شخصیات

مولانا علی میاں ندویؒ: شخصیت اور فکر کے چار بنیادی عناصر

شاہ اجمل فاروق ندوی

 مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی (۱۹۱۴-۱۹۹۹) کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ۱۹؍ سال ہوگئے ہیں۔ لیکن آج بھی ملت کے ہر درد مند کے سامنے جب بھی مولانا کا نام آتا ہے تو وہ اپنے دل میں ایک ٹیس سی محسوس کرتا ہے۔ ایک نحیف شخص جس کے بیانات پر پارلیمنٹوں میں بحث ہوتی ہو، جس کے فیصلے کے سامنے وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کو اپنے فیصلے منسوخ کرنے پڑجاتے ہوں ، جو کسی رعب میں آئے بغیر عرب حکم رانوں کو اسلام کی عظمتِ رفتہ یاددلا کرللکارتا ہو، جس کی جہد مسلسل سے آکسفورڈ یونی ورسٹی لندن میں اسلامک سینٹر قائم ہوگیا ہو، جس نے ایک طرف عالمی پیمانے پر اسلامی ادب کی تحریک بھی برپا کررکھی ہو اور دوسری طرف ہندستان میں پیامِ انسانیت کی تحریک چلا کر بھائی چارے کی فضا بھی ہم وار کی ہو، جس کی شرکت کو عرب و عجم میں ہونے والی کانفرنسوں کے لیے لازمی تصور کیا جاتا ہو، جس نے عربی و اردو کی تقریباً دو سو مستقل تصانیف بھی تخلیق کی ہوں اور تزکیہ و ارشاد کی عالمی مسند پر بھی فائز ہو اور اس کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں کی ذمے داریاں بھی نبھارہا ہو، لیکن اہل خاندان، رفقاء و اعزہ کے ساتھ اس کے روابط میں بھی کوئی کمی نہ آرہی ہو، تو ایسے شخص کو ’’شخص‘‘ کیوں کہا جائے، ادارہ کہیے، انجمن کہیے، اکیڈمی کہیے۔ یا اگر شخص کہنے ہی پر اصرار ہے تو’’ معجز اتی شخص‘‘ یا ’’تاریخ ساز شخص‘‘ کہیے۔ اس لیے کہ ایک شخص کے لیے اتنے مختلف انداز کے کارنامے انجام دینا ناممکن سا معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر واقعی کوئی شخص اکیلا یہ سب کام کررہا ہے تو اسے محض خدا کا معجزہ ہی سمجھنا چاہیے۔

 یہی وجہ ہے کہ مولانا کی ابتدائی زندگی ہی میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا کے فضل و کمال کا اندازہ لگاکر مولانا کو ’’مجمع الکمالات‘‘ کے لقب سے یاد فرمایا۔ بانی تبلیغ مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے ’’سیدِ عالم‘‘ کہا اور مولانا محمد زکریا کاندھلوی نے ’’مجموعۂ حسنات‘‘ جیسے اعلیٰ خطاب سے نوازا۔ جب کہ مولانا کی وفات کے بعد ائمۂ حرمین شریفین نے ’’عالمِ جلیل‘‘ اور ’’مینارۂ نور‘‘، علامہ یوسف القرضاوی نے ’’شیخ الامت‘‘، ’’علامۂ وقت‘‘ اور ’’امام ربانی‘‘ اور ہندستان میں مولانا محمد سالم قاسمی نے ’’ملتِ اسلامیہ کے گنجِ گراں مایہ‘‘ اور مولانا وحید الدین خان نے ’’Man of the Century ‘‘(یعنی صدی کی شخصیت) جیسے الفاظ کے ذریعہ خراج عقیدت پیش کیا۔

حضرت مولانا علی میاں ندوی کی حیرت انگیز شخصیت اور جامع فکر کا بہ غور مطالعہ کیا جائے تو تعلق مع اللہ، اعتدال و توازن، ماضی سے وابستگی اور حمیت و جرأت مندی، وہ چار عناصر قرار دیے جاسکتے ہیں ، جن کی وجہ سے مولانا کی شخصیت اور فکر میں انتہائی زور،  تہ داری اور وسعت پیدا ہوگئی تھی۔ یہ چار عناصر مولانا کی شخصیت کے اجزاء بھی ہیں اور ان کی جامع فکر کے بنیادی محور بھی۔ مولانا کی فکر کو سمجھنے کے لیے جو شخص بھی سنجیدگی اور غیر جانب داری کے ساتھ ان کی تصانیف کا مطالعہ کرے گا، اس کے سامنے یہی چار عناصر ابھرکر آئیں گے، جن کو وہ فکرِ بوالحسن کی بنیاد قرار دے گا۔

’’تعلق مع اللہ ‘‘کا تصور مولانا کے ہاں عارضی اور محدود نہیں تھا۔ بل کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں رضائے الٰہی کا خیال رکھنے کو ہی تعلق مع اللہ سمجھتے تھے۔ ایک طرف سفر و حضر،علالت و صحت، ہر حال اور ہر صورت میں سنن و نوافل، اور اد و وظائف، اذکار و ادعیہ اور مطالعۂ قرآن و حدیث کی مکمل پابندی تھی تو دوسری طرف معاملات ، آپسی لین دین، ماتحتوں کے حقوق، رشتے داروں کے حقوق، مہمان نوازی کے آداب اور ملاقات کے آداب وغیرہ میں بھی کبھی کوئی فرق نہ آتا تھا۔ غرض یہ کہ مولانا مسجد سے گھر تک اور خانقاہ سے پوری بیرونی دنیا تک ، ہر جگہ اور ہر وقت تعلق مع اللہ میں ذرہ برابر کمی نہ آنے دیتے تھے اور اس تعلق ہی کو اصل الاصول اور تمام بنیادوں کی بنیاد قرار دیتے تھے۔

’’اعتدال و توازن‘‘ مولانا کی زندگی کا ایک انتہائی روشن عنوان ہے۔ مولانا کی زندگی کے اس گوشے کے متعلق ایک مستقل تصنیف وجود میں آسکتی ہے۔ البتہ مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا کی پوری شخصیت اور ان کی دعوت و فکر دونوں ہی چیزیں اعتدال و توازن کا حسین مظہر تھیں۔ حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی طرح مولانا کے ہاں بھی عبادت، ریاضت، تصوف، تصانیف، دعوت اور فکر ہر جگہ ایک اعتدال ملتا ہے۔ کسی بھی مقام پر یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہاں آکر مولانا سے اعتدال کا دامن چھوٹ گیا اور وہ بے اعتدالی کا شکار ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں جہاں بھی اور جس حلقے میں بھی مولانا نے اپنی بات رکھی سب نے اس کواہمیت و قدر کے ساتھ سنا، قبول کیا اور مولانا کو اپنا سمجھا۔ مولانا کے حادثۂ وفات پر معروف اسلامی اسکالر پروفیسر خورشید احمد کا یہ اقتباس اسی اعتدال و توازن کو ظاہر کرتا ہے:

’’میں جب بیسوی صدی کے اسلامی فکر کی قوس قزح پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ان کا فکر و اسلوب ایک ایسا گلدستہ معلوم ہوتا ہے جس میں اس دور کے مفکرین اور داعیوں کے متفرق پہلوئوں کاا جتماع نظر آتا ہے۔ ان کے یہاں علامہ اقبالؒ کا سوز و گداز، مولانا مودودیؒ کی عقلیت اور تصورِ دین کی جامعیت، علامہ شبلیؒ اور مولانا سید سلیمان ندویؒ کا ذوقِ تاریخ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا محمد الیاسؒ ، مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ اور مولانا محمد زکریاؒ کی روحانیت کا امتزاج نظرآتا ہے۔ علی میاں کے ہاں یہ سب ایک دوسرے کے ناقض نہیں ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ناقدینِ علم و فن نے نظرانداز کردیا ہے۔ مولانا علی میاں کا اصل میدان تاریخ اور دعوت ہے، سیرت اور انسان سازی ہے، روح کی بے داری اور امت کی ترقی کے لیے اسلاف کے نمونے کا احیاء ہے۔ ان کے ہاں خانقاہ اور جہاد، تزکیہ و انقلاب دونوں دھارے ساتھ ساتھ رواں نظرآتے ہیں۔ کبھی وہ ایک کو نمایاں کرتے ہیں اور کبھی دوسرے کو۔ ‘‘

’’ماضی سے وابستگی‘‘ کو مولانا اسلامی احیاء کی تمام کوششوں کے لیے ضروری قرار دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسلام کی    نشاۃِ ثانیہ کے لیے ہونے والی ہر کوشش مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔ اسلامی دعوت و تحریک کا کام کرنے والوں کو اپنی شان دار تاریخ اور اسلاف کے عظیم کارناموں اور کوششوں سے روشنی حاصل کرتے ہوئے آگے قدم بڑھانا چاہیے۔ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے انھوں نے ایک طرف پانچ جلدوں میں ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ اور دو جلدوں میں ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ تصنیف کی تو دوسری طرف ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ اور ’’مسلم ممالک میں اسلامیت و مغربیت کی کشمکش‘‘ لکھ کر مسلمانوں کے درمیان اٹھنے والی تحریکوں کا جائزہ پیش کیااور ان کے سامنے صحیح اور جامع لائحۂ عمل پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

’’حمیت و جرأت مندی‘‘ مولانا کی زندگی کا جوہر تھا۔ یہی حمیت اور جرأت مندی‘‘ وہ مسلم حکم رانوں اور پوری امت کے اندر پیدا کرنا چاہتے تھے۔ مسئلہ فلسطین، مسئلہ قومیتِ عربیہ، مسئلہ وندے ماترم، مسلم مطلقہ بل،یکساں سول کوڈ، جمال عبدالناصر صدر مصر، صدام حسین صدر عراق، یاسرعرفات صدر فلسطین کے متعلق دیے گئے بیانات اور مضامین و خطوط اس اہم حقیقت کا مظہر ہیں کہ مولانا کسی بھی صورت میں اسلامی حمیت سے سودا کرنے کو تیار نہ تھے۔ ایمرجنسی کے بعد وزیراعظم ہند اندراگاندھی مولانا سے ملاقات کے لیے ان کے گھر رائے بریلی گئیں تو مولانا کے پاس ان کے پرانے رفیق مولانا ابواللیث ندوی (امیر جماعت اسلامی ہند) بھی موجود تھے۔ مولانا نے بڑے اہتمام سے ان کا تعارف اندرا گاندھی سے کرانا شروع کیا اور یہ بھی فرمایا کہ ’’یہ وہی ابواللیث صاحب ہیں جنھیں ایمرجنسی کے دور میں بڑی صعوبتیں اٹھانی پڑیں اور سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ‘‘ اندراگاندھی کے رعب و دبدبے سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص اس واقعے پر حیرت زدہ ہوگا، لیکن مولانا کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ انھوں نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے صاف کہا تھا کہ ’’اٹل جی!خدا کے ہاں سیاست نہیں چلتی۔ ‘‘ حمیت اور بے باکی ان کی فکر اور شخصیت کا لازمی عنصر تھا۔ یہی وہ چیز تھی جو مولانا کو شاہ فیصل شہید اور جنرل ضیاء الحق کی اسلامی پالیسیوں کا کھلے عام ساتھ دینے پر ابھاررہی تھی اور وہ دونوں بھی مولانا سے مکمل استفادہ کرتے ہوئے پوری رہنمائی حاصل کررہے تھے۔

خلاصۂ کلام کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مولانا کی فکر اور شخصیت کے یہ چار ایسے عناصر ہیں جو ان کی دعوت بھی تھے اور راہِ عمل بھی۔ یعنی وہ انھی کی دعوت بھی دیتے تھے اور خود بھی ان پر عمل پیرا رہتے تھے۔ ویسے تو فکرِ بوالحسن کے ان چار عناصر کی تشریح کے لیے مستقل تصنیف درکار ہے البتہ یہاں ان عناصرِ اربعہ کا نہایت سرسری جائزہ پیش کیا گیاہے۔ مولانا علیہ الرحمۃ کے یومِ وفات پر مولانا کی زندگی اور فکر کے ان چار عناصر پر غور کرنے اور عزم عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہر خراجِ عقیدت بے کار اور ہر طرح کا اظہارِ محبت کھوکھلا ہوگا۔

مزید دکھائیں

شاہ اجمل فاروق ندوی

انچارج اردو سیکشن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی، چیف ایڈیٹر ماہنامہ المؤمنات، لکھنؤ و ایڈیٹر ماہنامہ تسنیم، نئی دہلی

ایک تبصرہ

  1. آ ں موصوف نے اپنی کتاب ارکان اربعہ ( سلسلہ مطبوعات 23 )
    طابع وناشر مجلس تحقیقات ونشریات اسلام پوسٹ بکس نمبر 119 لکھنؤ
    کے صفحہ نمبر 62 پر صلاۃ غوثیہ کے بارے میں یوں رقم طراز ھیں کہ یہ نماز بغداد کیطرف منہ کر کے خاص ھیئت اور طریقے کے ساتھ پڑھی جاتی ھے
    میری ان تمام ذریت سے استدعا ھے کہ براہ کرم اپنے جن آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے آپ نے یہ تہمت گڑھی ھے اس کا حوالہ کسی مستند کتاب زےپیش کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close