شخصیات

مولانا محمد علیؒ

قید فرنگ ’’جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘

(1921-22ء)

تحریر: عبدالماجد دریا آبادی      ترتیب: عبدالعزیز

            (اب یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ آزادی ہند کی جنگ میں کامیابی ہو اس کیلئے گاندھی جی خلافت تحریک کی پرزور حمایت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ جلسوں میں کہتے تھے کہ اگر آزادی کی جنگ میں ہم لوگ کامیاب ہوئے تو ہندستان میں حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ جیسی حکومت قائم کریں گے‘‘۔ گاندھی جی کی اس بات پر ڈاکٹر امبیڈکر اور دیگر آزادی کے مجاہدین حیرت کرتے تھے۔ ع-ع)۔

            کراچی کی عدالتوں میں پہلے مجسٹریٹ کے اور پھر صوبہ کی سب سے اونچی عدالت جوڈیشل کمشنر کے سامنے محمد علی نے جو جو بیانات دیئے اور جیسے جیسے قانونی نکتے اور ادبی لطیفے دورانَ مقدمہ میں پیدا کئے، ان کی تفصیلات کو اس ’’ذاتی ڈائری‘‘ کے محدود موضوع اور گنجائش سے کیا تعلق؟ مختصر یہ کہ لفظ لفظ جوش ایمانی اور غیرت دینی کا ترجمان تھا۔ انگریزی اخبارات کے لمبے لمبے کالم مقدمہ کی کارروائیوں اور ’’سنسنی خیز‘‘ سرخیوں سے بھرے رہتے اور ادھر ہر روز تازہ اخبار کا انتظار بے چینی کے ساتھ رہا کرتا۔ صبح ہوئی نہیں اور اخبار کا انتظار شروع ہوا اور جب اخبار ہاتھ میں آکر کچھ دیر میں ختم ہوجاتا، دل اسی وقت سے دوسرے دن کے اخبار میں اٹک جاتا! دو دو برس کی سزا سب ملزموں کے ساتھ محمد علی کو بھی! محمد علی بہت گھوم پھر چکے تھے، مارے مارے پھرتے بہت دن ہوچکے تھے، اب مشیت تکوینی کے حاکم کا حکم نافذ ہوا کہ مدت دراز کیلئے ایک جگہ جم کر بیٹھیں ! ان ہی کی زبان میں ؎

دیکھئے اب یہ گردشِ تقدیر … کہیں آنے کے ہیں نہ جانے کے

            ملک کا ایک معروف ترین لیڈر، چوروں اور نقب زنوں، ڈاکوؤں اور خونیوں کے ساتھ قفس میں بند! اور جس کے ملنے والوں میں ابھی کل تک گورنرو اور لیفٹنٹ گورنر، راجے مہاراجے، ایگزیکٹیو کونسلر اور خود وائس رائے بہادر تھے، آج اس کی عزت جیل کے ادنیٰ پہرہ داروں اور برق اندازوں کے رحم و کرم پر تھی! کوچ اور صوفے اور گدے اور قالین کی جگہ زمین کا کھرّا فرش اور غذا وہ مل رہی تھی، جو کبھی اس کے چاکروں اور خدمت گاروں نے بھی کیوں کھائی ہوگی۔

            اور یہ سب کچھ دعویٰ اسلام کے جرم میں ! محبت اسلام کے پاداش میں ! فرد جرم جو لگی تھی، اس میں آزادی ہند، سوراج وغیرہ کا کہیں نام نہ تھا۔ الزام یہ تھا کہ جو احکام قرآنی اور احادیث رسول، قتل مسلم کی وعید میں ہیں ان کے مسلمان سپاہیوں تک پہنچانے کی کوشش کیوں کی تھی۔ تاریخ ہلکے پیمانہ پر سوا تیرہ سو برس کے بعد اپنا اعادہ کر رہی تھی اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍ اِلَّا اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہ (الحج 6) اور وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّا اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ (البروج 8) اور اسی قسم کی دوسری آیتوں کی تفسیر کا مشاہدہ، لفظ و عبارت کے وساطت کے بغیر ہورہا تھا۔

            ادھر محمد علی جیل گئے اور ادھر بچہ بچہ کی زبان پر   ؎

کہہ رہے ہیں کراچی کے قیدی … ہم تو جاتے ہیں دو دو برس کو

            کا ترانہ آگیا۔ جس پر اپنے بیوی بچوں، عزیزوں، دوستوں سے دو چار دن کی بھی جدائی شاق تھی، اسے حکم 24 مہینوں تک، سب سے الگ، قید فرنگ میں بند رہنے کا ملا۔ اللہ اللہ! کیا شانِ بے نیازی ہے! اپنے عاشقوں کے امتحان کیسے کیسے کرائے جاتے ہیں۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَہُمْ لَایُفْتَنُوْنَ۔

            ستمبر 1921ء سے ستمبر 1923ء تک گرفتاری کے وقت سے رہائی کی گھڑی تک اس مظلوم پر کیا کیا گزری، اس کی تفصیل کا نہ یہ موقع نہ یہ بیان یہاں مقصود۔ مختصر یہ کہ حوالات کی مادی سختیوں اور جیل کے جسمانی شدائد کے علاوہ، سرکاری و نیم سرکاری ایجنسیوں نے بھی کوئی دقیقہ روحانی اور دماغی تکلیف کا اس مظلوم کو پہنچانے کا اٹھا نہیں رکھا۔ اس وقت کے پانیئر، اس زمانہ کے اسٹیٹس مین، اس دور کے لیڈر کی فائلیں آج بھی کہیں سے ان کی گرد جھاڑ پونچھ کر اٹھا دیکھئے۔ ایک ایک صفحہ سب و شتم سے رنگین ملے گا۔ انگریزوں اور غیر کانگریس ہندوؤں کے علاوہ، خود مسلمان اخبار چی اور کالم نویس خدا جانے کتنے ایسے نکل پڑے تھے، جن کی کہنا چاہئے کہ روزی ہی کھل گئی تھی۔ صبح ہو یا شام، جب دیکھئے محمد علی کے حق میں کوئی نہ کوئی الزام تصنیف کر رہے ہیں۔ گویا ہر افتراء جائز اور ہر اتہام درست ٹھہر گیا ہے۔ شیر لوہے کی سلاخوں کے اندر بند تھا اور بازار کے اوباش چھوکرے، دور سے لمبی لمبی لکڑیوں سے اسے کونچ کونچ کر اپنے ظرف کا ثبوت دے رہے تھے۔

            مشیت کے بھی عجائب کاروبار ہیں۔ ایک طرف یہ معاملات جاری تھے اور اسلام کے دیوانہ سے ان کے ذنوب و معاصی گویا رگڑ رگڑ کر دھلائے جارہے تھے، تو دوسری طرف : ’’جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کرتے رہے، عنقریب خدائے رحمن ان کیلئے (دلوں میں ) محبت پیدا کر دے گا‘‘ (مریم: 96) کی مستور نہیں رہ سکتی تھیں۔ کراچی کے قیدی کچھ روز بعد سب الگ الگ کر دیئے گئے۔ شوکت علی راج کوٹ بھیجے گئے، محمد علی کے حصہ میں بیجا پور (دکن) کا جیل آیا۔ بیجا پور کے قیدی کی مقبولیت و مرجعیت کا یہ عالم تھا کہ اگر ناوقت اسے چھینک آجاتی تو اس کی بھی تار برقیاں دوڑنے لگتیں اور دم کے دم میں یہ خبر بھی ملک کی فضا میں گونج جاتی۔

            نظمیں چھوٹی بڑی، رطب و یابس، خدا جانے کتنی کہہ ڈالی گئیں۔ ایک نظم خود محمد علی ہی کی طرح مقبول ہوئی۔ ’’جان بیٹا خلاف پہ دے دو‘‘ شہر شہر، گلی گلی، گاؤں گاؤں، کم از کم اودھ اور جوار اودھ میں تو بس یہی ترانہ تھا:  ’’جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘۔

            نظم، محمد علی والدہ ماجدہ کی زبان سے ادا کی گئی تھی۔ کوئی خاص شاعرانہ خوبی نہیں رکھتی تھی۔ فن کی غلطیاں بھی موجود تھیں۔ شاعر صاحب بھی کوئی مجہول الحال، غیر معروف سے تھے۔ اس پر بھی کچھ فضا کا اثر، کچھ جذبات کا اخلاس، کچھ درد انگیز دھن، مل ملا کر نظم کو وہ خدا دادا مقبولیت حاصل ہوئی جو اچھے جید شاعروں کیلئے بھی باعث رشک ہوسکتی تھی۔ شروع کے دو بند آج 30-31 سال کے بعد بھی سن لیجئے:

بولیں اماں محمد علی کی

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

ساتھ تیرے ہے شوکت علی بھی

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

بوڑھی اماں کا کچھ غم نہ کرنا

کلمہ پڑھ کر خلافت پہ مرنا

پورے اس امتحاں میں اترنا

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

ہوتے میرے اگر سات بیٹے

کرتی سب کو خلافت پہ صدقے

ہیں یہی دین احمد کے رستے

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

حشر میں حشر برپا کروں گی

پیش حق تم کو لے کر چلوں گی

اس حکومت پہ دعویٰ کروں گی

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

            1922ء کا ایک عام منظر : شام کا وقت ہے، امین آباد کے چوراہے پر یہی ’’صدائے خاتون‘‘ دو دو پیسہ کو بک رہی ہے۔ خدا جانے کتنی تعداد میں روز نکلتی رہتی ہے۔ لڑکے درد انگیز آواز سے گا گاکر پڑھ رہے ہیں، اکثر نواب مرزا شوق کی مثنوی ’’زہر عشق‘‘ کی دھن میں۔ صدہا راہ گیر کھڑے سن رہے ہیں۔ پولس کی لاری آئی۔ بہتوں کو پکڑ پکڑ کر قید خانہ پہنچا دیا۔ روز سہ پہر سے لے کر رات گئے تک یہی تماشا رہتا ہے۔ جیل جانا ایک ہنسی کھیل ہوگیا ہے۔ پہلے جس کے نام لوگ تھراتے تھے، سہمے جاتے تھے، اب خود اس کا جیل لے جان ایک مذاق سا معلوم ہونے لگا ہے۔ محمد علی جب جیل گئے تو یہی آگ قوم پر گلزار ہوگئی۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمان، اچھے اچھے عالی خاندان و ذہ مرتبہ، گریجویٹ اور وکیل، بیرسٹر اور ڈاکٹر، عالم و فاضل، ہنسی خوشی خلافت کا کلمہ پڑھتے ہوئے جیل بھرتے چلے گئے۔

            اسی 1922ء کے آخری فروری یا شروع مارچ کا ذکر ہے کہ خواجہ صاحبؒ اجمیری کا سالانہ عرس پڑا (فاتحہ کی اصل تاریخ 6رجب ہے، عرس اور میلہ کئی دن قبل سے شروع ہوجاتا ہے) اب میں زندگی کے جس دور سے گزر رہا تھا، اس میں درگاہوں، آستانوں پر حاضری اور عرسوں میں شرکت لازمی تھی۔ اجمیر میرے لئے بالکل اجنبی تھا۔ خوش قسمتی سے ساتھ مولانا عبدالباری فرنگی محلی کا ہوگیا۔ مولانا باوجود عالم جید ہونے کے صاحب سماع تھے۔ ان کے قافلہ کے ساتھ اپنی بھی چھوٹی سے پارٹی کو لے کر اجمیر حاضر ہوگیا۔ انہی کے ساتھ ٹھہرا اور سفر میں حضر کا سا آرام اور لطف انہی کے لطف و کرم سے اٹھایا۔ اپنے قوال دریا باد سے ساتھ لایا تھا۔ ایک روز شام کو درگاہ میں گاندھی جی آئے اور اصل مزار پر حاضری دینے کے بعد صحن میں قوالی سننے کیلئے بیٹھ گئے۔ میں نے اپنے قوالوں کو اشارہ کیا اور انھوں نے کلام حضرت جوہرؔ ہی کا شروع کردیا۔ وہ مشہور غزل  ؎

تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لئے ہے … پر غیب سے سامان بقا میرے لئے ہے

            گاندھی جی سنتے جاتے تھے اور ڈاکٹر سید محمود (جو اس وقت صوبہ بہار میں وزیرہیں اور اس وقت غالباً مرکزی خلافت کمیٹی کے ایک سکریٹری تھے) انگریزی میں انھیں مطلب سمجھاتے جاتے تھے۔ کلام جوہرؔ سے اس وقت بڑے بڑے آستانے گونج رہے تھے۔

            عین اسی زمانہ میں محمد علی کراچی سے بیجا پور جیل منتقل کئے گئے تھے۔ کسی اسٹیشن پر کسی انگریزی اخبار کے ایک منچلے وقائع نگار نے انھیں جالیا اور سوال تحریک ترک موالات کی موجودہ حالت کے متعلق کر دیا۔ محمد علی نے جواب میں کہا کہ ’’تحریک کا حال تو وہ لوگ جانیں جو باہر ہیں، میں تو اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنے لئے بعد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے گاندھی جی ہی کے احکام کی متبابعت ضروری سمجھتا ہوں ‘‘۔ لکھنؤ سے اجمیر جاتے وقت ایک بڑے اسٹیشن پر جو انگریزی اخبار میں نے خریدا، اتفاق سے اس میں یہی مکالمہ درج تھا، مولانا عبدالباریؒ نے اسے پڑھواکر سنا۔ ان کے رفیق سفر و حضر جو اس وقت بھی ہمراہ تھے بول اٹھے کہ ’’بعد رسول کے نام اپنے مرشد کا لینا تھا، یہ گاندھی کیا معنی‘‘ مولانا نے برجستہ جواب دیا کہ ’’مرشد کوئی ذاتی ہستی تو رکھتا نہیں، وہ تو رسول ہی کا نائب ہوتا ہے۔ جب رسول کا نام لے دیا تو رسول کے نائب بھی اسی میں شامل ہوگئے، گاندھی جی سیاسی لیڈر کی حیثیت سے ایک الگ و مستقل حیثیت رکھتے ہیں۔ نام انہی کا لینا مناسب تھا‘‘۔

(مولانا عبدالماجد دریا آبادی کی ڈائری کا ایک ورق)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close