شخصیات

میرے پیارے دادا جان!مفتی محمد ظہور ندویؒ

اسامہ شعیب علیگ

جن شخصیات نے میرے فکر و رجحان پرغیر معمولی اثرات قائم کیے ان میں سب اہم میرے دادا جان،مفتی محمد ظہور ندوی مرحوم (2016ء۔1927ء) تھے،جو اب اس دنیا میں نہیں رہے،لیکن ان کی یادیں اور مشفقانہ نصیحتیں میرے ساتھ ہیں جو میرے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا دادا جان کو ہمیشہ مربی اورمحسن کی شکل میں اپنے ساتھ پایا۔ اگرچہ مجھے ان کے ساتھ رہنے کا موقع تعلیم کی وجہ سے بہت زیادہ تو نہیں مل سکا لیکن مختلف تعطیلات میں ضرور دادا جان کے ساتھ رہا اور ان کی ہر ممکن خدمت انجام دی۔دادا جان کی طویل خدمت کی سعادت محمد مسلم (نواسے)کے حصہ میں آئی جو ان کے پاس ہی ہمہ وقت رہتے اور ہر طرح کا خیال رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کا بہترین اجر انہیں دے ۔

امسال بھی عیدالاضحیٰ کے موقع پر میں مع والدین دادا جان کے ساتھ تھااور ان کی خدمت کرنے کے ساتھ ان کی شفقت ومحبت ، مخصوص انداز میں پر لطف باتوں،علمی و دینی گفتگو سے مستفید ہونے کے بعد ان کی دعاؤں کے ساتھ دہلی واپس آگیا تھا کیوں کہ دادا جان کی صحت پیرانہ سالی کے باوجود ایسی خراب نہیں تھی کہ کوئی اندیشہ یا تردد لاحق ہوتایا یہ اندازہ ہوتا کہ یہ میری دادا جان سے آخری ملاقات ہے،لیکن زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں،جس کا جو وقت مقرر ہے اس میں اسے دنیا سے رخصت ہو ہی جانا ہے۔ہمارے اندازے ہمیشہ ساتھ نہیں دیتے چناں چہ 25؍ستمبر2016ء کو فجر کے وقت میرے پھوپھی زاد بھائی محمد عمیر کا لکھنؤسے فون آتا ہے کہ ناناجان اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔اناللہ وانا الیہ راجعون ۔ میری نگاہوں کے سامنے بچپن سے لے کر اب تک کے دادا جان کے ساتھ گذرے لمحات منٹوں میں گھومتے چلے گئے۔دادا جان کے ساتھ گزرے اوقات اوران کے نواسے نواسیوں سے گفتگو کی مدد سے میں نے دادا جان کی شخصیت کے مختلف پہلؤوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔
مختصر تعارف زندگی
دادا جان 1927ء میں مبارک پور،سکٹھی(اعظم گڑھ ،یوپی)کے ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والدماجد کا نام محمد عبدالستاربن خان محمد خان تھااور والدہ محترمہ کا نام صابرہ خاتون تھا۔والد محترم ممتاز فارسی داں اور علاقے کے بڑے زمین داروں میں سے تھے اس لیے گھر میں علاقے کے سماجی مسائل بھی عدل و انصاف کے ساتھ حل کیے جاتے تھے۔ایسے ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی۔آپ دو بھائی (محمد ظہور ندوی،محمد شمس الدین )اور چار بہن(سائرہ خاتون،حمیرہ خاتون،شاکرہ خاتون اور ماجدہ خاتون) تھے۔
داداجان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ ریاض العلوم،سکٹھی میں ہوئی ۔اس کے بعد انہوں نے مبارک پور کے مدرسہ احیاء العلوم میں داخلہ لیا اور روایت کے مطابق شرح جامی و شرح تہذیب کی درسِ نظامی کے مطابق تعلیم حاصل کی ۔1944ء میں آپ دارالعلوم ندوۃ العلماء تشریف لائے اور یہاں کے مختلف مشہور اساتذہ سے کسبِ فیض حاصل کیا۔معقولات کی تعلیم مولانا ابوالعرفان خان ندویؒ سے اورابوداؤدو ترمذی شریف مولانا اسحٰق سندیلویؒ سے پڑھی۔دیگر مشہور اساتذہ میں شاہ حلیم عطا صاحبؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ وغیرہ ہیں۔
دادا جان کی شخصیت کو پروان چڑھانے میں دارالعلوم کے مفتی حضرت مولاناسعیدؒ صاحب (برادر نسبتی،مفتی ظہور ندوی)کا اہم کردار رہا۔مفتی سعید صاحب مفتی شبلی جیراج پوری ؒ کے نواسے تھے ۔اس طرح دادا جان کے انتقال سے اعظم گڑھ کے ایک معزز خاندان کی تین نسلوں کے علمی و فقہی سفر کا خاتمہ ہوگیا۔ مفتی سعید صاحب کی نگرانی وسرپرستی میں انہوں نے فقہ کے قدیم و جدید ماخذ ومصادر کا استفادہ کیااور اپنی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے علم و فقہ کے میدان میں نمایاں اور ممتاز رہے۔آپ 1952ء میں درس و تدریس کی خدمت پر مامور ہوئے ۔مولانا کو ائمہ اربعہ اور دیگر فقہاء کے فتاوی زبان زد تھے اور علوم شرعیہ پر کمال کا عبور حاصل تھا۔ ان کے بارے میں ایک عام تاثر یہی تھا کہ انہیں ہدایہ،اس کی شرح فتح القدیر،کنز الدقائق،بحر الرائق اورد رالمختار جیسی کتابیں حفظ ہیں۔ دورانِ تدریس طلبہ اگر غلط عبارت پڑھتے تو آپ آنکھیں بند کیے ہی اس کی تصحیح فرما دیتے تھے۔انہیں غیر معمولی صلاحیتوں کی بناپر آپ کو1956ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے منصب افتاء پر فائز کیا گیااور آخری عمر تک دار الافتاء اور دارالقضاء کے صدر رہے۔بروقت سائل کو مستند جواب دینا اور اسے مطمئن کرناان کی خصوصیت تھی۔طلبہ اور عوام آپ کو ’چلتے پھرتے مفتی‘ کہا کرتے تھے۔دارالعلوم،ندوہ کے اساتذہ بھی مشکل اور پیچیدہ مسائل میں آپ سے رجوع کرتے تھے۔آپ کے زیر نگرانی ’فتاوی ندوۃ العلماء‘ کی تین جلدیں مکمل ہوئیں۔آپ کے سیکڑوں نمایاں شاگرد ہیں جن میں جناب ابوطفیل ندوی، ڈاکٹر اجتباء ندوی،مولانا ناصر علی ندوی اور مولانا سید سلمان الحسینی ندوی جیسے علم کے آفتاب شامل ہیں۔
دادا جان نے اپنی پوری زندگی دارالعلوم، ندوۃ العلماء ،لکھنؤ کے لیے وقف کر دی۔ندوہ نے بھی آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی پوری قدر کی اور ان کو وہ احترام و مرتبہ دیا جو شاید ہی کسی ادارے میں کسی کو ملے۔ان کا شمار ندوہ کے اعلیٰ ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔اگرچہ آپ بطور مفتی زیادہ مشہور ہوئے لیکن ساتھ ہی ساتھ آپ نے بہت سی انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔آپ ندوہ کے نائب مہتمم،نائب ناظم،سینئر استاذ،نگران اعلیٰ اور شعبہ تعمیر و ترقی کے بھی ذمہ دار رہے۔ اس طرح سے آپ بیک وقت کام یاب مدرس،اعلیٰ درجہ کے مدبر و منتظم اور بے مثال فقیہ تھے۔
دادا جان کی شادی 1946ء میں دادی( محترمہ عائشہ مرحومہ) سے ہوئی،جن سے چار بیٹے(محمد طفیل(مرحوم)،مولانا محمدسہیل ندوی و مدنی،مولانا محمد شعیب ندوی و مدنی ،مولانا محمد زہیر ندوی )اورچار بیٹیاں(محترمہ سیدہ،محترمہ عطیہ مرحومہ،محترمہ فریدہ اور محترمہ ترنم صاحبہ) ہیں۔داداکی نماز جنازہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی مدنی،ناظم ندوۃ العلماء نے پڑھائی اوربعد نماز عصر ڈالی گنج قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
دادا جان کی امتیازی خصوصیات
دادا جان کی زندگی دنیا سے بے رغبتی کے ساتھ خلوص و للٰہیت کے زیور سے آراستہ تھی۔اس کا اثر آپ کے لباس و غذا پربھی رہا۔لباس کا معیار اوسط سے بھی کم تھا،معمولی کپڑے کا کرتا اور پائجامہ زیادہ تر بنا پریس کا پہنتے جس کے اوپر صدری ہوا کرتی تھی ۔خاص مواقع پر شیروانی زیب تن کرتے تھے۔سادگی کا یہ عالم تھا کہ بظاہر دیکھ کرلوگوں کو انہیں پہلی ملاقات میں پہچاننے میں بھی مشکل ہوتی تھی۔ایک دلچسپ واقعہ دادا جان کی نواسی حمنہ حسن نے مجھے بتایاکہ ایک مرتبہ کوئی صاحب فتویٰ لینے ناناجان کے گھر آئے اور ان سے ہی پوچھا کہ مفتی ظہورندوی صاحب کہاں ہیں؟ان سے کام ہے۔ناناجان نے جواب دیا کہ جی فرمائیں کیا کام ہے؟انہوں نے ناناجان کو اوپرسے نیچے تک دیکھا اور کہا کہ یہ میں ان کو ہی بتاؤں گا آپ برائے مہربانی انہیں بلادیں۔تب ناناجان نے کہا کہ میں ہی مفتی ظہور ندوی ہوں تو وہ صاحب انہیں بہت حیرت و تعجب سے دیکھنے لگے اور پھر شرمندہ ہو کر بولے معاف کیجئے گا میں آپ کی سادگی کی وجہ سے آپ کوپہچان نہیں سکا تھا۔
داداجان کی دنیا سے بے رغبتی اور قناعت کا یہ عالم تھا کہ کبھی انہوں نے اپنے تعلقات کا استعمال دنیاوی چیزوں کے لیے نہیں کیا۔میں نے بارہا دیکھا کہ دادا جان سے ملاقات کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد ایسی رہی جو بہت بڑے عہدوں پر فائز ہیں لیکن دادا جان نے ان سے اپنے کسی ذاتی فائدے کی گفتگو نہیں کی۔ ایسے ہی غذا میں کوئی تکلف یا اہتمام نہ تھا،جو مل گیااس پر اپنے مخصوص جملے ’ہاں ٹھیک ہے‘،’بہتر ہے‘کہہ کرصبر و شکر کے ساتھ کھا لیاکرتے تھے۔آپ نے کبھی آسائش و راحت کی زندگی گزارنے کی نہ تو خواہش کی اور نہ ہی کوشش کی۔
دادا جان بہت ہی شفیق ،نرم دل اور سب کا خیال رکھنے والے نسان تھے۔مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے مجھے یا اپنے نواسے نواسیوں کو ڈانٹا یا مارا ہو ۔غصے پر قابو پالینا آپ کو بخوبی آتا تھا۔ابھی جب ان سے میری آخری ملاقات ہوئی تھی تو ایک بار دادا جان اپنے کمرے میں تھے اور کسی ضرورت سے انہوں نے مجھے کئی بار آوازیں دیں،باہر ہونے کی وجہ سے میں سن نہیں سکا۔پھر جب میں اندر آیا تومجھے دادا جان کا چہرہ غصہ سے سرخ نظر آیا،لیکن جب انہوں نے میری طرف رخ کیا تو وہ بالکل نارمل ہو چکے تھے اور ذرا بھی غصہ نہ ہوئے۔دادا جان کی نرمی و شفقت کے باوجود بھی ہم تمام کزنس پر دادا جان کا احترام اور رعب غالب تھا۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہم لوگ دادا جان کے باہری کمرے (شبلی ہاسٹل،کمرہ نمبر 2)میں ان کی غیر موجودگی میں کھیلا کرتے تھے،ایک بار دورانِ کھیل کرسی کا ایک پایا ٹوٹ گیا۔دادا جان کے خوف سے ہم سب پریشان تھے۔آخر میں مشورہ کے ساتھ طے پایا کہ کرسی کو ندوہ کے بڑھئی کے پاس لے چلا جائے اور داداجان کے نام کا ’استعمال‘کرکے صحیح کرا لیا جائے،کسی کو کانوں کان نہ خبر ہوگی۔پھر اسی ’مشورے‘ پر عمل کیا گیا۔ایسے ہی داداجان کے عقیدت مند ان کے لیے اپنے ساتھ مختلف تحفے لایاکرتے تھے ،جنھیں ہم کزنس (اپنے بچپن میں )باہر ہی آرام سے کھا پی کر ختم کر دیتے تھے،پھر آپسی لڑائی کی وجہ سے ہم میں سے کوئی دادا جان سے شکایت ’داغ‘ دیا کرتا تھا، لیکن دادا جان نے کبھی ڈانٹا یا مارا نہیں ،بس ہنستے ہوئے اتنا کہتے تھے کہ تم لوگ کم از کم بتا تو دیا کرو کہ کون لایا ہے؟
دادا جان کی شفقت و محبت صرف گھر والوں ہی کے ساتھ نہ تھی،بلکہ وہ طلبہ کو بھی اسی طرح مانا کرتے تھے۔ابھی بقرعید میں جب میں ان کے پاس تھا تو نماز کے لیے جاتے وقت ہاسٹل کے سامنے کسی طالب علم کا لحاف باہرزمین پر دکھاجو بارش سے بھیگ چکا تھا ۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے اٹھا کر دھوپ میں رکھ دو ،شاید کسی طالب علم کا رہ گیا ہے۔اسی وجہ سے طلبہ آپ سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے اور مشکل حالات میں آپ کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے تھے۔
دادا جان بہت ہی زیرک،خوش مزاج اور حاضر جواب تھے۔آپ کے مختلف واقعات مجھے اکثر فارغینِ ندوہ نے سنائے ہیں۔ڈاکٹر نسیم اخترندوی،شعبہ عربی،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی نے ایک واقعہ مجھے سنایاکہ ایک بار مفتی صاحب ’گرم پاجامہ‘ میں تھے توایک طالب علم کو شرارت سوجھی اور اس نے مفتی صاحب سے کہا کہ مولانا !علماء کا شرعی لباس کیا ہے؟آپ نے فرمایا: ’’علماء کرام جو پہن لیں وہی ان کا شرعی لباس ہے۔‘‘ایسے ہی داداجان نے مجھے ایک بار دورانِ گفتگو ہنستے ہوئے بتایا کہ ایک طالب علم ان کے پاس چھٹی لینے آیاکہ اس کی بہن کی شادی ہے۔مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بہانا کر رہا ہے تو میں نے اس سے روانی میں پوچھا کہ کتنے لوگ بارات میں جائیں گے؟اس نے کہا دو سو پچاس (250)پھر اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا بول دیا ہے تو وہ ہنستے ہوئے چلا گیا۔
داداجان انتہائی متقی،پرہیز گار اور دین دار تھے اور وہ ان خوبیوں کو اپنے پوتے ،پوتیوں ،نواسے اور نواسیوں میں بھی دیکھنا چاہتے تھے۔مجھے حفصہ حسن اور مسلمہ ابوسعد (نواسیاں،مفتی ظہور ندوی)نے بتایا کہ ناناجان ہم لوگوں کو برابرنماز،توبہ واستغفار اور اسلامی اخلاق و کردار اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے اورمختلف سبق آموز کہانیاں انہیں یاد ہوا کرتی تھیں جنھیں وہ مناسب موقع پر تربیت کے لیے پرلطف انداز میں سنایا کرتے تھے۔دادا جان کی زندگی وکردارکے یہ وہ کچھ تابناک نقوش ہیں جنہیں میں نے یادداشت کے ذریعہ ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ، ان کی غلطیوں سے چشم پوشی کرے اورانہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین۔
****

مزید دکھائیں

اسامہ شعیب علیگ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

متعلقہ

Close