شخصیات

ڈاکٹر فضل الرحمن الانصاریؒ کی سیرت نگاری

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

ہرصاحبِ ایمان قلم کار کی  یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے قلم سے حضور ﷺکا ذکر خیر کرنے کی سعادت حاصل کرلے۔اس کے لیے کوئی شاعری کی صنف اختیار کرتے ہوئے نعت گوئی کا سہارا لیتاہے کوئی نثری نظم کا اور کوئی سادہ نثر ہی سے اپنے دل کے احساسات، جذبات اورمحبت کو بیان کرتاہے۔ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمہ نے بھی اس عظیم الشان موضوع پر تحریر کرنے کی سعادت حاصل  کی۔

ہیچ ہے ان کی نگاہوں میں متاعِ  دنیا

جن غلاموں کو شرف ہے تیری آقائی کا

سیرت طیبہ  پر اردو،عربی ،فارسی ،انگریزی یا دیگر زبانوں میں لاتعداد کتابیں لکھی جاچکی ہیں اورلکھی جاتی رہیں گی(انشاء اللہ العزیز)۔ کیونکہ ہرصاحبِ ایمان قلم کار کی  یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے قلم سے حضور ﷺکا ذکر خیر کرنے کی سعادت حاصل کرلے۔اس کے لیے کوئی شاعری کی صنف اختیار کرتے ہوئے نعت گوئی کا سہارا لیتاہے کوئی نثری نظم کا اور کوئی سادہ نثر ہی سے اپنے دل کے احساسات، جذبات اورمحبت کو بیان کرتاہے۔ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمہ نے بھی اس عظیم الشان موضوع پر تحریر کرنے کی سعادت حاصل  کی۔یہ انتہائی حساس اورنازک ترین موضوع ہے  جہاں ادب وعقیدت ہی سے سرفرازی ہے۔یہ ادب کی توفیق ہونا بھی عطیۂ خداوندی  ہے۔

از    خدا      خواہیم      توفیقِ     ادب

بے ادب محروم شداز فضلِ ادب

ترجمہ:ہم اللہ رب العزت سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں ، بے ادب اللہ کے فضل سے محروم ہوجاتاہے۔

آپ نے سیرت نگاری کے لئے  انگریزی زبان کو منتخب کیا اوراس میں ایک کتاب بنام Muhammad: The Glory of the Ages”“تحریر کی اور اس کے علاوہ آپ نے سیرت کے موضوع پر چند مضامین بھی تحریر کیے  ہیں۔آپ کی انگریزی اس قدرفصیح وبلیغ  و سلیس اورقلم ماشاء اللہ اتنا رواں ہے کہ پڑھنے والے کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آیا یہ کتاب کسی اہلِ زباں نے تحریر کی ہے یا اسے لکھنے والا کوئی  مشرقی مصنف ہے۔

آپ علیہ الرحمہ نے  اپنی اس کتاب میں روایتی بیانیہ طریقے (محض واقعات نگاری)سے ہٹ کربامقصد، اچھوتے اور منفرد انداز میں سیرت نگاری کی۔ آپ نے اپنی کتاب کا ابتدائی باب ہی سیرت کے اہم مآخذ سے ہٹ کر خود مغربی مفکرین ،مستشرقین  اورمصنفین کی کتب سے استشہاداً پیش کیا ہے۔جس میں ان کے تبصروں اورتاویلوں کے انداز ومقاصد کی طرف مختصر اشارہ کیا گیا ہے۔نیز ان کی مکارانہ،عیارانہ چالیں ، ابلیسی فکر،دجالی رنگ  سے بھی پردہ اٹھایاگیاہے۔جس سے بآسانی یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ وہ ہماری تاریخ کو مخصوص رنگ دینے کے لیے کیا طریقے ،رنگ اورڈھب اختیار کرتے ہیں۔مختصراً آپؒ تنقید واعتراض کی آڑ میں چھپا ہوا زہرآلود خنجر ہو یا واقعۃً تلاشِ حقیقت آپ کی چشم بینا  فوراً اسے بھانپ لیتی تھی اورآپ علیہ الرحمہ موقع ومحل اورسائل و مائل کی مناسبت سے اس کے  تمام تقاضے ،ضروریات وکیفیات کو مدنظررکھتے ہوئے جواب عنایت فرماتے  ہیں۔

جو ہوپردوں میں پنہاں چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے

زمانے   کی  طبیعت   کا   تقاضا  دیکھ   لیتی   ہے

سیرت  نگاری کامقصد ومدعا

سیرت نگاری ایک ایسا موضوع ہے جس کی تحقیق وتصنیف میں  مسلم وغیرمسلم اورمحبین ومعاندین  دونوں شریک رہے ہیں۔ دونوں کی غرض وغایت بھی الگ الگ رہی ہے۔غیر مسلم مصنفین کا مقصد خواہ کچھ بھی ہو(اسیمضمونمیںآگےچلکرآپعلیہالرحمہنےغیرمسلممصنفینکیجانبسےکیگئیسیرتنگاریکےاغراضومقاصداوربگاڑومفاسدپرتفصیلیوسیرحاصلگفتگوکیہے۔) جہاں تک دردمندمسلم قلم کاروں کا تعلق  ہےان کے مقصد کے متعلق جناب محمدطفیل صاحب رقمطراز ہیں:

"سیرت نگاری کا بنیادی مقصد ومدعا یہ ہوتا ہے کہ صاحبِ لولاک حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی حیات مبارکہ ،سیرت طیبہ ،تعلیمات مطہرہ ،اسوۂ حسنہ،مبارک مشن اور مقدس پیغام انسانوں تک پہنچایا جائے تاکہ انسانوں کے لیے اس شفابخش اوراکسیر پیغام کی تفہیم اوراس پر عمل پیراہونا آسان ہوجائے۔”(ماہنامہضیائےحرم،فروری 2017، محاضراتسیرتکیروشنیمیںاہلعلمکیذمہداریاں،پروفیسرڈاکٹرمحمدطفیل)

سیرت کے مآخذ

سیرت نبوی ﷺ کے دو اہم مآخذ ہیں۔ پہلا ماخذ قرآن کریم ہے جس کی صحت اور درجہ استناد شک و شبہ سے بالاترہے۔سیرت کا دوسراماخذ حدیث نبویﷺ ہے۔صحابہ کرام کو آپ کی ذات مبارکہ سے عشق تھا۔ آپ ﷺ کی ہر ادا ہربات ہرعمل ان کے دلوں پر نقش ہوجاتی تھی۔ دلوں سے نکل کر زبان پراس انداز سے  آتی کہ جب ذکرخیر الانام کرتے توان کی زبان میں ایک خاص قسم کی چاشنی اورحلاوت پیداہوجاتی تھی جو ہر اس ذکر سننے والوں کے دلوں میں گھر کرجاتی۔ سیرت نگاری کے لیے تیسرا اہم مآخذ اسلاف کی کتب سیر بھی ہیں۔

دورحاضر میں سیرت نگاری کی ضرورت

  تمام انبیاء ورسل پاک اور معصوم ہیں۔اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم میں ان کے   مقام و مرتبہ کو نہایت وضاحت کے ساتھ غیر مبہم الفاظ میں بیان فرمایا ہے اوران کو برگزیدہ نیک بندے قراردیاہے۔

وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ(سورہص:47)

 بے شک وہ ہمار ے نزدیک برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے۔

اوردوسری جگہ ارشادباری تعالیٰ ہے:إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ (سورۃالانبیاء:90)

بے شک یہ لوگ نیک کاموں میں جلدی کرنے والے ہیں۔

 اور خاتم النبیین حضور اکرم ﷺ کی توانتہائی قدرومنزلت کانہ صرف اظہار فرمایاہے بلکہ آپﷺ کی شان میں تو ادنیٰ سے ادنیٰ  کام جس میں شائبہ اہانت کا احتمال  بھی ہوسکتا  ہواس سے بھی منع فرمادیا ہے۔مثلاًآپ ﷺ کو دیگر انسانوں کی طرح پکارنے سے بھی منع فرمایا ہے کہ کہیں ایساکرنے سے تمہارے اعمال ضائع کردیئے جائیں اورتمہیں خبر بھی نہ ہو۔ جیسا کہ آیت مبارکہ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ(الحجرات:2)

اے ایمان والو اپنی آواز کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کیا کرو(نہ آواز میں تیزی ہو نہ بلندی ہو) اوران سے اس طرح زور سے نہ بولو جیسے آپس میں زور سے بولتے ہو(یہ بات ادب کے خلاف ہے دیکھو) کہیں تمہارے اعمال (تمہاری نادانی سے )ضائع نہ ہوجائیں اورتم کوخبر بھی نہ ہو۔

لیکن مستشرقین اورمعاندین کا گروہ جس کا کام ہی  بالعموم تمام انبیاء کرام اوراللہ تعالیٰ کے رسولوں کی شان میں گستاخی ،دشنام طرازی اوربازاری زبان استعمال کرناہے  اوربالخصوص حضور ﷺ کی شان اقدس میں:  یہ درحقیقت  وہی ابلیسیت ہے جو تخلیق آدم علیہ السلام کے وقت خود ابلیس لعین کی شکل میں موجود تھا،اوراس کے بعد مختلف ادوار میں اس کے پرتو اور پیروکار دورابراہیمی( خلیل اللہ علیہ السلام) میں نمرود ،دور موسوی ( کلیم اللہ علیہ السلام)  میں فرعون  اور حضور ﷺ کے دور میں ابوجہل و ابولہب  اور اس وقت سے آج تک مختلف مکروہ شکلوں میں نمودار ہوتے آرہے ہیں۔اور حضور اکرم ﷺ کے لیے تو ان کا لہجہ انتہائی تلخ ہوجاتاہے، انہوں نے سب سے زیادہ حضور ﷺکی توہین وتحقیر  کی ہےاور یہ  آپ ﷺ کی اہانت وتحقیر کرنے میں  کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے(العیاذ باللہ)۔

No man has ever been more maligned than Muhammad and no religion has been more calumniated than Islam.(Muhammad: The Glory of the Ages, pg 19)

 ایچ ریلینڈی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ "حضور ﷺسے زیادہ کسی اورانسان اور اسلام سے زیادہ  کسی اور مذہب پر بہتان تراشی اورافتراء پردازی نہیں کی گئی۔

معاذاللہ ،گویا وہ آپ ﷺ کو رسالت کا اہل ہی نہیں سمجھتے تھے حالانکہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ بہتر جانتا ہے کون رسالت کے منصب کا اہل ہے۔

اللّٰهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ(الانعام: 124)

اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغمبری کا کام  کس سے لے۔

مندرجہ بالا تمام امور کا تقاضا بھی تھا اورشرعی فریضہ بھی کہ علماء کرام حضور ﷺ کی اہانت کرنے والوں  کے سامنے بند باندھتے  ۔کم فہمی،بدباطنی اورباطنی خباثت کی وجہ سے عام انسانوں اورمسلمانوں میں جوشکوک وشبہات پیداکیے جارہے تھے ان کا سد باب کرتے۔ اوران ابلیسی قوتوں کے  ناپاک عزائم کی اغراض ومقاصدسے بھی امت مسلمہ کو خبردارکرتے۔تاکہ وہاں مقیم مسلمان اور عام سلیم العقل  اورسلیم الفطرت رکھنے والے افراد کا قلب و ذہن اس فساد اورباطنی خباثت کی حقیقت کو جان سکے ۔

لہذاانگریزی زبان میں ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جس میں حضور پُرنورﷺ کی ذات مبارکہ پر مستشرقین کے رکیک  حملوں،طعن وتشنیع،گستاخیوں  کے باعث پیداہونے والی صورتحال میں عقیدہ عصمت کی حفاظت ہو اوراس پر ملحدین ،مستشرقین کی طرف سے وارد شدہ اعتراضات وشبہات کے جوابات ہوں۔یہ شبہات ہر زمانے اور مقام کے اعتبار سے ثانوی تبدیلیوں کے ساتھ سامنے آتے رہے ہیں۔  جن کی بابت ڈاکٹرسید معین الحق   ایک اقتباس  میں کچھ اس انداز سے  وضاحت فرماتے ہیں:

"سیرت کے طالب علموں کو ایک اوردشوار مسئلہ سے بھی دوچار ہوناپڑتاہے ، مغربی مصنفین اوراہل قلم کی تاریخ اسلام کو ہمیشہ ایک مخصوص رنگ دیتے رہے ہیں۔رسول اکرم ﷺ کی پاک شخصیت کو غلط انداز سے پیش کرنے کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ہرزمانہ میں اعتراضات  کی نوعیت اورشدت نے نیا اورمختلف رنگ اختیار کیا ہے، دورجدید کے مورخ اپنی حقیقت پسندی کے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں لیکن اکثر دیکھاگیاہے کہ دوسری اقوام کی تاریخ مرتب کرتے وقت  وہ خود اپنے قائم کردہ اصولوں سے انحراف کرنے لگتے ہیں۔اٹھارویں اورانیسویں صدی میں مغربی اقوام کودنیا کے وسیع علاقوں پرسیاسی اقتدارحاصل تھا، اس بالادستی نے ان کے انداز فکر اورفلسفہ پر گہرااثرڈالا،چنانچہ وہ مفتوحہ اقوام کے کردار اورکارناموں کا جائزہ لیتے وقت ان کی موجودہ پسماندگی کے آئینہ میں اپنے نظریات قائم کرتے ہیں۔ "( نقوش ،رسول نمبر، مضمون "سیرت نگاری کے چند پہلو”،جلد 1،ص 79)

لیکن  یہ حقوراستکاپیغام تحمل،بردباری اور براہین و دلائل کی روشنی میں ہوناچاہئے جنہیں اولاً  مستشرقین پڑھنے پرآمادہ ہوجائیں اورثانیاًجب وہ  ان دلائل کااپنے ہی متعین کردہ رہنما اصولوں اور قوانین کو مدنظر رکھ کرمطالعہ کریں توان میں موجود متعصب اورگمراہ کن مشرکین کے نظریات کی خود بخود قلعی کھل جائے۔ڈاکٹرسید معین الحق  اس چیلنج کے سلسلے میں اپنے اس مضمون  کو سمیٹتے ہوئے کچھ یوں فرماتے ہیں:

"مختصرا ًہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صرف سیرت ہی نہیں بلکہ تمام تاریخ اسلام سے متعلق، مستشرقین کے پیش کردہ نظریات اور اان کے عائد کردہ الزامات واعتراضات ہمارے لیے ایک چیلنج ہیں۔ اگرہم اپنے شاندار دینی اخلاقی اورثقافتی ورثہ کو محفوظ کرناچاہتے ہیں اوردنیا کے سامنے اسلامی تہذیب اورتعلیمات کی صحیح تصویر پیش کرنے کے خواہشمند ہیں تو ہمارے لیے یہ چیلنج قبول کرنا ناگزیر ہے اور یہ بالکل یقینی امر ہے کہ اگر اس مسئلہ میں ہماری طرف سے غفلت برتی گئی تویہی غلط تصویر جو مغربی مصنفین کی طرف سے پیش ہوتی رہتی ہے صحیح تسلیم کرلی جائے گی۔ہمارے طلبہ ہی نہیں بلکہ وہ مصنفین بھی جن کو ذاتی طورپر تحقیق مسئلہ کے مواقع نہیں ملتے اسی کو اپنالیں گے اوریہ ظاہر ہے کہ اس کے نتائج بہت دور رس ہوں گے۔”( نقوش ،رسول نمبر،جلد 1،ص 79)

وجہ تصنیف

اس کتاب کے تحریر کرنے کی  علت اوروجہ خود ڈاکٹرفضل الرحمن الانصاری علیہ الرحمہ ان الفاظ میں  بیان فرماتے ہیں:

“Though there are a number of biographies of the Holy Prophet Muhammad (on whom be peace and eternal felicity!) written by eminent Muslim scholars in the English language, yet this humble little book meets a long-felt and unfulfilled need.  There is so much prejudice in the mind of the average Christian that he seldom cares to read a book written by an Eastern Muslim writer in defence of Islam and the Holy Prophet. Our first consideration therefore should be to employ every means which may interest him in the subject. A quotation from a Western authority is often more convincing for him than our research based on original sources. This idea forced me to write this book in which Western authorities have been freely quoted on the subject, especially on controversial points, and though it may not be able to present to the reader all the greatness of the Holy Prophet’s personality, yet I am sure, it would be read with greater interest than some of the other books written by the Muslim on the subject and would prepare the non-Muslim reader to proceed, further in his study of the subject.”

Muhammad: The Glory of the Ages, pg 19

"اگرچہ انگریزی زبان میں حضور ﷺ کی سیرت پر جیدمسلم  علماء  بھی  کئی سوانح مرتب کرچکے ہیں لیکن پھر بھی طویل عرصہ سے محسوس کی جا نے والی  کچھ ناتمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ حقیر کوشش کی گئی ہے۔ کیونکہ بدقسمتی سے مغربی اقوام اپنے ذہنی تعصب کی بناء پر مشرقی مسلم اسکالرز کی اسلام اور حضور ﷺ کے دفاع میں لکھی جانے والی کتب کو قابل اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ہماری پہلی کوشش ان غیرمسلموںمیں اس موضوع (سیرت) سے دلچسپی پیداکرنا ہے۔اسی لیے ان کے لیے مغربی مفکرین کے حوالے ہمارے بنیادی تحقیقی مآخذ (قرآن وحدیث) کے بجائے زیادہ معتبر ہیں۔اس خیال نے مجھے مجبور کیا  کہ ایسی کتاب لکھوں جس میں اس موضوع کی مطابقت سے  بہت زیادہ مغربی مفکرین کے حوالے وغیرہ پیش کروں۔بالخصوص متنازعہ نکات پر۔اگرچہ اس صورت میں حضور ﷺ کی سیرت کی اصل بڑائی کماحقہ نہ پیش کی جاسکے تاہم مجھے یقین ہے کہ دیگر مسلم مصنفین کی کتب کے مقابلے میں یہ کتاب زیادہ توجہ اوردلچسپی سے پڑھی جائے گی۔اورغیرمسلموں کو مزید اس موضوع پر کتابیں پڑھنے کے لیے آمادہ کرے گی۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close