مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ پر اعتراضات کا جائزہ  

7

محمد انس فلاحی سنبھلی

وقفے وقفے سے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ (م۱۹۷۹ء)کی شخصیت اور ان کی کتاب ’’خلافت وملوکیت‘‘پر بحث چھڑجاتی ہے۔ بحث نئی ہوتی ہے نہ دلائل نئے ہوتے،البتہ لوگ ضرورنئے آجاتے ہیں۔ مولانا مودودی ؒ کے افکار ونظریا ت پر نقد وتنقید اس سے قبل بارہا ہو چکی ہے،اس کے لیے باقاعدہ شعبے قائم کیے گئے،کتابیں لکھی گئی گئیں، پمفلیٹ تقسیم کیے گئے۔

علمی نقد جس کی ضرورت تھی، وہ خوب ہوا۔ بہر حال اس کی ضرورت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔علمی نقد کرنے والوں میں ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اپنی کتاب ’’تحریک جماعتِ اسلامی ایک تحقیقی مطالعہ‘‘، مولانا علی میاں ندوی ؒ نے ’’عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح‘‘،مولانا منظور نعمانیؒ نے ’’مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت‘‘،اور مولانا وحید الدین خاں نے’’تعبیر کی غلطی‘‘میں کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تنقیدیں باوزن سمجھی گئیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار کتابیں لکھی گئیں، ہزاروں سے زائد مضامین اب تک لکھے جا چکے ہیں۔ جن کے بارے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان مصنّفین کی کتابیں اور تحریریں اُردو خزانے میں ردّی کا ڈھیر ثابت ہوئی ہیں۔

مولانا مودودی ؒ کے دفاع میں بھی بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سب سے اہم مولانا عامرعثمانی  ؒ کی کتابیں ’’جماعتِ اسلامی کا جائزہ‘‘، ’’تجلیاتِ صحابہ‘‘(خلافت وملوکیت کے اعتراضات کے جواب میں )’’تفہیم القرآن پر اعترضات کی علمی کمزوریاں ‘‘(مرتب سید مطہر نقوی امروہوی)ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا ملک غلام علی ؒ کی کتاب’’خلافت وملوکیت پراعتراضات کا تجزیہ‘‘،مولانا مفتی محمد یوسف کی ’’مولانا مودودیؒ پر اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘ (دو جلدیں )، اور مولاناسید حامد علی ؒ کی کتاب ’’قرآنی اصطلاحات اور علمائے سلف وخلف‘‘۔ یہ کتابیں فکرِ مودودی ؒ کی وضاحت کے لیے علمی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مولانا مودودیؒ کی شخصیت پر بھی بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مولانا  یوسف بھٹہ کی ’’مولانا مودودی ؒ  اپنی اور دوسروں کی نظر میں ‘‘، تذکرہ سید مودودی  ؒ ‘‘ (مرتب :مولاناخلیل احمد حامدی )، ’’ ابوالاعلی مودودی  ؒ علمی و فکری مطالعہ‘‘ (مرتبین رفیع الدین ہاشمی، سلیم منصور خالد،) سیدحمیرہ مودودی کی’’شجرہ ہائے سایہ دار‘‘،ترجمان القرآن کے دو خصوصی شمارے(مطبوعہ:نومبر۲۰۰۳ء، مئی۲۰۰۴ء)اورعلامہ یوسف القرضاوی کی کتاب’’نظرات فی فکر الإمام المودودی  ؒ‘‘ ترجمہ:’’امام مودودیؒ  ایک مصلح،ایک مفکر، ایک مجدد‘‘ (مترجم:ابوالاعلی سید سبحانی) مولانامودودی ؒ کی شخصیت اور کردار کو جاننے اور سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔

علمی وفکر ی کام

مولانا مودودیؒ کی عظمت اور قبولیت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ان کی اکثر کتابوں کے چالیس اور بعض کے پچہتّر زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ بالخصوص’’رسالہ دینیات‘‘،’’خطبات‘‘،’’پردہ‘‘،’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے، جہاں ان کی تحریر وتحریک کے اثرات مرتب نہ ہوئے ہوں۔

کفروالحاد اور مغرب زدہ طبقہ آپ کی کتابوں کے ذریعے ہی اسلام پر نہ صرف گامزن ہوابلکہ اسلام کا علمبردار بن گیا۔ خدا نے ان کی تحریر میں وہ تاثیر رکھی ہے کہ قاری اسلام کو سمجھنے اور ماننے پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ مسلمان ہونا اپنے لیے باعثِ ’’شرف‘‘سمجھے اور  اس کا داعی بن جائے۔

اسلامیات پر مولانا مودودیؒ کے لٹریچر نے قابلِ قدر اضافہ کیا ہے۔ کوئی موضوع ایسا نہیں ہے جس پر مولانامودودیؒ کی تحریریں موجود نہ ہوں۔ وہ چاہے تفسیر،حدیث،فقہ،سماجیات ومعاشیات اور سیاسیات ہی کیوں نہ ہو۔

مولانا مودودیؒ کی’’تفہیمات‘‘ (۵ جلدیں )،’’تنقیحات‘‘،’’استفسارات‘‘(۳جلدیں )’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی‘‘ اور’’اسلامی ریاست‘‘یہ سب اسلام اور اسلامی نظام کی تشریح وتوضیح اور مغربی تہذیب جس کے مسلمان دلدادہ ہو رہے تھے، کا بے لاگ و بے باک تنقید کا نتیجہ ہیں۔

منکرینِ حدیث کے فتنے کے سلسلے میں جہاں دیگر علمائے کرام کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، وہیں مولانا مودودیؒ کی کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اس فتنے کی بیخ کنی کرنے میں مولانا مودودیؒ کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘اور’’رسائل و مسائل‘‘(۵جلدیں ) میں مولانا مودودیؒ نے منکرینِ حدیث کے اعتراضات کے علمی و عقلی جواب دیے ہیں، حدیث وسنت کی قانونی اور شرعی حیثیت کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی قادیانیوں کے خلاف بھی آپ کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ اس فتنے کی سرکوبی کے لیے آپ نے ’’قادیانی مسئلہ‘‘ نامی کتاب لکھی جس کی پاداش میں پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

غرض یہ کہ مولانا مودودیؒ نے اندرون و بیرون سے آنے والے فتنوں کی نہ صرف نشاندہی اور تنقید کی بلکہ ساتھ ہی دنیا کے سامنے اسلام کو قابلِ عمل نظام کے طور پر پیش کیا۔اسلامی نظامِ زندگی،اسلامی قانون اور اسلامی معیشت وتجارت کو دنیا کے سامنے متبادل کے طور پر پیش کیا۔

’’خلافت وملوکیت ‘‘اعتراض کی بڑی وجہ

مولانا مودودی ؒ کی اس تصنیف کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور بنایا جاتا ہے۔ یہ کتاب نصف صدی قبل ۱۹۶۶ء میں منظرِ عام پر آئی۔ اس کے رد میں متعدد کتابیں اور مضامین منظرِ عام پر آئے۔ اس کتاب کی وجہِ تصنیف اور موضوعِ تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے مولانامودودیؒ رقمطراز ہیں :

’’آج جو لوگ بھی علمِ سیاست کے سلسلے میں اسلامی نظریۂ سیاست کا مطالعہ کرتے ہیں، ان کے سامنے ایک طرف تو وہ نظامِ حکومت آتا ہے جو رسول اللہﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں قائم تھا،اور دوسری طرف وہ بادشاہی نظام آتا ہے جو بعد کے ادوار میں ہمارے ہاں چلتا رہا۔ دونوں کے درمیان اصول،مقاصد،طریقِ کار اور روح ومزاج کا نمایاں فرق محسوس کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ان دونوں کی یکساں اطاعت کی ہے،دونوں کے تحت جہاد ہوتا رہا ہے،قاضی احکامِ شریعت نافذکرتے رہے ہیں، اور مذہبی وتمدنی زندگی کے سارے شعبے اپنی ڈگر پر چلتے رہے ہیں۔ اس سے لازماً سیاست کے ہر طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اصل اسلامی نظریۂ سیاست کیا ہے؟ کیا یہ دونوں بیک وقت اور یکساں اسلامی نظام ہیں ؟ یا اسلامی نقطۂ نظر سے ان کے درمیان کوئی فرق ہے؟اور اگر فرق ہے تو ان دونوں کے تحت مسلمانوں نے جو بظاہر ایک سا طرزِ عمل اختیار کیا ہے اس کی کیا توجیہ ہے؟میں سمجھتا کہ دماغوں کو ان سوالات پر سوچنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے،اور ان کا جواب آخر کیوں نہ دیا جائے۔(۱)

یہی فکر اس کتاب کی وجہِ تصنیف بنی۔ یہ کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے۔اس کے ابتدائی ابواب ’’قرآن کی سیاسی تعلیمات‘‘،’’اسلام کے اصولِ حکمرانی‘‘اور’’خلافتِ راشدہ کی خصوصیات‘‘انتہائی اہم ابواب ہیں۔ اس کتاب کے رد میں مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب’’حضرت معاویہ ؓ  اور تاریخی حقائق‘‘لکھی۔مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب میں ا س حصے سے بحث کی ہے جس کا تعلق حضرت معاویہؓ سے ہے۔مفتی تقی عثمانی صاحب کے اعتراضات کا جواب مولانا ملک غلام علی ؒصاحب نے اپنی کتاب ’’خلافت وملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ‘‘میں تفصیل سے دیا ہے۔ لیکن مفتی تقی صاحب نے اصل موضوع پر گفتگو نہیں کی ہے، یعنی خلافت سے ملوکیت کا سفر کیسے شروع ہوا، ان کی کتاب صرف ’’خلافت وملوکیت‘‘ میں منقول مواد کی تصحیح وتضعیف پر مشتمل ہے۔ اس کے رد میں دوسری کتاب مولانا صلاح الدین یوسف صاحب نے ’’خلافت وملوکیت تاریخی وشرعی حیثیت‘‘ لکھی۔ اس میں منقولہ مواد کی تصحیح وتضعیف کے ساتھ کتاب کے اصل مسئلے سے بھی کسی حد تک بحث کی گئی ہے۔

’’خلافت وملوکیت‘‘ لکھے ہوئے نصف صدی سے زائد گزر چکی ہے۔اس پر جو اعتراضات ہوسکتے تھے اس کے جوابات دیے جا چکے ہیں۔ اس میں مولانا مودودی ؒ نے صرف اتنا کام کیا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں اس موضوع سے متعلق جو مواد محفوظ تھا اسے ایک خاص ترتیب سے نقل کر دیا ہے۔ اس سے اختلاف کی پوری گنجائش ہے۔

’’خلافت وملوکیت ‘‘کو پڑھتے وقت اس کے موضوع کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اس حوالے سے مولاناملک غلام علیؒ اپنی کتاب کے دیباچے میں رقمطراز ہیں :

’’مناقب ِصحابہؓ یا مشاجراتِ صحابہ ؓ سرے سے اس کتاب کا اصل موضوع ِبحث ہی نہیں ہے،بلکہ جن مسائل پر اس کتاب میں کلام کیا گیا ہے ان کے سلسلے میں یہ بحث ایک ناگزیز علمی ضرورت کے طور پر آئی ہے، اور جو شخص بھی ان مسائل سے تعرض کرے گا اسے لازماً اس بحث سے سابقہ پیش آئے گا۔‘‘(۲)

اس کتاب کے رد میں لکھی گئی کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ مولانا عامر عثما نی  ؒکی کتاب ’’تجلیاتِ صحابہؓ‘‘اور مولانا ملک غلام علی کی کتاب ’’خلافت وملوکیت پر اعترضات کا تجزیہ‘‘بھی ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مذکورہ دونوں کتابیں ’’خلافت وملوکیت‘‘ کا تتمہ اور تکملہ ہیں۔ یہاں ’’خلافت و ملوکیت‘‘کے تعلق سے مدیرِ ’’تجلّی‘‘ مولاناعامرعثمانی ؒ کی رائے کا تذکرہ بے سود نہیں ہوگا۔مولانا عامرعثمانی  ؒ رقمطراز ہیں :

’’خلافت وملوکیت‘‘  ایک ایسے شخص کی تصنیف ہے جو ایک طرف علم وتفقہ کا پہاڑ ہے، اور دوسری طرف دینِ حق سے اس کی محبت سورج کی طرح عیاں ہے۔لہذا اس کا رد(۳) بکواس کے ذریعے نہیں بلکہ علم وتحقیق ہی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ اس فیصلے پر پہنچ کر ہم نے خود کو امہاتِ کتب کے حضور پہنچا یااور کم وبیش دو ماہ اس طرح گزارے کہ چوبیس گھنٹوں میں فقط چار گھنٹے سوئے، ایک وقت میں ایک روٹی سے زیادہ نہیں کھائی، فرائض وواجبات اور حوائجِ ضروریہ کے علاوہ دنیا کے ہر شغل سے کٹ گئے۔ارادہ ظاہر ہے کہ ’’خلافت وملوکیت‘‘کے خلاف مواد حاصل کرنے ہی کا تھا، لیکن یہ اعتراف کرنے میں ہمیں کوئی جھجک نہیں کہ جوں جوں مطالعہ وسیع ہوتا گیا یہ حقیقت ہمارے سامنے ابھرتے ہوئے سورج کی طرح آتی چلی گئی کہ متعلقہ موضوع پر ہمارے بعض مزعومات کم علمی پر مبنی تھے جن کی وکالت ہم اس خوش فہمی میں کر رہے تھے کہ حق یہی ہے۔ ہم پر کھلتا گیا کہ’’خلافتِ معاویہؓ ویزید‘‘(۴) ایک فریب ہے جو تاریخِ اسلام کے ساتھ کیا گیا ہے، اور ’’خلافت وملوکیت‘‘اس فریب کا ایک ایسا علمی جواب ہے جو محققین سلف کے ذہن کا ترجمان،محدثین وفقہاء کے موقف کا امین، اورقرآن وسنت کی صداقتوں کا سرمایہ دار ہے۔ ہم نے صاف دیکھا کہ ’’خلافت وملوکیت‘‘ کے رد میں لکھی ہوئی تحریروں میں سے بعض انتہائی بد دیانتی پر مبنی ہیں، بعض جہالت وحماقت پر اور بعض غلط فہمی اور مغالطے پر۔ حتی کہ بعض اہلِ علم اور اربابِ تقوی نے بھی دانستہ یا نادانستہ حق وصداقت کا خون کیا ہے اور ’’ردِ مودودی‘‘ کا جذبہ ان کے محاسبۂ آخرت کے احساس پر غالب آگیا ہے۔

’’خلافتِ معاویہ ؓویزید‘‘ کی حمایت ہم نے ازراہ ِجہل کی تھی۔ سچائی وہ نہیں جس کی صورت گری اس کتاب میں کی گئی ہے، بلکہ سچائی وہی ہے جو مولانامودودیؒ ’’خلافت وملوکیت‘‘میں منقح کر رہے ہیں۔ جزئیات کا معاملہ تو الگ ہے کہ دنیا کی کونسی کتاب سوائے قرآن کے سہووخطا اور لغزش وقصور سے بچی ہوئی ہے، مگر بنیاد، سمت، اصول اور حقائق کے لحاظ سے ’’خلافت وملوکیت‘‘ حرفِ آخر ہے۔ اس کی زبان،اس کا لہجہ،اس کا دروبست،اس کا مواد، اس کی آؤٹ لائن اور اس کی معنوی دراست سب نے مل کر بہ حیثیت مجموعی اس کتاب کو ایسا شاہکار بنا دیا ہے جس کی کوئی نظیر ناچیز کے علم ومطالعہ کی حد تک اسلامی لٹریچر میں نہیں ہے۔‘‘(۵)

یہ سطریں آج سے تقریباً نصف صدی قبل لکھی گئی تھیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے دانشور اس سے ناواقف ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر یہاں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مولانا عامر عثمانیؒ کی شخصیت،علم وتفقّہ اور ان کے خانوادے کی خدمات سب پر عیاں ہیں۔ اس حوالے سے ان کی رائے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

 میں نے بیشتر لوگوں کو دیکھا وہ مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’خلافت وملوکیت‘‘ کی آڑ میں ان پر اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں انہوں نے اس کتاب میں صحابہ ؓ کی توہین کی ہے،جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کتاب آپ نے پڑھی ہے؟ پتا چلتا ہے کہ کتاب پڑھنا تو دور، دیکھی بھی نہیں ہے، صرف سنی سنائی باتوں کو ہی کسی شخصیت کو مجروح یا مقبول کرنے کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ یہ کس قدر زیادتی کی بات ہے کہ جس شخص کی تحریروں سے لاکھوں لوگ کے دلوں میں اسلام کی حقانیت وصداقت گھر کر گئی اس پر یہ الزام لگایا جائے کہ وہ صحابہ  ؓ کا گستاخ ہے۔ یہاں مولانا مودودی ؒ  کے اس انٹرویو کا اقتباس پیش کرنا موضوع سے غیر متعلق نہیں ہو گا جو ’’مقامِ صحابہؓ اور قرآن‘‘ کے عنوان سے تجلّی میں شائع ہوا تھا۔توہینِ صحابہ ؓ کے الزام کے سوال پر مولانا مودودی ؒ نہایت خوبصورت جواب دیتے ہیں :

’’تفہیم القرآن موجود ہے۔ اس میں مَیں نے جہاں کہیں فقہی مسائل یا دینی مسائل کے متعلق بحث کی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں نے صحابۂ کرام ؓ کے قول سے استدلال کیا ہے، جہاں کہیں صحابۂ کرام ؓ کا ذکر آیا ہے میں نے بارہا یہ بات لکھی ہے کہ روئے زمین پر کبھی آفتاب نے ایسے انسان نہیں دیکھے تھے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ تھے، جگہ جگہ یہ حقیقت بیان کی ہے کہ تمام نوعِ انسانی کا بہترین گروہ اگر کوئی تھا تو وہ صحابۂ کرام ؓ تھے۔ پھر میں نے بارہا یہ بات لکھی ہے کہ صحابۂ کرام ؓ کا جس چیز پر اجماع ہو وہ دین میں حجت ہے، اس کا رد نہیں کیا جاسکتا، آدمی کے مسلمان (ہونے)کے لیے ضروری ہے کہ ان کے اجماع کو اسی طرح تسلیم کرے جس طرح سنت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ تفہیم القرآن کو دیکھ لیجیے کہ مختلف مسائل میں صحابۂ کرام ؓ  کے اقوال نقل کرتا ہوں اور پھر کسی قول کو اختیار کرکے اس کی تائید میں اپنی رائے بیان کرتا ہوں۔ کیا یہ سارا کام کسی ایسے فرد کا ہوسکتا ہے جو صحابہ ؓ کے معاملے میں منفی ذہنیت رکھتا ہو؟‘‘(۶)

بعض شخصیات کے تعلق سے اللہ کا بڑا کرم یہ رہا کہ ان کے افکار وکتب جہاں دنیا کی رہنمائی اوران کے لیے صدقۂ جاریہ بن رہی ہیں، وہیں ان کے مخالفین کی بغض وعداوت اورتعصب کے تڑکے سے لکھی جانے والی تحریریں بھی ان کے اعمال نامے میں نیکیوں کے اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان شخصیات میں امام ابن تیمیہ ؒ (م۷۲۸ھ)،شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ(م۱۷۹۲ء)اور مولانا مودودی ؒ سر فہرست ہیں۔ ان کے اپنے اور بیگانے،چاہنے اور نفرت کرنے والے دونوں ہی ان کے اعمال نامے میں اپنا اپنا حصہ درج کر ارہے ہیں۔

مولانا مودودیؒ معصوم عن الخطاء نہیں ہیں، تنقید سے بالاتر نہیں ہیں۔ ان پر تنقید کی گئی ہے اور کی جاتی ر ہے گی۔ان کے نظریات پر سب سے زیادہ  تنقید تو خود جماعت کے افراد کی جانب سے کی جاتی رہی ہے۔بالخصوص اب تو جماعت کے حلقے میں جس کو بھی اپنی دانشوری کا لوہا منوانا ہوتا ہے اس کاسفر مولانا مودودیؒ پر تنقید سے ہی شروع ہوتاہے۔

تنقید کرنے سے قبل محلِ تنقید کا علم بھی تو ہونا چاہیے۔تنقید کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ آپ کسی کی کوششوں اور خدمات کو یکسر ناقابل ِقبول قرار دیں۔ تنقید کا مطلب ہرگز یہ بھی نہیں آپ اس کے افکارونظریات کے بجائے اس کی شخصیت کے بکھیے اُدھیڑ دیں۔ تنقید کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ جس پر نقد کر رہے ہیں اس کی تحریر کو سیاق وسباق سے کاٹ کر من چاہا مفہوم دے کر گفتگو کرنے لگیں۔

خدارا! بغض وعداوت اور مسلکی تعصب کی وجہ سے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔ مولانا مودودیؒ پرتنقید کریں اور خوب کریں۔ تنقید علمی اور معروضی مطالعے کی روشنی میں ہو۔ بسااوقات معروضی مطالعے سے نتیجہ امیدوں کے بر عکس نکلتا ہے۔کتنے ہی لوگ ایسے تھے جومولانا مودودیؒ کی کتابوں کو کیڑے نکالنے کے لیے پڑھتے تھے، وہ ان کے دیوانے ہوگئے، وجہ یہ تھی کہ وہ ’’پڑھتے‘‘تھے، اب لو گ’’سنتے‘‘ہیں اور اسے ہی منتقل کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔

حواشی ومراجع

(۱)خلافت وملوکیت،ص۳۰۱، ادارۂ ترجمان القرآن لمیٹڈ لاہور۔

(۲)خلافت وملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ،ص۳۲،اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ۱۹۷۲ء۔

(۳)یہ واضح رہے کہ مولانا عامر عثمانی ؒنے اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کا رد لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن مطالعہ وتحقیق کے بعد انہیں  مولانامودودی ؒ کا موقف مضبوط نظر آیاجس کا انہوں نے برملا اظہار کیا۔

(۴)یہ محمودا حمد عباسی کی کتاب ہے جو ’’خلافت وملوکیت‘‘سے کافی عرصہ پہلے شائع ہوئی تھی۔ جس کی حمایت میں مولانا عامر عثمانی ؒ نے صفحات کے صفحات سیاہ کیے تھے۔جو ان کے کتب خانے سے بھی شائع ہوتی تھی۔کراچی کے سفر اور محمود احمد عباسی سے ملاقات اور اس کی حقیقت جاننے کے بعد فوراً اس کی اشاعت بند کرادی تھی۔

(۵)ماہنامہ تجلّی، ص۲۱،۲۲ خلافت وملوکیت نمبر حصہ دوئم ستمبر،۱۹۷۱ء۔

(۶)ماہنامہ تجلّی، ص ۵۱،دسمبر ۱۹۷۰ء۔

تبصرے