مولانا مطیع الرحمن نظامی شہیدؒ

222

 ڈاکٹر تابش مہدی

آخر کار مولانا مطیع الرحمن نظامی جامِ شہادت نوش کر کے اپنے خالق و مالک کے حضور سرخ رو اور بہ رضا و رغبت پہنچ گئے۔ 10؍ اور 11؍ مئی 2016 کی درمیانی شب میں بنگلا دیش کی حکومت نے انھیں پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون وہ جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر تھے۔ اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی اور مرکزی حکومت بنگلا دیش کے مختلف مناصب پر فائز رہ چکے تھے۔ ان کی پھانسی کی خبر پوری دنیا میں عام ہوئی،     ہر اہل ایمان اور درد مند انسانیت نے اِسے بڑے دکھ اور درد کے ساتھ سنا۔ جانے والے کی سرخ روئی اور رشاد کامی پر رشک کیا اور اس کے لیے دعائیں بھی کیں۔ حسبِ استطاعت و توفیق غائبانہ نماز جنازہ کا بھی اہتمام ہوا اور احتجاجی پروگرام بھی عمل میں آئے۔ کس قدر ایمانی صبر و استقامت اور مومنانہ شان سے لبریز ہیں، ان کے وہ الفاظ جو انھوں نے موت سے کچھ دیر پہلے اپنے اہل خانہ، متعلقین اور ورثا کے سامنے پیش کیے تھے۔ آپ بھی پڑھیے اور اپنے قلب و ذہن کو نورِ ایمان سے منور کیجیے:

’’میں رحم کی اپیل نہیں کروں گا، زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر شہادت قبول فرما لی تو میرے لیے اس سے بڑی خوشی و مسرت کی بات کیا ہوگی؟‘‘

مولانا مطیع الرحمن نظامی کے یہ الفاظ اس وقت کے ہیں، جب احباب، متعلقین اور ورثا کو پھانسی کا یقین ہوگیا تھا اور انھیں یہ بھی یقین تھا کہ اگر رحم کی اپیل کردی جائے تو یہ فیصلہ ٹل سکتا ہے۔ لیکن انھیں یہ بات پسند نہیں تھی۔ اس لیے کہ ظاہری طور پر خواہ کچھ بھی بہانہ بنایا گیا ہو، اس سزا کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ   ع

             اکبر نام لیتا ہے خدا کا اِس زمانے میں

     وہ اِس خدا بے زار عہد میں اسلام اور اس کے قوانین کے غلبہ و نفاذ کی بات کرتے تھے۔ جب اور جہاں موقع ملا کر کے دکھایا بھی۔

       میں نے بنگلا دیش کے دو سفر کیے ہیں۔ پہلا سفر تو مئی ۱۹۹۰ میں کیا تھا اور دوسرا جون ۲۰۱۰ میں۔ پہلے سفر کے محرک مجاہد اسلام ملاّ عبد القادر شہید تھے۔ انھی کی تحریک پر جناب مولانا عبد العزیز مدنی نے اسپانسر لیٹر بھیجا تھا۔ انھوں نے میری دو کتابیں تبلیغی نصاب ایک مطالعہ اور تبلیغی جماعت اپنے بانی کے ملفوظات کے آئینے میں ترجمہ کرا کے بنگلا زبان میں شائع کرائی تھیں۔ وہ ان دنوں سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ انسٹی ٹیوٹ، ڈھاکا کے سربراہ تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میری ان کتابوں کے قارئین مجھ سے ملاقات کریں اور میں کتابوں سے متعلق ان کے سوالات کے جوابات دوں۔     اس موقعے پر جماعت کے امیر تو پروفیسر غلام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تھے، لیکن جناب عباس علی خاں کارگزار امیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ محترم مولانا     مطیع الرحمن نظامی شہید سے اس سفر میں ملاقات تو ہوئی، لیکن بہت مختصر۔ بس صاحب سلامت، چائے کی ضیافت اور معمولی باہم تعارف کی حد تک۔ انھیں کئی روز کے جماعتی دورے پہ جانا تھا اور مجھے بھی بعض لوگوں سے طے شدہ پروگرام کے مطابق کہیں جانا تھا۔ بنگلا دیش کا میرا دوسرا سفر جون ۲۰۱۰ میں ہوا تھا۔ یہ سفر بھائی منصور چودھری کی دعوت اور اسپانسر پر ہوا تھا۔ لیکن اس کے اصل محرک و محور سیدی و مخدومی حضرت مولانا شاہ ظفر احمد صدیقی جون پوری تھے۔ حضرت مولانا مدظلہ العالی جیسا کہ نام کے لاحقے جون پوری سے ظاہر ہے، جون پو رکے رہنے والے ہیں۔ وہاں کے معروف علمی و روحانی خانوادے ملاّ ٹولے سے ان کا تعلق ہے۔ اس وقت اس خانوادے کے سب سے معمر اور بزرگ رجال میں ہیں۔ ہندستان سے باہر خصوصاً   بنگلا دیش میں ان کے ہزاروں منتسبین اور نام لیوا ہیں۔ ان کے جدامجد حضرت مولانا شاہ کرامت علی جون پوری رحمۃ اللہ علیہ نے اب سے کم و بیش دو سو برس پہلے خطۂ بنگال میں جو علم و روحانیت کا جو بیج بویا تھا، اس کی آب یاری کے لیے اس خانوادے کے متعدد لوگ خصوصاً حضرت مخدومی سال کے سال پابندی کے ساتھ اس خطے کا سفر کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں کے دورے کرتے ہیں اور انھیں دین سے جڑے رہنے اور اس کی تعلیمات پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ ہر سال تین چار ماہ تک رہتا ہے۔ حضرت کے حکم پر میں نے جون ۲۰۱۰ میں وہاں کا سفر کیا اور تقریباً پندرہ دن تک وہاں کے گاؤں، شہروں اور قصبوں میں تصوف و روحانیت کے حقیقی مناظر کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہ مقامات ہیں، جو بنگلا دیش کے مرکزی شہر ڈھاکا سے طویل مسافت پر واقع ہیں۔ میں نے جہاز نما بڑی کشتیوں کے ذریعے سے کم و بیش بارہ گھنٹوں میں یہ مسافت طے کی۔ وہاں سے واپسی پر پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق جماعت اسلامی بنگلا دیش کے مرکز بھی گیا۔

جماعت اسلامی بنگلا دیش کے مرکز کا یہ سفر اپنے محترم و مشق نور الامین صاحب اور جناب عبد الشہید نسیم کی رہ نمائی میں ہوا۔ ان دوستوں نے پہلی ملاقات محترم امیر جماعت مولانا مطیع الرحمن نظامی سے کرائی۔ اس موقعے پر مولانا سے بہت تفصیلی ملاقات ہوئی۔ دنیا جہان کے موضوعات زیر بحث آئے۔ زیادہ تر باتیں جماعت اسلامی ہند، جماعت اسلامی پاکستان اور یو کے اسلامک کے موضوع پر ہوئیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی، جب انھیں معلوم ہوا کہ میں نے یہ سفر حضرت مولانا شاہ ظفر احمد صدیقی جون پوری کے ایما پر کیا ہے، حضرت سید احمد شہیدؒ رائے بریلوی کے رفقا و خلفا کے     دائرہ خدمت اور وہاں پر باقی ان کے اثرات کا مشاہدہ کرنے کے لیے کہا ہے، تو وہ تفصیلات سننے کے لیے بے چین ہوگئے۔ اپنے حافظے اور مطالعے سے میری معلومات میں غیر معمولی اضافہ بھی کیا۔ اب تک بنگلا دیش میں جو جون پوری علما وصوفیہ عوام کی ہدایت و رہ نمائی کے لیے آتے رہے ہیں، ان پر بڑی حد تک تفصیلی روشنی ڈالی۔ آخر میں شعر خوانی ہوئی، سب سے پہلے انھوں نے بعض متقدمین کے اشعار سنائے۔ ماضی قریب کے شعرا میں مولانا عامر عثمانی اور حضرت ماہر القادری کے درجنوں اشعار سنا ڈالے۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایش کی۔ اس بات سے مزید حیرت ہوئی کہ میرے اشعار پر نہایت باوقار داد دیتے رہے اور حسب موقع اشعار کے پس منظر کی طرف بھی اشارہ فرماتے رہے۔ اردو زبان کچھ ایسی صاف اور شگفتہ تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ وہ یوپی کے وسطی خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔

میں جب تک مولانا مطیع الرحمن نظامی سے محو گفتگو رہا، مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ میں کسی جماعت کے سب سے بڑے قائد و امیر سے محو گفتگو ہوں۔ ہر بات کو غور سے سننا، حسب موقع جی کھول کے داد و تحسین سے نوازنا، ہر بات کو اس طرح سننا کہ میں گویا ان کی معلومات میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہوں اور ہم طعامی کے وقت دسترخوان کی مختلف چیزوں کو اٹھا کر میری طرف بڑھانا اور اشیا کی اہمیت و کیفیت سے متعارف کرانا، یہ سب وہ چیزیں ہیں، جو میں نے اب تک بس دو چار ہی بڑے لوگوں اور جماعتوں کے قائدین میں دیکھیں۔ روانگی کے وقت نہایت پرشوق معانقہ کیا۔ ایک لفافہ دیا جس میں ان کا مکمل ذاتی پتا تھا اور کچھ رقم اس غرض سے کہ میں دہلی پہنچ کر اپنے شعری مجموعے انھیں بھیج دوں۔ میرے پیہم انکار پر بھی انھوں نے روپے جیب میں ڈال دیے۔ مولانا نظامی سے یہ میری ایسی ملاقات تھی جسے شاید میں کبھی فراموش نہ کرسکوں۔

مولانا مطیع الرحمن نظامی 31؍ مارچ 1943 کو اپنے آبائی وطن مون موتھ پور میں پیدا ہوئے۔ یہ راج شاہی ڈویژن کے ضلع پبنا کا ایک غیر معروف سا گاؤں ہے۔ انھوں نے 1963 میں ایک مقامی مدرسے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے انھوں نے مدرسہ عالیہ ڈھاکا میں داخلہ لیا۔ مدرسہ عالیہ کی عالمیت کی سند سے 1967 میں ڈھاکا یونی ورسٹی سے گریجویشن بھی کیا۔ ساتھ ساتھ فضیلت کی تعلیم جاری رہی۔ دینی اور عصری اسناد کے حصول نے ان کے اندر دین اور دنیا کا حسین امتزاج پیدا کر دیا۔ ان کی پوری زندگی اس کی کامل نمایندگی کرتی رہی ہے۔ وہ ان قائدین کی طرح نہیں تھے، جو محض گفتار کے غازی ہوئے ہیں اور ان کی ذاتی زندگی اخلاق، تقویٰ اور حسنِ معاملات سے عاری ہوتی ہے۔ مولانا شکل و صورت سے بھی امیر و قائد معلوم ہوتے تھے اور اعمال، اخلاق اور کردار سے بھی اعلیٰ نمونہ پیش کرتے تھے۔ اقامت دین کی تحریک سے بھی انھیں والہانہ لگاؤ تھا اور فقہ و حدیث اور تصوف و معرفت سے بھی انھیں گہری دل چسپی بل کہ وابستگی تھی۔

گرچہ مولانا نظامی خالص علمی و روحانی مزاج رکھتے تھے، لیکن اپنے زمانے کے حالات کے مشاہدے اور قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ کے مطالعے نے ان کے اندر سیاسی بصیرت بھی پیدا کردی تھی۔ ان کی تقاریر میں خصوصیت کے ساتھ تاریخی واقعات و حقائق کا آمیزہ ہوتا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1960 میں جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ہوا۔ پھر ان کی پوری زندگی جماعت اسلامی کے مقصد اور نصب العین کے لیے وقف ہوگئی۔ جماعت اسلامی ہی ان کا اوڑھنا بچھونا حتی کہ زندگی اور موت بن گئی۔ بہ قول نصر اللہ خاں عزیز:

مری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی

میں اسی لیے مسلماں، میں اِسی لیے نمازی

مولانا مطیع الرحمن نظامی اور بنگلہ دیش کے دوسرے تحریکی قائدین اور خدام اسلام کو پھانسی دے کر یا عمر قید سے دوچار کر کے وہاں کے نافہم حکم رانوں نے شاید یہ سوچ رکھا ہے کہ اس طرح سے وہ تحریک ختم ہو جائے گی، جو پوری دنیا میں اسلام کے غلبہ و نفاذ کے لیے برپا کی گئی ہے۔ جس کا مقصد یا نصب العین اللہ کی اِس سرزمین پر اللہ کے ہی دین کا بول بالا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ محض اس کی بھول ہے، اسے اپنی اس نافہمی کا علاج کرنا چاہیے۔ اسے یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ نظریہ کبھی مرتا نہیں ہے۔ عشق کو پھانسی نہیں دی جاسکتی اور جذبوں کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی نظریے، کسی بھی مشن سے عشق و محبت یا اس کے فروغ و ارتقا کے جذبے کو جتنا ہی دبانے اور کچلنے کی کوشش کی جائے گی، اتنا ہی اس میں قوت و توانائی پیدا ہوگی۔ مولانا مطیع الرحمن نظامی ہوں یا پروفیسر غلام اعظم، انجینئر قمر الزماں ہوں یا ملاّ عبد القادر یا علی احسن مجاہد، یہ سب ایک فرد نہیں بل کہ اپنی اپنی جگہ پر ایک تحریک تھے، ایک عہد تھے، یہ ہمیشہ اپنے مشن او رتحریک کے ساتھ باقی رہیں گے اور زندہ و پایندہ رہیں گے۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ.

تبصرے