکن عملی طو ر پر اس تحریک کاآغاز ۱۹۷۴ء سے ہوا اور زندگی کے آخری مرحلہ تک حضرت کا اس سے والہانہ لگاؤ جاری رہا۔ ملت اس تحریک کی معنویت کو سمجھے اور اس کے پیغام پر توجہ دے تو آج بھی تعصب وتنگ نظری کی دیواریں منہدم ہوسکتی ہیں اور بحیثیت انسان مسلمانوں کے لئے دوسروں کا درد وتکلیف سمجھنا آسان ہوجائے گا، اس موضوع پر حضرت مولانا علی میاں نے جو تقریریں فرمائیں ’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘ کہ مصداق نہایت موثر ہیں، ان تقاریر میں ان کے دل کا درد اور فکر کی روشنی جلوہ گر نظر آتی ہے۔

حضرت کا عوام سے خطاب ہو یا طلباء سے گفتگو، اہل علم سے درد دل کہہ رہے ہوں یا حاکم وامراء کو نصیحت فرما رہے ہوں سب کو وعظ ونصائح کے بجائے آئینہ دکھانے پر وہ یقین رکھتے تھے اور سننے والے اس آئینہ میں اپنی صورت وسیرت کی کمزوریوں، اپنے دل ودماغ کی کوتاہیوں کا مشاہدہ کرتے جاتے تھے، اس بالواسطہ ترسیل سے انہون نے وہ کام لیا جو زورِ خطابت اور جوش بیان سے نہیں ہوسکتا تھا، اسی طریقہ نے عوام الناس سے اہل علم تک سب کو متاثر کرکے ان کا گرویدہ بنادیا تھا۔ ان تقریروں کوپڑھنے سے ایک منضبط تحریر کی خوبی نظر آتی ہے، جو دماغ سے زیادہ دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، قرآنی آیات واحادیث کی روشنی میں بزرگوں کی سیرت وسوانح کے حوالہ سے حضرت جوفرماتے وہ سامع کے دل میں اترجاتا اور زبانِ حال سے وہ پکار اٹھتا ؂دیکھنا تقریر کی لذت جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے  مولانا نے بہت کچھ لکھا اور پوری قوت سے لکھا وہ جہاں بے باک خطیب تھے وہیں اللہ تعالی نے ان کے قلم میں وہ قوت و طاقت  دی تھی جسے مولانا جب تھام لیتے تو اس کا حق ادا کردیتے  ان کی کچھ تصانیف علمی دنیا کی شاہکار ہیں خاص کر  رسالہ التوحید، الطریق الی المدینہ المنورہ، العرب والاسلام  القراہ الراشدہ  قصص النبیین  مختارات  سیرت سید احمد شھید رح، پرانے چراغ، النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم، روائع اقبال، حضرت مولانا الیاس رح اور ان کی دینی دعوت، تاریخ دعوت و عزیمت  اسلامی تہذیب  شرق اوسط کی ڈائری، جب ایمان کی باد بہار چلی  ارکان اربعہ  پاجا سراغ زندگی، اسلامیت و مغربیت کی کشمش، دستور حیات اور مسلمانوں کےعروج و زوال کا اثر جیسی شاندار کتابیں آج بھی زندہ و تابندہ ہیں اور قیامت تک ان کا نفع امت و انسانیت کو ان شاءاللہ تعالی پہنچتا رہیگا۔

وفات

31 دسمبر 1999ء مطابق 23 رمضان المبارک 1420ھ بروز جمعہ کو تکیہ شاہ علم اللہ رائے بریلی میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے مالک حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالی آپ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے  آمین

مزید دکھائیں

الطاف جمیل شاہ

سوپور، کشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close