تاریخ ہندشخصیات

کسانوں کا مسیحا ٹیپو سلطان شہیدؒ

حفیظ نعمانی

ملک کے آزاد ہونے کے بعد پورے ملک میں مجاہدین آزادی کے لئے اعزاز و اکرام کے پروگرام ہونے لگے میسور میں ٹیپو سلطان شہید کے یوم پیدائش پر سرکاری تقریبات بھی اسی کا حصہ ہیں۔ کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت کیا آئی کہ اس نے فضا کو گندہ کرکے شیرمیسور ٹیپو سلطان کو وطن کا غدار اور ہندوؤں کے مندروں کا گرانے والا اور نہ جانے کیسے کیسے گندے الزامات کا ملزم بنا ڈالا۔ اس معاملہ میں کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیاں اس جگہ پر ہیں کہ وہ مجاہد آزادی اور انگریزوں کا سب سے بڑا دشمن تھا جس نے انگریز کی غلامی قبول نہیں کی اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔ آج دس نومبر کو آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے اور میسور میں کانگریس اور سماج وادی سیکولر شیر میسور کا یوم پیدائش مخالفت کے باوجود دھوم دھام سے منا رہی ہوگی۔

آیئے آپ کو اور ملک کو بتائیں کہ وہ کن خصوصیات کا سلطان تھا جس کے جشن پر وزیراعظم بھی طنز کے تیر برساکر آئے ہیں۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ معاہدۂ منگلور اور مراٹھوں اور دکّنیوں کو شکست دینے کے بعد سلطان نے ایک ایسے نظام سلطنت کی بنیاد رکھی اور ایک ایسی حکومت قائم کی جیسی جنوبی ہند میں ہزاروں سال سے کبھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ رعایا کو خوش حال بنانے کیلئے جو منصوبے بنائے وہ دوسرے عہدوں میں تو تصور میں بھی نہیں آئے تھے۔ مغل دَور میں بھی ان پر عمل نہیں ہوسکا۔ عام انسانوں کے ہمدرد شرافت و مساوات کے محافظ سلطان نے سب سے زیادہ توجہ کسانوں کو اوپر اٹھانے کیلئے کی خدا کی یہ بیچاری مخلوق ہزاروں سال سے ظالم جاگیرداروں کے مظالم کے ہاتھوں پستی چلی آرہی تھی۔ گو ان کے باپ حیدر علی کے عہد میں ان کی عام حالت کافی سنبھل گئی تھی لیکن جاگیرداری اس وقت بھی قائم تھی۔ اور جب تک یہ نظام توڑا نہ جاتا کسانوں کی مکمل خوشحالی اور اصلاح ممکن نہ تھی اس وجہ سے وزراء اور عمالِ ریاست کی مرضی کے خلاف سلطان نے یہ ظالمانہ نظام پوری طرح توڑ ڈالا انہوں نے سارے جاگیردار اور بڑے بڑے زمین دار ختم کرکے زمین کو سرکاری ملکیت قرار دے کر اسے ازسرنو کسانوں کے سپرد کیا۔ کسان اب کسی واسطے کے بغیر براہ راست سرکار کے آزاد کار تھے۔ سلطان کی طرف سے اس سلسلہ میں جو ہدایات جاری ہوئیں ان کی رو سے کوئی کاشتکار اس وقت تک زمین سے الگ نہیں کیا جاسکتا تھا جب تک وہ اپنی زمین آباد رکھتا زمین کاشتکار کی دائمی ملکیت اس شرط پر ٹھہرائی گئی کہ وہ اس میں کاشت کرے۔ کوئی ایسا آدمی زمین پر قابض نہ رکھا جائے جو زمین کو خود کاشت نہ کرتا ہو۔

ہندوستان کی تاریخ میں ایسا انقلابی قدم اس سے پہلے کبھی نہیں اٹھا تھا۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ سلطان کے اس اقدام سے اندرونی سازشوں کو پنپنے کا موقع ملا اور وہ جاگیردار جو زمینوں سے محروم ہوئے سلطان کے دشمن بن گئے لیکن یہ بھی ایک بڑی حقیقت تھی کہ سلطان نے اس طرح میسور کے ایک کروڑ سے زائد کاشت کاروں کو اپنا دوست اور جاں نثار بنا لیا۔ انہوں نے اس طرح نئے کاشت کار پیدا کئے اور مزدوروں کا وہ طبقہ جو پہلے محض کھیتوں میں مزدوری کرتا تھا کاشت کار بن گیا۔

سلطان نے محض اپنی رعایا کی اقتصادی اور زرعی زندگی میں انقلاب پیدا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اجتماعی زندگی میں بھی غیرمعمولی اصلاحات کیں۔ ان کے وقت میں میسور میں خصوصاً وہاں کے مسلمانوں میں بہت سی فضول اور بیہودہ رسمیں رواج پاگئی تھیں انہوں نے یہ ساری بری رسمیں مٹا ڈالیں۔

مورخین کا یہ خیال صحیح ہے کہ سلطان کے زوال میں ان مذہبی اصلاحات کا بڑا دخل تھا ان کی فوج اور عمال کا بڑا طبقہ ان رسومات کا عادی چلا آرہا تھا ان کی بندش سے دشمنوں کو سلطان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے مواقع بھی ملے۔ امراء اور عمال میں بددلی بھی پھیلی اور سازشوں کے جال ہرسو بچھ گئے ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ سلطان کی عظیم فوج جو اس وقت کے ہندوستان کی سب سے بڑی اور منظم فوج تھی انگریزوں سے شکست کھاتی۔

بہرحال ہندوستان کے مسلمانوں کی یہ بڑی بدنصیبی تھی کہ سلطان ٹیپو جو بیک وقت ایک بڑے مصلح ایک بڑے سپاہی ایک بڑے مجاہد اور ایک بہت بڑے آزادی پسند مسلمان تاجدار تھے۔ اندرونی سازشوں کا شکار ہوگئے اور ان ظالموں نے جو انگریزوں سے بھی ملے ہوئے تھے اور مراٹھوں اور نظام سے بھی سازباز رکھتے تھے سلطان کو دشمنوں کے نرغہ میں پھنسا دیا۔

ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں میں سلطان ٹیپو آخری وہ تاجدار تھے جنہیں مسلمان حکمراں کہا جاتا ہے۔ انہوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لئے اپنی ذاتی خواہشات ماری تھیں وہ بڑی سادہ زندگی گذارتے شریعت کے احکام کی سختی سے پابندی کرتے فرائض بجا لاتے سنت پر جان دیتے اور اسلام کو اپنے لئے نجات سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے وقف کررکھی تھی محض اس لئے زندہ رہنا چاہتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے زیادہ سے زیادہ کام آئیں۔ انہوں نے 04 مئی 1899 ء سرنگا پٹم کے آخری محاصرہ میں شہادت پائی۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 48 یا 50 سال تھی۔ رحمت اللہ علیہ۔

مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close