شخصیات

 نامور صحافی و ادیب عتیق مظفرپوری

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ایک صحافی اور ادیب اپنے زمانے کو لکھتا ہے جب کہ شاعر احساسات کے موتیوں کو نظم میں پروتا ہے۔ نظم کو جب ساز کا ساتھ مل جاتا ہے تو یہی نظم انسان کو مدمست کردیتی ہے۔ عتیق مظفرپوری باکمال شاعر تھے۔ ان کی کئی نظمیں و غزلیں شاہکار ہیں۔ شعر و سخن سے انہیں بچپن سے ہی لگائو تھا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی انہوں نے شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ انہیں قیامِ سنبھل کے دوران جہاں مولانا محمد حسین، مولانا اختصاص الدین اور مولانا نعیم الدین صاحب جیسے علماء کی سرپرستی حاصل رہی وہیں علامہ معجز سنبھلی، اعجاز وارثی جیسے استاد شعرا کی قربت نصیب ہوئی، بلند پایۂ ادیب اور اردو زبان کے خادم سعادت علی صدیقی نے ان کی ہمت افزائی فرمائی۔ ان کی عملی زندگی کی شروعات مختلف شعراء کے اشعار کا انتخاب ’’سب رنگ شاعری‘ کی ترتیب سے ہوئی۔ اس زمانے کے لحاظ سے یہ شعری کلیکشن اپنی طرز کا انوکھا کام تھا۔ اس کتاب کو 1978میں نیو سلوربک ایجنسی بمبئی نے شائع کیا۔ اب تک اس کے کئی ایڈیشن طبع ہوکر داد حاصل کرچکے ہیں۔

عتیق مظفرپوری نے ملک کی نبض کو صرف انگلیوں سے نہیں ٹٹولا بلکہ اس کی گہرائی میں ڈوب کر مشاہدہ کیا تھا تبھی ان کی زبان یہ کہنے پر مجبور ہوئی ہوگی۔

کٹی ہے عمر یہاں ایک گھر بنانے میں

حیا نہ آئی تمہیں بستیاں جلانے میں

یا پھر یہ کہ     ؎

ہٹائے جارہے ہیں کام کے لوگ

نکموں پر نوازش ہو رہی ہے

دبایا جارہا ہے خوبیوں کو

جہالت کی نمائش ہو رہی ہے

شاعری کی طرح انہوں نے افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کے بیشتر افسانے آل انڈیا ریڈیو پٹنہ سے نشر اور آل انڈیا اردو سروس کے ترجمان پندرہ روزہ’ آواز‘ دہلی میں شائع ہوئے۔ ان کے افسانوں میں ’اولاد کا دُکھ ‘ اور کئی افسانے بہت پسند کئے گئے اور ان کی خوب پذیرائی ہوئی لیکن عوام کے درمیان وہ ایک صحافی کے طور پر مقبول ہوئے۔ ان کا پہلا مضمون’سگریٹ نوشی ایک لعنت‘1978 میں روزنامہ اردو ٹائمز بمبئی میں شائع ہوا۔ اس کے بعد آخری وقت تک قلمی سفر کا سلسلہ جاری رہا۔

ہندوستان میں زود نویس یا لکھاڑ حضرات کو بھی صحافی کہا جاتا ہے جب کہ وہ صحافت کے بنیادی اصولوں سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ وہ نہیں جانتے کہ خبر اور مضمون کی زبان میں کیا فرق ہوتا ہے۔ فالواپ اسٹوری، فیچر، اداریہ، پروفائل، تجزیہ، تبصرہ، تاریخی واقعے یا خبریں کتنی قسم کی ہوتی ہیں مثلاً قومی، بین الاقوامی، مقامی، کاروباری، اسپورٹ، فلم، فیشن، ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم وغیرہ۔ یہاں تک کہ مخاطب کے لحاظ سے خبر یا اخبار کی زبان ہی نہیں لہجہ تک بدل جاتا ہے۔ عتیق صاحب ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے تجربہ کرکے اپنی محنت سے صحافت کے ہنر کو سیکھا اور پہنچان بنائی۔ انہیں پٹنہ سے نکلنے والے ہفتہ وار اخبار ’اسپلنٹر‘نے 1980میں اپنے ادارتی شعبہ میں جگہ دی۔ یہ  ہفت روزہ اردو، ہندی اور انگریزی میں شائع ہوتا تھا۔ ا نھوں نے چلڈرن بک ٹرسٹ حکومت ہند کے تحت متعدد کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا جن میں ’اندرا پریہ درشنی‘، ’ Our Feather Friends‘اور ’ Operation Polo‘ قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے 1986 میں پٹنہ قیام کے دوران ماہ نامہ’ افسانوی دنیا‘ کا اجراء کیا جو ایک سال تک جاری رہا۔ ’افسانوی دنیا‘ میں عتیق صاحب کے ذریعہ لیا گیا معروف افسانہ نگار و مصنفہ محترمہ عصمت چغتائی کا تاریخی انٹرویو اور شین مظفرپوری صاحب سے ’’اردو افسانہ ‘‘ گفتگو پر مشتمل مضمون شائع ہوا۔ لیکن پٹنہ کی آب و ہواعتیق صاحب کو راس نہ آئی وہ بار بار کی بیماری سے عاجز آکر1988 میں دہلی منتقل ہوگئے۔ یہاں آکر انہوں نے ماہ نامہ ’قاری‘ اور  ہفت روزہ ’نیشنل ایکتا‘ میں کام کرنا شروع کیا۔ ان کی اقتصادی حالت میں پٹنہ کے مقابلے میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی۔ ویسے بھی اس زمانے میں صحافی اپنی گزرو اوقات کے لئے ایک سے زیادہ اخباروں میں کام کرتے تھے۔ اردو کا مشکل سے کوئی اخبار ہوگا جو اپنے کارکنان کو معقول تنخواہ دیتا ہو۔ 1990 میں م۔ افضل صاحب کے راجیہ سبھا کارکن نامزد ہونے کے بعد  ہفت روزہ ’اخبار نو‘ کے ادارتی شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔ چار سال تک انہوں نے ادارتی ممبر کے طور پر کام کیا۔ 1994 میں دہلی سے  ہفت روزہ ’تیسرا راستہ‘ کا اجراء بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور اردو پرست ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا نے کیا جو 2001  تک پابندی سے شائع ہوتا رہا۔ 2003 میں پندرہ روزہ ’سائبان‘ نکالا جسے ان کے بڑے صاحبزادے جناب جاوید رحمانی نے 2006 میں روزنامہ کی شکل دی۔ روزنامہ’ سائبان‘ دہلی کے علاوہ بھوپال سے بھی شائع ہورہا ہے۔

عتیق صاحب2006 میں روزنامہ’راشٹریہ سہارا‘ سے بطور سب ایڈیٹر وابستہ ہوئے اور 2015 تک پوری ذمہ داری سے ادارتی خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریریں منفرد ہونے کے ساتھ اردو صحافت کی اہمیت و افادیت کو بڑھانے والی ہوتی تھیں۔ ان کی ملک کے حالات پر بہت گہری نظر تھی۔ اسی لیے قومی ٹی وی چینلوں پربحث میں بالخصوص مسلم ممالک سے متعلق مسائل پر گفتگو کے لیے انھیں خاص طور پربلایا جاتا تھا۔ جس سے انھیں صرف ہندوستان میں ہی نہیں بیرون ملک میں بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ جس مسئلہ پر قلم اٹھاتے اس کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعدہی کسی نتیجہ پر پہنچتے تھے۔ وہ اپنے منفرد انداز کی وجہ سے قارئین کے درمیان پسند کیے جاتے تھے۔ مثلاً مسلم ریزرویشن کے مسئلہ پر نجمہ ہپت اللہ کے بیان پر مسلمانوں کے رد عمل پر لکھے اپنے کالم’ بیان سے مایوسی مناسب نہیں ‘ میں انہوں نے کہا کہ نجمہ ہپت اللہ نے تو وہی کہا جو ان کی پارٹی کا نظریہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سرکار سے دریافت کریں کہ  :

’’ موجودہ این ڈی اے حکومت آر ایس ایس کی فکر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایجنڈے کے مطابق کام کرے گی یا ہندوستان کے آئین و قوانین کے مطابق؟ مسلمانوں کے لئے OBC کوٹے سے 4.5 فیصد ریزرویشن دیے جانے کا معاملہ بھی اس زمرے میں آتا ہے۔ اس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سابقہ حکمراں جماعت خاص طور پر کانگریس نے اپنی بد نیتی یا طریق کار سے اسے متنازع بنا دیا ہے۔ مسلمان اپنے ہم پیشہ غیر مسلم بھائیوں سے پیچھے رہ گئے۔ اس مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ OBC میں شامل مسلم پیشہ ور برادریوں کو کوٹہ مختص کیا جائے جو حقیقی معنوں میں 8.5فیصد ہوتا ہے۔ ‘‘

اسی طرح 2014 کے عام انتخابات سے پہلے اپنے مضمون ’ عام انتخابات اور علاقائی پارٹیاں ‘ میں ملک کی سیاست کا بہترین جائزہ لیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کی پکڑ مضبوط رہے گی۔ ایسے میں عام آدمی پارٹی کو کوئی جگہ نہیں ملنے والی۔

’’ عام آدمی پارٹی زمینی سطح پر دور دور تک کہیں مقابلے میں نظر نہیں آرہی ہے۔ ریاستوں میں الگ الگ سیاسی پارٹیوں سے اس کا سابقہ پڑے گا جن کو کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرح آنکھ بند کرکے بد عنوان اور فرقہ پرست نہیں کہا جاسکتا۔ بہار، بنگال سمیت کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں فرقہ پرستی اور بدعنوانی اہم مسائل کی حیثیت نہیں رکھتے۔ ایسی ریاستوں میں غربت و افلاس، ناخواندگی اور بے روزگاری بڑے مسائل ہیں۔ ‘‘

 عام انتخابات میں بی جے پی کو ملی تاریخی کامیابی پر عتیق صاحب نے جو تجزیاتی تحریر ’بی جے پی کی کامیابی کا اصل راز‘ عنوان سے لکھی اس سے ان کی سیاسی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ خود ایک سیاسی پارٹی ’ قومی پارٹی‘ کے سربراہ تھے۔ انہوں نے اسی پارٹی سے 1997 میں مشرقی دہلی پارلیمانی حلقے کی سیٹ سے لوک سبھا کا الیکشن لڑا تھا۔ اس وقت زیادہ تر سیاسی مبصر اس کی وجہ مودی کا کرشمہ یا پھر سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو بتارہے تھے جبکہ عتیق مظفرپوری صاحب اس کامیابی کاراز کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں :

’’ سیکولر زم کی دعویدار پارٹیوں سے سب سے بڑی غلطی یہی ہوئی کہ انہوں نے بی جے پی کو اپوزیشن کی چراگاہ میں چرنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا۔ یوپی اے -II میں گھپلوں کی جھڑی لگنے کے باوجود سیکولر پارٹیوں نے کانگریس سرکار کو بچانے کی ہی کوشش کی وہ کانگریس کے ساتھ چپکے رہے۔ کسی نے بھی پے درپے گھپلوں کے انکشافات کے سبب کانگریس کے خلاف عوام کے اندر بڑھتی ناراضگی پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس بات کو سرے سے نظر انداز کردیا گیا کہ کانگریس سے عوامی ناراضگی کا فائدہ اپوزیشن کو ملے گا۔ ملک گیر سطح پر کوئی دوسری اپوزیشن جماعت تھی نہیں۔ تمل ناڈو، اڑیسہ اور مغربی بنگال کی لوک سبھا سیٹوں کے نتائج سے بھی اس کی توثیق ہوچکی ہے۔ تینوں ہی ریاستی پارٹیوں کے سربراہان کانگریس کے خلاف تھے۔ ‘‘

سیاست کی طرح عتیق صاحب کو مذہبی امور پر بھی دسترس حاصل تھی۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے زبردست حامی تھے۔ انہیں مسلکی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں کے بکھرائو سے ٹھیس پہنچتی تھی۔ عتیق صاحب کی یہ تکلیف ان کے آخری مضمون’ مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں حائل مسلکی دیوار‘ میں صاف نظر آتی ہے۔

’’ مسلمانوں کے علاوہ شاید ہی دوسری کوئی قوم ایسی ہوگی جسے نقصان پہنچانے والے عناصر اس کثرت کے ساتھ اس کے اندر سے ہی پیدا ہوئے ہوں۔ یہ اسلام کا معجزہ عظیم ہے کہ لوگوں کے مسلمان ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اسلام کی روز افزوں مقبولیت نے جہاں ایک جانب کچھ مسلمانوں کو مطمئن کررکھا ہے، وہیں اسلام کی یہی خوبی دشمنان اسلام کی نیند حرام کئے ہوئے ہے اور وہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے اور انہیں آپس میں لڑانے کے لئے نت نئے حربے استعمال کرنے میں لگے ہیں۔ مسلمانوں میں مسلکی تنازع بھی دشمنان اسلام کے اسی حربے کی ایک کڑی ہے۔ اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہاں کے زیادہ تر دینی مدارس میں مذہب کے بجائے مسلک کی تعلیم پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ ‘‘

ضرورت اس بات کی ہے کہ عتیق صاحب کے مضامین کو اکٹھا کرکے کتابی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ آنے والی نسل ان کی تحریروں سے استفادہ کرسکے۔ وہ اپنی تخلیقی کاوشوں کی وجہ سے اہل علم کے درمیان ہمیشہ زندہ رہیں گے اور انہیں یاد کیا جاتا رہے گا۔ عتیق صاحب بہار کے ایک چھوٹے سے گائوں مہیش استھان، ضلع مظفرپور میں یکم دسمبر 1954 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد عبدالرحمٰن صاحب گائوں کے جانے مانے لوگوں میں سے ایک تھے۔ انہیں علم اور اہلِ علم سے لگائو تھا تبھی انہوں نے اپنے بیٹے کو حصول علم کے لئے بہار سے باہر بھیجا تھا۔ عتیق مظفرپوری اپنی علمی خدمات کی وجہ سے یاد داشت کا حصہ رہیں گے بلکہ ان کے حوالے سے ان کے والدین کو بھی یاد کیا جاتا رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close