شخصیات

وہ ایک ہمدر ڈاکٹر

احمد سعید ملیح آبادی
ڈاکٹر مقبول احمد طبیب حاذق تھے، اللہ نے دست شفاء دیا تھا۔ کامیاب ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جس کی تشخیص و تجویز مریض کی صحت بحال کرتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اس میں مہارت حاصل تھی، اسی کے ساتھ ان کی سب سے بڑی خوبی، مریض کے ساتھ ہمدردی اور ایمانداری تھی اس نے انہیں ایک مقبول و معروف ڈاکٹر بنادیا۔ ڈاکٹر مقبول احمد نے انگلینڈ سے ایف آر سی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی، سرجری کے ماہر تھے، آپریشن میں ہاتھ بہت صاف تھا، جنرل فزیشین کی بھی خداداد صلاحیت تھی اس لحاظ سے وہ ہمارے فیملی ڈاکٹر بن گئے، پھر یہ رشتہ ہماری خاندانی دوستی میں بدل گیا برسہا برس ہمارے گھر کے ہر ایک کاعلاج، فیس کے بغیر کرتے رہے، بہت حجت اور اصرار کے بعد آدھی فیس پر سمجھوتا ہوا۔ ڈاکٹر صاحب، فیس کی رقم گنتے نہیں تھے، جو دے دیا آنکھیں بند کرکے جیب میں رکھ لیا ، کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر صاحب کی اس عادت کافائدہ اٹھاکر میں نے پوری فیس دینا شروع کردی اور ڈاکٹر صاحب آدھی فیس سمجھ کر قبول کرتے رہے۔ ایک موقع پر کرنسی نوٹ جیب میں رکھتے ہوئے میز پر گر گئے اور بھید کھل گیا۔ ڈاکٹر صاحب کا غصہ بھڑکا’’یہ دھوکا! اب کوئی فیس نہیں لوں گا‘‘۔ بڑی مشکل سے انہیں منایا اور وعدہ کیا کہ آئندہ ’’پوری ایمانداری‘‘ سے آدھی فیس دیاکروں گا۔ کچھ مدت گزرنے کے بعد آنکھ بچا کر پھر وہی حرکت شروع کردی اور ڈاکٹر صاحب اپنی نیک دلی سے اعتبار کرکے آدھی فیس سمجھ کر بغیر گنے جیب میں ڈالتے رہے اور اس طرح حساب دوستاں، دردل چلتا رہا۔ رفاقت کا یہ سلسلہ تقریباً آدھی صدی قائم رہا پھر ڈاکٹر صاحب کلکتے کی سکونت چھوڑ کے کینیڈا جابسے اور وہی سپردخاک ہوئے۔ افسوس !دوست کی قبر پر دو مٹھی مٹی ڈالنے کا بھی موقع نہ ملا، اللہ جنت نصیب کرے، آمین!
ڈاکٹر مقبول احمد، انگلینڈ میں تعلیم مکمل کرکے کلکتے میں مقیم ہوئے تو ایک سرکاری مڈیکل کالج میں پروفیسر مقرر ہونے کے ساتھ اسلامیہ اسپتال سے بھی جڑے۔ اسلامیہ اسپتال اور ہمارے اخبار روزنامہ ’’آزاد ہند‘‘ کادفتر اور ہمارا چھاپا خانہ ’’اجالا پریس‘‘ پاس پاس تھے۔ شروع دور میں اخبار، لیتھو مشینوں میں پتھر پر چھپتا تھا، چھپائی کے وقت مشین کی گدی پر پانی بار بار چھڑکنا پڑتا تھا۔ اخبار کی کاپی دفتر میں جوڑی جاتی تھی۔ ایک آدمی اسی کام پر مقرر تھا، کہ دفتر سے کاپی پریس میں پہنچائے اس آدمی کا یہ کام نہیں تھا کہ مشین میں ہاتھ لگائے۔ ایک رات دوسرے ورکر نے اس سے کہا کہ مشین کی گدی پر پانی ڈال دے، مشین پوری رفتار سے چل رہی تھی، اناڑی آدمی نے جیسے ہی پانی ڈالنے کے لئے ہاتھ بڑھایا، مشین نے ہاتھ پکڑ کر پیس دیا، سنگین حادثہ تھا، زخمی کوفوراً اسپتال پہنچایا گیا، رات کسی طرح کٹی، صبح ڈاکٹر مقبول صاحب نے معائینہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ ٹکڑے ٹکڑے ہڈیوں اور نسوں کو جوڑیں گے۔ ڈاکٹر صاحب اس غریب کاہاتھ بچانے میں جٹ گئے، کئی گھنٹے کے آپریشن سے وہ کچلاہوا ہاتھ اس لائق ہوگیا کہ ہلکاپھلکا کام کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کی اس کامیاب سرجری کابڑا شہرہ ہوا۔ اپنی بدقسمتی اور نادانی سے اس آدمی نے ایک دو سال بعد پھر وہی حرکت کی پریس گیا اور کسی کے کہنے پر چلتی ہوئی مشین کی گدی پر پانی ڈالنے کی مشق کرنا چاہی تو مشین نے دوسرا ہاتھ بھی پکڑ کے بری طرح کچل ڈالا اور ڈاکٹر مقبول صاحب ایک مرتبہ پھر رحم کھاکے اس کا ہاتھ کاٹنے کے بجائے سخت محنت او رمہارت سے چور چور ہڈیوں اور نسوں کو جوڑ کر بدنصیب کا دوسرا ہاتھ بچالیا۔ ایساتھا ان کاجذبہ انسانیت ہمدردی۔
1959ء میں ہمارے گھر ایک بڑا حادثہ ہوگیا۔میرے والد مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی شدید بیمار ہوکر دہلی سے کلکتے واپس آگئے تھے۔ مولاناابوالکلام آزاد کی رفاقت میں والد دہلی رہنے لگے تھے۔ مولانا آزاد نے 1950ء میں انڈین کونسل فارکلچرل ریلیشنز(ICCR) قائم کی، کونسل کاعربی زبان میں رسالہ ’’ثقافتہ الہند‘‘ مولانا ملیح آبادی کی ادارت میں جاری ہوا، اسی کے ساتھ آل انڈیا ریڈیو کے عربی یونٹ کی ذمہ داری بھی ملیح آبادی نے سنبھالی۔ عربی رسالے اور عربی ریڈیو یونٹ کا مقصد ، عرب ممالک میںآزاد‘ جمہوری، سیکولر ہندستان کا تعارف کرانا اور ہند۔ عرب تعلقات کو مستحکم بنانا تھا۔ مولانا آزاد کاانتقال فروری 1958ء میں ہوگیا۔ مولانا کے بعد والد کی صحت نے جواب دے دیا تو میں انہیں کلکتے لے آیا۔ ایک روز بیماری سے کمزوری کی حالت میں گھر کے زینے سے اترتے ہوئے گر پڑے، بہت چوٹیں آئیں، بیہوشی کی حالت میں اسلامیہ اسپتال پہنچایا گیا۔ چہرے پر زخموں کے علاوہ ایک ہاتھ اور ٹانگ کی ہڈی ٹوٹی تھی۔ ان دنوں موسیٰ صالح جی بیرسٹر، اسلامیہ اسپتال کے جنرل سکریٹری اور والد کے عقیدت مند دوستوں میں تھے، حادثہ کی خبر سنتے ہی اسپتال آگئے۔ ڈاکٹر مترا، اسپتال کے ریزیڈنٹ مڈیکل آفیسر (RMO) تھے، انہوں نے ابتدائی مرہم پٹی کردی، ایک رات کے بعد والد کو ہوش آگیا، ہاتھ اور پاؤں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو ڈاکٹر مقبول نے اتنی خوبی سے جوڑا کہ دو مہینے کے اندر بھلے چنگے ہوکر چلنے پھرنے لگے۔ اس دوران میں موسیٰ صالح جی اور ڈاکٹر صاحب ہر روز گھر آتے اور مریض کو دیکھتے رہے۔ اس لطف و عنایت سے ڈاکٹر صاحب سے ہمارا قلبی رشتہ اور پختہ ہوا۔
1975ء میں خود میں اس بری طرح بیمار پڑا کہ جان کے لالے پڑگئے۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اپنی حکومت کو جئے پرکاش نرائن کی یورش سے بچانے کے لئے ملک میں ایمرجنسی لگارکھی تھی، مغربی بنگال میں سدھارت شنکر رائے کی حکومت تھی۔ اخبارات پر سنسرشپ لگی ہوئی تھی، ان ہی دنوں آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس کاسالانہ اجلاس کلکتے میں ہونا تھا۔ وزیر اعلیٰ سدھارتا بابو کا پورا تعاون تھا۔ انہیں سب سے زیادہ اشتیاق یہ تھا کہ کانفرنس میں کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ محمد عبداللہ کو کسی طرح بلایا جائے۔ کانفرنس کی ذمہ داری میرے کندہوں پر تھی۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے مجھے بہت زیادہ دوڑ دھوپ کرناپڑی تو عین وقت پر بیمار پڑگیا۔ ڈبل نمونیا ہوگیا۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے شیخ عبداللہ، اپنی بیگم اور مرزا افضل بیگ کے ساتھ آگئے۔ ہوڑہ ریلوے اسٹیشن پر شیخ صاحب کاایسا بے مثال پر جوش استقبال ہوا کہ بلوے اور بھگدڑ کی نوبت آگئی۔ پولیس کو ٹیر گیس چھوڑنے کے ساتھ زبردست لاٹھی چارج کرنا پڑا، شیخ صاحب کے کپڑے پھٹ گئے، اسی حالت میں رابندر سدن آگئے جہاں ان کی بچھڑی ہوئی بیگم پہلے پہنچ گئی تھیں۔ شیخ صاحب پچیس سال بعد کلکتہ آئے تھے، ایسے ہنگامہ خیز استقبال سے ناخوش نہیں تھے بلکہ اپنی مقبولیت کے زبردست مظاہرے سے مسرور تھے۔ دو تین دن سے میں تو بستر پر پڑا تھا مگر کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں جانے کے لئے بیتاب تھا، علاج ڈاکٹر مقبول صاحب کررہے تھے۔ میری حالت ایسی نہیں تھی کہ کانفرنس جانے کی اجازت دیتے لیکن میری بے قصواری اور ضد دیکھ کر ڈاکٹر صاحب اس شرط پر راضی ہوئے کہ ساتھ چلیں گے، مجھے گرم کپڑوں اور مفلر میں لپیٹ کر کانفرنس میں لے جایا گیا۔ بولنے کی ڈاکٹر صاحب نے اجازت نہیں دی۔ میر اخطبہ استقبالیہ رئیس الدین فریدی صاحب نے پڑھا وہ استقبالیہ کمیٹی کے جنرل سکریٹری تھے۔ کانفرنس کی تھکان سے بیماری نے زور پکڑا اور اچھا ہونے میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ لگ گیا۔ ڈاکٹر صاحب پوری توجہ سے علاج کرتے رہے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ دوسرے ڈاکٹر کو دکھایاجائے مگر میں نے کہہ دیا کہ مرنا جینا خدا کے ہاتھ میں ہے علاج ڈاکٹر مقبول صاحب ہی کریں گے۔
ڈاکٹر صاحب سے ہمارے گھریلو تعلقات دن پر دن گہرے ہوتے گئے۔ علاج معالجے کے علاوہ اپنے اپنے نجی معاملات میں ایک دوسرے پراعتماد اور اخلاص کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے لگے۔ڈاکٹر صاحب کامعمول تھا کہ فجر کی نماز پڑھ کر ہواخوری کے لئے باہر نکلتے، واپس آکر تلاوت کلام پاک کرتے،پھر اخباروں پر اُچٹتی سی نظر دوڑا کراسپتال یاکسی نرسنگ میں آپریشن کرنے نکل جاتے۔ مریضوں سے فرصت پاکر اخبار کی کسی بات پر یاحالات حاضرہ پر ڈاکٹر صاحب کو کچھ کہنا سننا ہوتا تو فون کرتے اپناخیال ظاہر کرتے، کوئی اختلاف رائے ہوتا تو فون پر ہی تھوڑی سی بحث ہوجاتی،نوک جھونک ہوتی تب بھی رنجش نہیں ہوتی تھی۔ ملک و قوم کے حالات و معاملات پر ڈاکٹر صاحب کی گہری نظر تھی۔ ملت کے مسائل و مصائب سے بہت زیادہ فکر مند رہتے تھے۔
ملک میں ایمرجنسی لگے ہوئے دوسرا سال تھا،دہشت اور غصے کاہرسو ماحول تھا۔ وزیراعظم اندرا گاندھی مارچ 1976ء میں کلکتے آئیں، بریگیڈ میدان میں بہت بڑے جلسے کو خطاب کیا۔ اندرا گاندھی کے کلکتے آنے سے پہلے وزیر اعلیٰ سدھارت شنکررائے نے مجھے بلاکر کہا کہ مسلمانوں کے مسائل پر وزیراعظم سے وفد کی شکل میں ملنا چاہئے۔ ابھی وہ مختار کل ہیں جو چاہیں کرسکتی ہیں۔ طے پایا کہ مسلم وفد کی قیادت، ریاستی وزیر ڈاکٹر زین العابدین کریں گے اور وزیر اعظم کو میمورنڈم دیاجائے گا۔ میمورنڈم تیار کرنا میرے ذمے ہوا۔ وقت بہت تنگ تھا، اسلامیہ اسپتال ہی کے کمرے میں بیٹھ کر میں نے اردو میں میمورینڈم لکھ ڈالا، اب اسے انگریزی زبان میں کرنا تھا۔ڈاکٹر مقبول صاحب کو میمورنڈم دکھایا تو بہت متاثر ہوئے اور اسی وقت کاغذ قلم سنبھال کے بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر صاحب کی انگریزی معیاری تھی،ڈیڑھ دو گھنٹے میں ترجمہ مکمل کرکے میمورنڈم تیار کرلیا۔ اس میں مسلمانوں کی امن و سلامتی کے مسئلے کے ساتھ ان کی اقتصادی اور تعلیمی بدحالی کابیان تھا۔ پرزور الفاظ اور دلیلوں کے ساتھ مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کامطالبہ رکھا گیا تھا۔ پچھڑے ہوئے مسلمانوں کو ریزروشن دینے کی مانگ پر یہ پہلی آواز تھی جو مغربی بنگال سے اٹھی۔
اندرا گاندھی، میدان کے جلسے سے راج بھون آئیں تو ہمارا وفد جس میں سات آٹھ لوگ تھے، وزیراعظم سے ملا، وفد میں ڈاکٹر مقبول احمد بھی تھے اور ڈاکٹر زین العابدین سربراہی کررہے تھے۔ اندرا گاندھی کے ساتھ سدھارت شنکررائے اور کانگریس کی خاتون لیڈر پورابی مکھرجی بیٹھی تھیں۔و فد سے شروع میں بھی میں نے کہہ دیا تھا کہ میں نہیں بولوں گا، آپ لوگ بولیں۔ ایڈیٹر کی حیثیت سے ہماری ملاقات اور بات وزیر اعظم سے اکثر ہوتی ہے، آپ لوگوں کے لئے یہ پہلا موقع ہے۔ ڈاکٹر زین العابدین نے میمورنڈم، اندراجی کو پیش کیا، ایک نظر میمورنڈم پر ڈال کر اندراجی نے کہا! اسے بعد میں پڑھوں گی، جو کہنا ہے زبانی کہئے۔ ڈاکٹر زین العابدین نے جیسے ہی انگریزی میں بولنا شروع کیا تو اندرا جی نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ آپ تو وزیر ہیں،ان لوگوں کو بولنے دیجئے، چند لمحے تک کوئی نہیں بولا تو سدھارتا بابو نے آنکھ سے مجھے اشارہ کیا۔ اندرا جی انگریزی سننے کی منتظر تھیں۔ میری زبانی شستہ لکھنوی اردو سنی تو پوری طرح متوجہ ہوگئیں۔ میمورنڈم اردو میں میرا لکھا ہوا تھا اس کے سب نکات ذہن میں محفوظ تھے میں نے ترتیب وار سب ہی گوشوں پر روشنی ڈالی، میری تائید میں ڈاکٹر مقبول صاحب نے بھی پورا زور خطابت لگادیا۔ اندرا جی ہماری باتوں اور دلیلوں سے کافی متاثر بلکہ قائل معلوم ہونے لگیں، سدھارتا بابو سے کہا: ان لوگوں کو لے کر دہلی آئیے۔ میں وزارت قانون کے لوگوں کو بلا کر ان کے سامنے بات کروں گی کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لئے آئین میں کیسی ترمیم ضروری ہوگی۔ وفد کی ملاقات اندرا جی کے ساتھ گھنٹہ بھر سے زیادہ چلی، وہ بہت اچھے موڈ میں تھیں خوب کھل کر باتیں کرنے لگیں۔ بقول ڈاکٹر زین العابدین: ’’وزیراعظم صاحب کو ہم اتنا کھوسی(خوش) کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
اندرا جی سے مسلم وفد کی بات کلکتے میں ہوئی اور اسی جگہ ختم ہوگئی، روایت کے مطابق نشستند، گفتند برخواستند! آگے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ہاں، اندرا گاندھی نے کئی سال بعد اتنا ہی کہا کہ ڈاکٹر گوپال سنگھ کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی پینل،مسلمانوں کے حالات کاجائزہ لینے کو بنادیا، پینل نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی سفارش کی جسے حکومت نے لوہے کے صندوق میں بند کرکے سرکاری تہہ خانے میں ڈال دیا جسے اب جسٹس رنگاناتھہ مشرا کمیشن کی رپورٹ، مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی وجہ سے دفن کی ہوئی ہے۔ بہرحال اتناتو ہوا کہ مسلمانوں کو رویزرویشن دینے کا چرچا اب ہرسو ہے وہ دن کبھی توآئے گا جب مسلمان منظم ہوکر اپنے زور بازو سے ریزرویشن کاحق پاکر رہیں گے۔ ڈاکٹر مقبول احمد کی روح خوش ہوگی کہ جس مہم کاآغاز36 برس پہلے (1976ء) مغربی بنگال میں ان کے ہاتھوں ہوا تھا وہ آج کامیابی کی دہلیز پر ہے،ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہنے والے اس ہمدرد انسانیت ڈاکٹر کی حق مغفرت کرے جو اپنے وطن سے سات سمندر پار دور دیار غیر میں ابدی نیند سورہا ہے۔
مسلمانوں کو سربلند اور معزز دیکھنے کی تمنا ڈاکٹر مقبول احمد کو بہت زیادہ تھی، زندگی کے آخری دنوں تک اسی آرزو کے ساتھ جیتے اور کام کرتے رہے ۔ ہم میں وہ نہیں رہے تو ان کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔ حق گوئی اور بے باکی، اخلاص و دیانت داری، ملت و انسانیت کے لئے ان کی وہ تڑپ اور جگر سوزی، معاشرتی تہذیب و شائستگی، وضع داری اور بردباری کاوہ نمونہ۔ یہ سب خوبیاں تھیں جانے والے میں۔ دفن ضرور دیار غیر میں ہوئے کہ مٹی وہیں کہ لکھی تھی مگر ہمارے دلوں میںآج بھی ان کی یاد زندہ ہے۔ ایسی ہستیاں کیا بھولنے والی ہوتی ہیں یا ان کی یادیں کبھی مرا کرتی ہیں!

(ڈاکٹر مقبول احمد کل ہند مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر اور ریاستی مشاورت کے پہلے صدر تھے۔ محترم احمد سعید ملیح آبادی سے ان قربت اور دوستی تھی۔ عبدالعزیز)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close