شخصیات

پروفیسر سہیل احمد خان:  کچھ یادیں کچھ باتیں

مرحوم اکابرین ملت، بزرگان دین،صوفیاء کرام،اولیا ء اللہ کی دل سے قدر کرتے، ان کی زندگی کے واقعات دلچسپ انداز میں بیان کرتے

رضوان احمد اصلاحی

(امیر مقامی جماعت اسلامی ہند،پٹنہ)

۲۷؍جنوری۲۰۱۸ء کو ۱۱؍بجے دن میں مگدھ یونیورسیٹی کے سابق وائس چانسلر جناب میجر بلبیر سنگھ بھسین سے ملاقات کی غرض سے کنکنڑباغ(پٹنہ) جانا ہوا،موصوف سے ملاقات کے بعد خیال آیا کہ بغل ہی میں جناب سہیل احمد خان صاحب رہتے ہیں بیمار ہیں، کیوں نہ چل کرخیرت معلوم کرلی جائے۔ اگلے ہی لمحہ ہم اوربرادر محمد انور موصوف کے دروازے پر حاضر ہوگئے۔ مکان کے گراؤنڈ فلور پر ایک مولوی نما نوجوان قرآن پڑھ رہا تھا،جو اہل خانہ کی خیریت بتانے سے قاصر تھا، اس طرح بے موقع ایک اجنبی شخص کا قرآن پڑھنامیرے ذہن ودماغ کو نہ جانے کہاں کہاں کی سیرکرارہا تھا، سیدھے فرسٹ فلور پر پہنچا،بیل بجایا، کوئی جواب نہیں ملا تومزید گھر  کے اندرکی جانب بڑھنے کی کوشش کی اتنے میں ایک خاتون نظر آئیں، میں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیے بغیر پوچھا آپ کون؟کہاں سے آئے ہیں ؟میں نے ایک ہی جھٹکے میں اپنا تعارف کراتے ہوئے پوچھا کہ سہیل خان صاحب کیسے ہیں ؟ وہ بے چاری بغیرکسی تامل اور تاخیر کے بول پڑیں ’’ان کا انتقال ہوگیا‘‘۔ہم نے بلند آواز میں بدحواسی کی کیفیت میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ فوراً اس خاتون نے مجھے تنبیہ کی کہ آہستہ بولیے ممی کو معلوم ہوجائے گا۔ میں نے کہا کہ آپ کون ؟یہ خبرآپ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا کہ فیصل (سہیل خان صاحب کے چھوٹے صاحبزادے)کا ابھی ابھی فون آیا ہے،میں فیصل کی اہلیہ ہوں۔

مجھے یقین ہوگیا کہ یہ خبر صحیح ہوگی، ہم اُلٹے پاؤں واپس لوٹے اور ہوسپٹل جانے کا ارادہ کیا اور راستے ہی سے دفترجماعت میں سلطان احمد صدیقی صاحب کو فون کر کے اطلاع دی اور دوسرا فون برادر راشدنیر صاحب کوملایا، میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی انہوں نے کہا کہ ہاں فیصل کا فون میرے پاس آگیا ہے،مجھے اطلاع مل گئی ہے، راشدبھائی کا یہ جواب خبر کی تصدیق کے لیے کافی تھا،اس دوران میں نے دو تین لوگوں کو مزید یہ افسوسناک خبردی۔ لیکن جیسے ہی ہم لوگ ہوسپٹل پہنچے یہ خوشخبری ملی کہ انتقال نہیں ہوا ہے، یہ خبر غلط ہے، ایک طرف بے حد خوشی ہوئی، موصوف کے لیے لمبی عمر اور صحت وعافیت کی دعاء دل سے نکلی، دوسری طرف بے حد افسوس ہوا کہ ایک زندہ شخص کے بارے میں میری زبان سے موت کی خبر کیوں کسی کوملی؟اس غلطی پر احساس جرم کا شکار ہوگیا۔کچھ ہی لمحہ میں CCUوارڈ میں وینٹی لیٹر پر محترم سہیل احمد خان کو دیکھاتو خوشی اور غم کی کشمکش میں نہ جاننے کیا کیا دعائیں نکلیں، مشین کی مدد سے اتنی لمبی لمبی سانس چل رہی تھی کہ موت وہاں پھٹک نہیں سکتی تھی، آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کہہ رہے ہوں، مریض کا حال اچھا ہے، مولانا آپ بتائیے کیسے ہیں ؟،ہوسپٹل سے آتے ہیں، تو چلیں گے ارجن منڈا جیل میں لالوجی سے ملنے، مرکزجماعت سے کوئی آنے والا ہے ؟سوامی جی (مولانا فاروق خان) کے لیے ستو بھیجوانا ہے،امیرجماعت اور قیم جماعت پٹنہ آئیں تو گھر کا افتتاح کرانا ہے۔تین نام کے آدمی (ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ) بہت دنوں سے پٹنہ نہیں آئے ہیں، ایک مرتبہ بلائیے، سردی ختم ہورہی ہے ایک دن گھرآئیے گیا سے تلکٹ منگوایا ہے،ہم نے ہاتھ پکڑا،سرپر ہاتھ پھیر،اکہیں سے کوئی حرکت نظر نہیں آرہی تھی،ایسا لگا جیسے زیر لب یہ مصرعہ گنگنارہے ہوں۔

جب تک تھا دم میں دم نہ دبے آسما ں سے ہم

اتنے میں خیا ل آیا کہ ہم مریض کے پاس بہت دیررک گئے ہیں، فوراً واپس لوٹا۔دن بھرہوسپٹل میں رہے۔ اس دوران خیریت معلوم کرنے والوں، موت کی تصدیق وتردید کی خبر جاننے والوں کے فون کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ قائم ہوگیا،محترم قیم جماعت جناب محمد سلیم انجنیئرصاحب،جناب محمد جعفر صاحب، شبیر عالم خان صاحب، ارشد اجمل صاحب، جناب نصیر الدین خان صاحب وغیرہ کا فون ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ آیا۔اس دوران ڈاکٹر احمد عبد الحئی صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ایک ذمہ دار ڈاکٹر، اور ہوسپٹل مالکان کی حیثیت سے بہت ہی محتاط انداز میں سنبھل سنبھل کر بتایا کہ، ایسے وقت ہم لوگ تیمارداروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آخری سانس گھر میں لینا ہے تو لے جائیں، ورنہ ہوسپٹل میں جیسا علاج چل رہا ہے، کم وبیش ایسے ہی علاج چلے گا،میں نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا ڈاکٹر صاحب تھوڑی دیر کے لیے مشین ہٹاکر دیکھتے؟ڈاکٹر صاحب کا جواب ملا وینٹی لیٹر علاج کا حصہ ہے،اس حالت میں اسے ہٹایا نہیں جاتا۔ مریض کے دونوں صاحبزادگان اقبال احمد خان اور فیصل احمدخان کو اجتماعی طور پر ڈاکٹر صاحب کے ریمارکس بتاکر گھرکو ایسے لوٹے جیسے کچھ کھوگیا ہو،کچھ گم ہوگیاہو، کوئی ساتھ تھا پیچھے رہ گیا۔ کسی کو فون کرنے کی ہمت اور جرأت ختم ہوچکی ہو۔ رات سویا لیکن رات بھر یاد نہ رہنے والا خواب دیکھتا رہا،فجر سے بہت قبل آنکھ کھل گئی،اللہ سے دعاء کی کہ ایک زندہ شخص کے بارے میں میری زبان سے موت کی خبرکئی لوگوں تک پہنچی ہے،لہذاائے بارالہا!جناب سہیل احمدصاحب کوتو اپنی قدرت کاملہ سے صحت وعافیت کے ساتھ ایک لمبی عمر عطاکر!مجھے لگا کہ اس غلطی کا کفارہ یہی دعاء ہوسکتی ہے۔ فجرکے بعدرات کی ا دھوری نیندکی تکمیل کے لیے دوبارہ لیٹ گیا،اس دوران محترم قیم جماعت جناب محمد سلیم صاحب اورسابق قیم جماعت جناب محمد جعفر صاحب کا فون آیا، ان دونوں برزگوں سے تفصیلی گفتگو ہوئی، گذشتہ کل کی مکمل روداد فون پر سنایا،ان لوگوں نے کہاکہ آج کی تازہ صورتحال بتاؤ؟اقبال خان کو فون لگایا، انہوں نے رسیو نہیں کیا، راشد نیرصاحب کا فون بندتھا، تھوڑی ہی دیر میں راشد بھائی کافون آگیا، ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی ہے،ہم نے کہا ’’دودوھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے ‘‘بولے رات میں ہوسپٹل ہی میں رک گیا تھا، ڈاکٹر وں نے کہا کہ لاش لے جاؤ،لاش لانے کی تیاری ہورہی ہے!اب اُمید کی کوئی کرن باقی نہیں رہی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ سہیل احمد خان صاحب مذکورہ شعر کا دوسرا مصرعہ بھی گنگناچکے ہیں۔

جب دم نکل گیا تو زمیں نے دبا لیا

سہیل احمد خان صاحب پٹنہ سے 70کیلومیٹر کے فاصلے پرباڑھ سے قریب ’’کھجورار‘‘بستی کے رہنے والے تھے۔ یہ راجپوت اورپٹھانوں کی ایک معروف بستی ہے۔ان کے والد عبد الحمید خان مرحوم گاؤں کے معروف زمیندار تھے،مرحوم کے داداکانام نادر علی خان تھا،مرحوم دو بہنیں اورچار بھائی تھے، تقسیم ملک کے بعد یہ سارے بھائی بہن بھی میراث کی طرح دونوں ملکوں میں برابر تقسیم ہوگئے، بڑے بھائی جناب الیاس احمد خان اورسب سے چھوٹے بھائی جناب فضل احمد خان اورایک بہن مطیفہ خاتون کراچی چلی گئیں اور دوبھائی جناب سہیل احمد خان صاحب و جناب طفیل احمد خان اوربڑی بہن عطیفہ خاتون یہیں رہ گئیں اور اب طفیل احمد خان صاحب آسنسول میں مستقل قیام پذیر ہیں۔ قدرت کی اور اچھوتی تقسیم دیکھیے کہ سہیل احمد خان کے انتقال کے ساتھ ہندوستان میں بھی ایک بہن اور ایک بھائی کا انتقال ہوگیا اور پاکستان میں بھی ایک بھائی اور بہن کا انتقال ہوگیا۔اب وہاں بھی ایک بھائی ہیں اور یہاں بھی صرف ایک بھائی بقید حیات ہیں۔

پروفیسرسہیل احمد خان صاحب پٹنہ سے 70کیلومیٹر کے فاصلے پرباڑھ سے قریب ’’کھجورار‘‘بستی کے رہنے والے تھے۔ یہ راجپوت اورپٹھانوں کی ایک معروف بستی ہے۔ان کے والد عبد الحمید خان مرحوم گاؤں کے معروف زمیندار تھے،مرحوم کے داداکانام نادر علی خان تھا،مرحوم دو بہنیں اورچار بھائی تھے، تقسیم ملک کے بعد یہ سارے بھائی بہن بھی میراث کی طرح دونوں ملکوں میں برابر تقسیم ہوگئے، بڑے بھائی جناب الیاس احمد خان اورسب سے چھوٹے بھائی جناب فضل احمد خان اورایک بہن مطیفہ خاتون کراچی چلی گئیں اور دوبھائی جناب سہیل احمد خان صاحب و جناب طفیل احمد خان اوربڑی بہن عطیفہ خاتون یہیں رہ گئیں اور اب طفیل احمد خان صاحب آسنسول میں مستقل قیام پذیر ہیں۔ قدرت کی اور اچھوتی تقسیم دیکھیے کہ سہیل احمد خان کے انتقال کے ساتھ ہندوستان میں بھی ایک بہن اور ایک بھائی کا انتقال ہوگیا اور پاکستان میں بھی ایک بھائی اور بہن کا انتقال ہوگیا۔اب وہاں بھی ایک بھائی ہیں اور یہاں بھی صرف ایک بھائی بقید حیات ہیں۔

مرحوم سے میری پہلی ملاقات 2006میں ہوئی،گاندھی میدان کی سرکاری رہائش گاہ پر،یقینا ساتھ میں ضیاء القمر صاحب ہوں گے یا شوکت علی صاحب، جنہوں نے میرا تعارف کرایا ہوگا۔بہر حال جہاں بیٹھایا گیا تھا وہ بیڈروم تھایا ریڈنگ روم آج تک میں فرق نہیں کرسکا،ایک سنگل بیڈ لگاہواتھا جس پر کئی موٹی پتلی،ادبی ودینی کتابیں پڑی ہوئی تھیں، اس کے علاوہ، کھڑکیوں پر، الماریوں پر جہاں تہاں بے ترتیب کتابیں رکھی ہوئی تھیں، ہم سمجھنے سے قاصر رہے کہ کسی سیاسی لیڈر کا گھر  ہے یا کسی ریسریچ اسکالر کا۔وہیں سرہانے میں مٹھائی کا ڈبہ تھا، موصوف ہم لوگوں کی طرف اپنے ہاتھوں سے ڈبہ بڑھاتے ہوئے مٹھائی کی خوبیوں اور اس کی صفات بتابتاکر ترغیب دلارہے تھے،ایک مٹھائی کھانے کے بعدبولے کاہو!کیسا لگا،بہت اچھا ! اور لیجئے،کھانے سے زیادہ کھلانے کا شوق تھا۔

سہیل احمد خان صاحب وسیع روابط کے آدمی تھے،ہرسطح اور ہرطرح کے لوگوں سے ان کے گہرے تعلقات تھے،اس تعلق میں چھوٹے بڑے کی کوئی تفریق نہیں تھی، نہ ہی مذہب ومسلک کی بندش، نہ ہی ادارے، تنظیم اور پارٹی کا بیریر، بلکہ ہر ملاقاتی سے یوں ملتے اورایسے تعلق استوار رکھتے تھے کہ وہ شخص سمجھتا تھا گویا سب سے زیادہ سہیل صاحب ہم ہی سے محبت کرتے ہیں، چنانچہ اس کی زندہ مثال جنازے میں شریک غم گساروں میں دیکھی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کی ہر بڑی واہم جماعتوں اور مسلک کے لوگ شریک تھے،جنازے کے ساتھ چلنے والوں میں سیاسی لیڈران بھی تھے، مذہبی رہنماء بھی، افسران بھی تھے اور سماجی کارکنان بھی، صحافی بھی تھے اور ادیب بھی، ہندوبھی تھے اورمسلمان بھی۔سبھوں کے اظہار غم کے الفاظ اور جملے الگ الگ تھے البتہ کیفیت جو کہ دیکھی نہیں محسوس ہی کی جاسکتی ہے تقریباًیکساں تھی۔

میں اس محبت کا کچھ زیادہ ہی معترف ہوں۔ جب 2007میں جماعت اسلامی ہندپٹنہ شہر کی امارت مقامی کی ذمہ داری میرے سرآئی تو مجھے جماعتی ضرورت کے تحت مرحوم سے کچھ زیادہ ہی سابقہ پیش آیا، یوں بھی مقام سے لیکر حلقہ اور حلقہ سے لیکر مرکزتک جماعت اور ذمہ داران جماعت کے کام آتے اور یہ سلسلہ طالب علمی کے زمانے سے تادم آخر جاری رہا،چونکہ سہیل احمدصاحب طالب علمی کے زمانے میں رمنہ روڈ پٹنہ میں واقع دفتر جماعت میں مقیم تھے، ا س دوران جماعت کی خدمت انجام دینے کا موقع ملا ہوگا، یقینا اکابرین جماعت سے بار بار ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ہوگا۔ مرحوم خود بتایا کرتے تھے کہ رمنہ روڈ میں جماعت کا دفترتھا،مرکزی ذمہ داران آتے یا آنے کی خبر ہوتی توانٹیلیجنس والوں کا تانتا بندھ جاتا،خفیہ محکمہ کے کئی افسران نے مجھے بلا کر کہا لڑکے! اپنا کیریر کیوں برباد کررہے ہو، لیکن ایسا جنون تھا کہ ہم باز نہیں آسکتے تھے۔ جماعت سے تعلق کے ثبوت میں گاہے بگاہے ہم سے بھی اور کئی لوگوں سے بھی انہوں نے اپنایہ واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ سہیل! جماعت اسلامی میں کیا ملے گا، امارت شرعیہ میں آجاؤ، تمہیں مناسب کام دیتے ہیں۔ سہیل صاحب بیان کرتے ہیں کہ ’’ برجستہ میری زبان سے نکلا ’’ ہم جماعت اسلامی کے ہینگ کھائے ہوئے کبوتر ہیں، دن بھر ادھراُدھر رہیں گے شام میں جاکر وہیں بیٹھیں گے‘‘۔ قاضی صاحب نے فرمایا چھوڑوبھائی سہیل کو، ان کو جماعت اسلامی ہی میں رہنے دو!

ابھی دوسال پہلے نوادہ میں فساد ہوا،فسادکے بعد متاثرین کی خبر گیری اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے انہوں نے دینی ملی جماعتوں کو جمع کیا۔ جماعت اسلامی ہند بہارسے امیر حلقہ جناب نیر الزماں صاحب کے ہمراہ راقم اور امارت شرعیہ سے مولانا انیس الرحمن صاحب ناظم امارت شرعیہ کے ہمراہ برادرافتخار نظامی صاحب، جمیعت علماء بہار سے جناب حسن احمد قادری صاحب اورغالباً ادارہ شرعیہ کے ناظم الحاج سید ثناء اللہ رضوی صاحب تھے، متعینہ وقت پر سب لوگ شہر کے باہر مقررہ مقام پر جمع ہوگئے، سہیل صاحب کے پاس گاڑی نہیں تھی۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس گاڑی میں بیٹھیں گے، انہوں نے کہا ہم تو جماعت اسلامی ہی کی گاڑی میں بیٹھیں گے۔جب ہم لوگ چلے تو نوادہ پہنچنے پر جگہ بہ جگہ ہم لوگوں کی گاڑی پولس والے رکواتے مولانا انیس الرحمن صاحب اس وقت ریاستی حج کمیٹی کے چیر مین بھی تھے، اس لئے ان کی گاڑی میں لال بتی لگی ہوئی تھی، مولاناکی گاڑی بلا روک ٹوک چلتی رہی، اس پر برجستہ سہیل صاحب کی زبان سے نکلا’’ مولانا کو اسلام ر اس آگیا۔‘‘

 سہیل احمد خان صاحب ہی پہلی دفعہ مجھے لالوپرساد کے یہاں لے گئے،شیوانند تیواری کے یہاں ان ہی کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا،سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا اورسابق وزیرڈاکٹر بھیم سنگھ، کمیونسٹ لیڈردیپانکر بھٹا چاریہ اور تنویر احمد صاحب ایم ایل سی کے گھر جاکر ملاقات کا شرف مرحوم کے ہمراہ حاصل ہوا اور بھی بہت سارے لوگوں کے یہاں ان کے ساتھ جاناہوا،جانے سے پہلے ہدایت کرتے قرآن کا ہندی یا انگریزی ترجمہ لے لیجئے گا اور فلاں کتاب بھی رکھ لیجئے گا۔ گھر سے جیسے ہی نکلتے راستے میں کہیں چنا اور بھونا خریدتے اور جیب میں بھرلیتے، کھاتے اور کھلاتے اور کہتے ہم لوگوں نے یہی چناکھاکر جماعت کا کام کیا ہے۔

 مرحوم اکابرین جماعت سے غیر معمولی عقیدت ومحبت رکھتے تھے،جماعت اسلامی ہند کے پہلے امیرمولانا ابواللیث اصلاحیؒ،دعوت اخبار کے سابق ایڈیٹر مولانا محمد مسلمؒ صاحب،سابق قیم جماعت افضل حسینؒ صاحب، سابق امرائے حلقہ جات انیس الدینؒ صاحب اورڈاکٹر ضیاء الہدیٰؒ صاحب سے دیرینہ تعلق کا بین ثبوت یہ ہے کہ ہر عید الاضحی کے موقع پر ان بزرگوں کے نام سے قربانی کرواتے تھے۔ مولاناابو اللیث صاحبؒسے احترام کے ساتھ شوخی کا تذکرہ شبیر عالم خان صاحب نے بھی کیا ہے، کئی مرتبہ انہوں نے اس واقعہ کوہم لوگوں کو خودبھی سنایاکہ پٹنہ میں ایک مرتبہ مولانا کی چھڑی ٹوٹ گئی، میں نے  پٹنہ جنکشن سے ایک اچھی سے چھڑی لاکردیتے ہوئے کہا لیجئے مولانا بہار ہی آپ کو سہاردے سکتا ہے۔مولانا نے بھی برجستہ جواب دیا سہیل! سہارا بھی تو بہار میں ہی ٹوٹتا ہے۔ بلکہ ایک اور واقعہ سنا یا کہ مولانا پٹنہ کسی پروگرام میں شرکت کے لیے آئے تھے اچانک سینے میں کچھ تکلیف محسوس ہوئی، مولانا کچھ پریشان ہوئے۔ سہیل صاحب نے کہا چلئے آپ کو ڈاکٹر سے دکھاتے ہیں، ڈاکٹر محب صاحب کے پاس لے گئے اور ڈاکٹر صاحب کو پہلے سے کہہ دیا کہ جب مولانا آئیں تو آپ کہیے گا’’ آپ کا دل تو ٹھیک کام کررہا ہے،بلکہ یہ تو کسی شیر کا دل معلوم ہوتا ہے‘‘۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے بھی کچھ اسی طرح کی باتیں کہیں تو مولانا نے کہا یہ سہیل کا حربہ ہے۔

        اکابرین جماعت سے ان کی عقیدت ومحبت غیر معمولی تھی جب بھی مرکز جماعت دہلی سے ذمہ داران آتے تو ضرور اپنے گھر کھانے کی دعوت کرتے، پٹنہ چڑیا خانے کے صدر دروازے کے قریب سے گذرتے ہوئے معروف ہوٹل لے جاتے اور دہی چوڑا کھلاتے۔ اجمیر درگاہ کے صدر ہوئے تو اجمیر دورہ سے جب بھی پٹنہ لوٹتے فون کرکے بہ اصرار بلاتے اوراجمیر کی مٹھایاں کھلاتے، کبھی کسی کام سے ان کے گھر جانا ہوتا اور کھانے یا ناشتے کا وقت رہتا تو لازماً ایک روٹی ہی سہی ضرور اصرار کرکے کھلاتے۔احترام اورعزت کے انوکھے طریقے اختیار کرتے۔ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی مہم کے دوران شہر میں ہی ان کے ساتھ مختلف شخصیتوں سے ملنے نکلے، دوران سفر ہی میں کسی کام سے ’’گاندھی میدان کی رہائش گاہ‘‘ پرآئے، بولے کپڑا بدل لیں ؟ہم نے سوچا کپڑا بدلنے میں وقت  لگائیں گے، اس لیے میں نے کہا رہنے دیجئے، چلے گا، تھوڑی دیر رکے اورکچھ ہی دیر میں چلنے کے لیے تیار ہوکر باہر نکلے بولے’’اہلیہ کہہ رہی تھیں کپڑا بدل لیجئے، لیکن میں نے کہا نہیں کپڑا نہیں بدلوں گا۔بیوی کی بات ماننا ضروری نہیں ہے، امیر کی بات ماننا ضروری ہے۔

 گرچہ یہ باتیں انہوں نے میری دلجوئی کے لیے کہی تھیں، ورنہ وہ بھی جانتے تھے اور ہمیں بھی معلوم تھا کہ ان امور کا ’’اطاعت امر‘‘جیسی بھاری بھرکم اصطلاح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

موجودہ ذمہ داران جماعت سے بھی گہرے مراسم تھے۔ خود میری معرفت جناب مولانا فاروق خان صاحب،جن کو مرحوم ’’سوامی جی‘‘ کہتے تھے، ستو،بھونا کا تحفہ بھیجوایا کرتے تھے، اسی طرح مولانا سید جلا ل الدین عمری صاحب امیر جماعت، قیم جماعت، سابق قیم جماعت نصرت علی صاحب،جناب اقبال ملاّ صاحب، پروفیسر صدیق حسن صاحب سے تو نہ جانے کتنی محبت وعقیدت رکھتے تھے۔

ملت کادرد اور ملی اداروں اورتنظیموں سے تعلق کی نوعیت کیسی تھی وہ ملی اداروں، تنظیموں کے ذمہ داران اور ملی شخصیات بخوبی بتاسکتے ہیں، خواہ وہ جماعت اسلامی ہند ہوکہ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ،جمیعت علماء بہار ہو کہ ادارہ شرعیہ بہار، خانقاہ منعمیہ ہوکہ بہار رابطہ کمیٹی۔ بہار کے یہ اورا سطرح کے دیگر اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر ملت کے چھوٹے بڑے کئی نمایاں کام انجام دئے،اس کی گواہی ان کے ذمہ داران دیں گے۔ اسی طرح ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن نئی دہلی کے ٹرسٹی ہونے کے ناطے ٹرسٹ کے بینر تلے تاحیات اپنی خدمات انجام دیتے رہے،جب اجمیر درگاہ کے صدر بنائے گئے تو درگاہ کی فلاح وبہود اور تعمیر وترقی میں غیر معمولی رول ادا کیا،نئے منصوبے اور اسکیمیں وضع کیں اور اس کے عملی نفاذ کی کوششیں کیں۔

لگاتار کئی میقات ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین کے عہد ہ پر فائز رہے، اس دوران کمیشن کے تحت بہارکی اقلیتوں کی تعلیمی، سماجی، اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کی کئی کوششیں کیں، جن میں آدری کی رپورٹ بطور خاص قابل ذکر ہے۔ کسی ڈپارٹمنٹ یاکمیشن کے افسر شاید ہی متعلقہ شعبہ کے سیاسی یاسرکاری نمائندے ’’صدر یا چیر مین‘‘ کی خدمات اور کردار کی ستائش کرتے ہوں، لیکن سہیل صاحب کے ساتھ جناب منصور احمد اعجازی سرکاری افسر کی حیثیت سے تھے، آج بھی مرحوم کی خدمات اور اخلاق وکردار کی تعریف میں رطب اللسان نظرآتے ہیں۔

ملت اور ملی کاموں کے تعلق سے سہیل احمد خان صاحب کے جنون کا اندازہ لگانے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ آرجے ڈی خیمہ میں جب سہیل صاحب پہنچتے تو ہندومسلم لیڈران بشمول لالویادوسب مرحوم کو سہیل صاحب آگئے کہنے کے بجائے محمڈن آگئے کہتے۔یعنی اب وہ صرف مسلمانوں کی بات کریں گے۔عہدہ سے سبکدوش ہونے کے کئی سال بعد ایک مرتبہ مرحوم کے ساتھ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا، سابق وزیر اعلی ٰ بہار کے یہاں جانا ہوا، مشرا جی نے سہیل صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا،اقلیتی کمیشن کا کیا حال ہے؟ سہیل صاحب نے جواب دیا، اب تو ہم کمیشن میں ہیں نہیں، تو کیا بتائیں، مشرا جی نے کہا ہم تو تم ہی سے پوچھیں گے۔

سہیل احمد خان کی شخصیت ہمہ جہت تھی وہ بیک وقت ملی بھی تھے اور مذہبی، سماجی بھی اور سیاسی بھی، علمی بھی تھے اور عملی بھی۔ ان سب پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی جاسکتی ہے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ وہ سیاست کے گلیاروں میں رہتے ہوئے بھی بشمول آرجے ڈی کسی بھی سیاسی پارٹی کے باقاعدہ کاغذی ممبر نہیں تھے،یقینا راجد سے قریب ہی نہیں بلکہ ایک سرگرم اور فعال ورکرکی حیثیت سے کام کرتے رہے،،لالوپرساد،رابڑی دیوی، شیوانند تیواری وغیرہ سے نہایت ہی گہرے تعلقات تھے بنابرین ایک طویل عرصہ تک اقلیتی کمیشن کے چیرمین بھی رہے۔ لیکن دیگر پارٹیوں کے لیڈران سے بھی وسیع تعلقات اور روابط استوار تھے، ان کا تعلق اور ربط بے مقصد، خوش گپی، تنقید اور تنقیص کے لیے بالکل نہیں تھا،اس کو بامقصد ہی نہیں بلکہ اعلیٰ و وارفع مقصد اس معنی میں کہنا چاہیے کہ وہ اپنے روابط کے سارے لیڈران کو قرآن اور اسلام سے متعلق بنیادی لٹریچر دے کر بہ اصرار پڑھنے کی تاکید کرتے،ہمیں ان کے ساتھ جن غیر مسلم لیڈران کے یہاں جانے کا اتفاق ہوا انہوں نے سب کو قرآن اوراسلامک لڑیچر فراہم کیا۔ مثلاً سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کے یہاں قرآن اور ’’معاشیات‘‘ کی ایک کتاب لے کرگئے، انہوں نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے قرآن لے کر آئے ہیں، مشراجی نے کہا میرے پاس تو قرآن پہلے سے ہے، اس پر انہوں نے قرآن کا تعارف نہایت مختصر میں کرایا، ان کے مزاج کا خیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا جو پسندید ہ موضوع ہے اکنامکس، اس کے سلسلے میں بطور خاص قرآن میں اس اس طرح رہنمائی کئی گئی ہے آپ ضرور پڑھئے۔ بلکہ ان سے وعدہ کرایا کہ وہ اسے اہتمام سے پڑھیں گے۔اسی طرح ڈاکٹر بھیم سنگھ، دیپانکر بھٹاچاریہ اور جن لوگوں سے ملاقات ہوتی سب لوگوں تک قرآ ن اور اسلامک لٹریچر اہتمام سے پہنچاتے۔

ایک مرتبہ مقامی جماعت پٹنہ کے تحت ’’تقسیم قرآن ‘‘ کا ایک پروگرام اہتمام کے ساتھ منعقد کیا گیا، مجھے کسی ایسے غیر مسلم اسکالر کی تلاش تھی جو خود قرآن پڑھ چکا ہو اور قرآن کی عظمت کا قائل ہو،کوئی نہیں ملا تو ہم نے سہیل احمد خان صاحب سے کہا ایک ایسے مقررکی نشاندہی کیجئے، فوراً انہوں نے پروفیسر رام پرئیے شرما جی کا نام لیا اور فون نمبر بھی دیا، جب ان سے میں ملاتو معلوم ہوا وہ تو مفسر قرآن ہیں، وہ سنسکرت اور ہندی زبان میں قرآن کی تفسیر لکھ رہے ہیں۔ پروفیسر رام پریئے شرماجی ہمارے پروگرام میں آئے بھی۔ اور اب تو ان سے گہرے مراسم قائم ہوچکے ہیں۔ ہم لوگوں نے ان کا مولانا محمد فاروق خان صاحب سے بھی ربط قائم کروادیا ہے، دونوں میں ٹیلی فون سے ’’قرآنیات اور زبان وبیان ‘‘ کے موضوع برابر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ان کی تفسیر اب پائے تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔الغرض مرحوم کو دعوتی کام سے غیر معمولی دلچسپی تھی، متعدد بار انہوں نے کہا کہ ملاّ صاحب(اقبال ملا صاحب، سکریٹری شعبہ دعوت جماعت اسلامی ہند)جو کام کررہے ہیں وہی کام کرنے کا ہے۔وہ اندرسے داعی تھے، دعوتی کام کو پسند کرتے تھے، کئی مرتبہ انہوں نے ہمیں کہا کہ ایک گاڑی خریدو! اور ہم لوگ چل کر لوگوں تک قرآن اور اسلامک لٹریچر پہنچائیں۔ ہندی کا معروف اخبار’’ آج ‘‘ کے ایڈیٹرکو اسلام اور قرآن پڑھنے کی ترغیب جناب سہیل احمد خان صاحب نے ہی دی بنابرین آج وہ ماہانہ ’’کانتی ‘‘ کے ایڈیٹر ہیں۔

جب جماعت کی کوششوں سے ویلفیر پارٹی آف انڈیا( WPI) کا قیام عمل میں آیا تو لوگوں نے سمجھا کہ سہیل احمد خان صاحب اس فیصلہ سے خوش ہوں گے اور ہو سکتا ہے کہ پارٹی کے ساتھ مل کر کام بھی کریں، ابتداً لوگوں نے ان کا نام بھی پارٹی میں رکھا، جناب قاسم رسول الیا س صاحب اورجناب مجتبیٰ فاروق صاحب سے حددرجہ عقیدت ومحبت کے باجودانہوں نے پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکارکردیا۔اپنی ناراضگی محترم امیرجماعت مولانا سیدجلال الدین عمری صاحب سے درج کراتے ہوئے کہا کہ ایک امید وار کو جیتانے میں آپ کا پورا مکتبہ بک جائے گالیکن ایک کنڈیڈٹ نہیں جیت پائے گا۔

مرحوم دفتریت اور تنظیمیت کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے، چنانچہ وہ دینی ملی جماعتوں کے تنظیمی اصول و ضوابط پر نہایت ہی بلیغ تبصرہ کرتے تھے، کہتے آپ لوگوں کے یہاں وضواتنا لمبا ہوتا ہے کہ نماز ہی چھوٹ جاتی ہے۔ وہ وضوکے قائل تھے لیکن اس میں نماز سے زیادہ وقت لگانے اور اہتمام کرنے کے خلاف تھے، کہیں ایسا نہ ہوکہ وضوہی مقصد اول اور آخر بن جائے۔ گویا مرحوم کے یہاں دین کی اقامت واشاعت کے لیے تحریک قائم ہوئی ہے، تحریک ضروری ہے، تنظیم تو تحریک کے نظم وانصرام کے لیے ہے، کہیں ایسا نہ ہوکہ ہماری ساری توجہ نظم وانصرام یعنی تنظیمیت پر رہے اور تحریک کہیں محو ہوجائے۔

جناب سہیل احمد خان صاحب نہایت ہی ذہین اوردور رس آدمی تھے، معاملہ فہمی کی صلاحیت غیرمعمولی تھی، ان کی ذہانت روزمرہ کے معمولات میں دیکھی جاسکتی ہے۔ 1979 کی بات ہے، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے انتقال پر ہندوستان سے بعض اکابرین جماعت کو جنازے میں شرکت کے لیے کراچی جانا تھا، ان میں سے بعض لوگوں کوفوری پاسپورٹ بنوانے کی ضرورت پیش آئی،ان میں ایک نام کیرالا کے جناب ٹی کے عبد اللہ صاحب کا تھا، سہیل احمد خان صاحب کو پاسپورٹ بنوانے کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب کمیونیکیشن بہت ہی دشوار تھا، اس وقت بھارت سرکار میں وزیر خارجہ جہان آباد بہار کے شیام نندن جی تھے، جن سے سہیل احمد خان صاحب کے بہت ہی گہرے مراسم تھے، وزیر خارجہ سے تصدیق اورسفارش کے بعد پاسپور ٹ آفس میں متعلقہ شخصیات کا پاسپورٹ فارم لیکر پہنچے توکاغذات دیکھتے ہی پاسپورٹ آفسر نے کہا کہ یہT. K جیسا شارٹ فارم والا نام نہیں چلے گا، پورا نام لکھیئے، وقت بہت کم تھا، سہیل صاحب کے لیے بڑی آزمائش کی بات تھی لیکن ان کی ذہانت بروقت کام آئی، بلاتاخیر انہوں نے۔ ان حروف کا فل فارم گھڑدیا اورچند گھنٹوں میں پاسپورٹ بن گیا اور یہ حضرات مولانا کے جنازے میں شریک ہوگئے۔

مرحوم اکابرین ملت، بزرگان دین،صوفیاء کرام،اولیا ء اللہ کی دل سے قدر کرتے، ان کی زندگی کے واقعات دلچسپ انداز میں بیان کرتے،اس کی دلیل تویہ بھی ہے کہ کئی مرتبہ انہوں نے خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت نظام الدین اولیا ؒ،مولانا ابوابوالاعلیٰ مودودیؒ، کے نام سے بھی عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کروائی۔

لیکن رسول اللہ ﷺ سے عشق اور محبت کا حال بہت ہی مثالی تھا،سیرت النبیﷺ کا کثرت سے مطالعہ کرتے اور مطالعہ کرواتے، جہاں کہیں سیرت پر کوئی کتاب مل جاتی ضرور حاصل کرتے، عقیدت کا عالم یہ تھا کئی پبلشرز کوبعض کتابیں شائع کروانے کے لیے مشورے بھی دئے۔ فرانس کے سابق وزیر خارجہ،معروف عیسائی اسکالر کونسٹینٹن ویرژیل جورجیو(Constantin Virgil Ghaorghiu) نے رومانیہ زبان میں سیرت پر ایک کتاب لکھی،اس کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں اور پھر فارسی میں بہت مقبول ہوا،یہ کتاب پاکستان میں فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوکر ’’عکس سیرت‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ ہندوستان میں پہلی بار ’’الرحمن پرنٹرز وپبلشرزکولکاتا سے شائع ہوئی، اس پبلشرز کو غالباً سہیل احمد خان نے ہی پہلی بارتوجہ دلائی اور شائع کرنے کے لیے اصرار کیا، جب کتاب شائع ہورہی تھی اسی وقت سہیل صاحب نے ہمیں بتایا، جب کتاب شائع ہوئی تو چارپانچ کاپی منگوائی یا پبلشرز نے خود بھیجی، جس میں سے ایک کاپی ہمیں بھی مرحوم نے دی۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے رسول اللہ ﷺکی زندگی کے واقعات کو اس زمانے کی عربی تہذیب اور معاشرت سے ہم آہنگ کرکے پیش کیا ہے، اس کے لیے مصنف دسیوں سال عرب میں رہے، عربی زبان سیکھی اور ان مقامات کی زیارت کی جن مقامات سے متعلق واقعات یا حوالے اپنی کتاب میں درج کئے ، ذخیرہ ٔ کتب سیرت میں اس کو ایک منفرد اور قابل قدر اضافہ کہا جائے گا۔

اسی طرح ماہنامہ ’’نقوش ‘‘ لاہورنے سیرت پر ایک سلسلہ شائع کیا تھا،جو بعد میں نقوش کا رسول نمبر کے نام سے کتابی شکل میں ۱۳؍ضخیم جلدوں میں شائع ہوا۔ ہندوستان میں جب پہلی بار ’’نقوش کا رسول نمبر‘‘ شائع ہوا تو سہیل احمد خان صاحب نے متعدد افراد اور لائبریریوں کو خریدنے کی ترغیب دلائی اور باقاعدہ خریدوایا۔

پاکستان سے سیرت کی ایک کتاب’’ذکرجمیل‘ ﷺ‘ نام سے شائع ہوئی، ایک مرتبہ یہ کتاب پڑھنے کے لیے دیتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کہا ’’یہ کتاب خالص قرآن کی روشنی میں سیرت لکھنے کی کوشش ہے‘‘۔ میں نے کتاب کو پڑھی، ، جس طرح مرحوم کوئی چیز کھلانے کے بعد پوچھتے ’’کیسا لگا‘‘ ویسے ہی کتاب پڑھوانے کے بعد بھی پوچھتے ’’کیسی لگی‘‘۔ اس کتاب کے بارے میں بھی پوچھا، میں نے بتایا کہ ’’دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن کی روشنی میں سیرت لکھی گئی ہے۔ لیکن مصنف اپنے دعویٰ میں کامیاب نظر نہیں آرہے ہیں۔ پھر میں نے بتایا کہ پاکستان کے جناب خالد مسعود مرحوم صاحب نے بھی سیرت کی ایک کتاب ’’حیات رسول امیﷺ‘‘ لکھی ہے، ان کا بھی دعویٰ ہے کہ قرآن کی روشنی میں لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خالد مسعود صاحب مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کے شاگرد خاص ہیں، یہ خواہش اصلاًصاحب تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کی ہی تھی، لیکن زندگی وفانہیں کرسکی۔

اس طرح ایک مخلص قائد قوم وملت،بے لوث خادم اور عاشق رسول اپنے پیچھے ہزاروں غمگساروں کو چھوڑ کر۲۸؍جنوری ۲۰۱۸ء کومالک حقیقی سے جاملا۔یقینامرحوم اب اللہ تعالیٰ کے حضور عشق رسول اور محبت رسول کے ساتھ داعی قرآن کا دعویٰ پیش کرکے جنت کا ٹکٹ حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے، تاکہ انبیاء، اولیا،بزرگان دین کی سداصحبت نصیب ہو۔

مرحوم کے پسماندگان میں ایک بیوہ محترمہ عزیزہ خاتون ریٹائرڈ ٹیچر(BNRمیں پرنسپل تھیں )کے علاوہ تین اولادیں جناب اقبال احمد خان،صوفیہ سہیل، فیصل احمد خان ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغرفت فرمائے،جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے اور ملک وملت کو ان کا نعم البدل عطافرمائے۔آمین

نوٹ: پروفیسر سہیل احمد خان کی شخصیت اور سوانح حیات پر ایک یادگاری مجلہ شائع کرنا پیش نظر ہے۔مرحوم کی خدمات، ان کے متعلق واقعات اور ان کی زندگی کے قابل ذکر پہلووؤں پریاداشت کومرتب کرکے مرتبین کا قلمی تعاون فرمائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close