شخصیات

مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ

‘درد’ سرمایہ تھا ، ‘اخلاص’ تھا دولت جن کی

مولانا عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

حیاتِ مستعار کے یہ چند لمحے رب ذوالجلال کی بہت بڑی نعمت ہیں۔  جو لوگ اس نعمت کو اللہ رب العزت کی امانت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ ہر عیش سے منہ موڑ کر، ہر صعوبت برداشت کرتےہوئےتادم آخر مقاصد حسنہ کے لیے تن من دھن کی بازی لگادیتےہیں او رتاریخ کے پنوں میں شہیدوں کی طرح سرخروہوجاتےہیں۔ رہبر ملت مولانا اسرارالحق قاسمی بھی ایسے ہی منفرد انسانوں میں سےایک تھے؛جو  قحطِ اقدار و انہدام ِروایات کےاس دور میں  انسانیت کےسچےعلم بردار اور قوم وملت کےرہبربےمثال تھے، آپ احیائے دین ہی کے لیے زندہ رہے، اسمی اور رسمی مسلمانوں کو سچا اور کھرا مسلمان بنانے کے لیے دن رات جدوجہد کرتے رہے، ساتھ ہی سنت اللہ کے مطابق اس راہ  کی مصیبتیں و مشقتیں جھیلتے رہے بالآخراسی مقدس جدوجہد میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ آپ کیا گئے کہ دین و سیاست کے دونوں میدان سونے پڑگئے، اور ہم زبان حال وقال سے یہ کہنے پر مجبور ہوگئے؎

ہوائیں بے قرار ہیں، فضائیں سوگوار ہیں

ہر  آنکھ اشکبار ہے، ہر ایک دل اداس ہے

مولانا سرزمین بہار کی ان گراں قدر شخصیتوں میں سے ایک تھے؛جن کے تصور سے اس ظلمت بھرے دور میں دل کو ڈھارس اور قلب کو تقویت ملتی تھی اور جن کے خیال سے اپنے عہد کے افلاس کا احساس کم ہوتا تھا، آج ہم اس دلآویز ودلنواز شخصیت اور اس کی برکتوں سےہمیشہ کےلیے محروم ہوگئے۔ میرے پیش نظر ان کی کتابِ زیست کے اَن گنت اوراق کھلے ہیں اور میں اس کشمکش میں ہوں کہ ان کی درخشاں زندگی کے کس پہلو کو نمایاں کروں؟کس گوشے پرروشنی ڈالوں؟کس عنوان پرخامہ فرسائی کروں ؟سچ تو یہ ہے کہ الفاظ کا ذخیرہ اور قلم کا سہارا زیادہ دیر اور بہت دور تک جذبات کا ساتھ نہیں دیتا وگرنہ صرف درویش صفت کہنا، فقیر منش کا عنوان دینا، سادگی کا پیکرجمیل بتلانا، بہترین مدرس، عظیم مفکر، کامیاب مقرراور بے مثال رہبر کا خطاب دینا کم از کم میری نظر میں مولانا کی عظیم و جامع کمالات شخصیت کے ساتھ ناانصافی کے مرادف ہے، حق تو یہ ہے کہ وہ ان تمام  صفات کےساتھ ساتھ ایک روشن ضمیر انسان تھے، ہمدرد ملک وملت تھے، بلاتفریق مذہب ومسلک اعلی انسانی اقدار کو  فروغ دینےوالےتھے۔ آپ کی ہمہ جہت، متحرک و فعال شخصیت نے دین وملت کے حوالے سے جو یادگار خدمات انجام دی ہیں اس کا سرسری اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ آپ جہاں آل انڈیا ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن کےبانی وچیرمین اور آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدرتھے، وہیں مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن رکین اورام المدارس دارالعلوم دیوبند کے رکن شوری بھی تھے، آپ نصف صدی تک ملت اسلامیہ کی بے لوث خدمت کرنے والے جاں باز لیڈر، ایوان پارلیمنٹ میں اسلامیان ہند کی نمائندگی کرنے والےجرئت مند سیاست داں، زبان وقلم کے ذریعہ مسلسل تبلیغ و تذکیر کا فریضہ انجام دینے والے شیریں بیاں خطیب وبے باک صحافی، مختلف دینی، ملی اور سماجی تحریکوں کے روح رواں اور میر کارواں نیز ملّت اسلامیہ اور فلاح انسانی کےسب سے بڑے نقیب اور خدمت خلق کے عظیم الشان مشن  کو لےکر آگے چلنےوالےغیرت مندقائدتھے۔ 7؍ڈسمبر 2018ء کی تاریخ کیلنڈر کی بہت سی تاریخوں میں سے ایک تاریخ ہی نہیں تھی؛ بلکہ صدق وصفا اور عہدو وفا کی تکمیل کا بھی دن تھا، ان کا وجود کیا گیا، ایک دور چلا گیا، ایک تاریخ رخصت ہوگئی، ایک عہد گزر گیا، ایک تحریک اجڑ گئی، ایک ہنگامہ اوجھل ہوگیا۔ ۔ ۔ اب فضا ساکن، ہوا ساکت، صبا دم بخود اور انسانیت اداس ہے۔ کہنے والوں نے سچ کہا کہ عظیم انسان ہر روز پیدا نہیں ہوا کرتے، سینۂ گیتی ان کو روز بروز جنم نہیں دیتی، ایسے انسانوں کے لیے تاریخ کو مدتوں انتظارکرنا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر ایک حقیقی انسان وجود میں آتا ہے جو عظمت کے معیار پر پورا نہیں اترتا؛ بلکہ اس کو دیکھ  کرعظمت  کا معیا رقائم کیا جاتا ہے۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

شخصی کوائف:

آپ کی ولادت 15؍ فروری 1942ءکو تاراباری، کشن گنج، بہارمیں، جناب منشی عمید اور محترمہ آمنہ خاتون کے گھر ہوئی۔ علاقائی مدارس میں ابتدائی تعلیم کےحصول کے بعد، برصغیر کی سب سے عظیم درس گاہ دار العلوم، دیوبند میں داخل ہوئے اوروقت کےاساطین علم و فضل سے استفادہ فرمایا، آپ کے اساتذہ میں فخرالمحدثین مولانا فخرالدین صاحبؒ، مولانا فخرالحسن صاحبؒ، مولانا شریف الحسن صاحبؒ، قاری محمد طیب صاحبؒ اور مولانا انظر شاہ کشمیریؒ جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔ 1964 میں آپ نے دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کی۔ 16 مئی 1965 کورشتۂ ازدواج میں منسلک  ہوئے، فراغت کے بعد، آپؒ نے خدمت کے لیے تدریسی میدان کا انتخاب کیا۔ اوّلا آپؒ نے  “مدرسہ رحیمہ، مدھے پورہ” میں تدریسی خدمات انجام دی۔ پھر سن 1968 میں “مدرسہ بدر الاسلام، بیگو سرائے” سے وابستہ ہوگئے۔ آپؒ نے اس ادارہ میں 1973 تک خدمات انجام دیں پھر سبک دوش ہوکر ملی مفادات کےلیے فکرمندہوگئے۔

ظاہری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ احوال باطن سے کبھی بےخبر نہ رہے؛بل کہ تزکیہ واصلاح کے سلسلہ میں اوّلا مفتی مظفر حسین صاحبؒ، سابق ناظم مظاہرعلوم (قدیم) سے ربط قائم کیااور مفتی صاحبؒ نے آپؒ کو خلافت سے نوازا۔ پھر ان کی وفات کے بعد، شیخ طریقت حضرت مولانا قمر الزماں الہ آبادی (حفظہ اللہ) سے منسلک ہوگئےاورشیخ الہ آبادی نے بھی آپؒ کو اجازت  سےسرفرازفرمایا۔

آپؒ کی اہلیہ محترمہ 9؍جولائی 2012 کوانتقال کرگئیں۔ آپؒ کےپسماندگان میں تین لڑکے: جناب سہیل اسرار، مولانا سعود اسرار ندوی ازہری اور جناب فہد اسرار صاحبان اور دو لڑکیاں شامل ہیں۔

بے لوث خدمات:

تکمیل علم کے بعدچند سال مسند تدریس پر جلوہ گر رہ کر 1974ء میں جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ ہوئےاور سب سے پہلےسرگرم ومتحرک رکن کی حیثیت سے پھرسکریٹری اور جنرل سکریٹری کی حیثیت سے پورے ملک میں دینی وملی خدمات انجام دیں، بعض اسباب و وجوہات کے سبب جمعیۃ سے علیحدگی اختیار کرلی اور حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒکے ساتھ مل کر آل انڈیا ملی کا ؤنسل کی بنیاد رکھی اور ملک بھر میں ملی اتحاد کی زبردست تحریک چلائی، 5؍مئی2000ءمیں آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا اورسیمانچل کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی وسماجی ترقی کے لئےہرممکن اقدامات کیے، اسی کے تحت بعض ادارےاور کئی  ایک مکاتب بھی قائم فرمائے، آپ اسی کے ذریعہ انجینئرنگ کالج قائم کرنے کے لئےبھی کوشاں تھے۔ اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کشن گنج میں قائم کرنے میں آپ کی کوششیں بہت نمایاں تھیں۔ حسن گنج کٹیہار میں 2006 میں تعلیمی بیداری کانفرنس کےموقع پر آپ نے پورے سیمانچل کو اختیار دیا تھا کہ ہر گاؤں میں ایک ایک مکتب کھولا جائے، جس کے اخراجات وہ خود برداشت کریں گے اس کے لئے انہوں نے تقریباً 150معلم کا انتخاب بھی کیا تھا۔

آپؒ نے خاص کر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ٹپو، کشن گنج میں“ملی گرلز اسکول”بھی قائم کیا۔ اس ادارے میں سیکڑوں لڑکیاں، اسلامی ماحول میں عمدہ تعلیم وتربیت حاصل کر رہی ہیں۔ اسکول میں دار الاقامہ کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی عصری تعلیمی سہولیات بھی دستیاب ہیں، یہ اسکول اس علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے۔

2009ء میں کشن گنج سے کانگریس کے ایم پی منتخب ہوئے اور پھر 2014ء میں بھی جبکہ بھاجپا کا طوطی بول رہا تھا، کامیابی کا پرچم بلند کیا۔ ایم پی فنڈ سے آپ نے ہزاروں گھر روشن کیے، پسماندہ علاقوں میں تعلیم کا بندوبست کیااور غریب پروری میں ساری عمرگزاردی، ملک کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی فرد ملت کے کسی معمولی سے کام کے لیے بھی مدعو کرتا تو آپ ضرور حاضری دیتےاورذاتی آرام و آسائش پر جسمانی تکالیف کو اہمیت دیتے تھے۔ ان سب کا مقصد یہی  ہوتاتھا کہ آپ  کی ذات سے کسی کا کچھ بھلا ہوجائے’’خیر الناس من ینفع الناس‘‘۔

محترم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی زیدمجدہم کی تحریرکے مطابق مولانا اسرارالحقؒ نےدعوت دین اور تبلیغ اسلام کے لیےمتعددممالک کے اسفار کیے؛جن میں بحرین، بوٹ سوانہ، عراق، سعودی عرب، ملاوی، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، ویسٹ انڈیز اور زامبیا وغیرہ کے اسفار قابل ذکر ہیں، آپ ۳۱؍ اگست ۲۰۰۹ء کو داخلی معاملات سے متعلق کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے، یکم ستمبر ۲۰۱۴ء کو انڈسٹری اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر بنائے گیے  نیز فروغ انسانی وسائل، اقلیتی معاملات سے متعلق کمیٹی جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور علی گڈھ مسلم یونیورسیٹی علی گڈھ کورٹ کے ممبر بھی رہے۔

مولانا کی خدمت کا ایک بڑا میدان تصنیف وتالیف اور سلگتے مسائل پر مضامین ومقالات کی اشاعت بھی تھی، ان کی کتابیں :انسانی اقدار، اسلام اور سوسائٹی(انگریزی)، مسلم پرسنل لا اور ہندوستان، اسلام اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں، معاشرہ اور اسلام، دین فطرت ہندوستانی مسلمان اور ان کی ذمہ داریاں، عورت اور مسلم معاشرہ، خطبات لسسٹر، حقیقت نماز، دعا عبادت بھی حل مشکلات بھی، وغیرہ اپنے اندر غیرمعمولی تاثیر رکھتی ہیں ان کے علاوہ  ہزاروں مضامین ومقالات اخبارات میں منتشر ہیں جن کو جمع کیا جائے تو متعددجلدوں میں کئی ایک ضخیم کتابیں تیارہوسکتی ہیں۔

سال گذشتہ جب سیمانچل کے 70 لاکھ لوگ سیلاب کی زد میں تھے، لاکھوں افراد گھر سے بے گھر ہوچکے تھے، رہنے اور سونے کے لئے جگہ تک میسر نہیں تھی، بہار کی طرف جانے اور آنے والی بہت سی ٹرینیں منسوخ کر دی گئی تھیں، ریلوےاور ٹرانسپوٹ کا پورانظام بری طرح متاثر تھا، اس کے باوجود محض انسانی ہمدردی اور غمخواری کے ناطےمولانا اسرارالحق ؒ نے پیرانہ سالی اور امراض و عوارض  کی  پرواہ کیے بغیر کٹھن راستوں سے گزرتے ہوئےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور بلاتفریق امداد رسانی کے ذریعہ ایک تاریخ رقم فرمائی۔

غرض آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، آپ کے ہم وطن اہل قلم حضرات پر یہ قرض ہے کہ وہ مولانا کی ہمہ گیر خدمات کو اجاگر کریں اور ہمہ جہت شخصیت پر بالتفصیل روشنی ڈالیں۔

قابل تقلید اوصاف:

حضرت مولانا کی ذات والا صفات یادگار سلف تھی، علم و فضل اور طہارت وتقوی کے اوج کمال پر فائز ہو نے کے باوجود آپ سادگی اور تواضع و انکساری کا ایسا پیکر مجسم تھے کہ عجب وریا کے اس دور میں ان کی نظیر ملنی مشکل ہے، ان کا پر نور چہرہ دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا ان کی صحبت میں رہ کر قلب میں گداز اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی تھی اور محسوس ہوتاتھا کہ ہم سلف صالحین کے کسی بزرگ سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ ان کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے لباس، کھانے پینے، رہن سہن اور سفر و حضر میں سادگی کا ایک مکمل نمونہ تھے۔ ایسا ہر گز نہیں کہ تکلفات اور تعیش کے لئے ان کے پاس وسائل نہیں تھے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے سادگی کا رویہ اپنا کر دراصل تکلف پرست اور عیش زدہ معاشرے کو سادگی کا ایک عملی نمونہ دینے کی کوشش کی تھی۔

ہم ایسی کئی رفاہی و فلاحی تنظیموں کے سربراہوں کو جانتے ہیں جو غریبوں کی خدمت کے لئے دن رات کام کا دعویٰ کرتے ہیں، لوگوں کو تعاون دینے پر آمادہ کرتے ہیں اور مختلف حیلے بہانوں سے چندے کی رقم بٹور کرعالی شان گھروں میں رہائش اختیار کرنے، اچھا لباس پہننے، معیاری کھاناکھانے اور قیمتی  گاڑیوں میں سفر کرنے کوترجیح دیتے ہیں؛لیکن حضرت مولانا پر اس طرح کا کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا، ان کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ انہوں نے ساری عمر دیہات کے ایک حصہ میں گزار دی، لوگوں نے انہیں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر، مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے بھی دیکھا۔  یہ ان کی سادگی اور خلوص ہی تھا جس نے انہیں لوگوں میں مقبول بنادیا تھا، ان کی ایک آواز پر لوگ اپنی جان نچھاور کردینے کو تیار ہوجایاکرتےتھے۔ گویا وہ نظری نہیں، عملی اسلام کے پیکر تھے۔

مولانا کی آخری زیارت و نصیحت :

حضرت مولانا کی چشم کشا اور روح افزا تحریروں سے استفادہ کا سلسلہ تو کافی دراز ہے، البتہ راقم الحروف کے حصہ میں بارہا یہ سعادت بھی آئی کہ مولانا کو دیکھے، سنے اور ملاقات و مصافحہ کرے، آخری مرتبہ مولانا کو دیکھنے اور سننے کا موقع اس وقت ملا جب وہ چند ماہ قبل مادرعلمی ادارہ اشرف العلوم خواجہ باغ حیدرآباد تشریف لائے، مولانا کا اخیر زمانے میں تقریباً یہ معمول بن چکا تھا کہ جب کبھی حیدرآباد آتے تو حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب مدظلہ(ناظم ادارہ اشرف العلوم)سے تعلق خاطر کی بناء پر کچھ دیر کے لیے سہی ادارہ میں بھی قدم رنجہ فرماتے اور موقع ہوتا تو طلبہ واساتذہ کونصیحتوں سے نوازتے۔

اس مرتبہ جب نصیحت کےلیے گزارش کی گئ تو ادارہ کی وسیع و خوب صورت مسجد میں طلبہ و اساتذہ سے نہایت جامع اور مؤثر خطاب فرمایا، مکمل خطاب تو من و عن یاد نہیں؛ تاہم وراثت نبوت کی اہمیت اور علم وعلماء کی فضیلت بیان کرتے ہوئےجونکتہ بیان فرمایاتھا وہ اب بھی یاد ہے، فرمایاکہ "اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کی متعدد صفات قرآن میں بیان فرمائی ہیں رؤوف، رحیم، داعی، بشیر، نذیر وغیرہ ان میں ایک اہم صفت”سراج منیر”بھی ہے، غور کرنے کا مقام ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو شمع فروزاں کہا یعنی روشن چراغ سے تشبیہ دی، اس لیے کہ چراغ سے چراغ جلتے ہیں، روشنی پھیلتی ہےاور ظلمتیں کافور ہو جاتی ہیں، چاند سے چاند نہیں جلتا، ستاروں سے ستارے نہیں چمکتے۔

ٹھیک اسی طرح ہمیں بھی وارث نبی بن کر دنیا کے اندھیروں میں اجالوں کو فروغ دینے اور تاریکیوں کو ختم کرکے روشنی کو پھیلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، اگر ہم یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاتے ہیں تو ہم دارین میں کامیاب و بامرام ہیں ورنہ دونوں جگہ ذلت و رسوائی ہمارا مقدر ہوگی۔

کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے

جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلادیا

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close