شخصیات

کیا امام غزالی اسلام کے سائنسی زوال کے ذمہ دار ہیں؟ 

ڈاکٹر احید حسن

پورا نام : ابو حامد محمد ابن احمد الغزالی
نسل: فارسی یا عرب
پیدائش: 1058ء طوس (خراسان)
وفات: 1111 ء طوس (خراسان)
انگریزی نام: الگیزل(Algazel)
وجہ شہرت: اسلامی علم المذاہب ، فلسفہ، علم کائنات (کاسمالوجی)، نفسیات

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ امام غزالی ایک صوفی بزرگ تھے لیکن یہ بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ امام غزالی رحمہ اللہ تعالی نہ صرف ایک صوفی بزرگ بلکہ ایک نامور مسلم فلسفی ،ماہر فلکیات ،اناٹومی اور نیورو سائیکالوجی تھے۔ غزالی کو بعض مغربی مورخین مثلاً مونٹگومری واٹ حضرت ﷺ کے بعد عظیم ترین مسلمان مانتے ہیں۔ غزالی نےneoplatonism یا نو بطلیموسی 5 فلسفیانہ تصور کی وہ تردید کی کہ یہ پھر کبھی عالم اسلام میں اپنی جگہ نہ بن سکا۔ اغزالی کی فلسفیانہ تصانیف درج ذیل ہیں

1۔ مقاصد الفلسفہ (زندگی کے ابتدائی دور میں لکھی گئی جس میں فلسفے کے بنیادی تصور ات بیان کیے گئے جو کہ سینا سے متاثر ہیں)۔

2۔ تہافتہ الفلسفہ (اس میں وہ یونانیوں کے فلسفے کار د کرتا ہے)

3۔ معیار العلم فی فن المنطق

4۔ محاک النظر فی المنطق

5۔ القسطاس المستقیم

غزالی کی تصنیف ,تہافۃ الفلاسفہ, اسلامی فلسفے میں اہم موڑ ثابت ہوئی جس نے ارسطو کے فلسفیانہ نظریات کو مسترد کر دیا۔غزالی نے سختی سے ارسطو،سقراط اور دوسرے یونانی مصنفین کو غیر مسلم قرار دیا اور جو لوگ ان کے طریقے اور تصورات کو استعمال کرتے تھے،انہیں اسلام کی روح بگاڑنے والا قرار دیا۔یہ وہ فلسفیانہ تصورات تھے جو اسلام سے متصادم تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غزالی سب فلسفے اور سائنس اور ریاضی کے مخالف تھے بلکہ الغزالی نے اپنی ایک مشہور تصنیف کے ذریعے یونانی فلسفے سے متاثر اسلامی فلسفے کا رخ ماوراء الطبیعات (میٹا فزکس) سے وجہ اور اثر کے فلسفے پر مبنی اسلامی فلسفے کی طرف موڑ دیا جو اللہ تعالیٰ یا درمیانی فرشتوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اس نظریے کو اب occasionalism کہتے ہیں۔ غزالی نے سائنس ، فلسفے ، نفسیات، خلا اور صوفی ازم پر 705 سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ غزالی نے کہا کہ ایٹم(جوہر،وہ خورد بینی یا الیکٹران مائیکروسکوپک ذرات جن پر تمام مادہ مشتمل ہے)وجود کے حوالے سے حقیقی اور مادی چیزیں ہیں اور باقی دنیا میں سب کچھ حادثاتی اور اتفاقی ہے۔کوئی حادثاتی چیز حس (Perception) کے سوا کسی چیز کی ذمہ دار نہیں کیونکہ یہ ایک لمحے کے لیے موجود ہوتی ہے۔رونما ہونے والے واقعات طبعی وجوہات کاس نتیجہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کا نتیجہ ہیں جس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔لہذا فطرت مکمل طور پر اللہ تعالیٰ پر منحصر ہے۔غزالی کا یہ تصور اشعری مکتب فکر کے توجیہہ کے تصور کے مساوی ہے۔ غزالی کاقرون وسطیٰ کے مسلمان فلسفیوں،عیسائی فلسفیوں اور یہودی فلسفیوں مثلا میمونید پر گہرا اثر پڑا۔غزالی نے تصوف اور اسلامی فقہ کے امتزاج میں اہم کردار ادا کیا۔وہ پہلا آدمی تھا جس نے اپنی تصانیف میں تصوف کو بیان کیا۔ اس کی تصانیف نے دوسرے مسالک کے مقابلے میں سنی مسلک فکرکو تقویت دی۔غزالی نے سختی سے باطنیوں(موجودہ اسماعیلیوں یا آغا خانیوں)کی مذمت کی اور ان کے رد پر کئی کتابیں لکھیں۔

جوہری نظریے (اٹامک تھیوری) میں غزالی نے ایک ایٹم کے قابل تقسیم ہونے کے امکان کو بیان کیا جب کہ قدیم یونانی فلاسفر ایٹم کو ناقابل تقسیم سمجھتے تھے۔غزالی نے کہا کہ مسلمان تقسیم کے حوالے سے تنے بہتر ہیں کہ یہ ایٹم کو تقسیم کر سکتے ہیں۔
چودہویں صدی میں اٹریکارٹ کے نکولس نے نے یہ تصور پیش کیا کہ مادہ(Matter)،خلا او وقت ناقابل تقسیم ایٹموں سے بنے ہوئے ہیں اور تمام نسلیں اور تبدیلیاں ان ایٹموں کی ترتیب بدلنے سے وقوع پژیر ہوتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ نکولس براہراست یا ابن رشد کے ذریعے غزالی کے تصورات سے آگاہ تھا۔

گیارہویں صدی عیسوی کی اس کی کتاب تہافہ الفلاسفہ یعنی The incoherence of philosophers میں غزالی نے Skepticism5 کا اصول دریافت کیا۔ جس سے مغرب والے رینی ڈسکارٹز، جارج برکلے اور ہیوم تک متعارف نہ ہو سکے۔ غزالی کے مطابق علم الکلام،فلسفی اور اسماعیلی مذہب میں سے صرف پہلی دو چیزیں کسی حد تک قابل عمل ہیں لیکن حقیقی قیمت تصوف رکھتا ہے۔غزالی نےOccasionalism کا اصول دریافت کیا جس کے مطابق واقعات اور تعاملا ت جاری ٹکراؤ یا سامنے کا حاصل نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کا فوری نتیجہ ہیں۔اس طرح غزالی نے فلسفہ کا مطلق انکار کرنے کی بجائے یونانی فلسفے کے غیر اسلامی پہلووں کی نشاندہی کی اور فلسفے کی ایک نئی شاخ دریافت کی جسے آج occasionalism کہتے ہیں۔ اس طرح غزالی نے نہ صرف فلسفے کو غیر اسلامی تصورات سے پاک کیا بلکہ فلسفہ میں occasionalism اور Skepticism کے دو نئے اصول متعارف کرائے جس نے فلسفہ کی ایک مکمل نئی شاخ کی بنیاد ڈالی۔لہذا غزالی نے فلسفے کو فروغ دیا نہ کہ اس کی تردید کی اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اس حوالے سے امام غزالی رحمہ اللہ تعالی پہ لبرل،سیکولر اور الحادی طبقے کے اعتراض جھوٹ،جہالت اور دغابازی پہ مبنی ہیں۔

لبرل،سیکولر اور الحادی طبقے کا اعتراض ہے کہ امام غزالی نے ریاضی اور سائنس کو کافرانہ علم قرار دیا اور اسائنس میں ریاضی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جس سے اسلام کے سائنسی زوال کا آغاز ہوا۔یہ بات بھی مکمل طور پہ جھوٹ اور تاریخی جہالت پہ مبنی ہے۔غزالی نے فلکیات پر بحث کرتے ہوئے عملی مظاہروں اور ریاضی پر مبنی سائنسی طریقہ کار کے لیے دلیل مہیا کی۔ چاند کے زمین اور سوج کے درمیان آنے سے ہونے والے سورج گرہن اور زمین کے چاند اور سورج سے درمیان آنے سے ہونے والے چاند گرہن کے سائنسی حقائق بیان کرنے کے بعد وہ لکھتا ہے۔

” جو بھی سوچتا ہے کہ کسی ایسے نظریے کے رد کے لیے کسی تنازعے میں پڑنا مذہبی فریضہ ہے، وہ مذہب کو نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ ان معاملات کی بنیاد عملی مظاہروں، جیومیٹری اور ریاضی پر ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔” غزالی کی یہ بات ان لوگوں کے الزام کی تردید کرتی ہے جو غزالی کو سائنس کا دشمن اور اسلام کے سائنسی زوال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
اس نے ارسطو کے نافانی کائنات کے نظریے کے خلاف فانی کائنات کے نظریے کے دفاع میں ” ممکنہ جہانوں” (Pssible worlds)5 کا نظریہ پیش کیا جس میں اس نے دلیل دی کہ ان کی حقیقی دنیا ان تمام ممکنہ جہانوں میں سے سب بہتر ہے جن کو اگر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہوتا تو وہ موجود ہوتے۔ اس کا نظریہ چودہویں صدی کے ڈنز سکوٹس کے نظریے کے متوازی ہے۔ ممکن ہے دونوں نے اپنا نظریہ سینا کے میٹا فزکس سے اخذ کیا ہو۔

غزالی کے زیر اثرعضدالدین العجی1281)ء سے1355ء ) نے ارسطو کے اس تصور کو مسترد کر دیا جن کے مطابق فلکیاتی اجسام کی دائروی حرکت فطری (innate) ہوتی ہے۔ غزالی کے اثر سے علی القشجی (وفات14745 ء) نے ارسطو کی فزکس کو مسترد کر دیا۔ اور اس کو فلکیات سے جدا کر دیا جس سے فلکیات خالص عقلی اور ریاضیاتی سائنس کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس نے ارسطو کے زمین کے ساکن ہونے کے نظریے کے متبادل کے طور پر زمین کے متحرک ہونے کا تصور پیش کیا۔ اس نے عقلی شہادت کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ زمین کے متحرک ہونے کا نظریہ اتنا ہی درست ہو سکتا ہے جتنا زمین کے ساکن ہونے کا نظریہ اور عقلی طور پر یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ ان میں سے کونسانظریہ درست ہے۔ ولیم جیمز نے اپنی کتاب Varieties of religious experience میں لکھا ہے کہ غزالی کی تصنیف ,المنقض من الضلال, ادب کے طلباء کے لیے اہم دستاویز ہے جو عیسائیت کے علاوہ باقی مذاہب کے باطن سے متعارف ہونا چاہتے ہیں۔

اس تصنیف میں غزالی نے ریاضی کے حقیقی سائنس ہونے کے تصور کی حمایت کی لیکن اس نے کہا کہ اسے ماوراء الطبیعیاتی(میٹا فزیکل) اور مذہبی اصولوں کی وضاحت کےلیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کیانکہ وہ غیر طبعی دنیا (Non-physical world) سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن غزالی ریاضی کی عملی اہمیت کا اقرار کرتا ہوئے لکھتا ہے اس آدمی نے افسوسناک جرم کیا ہے جو سوچتا ہے کہ اسلام کا دفاع ریاضی کے انکار کرنے سے ہوتاہے۔نہ ہی مذہب اسلام میں اس کا انکار کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ اسلام
سے متصادم ہے غزالی نے علم الکلام میں منطق کے استعمال پر گہرا اثر ڈالا کیانکہ وہ سینا کے منطقی نظام(Temporal model logic) کو اسلامی علم الکلام میں استعمال کرنے والا پہلا شخص تھا۔اس نے اسلامی شرعی قانون اور فقہ میں تین قسم کے منطقی نظاموں یعنی مشابہت کی بنیاد پر توجیہہ(Reasoning by analogy)،deductive logicیااستخراجی منطق اور استقرائی منطق(Inductive logic) کا استعمال متعارف کرایا۔ان صورتوں میں جہاں کئی قانونی گواہ ہوتے ہیں ،اس نے استقرائی منطق کے استعمال کی حمایت کی۔اس طرح غزالی نے سائنس کی شاخ منطق میں مزید پیشرفت کی۔Neuropsychology کے اسلامی علم نفسیات اور تصوفی نفسیات(صوفی سائیکالوجی) میں غزالی نے تصور ذات(Concept of self) پر بحث کی۔اس نے ذات کو چار اصطلاحات یعنی قلب،روح،نفس اور عقل کے استعمال سے بیان کیا۔اس نے کہا کہ ذات میں انفرادیت کی تلاش فطری جذبہ ہے جسے پانے کے لیے یہ جدوجہد کرتی ہے اور اس جدوجہد کے لیے اسے خصوصیات عطا کی گئی ہیں۔غزالی نے کہا کہ جسمانی ضروریت کو پورا کرنے کے لیے ذات کے اندر حسی اور حرکی محرک(Sensory and motor stimuli) ہوتے ہیں ۔اس نے کہا کہ حرکی محرک میلان (Propensities) اور عصبی روؤں(Impulses)پر مشتمل ہوتے ہیں ۔اس نے اول الذکر کو دوحصوں یعنی غصے اور خواہش میں تقسیم کیا۔اس نے کہا کہ عصبی رو(نرو امپلس)عضلات(مسلز)،اوصاب(نروز) اور بافتوں (ٹشوز) کے اندر ہوتی ہے جہاں یہ ضروریات کے پورا کرنے کے لیے اعضاء کو تحریک دیتی ہے۔غزالی کا یہ تصور جدید نیورو سائنس کے عین مطابق ہے۔
غزالی اناولین شخصیات میں سے ہے جنہوں نے حسی محرک(Sensory motives) کو پانچ بیرونی حصوں (سننا،دیکھنا، چکھنا،سونگھنا،چھونا) اور پانچ اندرونی حسوں یعنی حس مشترک(Common sense)،تصور،تفکر(سوچ)،تذکر(جو حافظے میں موجود کسی چیز کو تصور میں لاتا ہے) اور یادداشت(جو وصول شدہ حصوں کو ذخیرہ کرتی ہے) میں تقسیم کیا۔اس نے کہا کہ بیرونی حسیں خاص اعضاء کے ذریعے انجام پاتی ہیں جب کہ اندرونی حسیں دماغ کے مختلف حصوں میں واقع ہوتی ہیں۔غزالی نے دریافت کیا کہ یاداداشت کا مرکز دماغ کا پچھلا حصہ(Hind brain)،تصور کا حصہ اگلا دماغ(Fore brain)اورتفکر یا سوچنے کا حصہ وسطی دماغ(Middle lobe of brain )میں ہوتا ہے۔اس نے کہا کہ یہ اندرونی حسیں سابقہ تجربات کی بنیاد پر لوگوں کو مستقبل کے واقعات کا اندازہ کرنے کے قابل بناتی ہیں۔۔,احیاء العلوم الدینی, غزالی کی اہم تصنیف ہے جو تقریبا اسلام کی ہر مذہبی سائنس مثلا فقہ،کلام اور تصوف کا احاطہ کرتی ہے۔بعد میں غزالی نے اس کتاب کا ایک مختصر حا شیہ ٫٫کیمیائے سعادت،، کے نام سے فارسی میں لکھا۔
اس کتاب میں غزالی نے ریاضی اور طب(میڈیسن یا علم العلاج)کو قابل تعریف سائنس قرار دیا اور انہیں معاشرے کے لیے فرض کفایہ قرار دیا۔وہ لکھتا ہے:

سائنسی علوم جن کا حصول فرض کفایہ ہے،وہ ان علوم پر جع معاشرے کی بہبود کے لیے لازمی ہیں مثلا طب(میڈیسن )،ریاضی،جو روز مرہ حساب و کتاب اور وراثت کی تقسیم کے لیے لازمی ہیں ،پر مشتمل ہے،یہ وہ علوم ہیں جن کے بغیر معاشرہ تنگ گلیوں تک محدود ہو جاتا ہے۔

ارسطوئی علم فزکس اور ارسطوئی علم کائنات پر غزالی کی تنقید نے اگلے کئی سو سالوں تک ایک الگ فلکیات کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔اس سے بارہویں صدی سے اور اس کے بعد اسلامی آسٹرونومی(فلکیات) وہ سائنس بننی شروع ہوئی جو فلسفے کی بجائے مشاہدات پر مبنی تھی۔غزالی نے فلکیات کو ارسطو کے فلسفے سے آزاد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس سے متاثر ہو کر فخر الدین رازی (1149ء سے 1209ء) نے یہ تصور مسترد کردیا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے۔فخر الدین نے اس کی بجائے کثیر الکائناتی (Multi-universe) نظریہ پیش کیا جس کے مطابق مادی دنیا بے شمار جہانوں اور کائناتوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر دنیا ہماری دنیا سے زیادہ بڑی ہے۔فخر الدین کے اس تصور کو گلیلیو نے پندرہویں صدی میں پیش کیا جس پر اسے کلیسا کے عتاب کا نشانہ بننا پڑا۔فخرالدین رازی نے ارسطو کے ٹھوس فلکیاتی کروں (Solid celestial spheres) کے تصور پر بھی تنقید کی۔

غزالی کے زیر اثر عضد الدین العجی(1281تا 1355ء)نے ارسطو کے اس تصور کو مسترد کردیا جس کے مطابق فلکیاتی اجسام کی دائروی حرکت فطری ہے۔غزالی کے اثر سے علی القشجی ( وفات1474ء) نے ارسطو کی فزکس کو مسترد کردیا اور اس کو فلکیات سے جدا کردیا جس سے فلکیات خالص عقلی اور ریاضیاتی سائنس کی حیثیت اختیار کر گئی۔اسنے ارسطو کے اس نظریے کو مسترد کردیا جس کے مطابق زمین ساکن ہے۔اس نے زمین کے متحرک ہونے کا نظریہ پیش کیا۔ غزالی کی تصنیفات نے اسلامی دنیا میں طب خصوصا اناٹومی(انسانی جسم کی ساخت کا علم) کی حوصلہ افزائی کی۔اپنی کتاب احیاء العلوم الدین میں اس نے میڈیسن کو ایک قابل تحسین علم قرار دیا جب کہ یہ خیال کہ ستاروں کا انسان کی قسمت پر اثر ہوتا ہے(علم نجوم) کو قابل شرم قرار دیا۔غزالی نے انسانی جسم کے حصوں کی تفصیل پر کئی صفحات لکھے۔اس کے مطابق اناٹومی کا علم انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے۔ غزالی یونانیوں کے اس تصور کا حامی تھاجس کے مطابق کائنات کا ایک محدود ماضی اور ابتدا ہے۔اس تصور کو عارضی محدودیت(Temporal finitism) کہتے ہیں۔جدید سائنس غزالی کے اس تصور کی تائید کرتی ہے۔

اپنی تصنیف المنقض من الضلال میں اس نے اناٹومی کے علم اور اس کے حصول کے لیے لاشوں کی چیر پھاڑ(Dissection)پر ایک مضبوط مقالہ لکھا۔اس نے کہا کہ کہ طبیعیون(Naturalists)وہ لوگ ہیں جو جو فطری دنیا ،جانوروں اور انسانوں کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے وہ نمونے دیکھتے ہیں کہ اس حکینم خالق کے وجود کی تصدیق پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔۔غزالی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی تکمیل کا اقرار ان علوم کے مطالعے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

غزالی کی طرف سے اناٹومی کی حوصلہ افزائی نے فزیشن ابن النفیس اور ابن زہر کے ذریعے اناٹومی کے علم کی نشوونما پر گہرا اثر ڈالا۔اس موضوع پر غزالی کا نقاد ابن رشد بھی غزالی سے متفق تھا۔

اب غزالی جیسا ایک ایسا صوفی اور سائنسدان جس نے علم فلکیات یا آسٹرونومی کو فلسفے سے الگ کرکے اسے ریاضی پہ مبنی خالص سائنسی شکل دے کر جدید علم فلکیات کی قیامت تک کی عظیم ترین تحقیقات کی بنیاد رکھی،اناٹومی کے علم پہ سائنسی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی اور خود بھی اس پہ گراں قدر تحقیق کی جس نے اسلامی دنیا میں کئی نامور سائنسدان پیدا کئے ،اس شخص کو کس طرح جدید سائنس،ریاضی اور فلکیات کا دشمن قرار دے کر اسے اسلام کے سائنسی زوال کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔
مارگریٹ سمتھ اپنی کتاب "5 الغزالی” میں لکھتی ہے۔

” اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غزالی کی تصنیفات ان پہلی تصنیفات میں سے ہیں جنہوں نے یورپی اہل علم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی(صفحہ220 ) ۔ ان عیسائی مصنفین میں سے عظیم ترین جو الغزالی سے متاثر ہوئے تھا مس ایکوی نس 1225)5 ء سے1274 ء) تھا جس نے اسلامی مصنفین کا مطالعہ کیا اور ان پر اپنے یقین کا اظہار کیا۔ اس نے یونیورسٹی آف نیپلزمیں تعلیم حاصل کی جہاں پر اس وقت اسلامی ادب اور تقافت کا غلبہ تھا”

غزالی کے اثر کا عیسائی علم الکلام میں تھا مس ایکوی نس سے موازنہ کیا جاتاہے لیکن دونوں اپنے عقائد اور طریقہ کا رمیں مختلف تھے۔ غزالی نے یونانی ماورا ء الطبیعاتی فلسفہ کو مسترد کیا جبکہ ایکونیس نے غیر عیسائی فلسفیوں کا اثر لیا اور اپنی فلسفیانہ تصنیفات میں قدیم یونانیوں، لاطینی اور اسلامی خیالات کو بیان کیا۔

مارگریٹ مزید لکھتی ہے۔

” غزالی کی تصنیفات کا محتاط مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ مغربی فلسفیوں پر اس کا اثر کتنا گہرا تھا۔ اس حوالے سے اس کا اثر تھا مس ایکوینس پر بھی ہے جس نے یونیورسٹی آف نیپلز میں اسلامی فلسفیوں خصوصاً الغزالی کا مطالعہ کیا۔ مزید برآں ایکونیس کی اسلامی فلسفے میں دلچسپی کا انتسا ب ابن رشد کے لاطینی فلسفے خصوصاً یونیورسٹی آف پیرس پر اثر کی طرف بھی کیا جا سکتا ہے۔
اہل علم نے رینی ڈسکارٹز کی تصنیف (Discourse on mathods) اور غزالی کا تصنیف میں مشابہت نوٹ کی ہے جارج ہنری لویز نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ

” اگر غزالی کی احیاء العلوم الدین کا کوئی ترجمہ ڈسکارٹز کے وقت میں ہوتا تو ہر کوئی اس نقل کے خلاف چیخ اٹھتا کہ کس طرح رینی ڈسکارٹز نے غزالی کی نقل کی  ڈمٹری گوٹاس(Dimitri Gutas) اور سٹینفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی کے مطابق گیارہویں صدی سے چودہویں صدی عیسوی کا دور اسلامی فلسفے کا سنہری دور تھا جسے غزالی نے کامیابی سے اسلامی مذہبی تعلیم کے نصاب میں شامل کرایا تھا۔ایمیلی سویج سمتھ(Emilie Savage Smith)کے مطابق غزالی اسلامی دنیا میں اناٹومی کے مطالعے کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ تھا۔

مزید برآں امام غزالی کی 1111ء میں وفات کے بعد عالم اسلام میں مزید پانچ سو سال تک کئی عظیم سائنسدان پیدا ہوتے رہے اور یہ سلسلہ کم و بیش 1580ء تک جاری رہا۔اگر غزالی اسلام کے سائنسی زوال کے ذمہ دار تھے تو پھر کس طرح غزالی کی وفات کے پانچ سو سال تک عالم اسلام عظیم سائنسدان پیدا کرتا رہاجن میں سے کچھ کے ناماور عرصے درج ذیل ہیں
ابوالبرکات ابغدادی ( وفات 1155 ؁ء)عبدالرحمان الخازن (وفات 1155 ؁ء)جابر بن افلح ( وفات 1160 ؁ء)ابن زہر (وفات 1161 ؁ء)الادریسی ( وفات 1164 ؁ء) السموال (وفات1180 ؁ء) ابن طفیل (وفات 1185 ؁ء) ابن رشد ( وفات 1198 ؁ء) شرف الدین طوسی ( وفات 1213 ؁ء) شہاب الدین ابوعبداﷲ (وفات 1229 ؁ء)الحموی (وفات 1229 ؁ء)عبداللطیف البغدادی (وفات 1231 ؁ء) ابن بی طار ( وفات 1248 ؁ء)شہاب الدین ( وفات 1253 ؁ء) نصیرالدین الطوسی (وفات 1274 ؁ء)ابن النفیس (وفات1288 ؁ء) علاء الدین ابوالحسن ( وفات 1289 ؁ء) قطب الدین شیرازی (وفات1311 ؁ء)کمال الدین فارسی (وفات 1320 ؁ء)ابن البنا المراکشی (وفات 1321 ؁ء)ابولفدا (وفات1331 ؁ء)الجلداکی (وفات 1341 ؁ء)ابن شاطر (وفات1375 ؁ء)ابن خطیب ( وفات 1376 ؁ء) الخلیلی (وفات1380 ؁ء) جمشید الکاشی ( وفات 1429 ؁ء) الغ بیگ ( وفات 1449 ؁ء) تقی الدین(الیکٹریکل انجنےئر اور ماہر فزکس،ریلوے انجن کی ایجاد کی بنیاد رکھنے والا ترک مسلم سائنسدان،وفات 1570ء سے 1590ء کے درمیان) اب اس ساری بحث اور غزالی کے بارے میں لبرلز و ملحدین کے روحانی والدین یعنی اہل یورپ کے اقوال کے بعد امام غزالی جیسا صوفی،فلسفی،ماہر فقہ،اناٹومی،نیورو سائیکالوجی،ریاضی اور علم فلکیات یا آسٹرونومی جس نے نہ صرف سائنسی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی بلکہ خود بھی ان میدانوں میں سائنسی تحقیقات کی،کس طرح سائنس کا دشمن اور اسلام کے سائنسی زوال کا ذمہ دار سمجھا جا سکتا ہے۔کیا لبرلزم،سیکولرزم اور الحاد کے دعوے داروں کے پاس جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بچا جو اسلامی تاریخ پہ جھوٹ گھڑ کر معصوم عوام کو ورغلانے اور الو بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟جی ! اب مل گیا جواب؟ جاوٗ اب منہ دھو کے سو جاوٗ۔جیو اور جینے دو۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔الحمد للہ

حوالہ جات:

1:Ghazali, al-". The Columbia Encyclopedia. Retrieved 17 December 2012.
2:Bowering, Gerhard – GAZALI entry in Encyclopedia Iranica
3:Najm, Sami M.(July – October 1966), "The Place and Function of Doubt in the Philosophies of Descartes and Al-Ghazali Philosophy East and West 16 (3 – 4) :133- 41
4: The Faith and Practice of Ghazali. William Montgomery Watt. Published in 1953 by George Allen and Unwin Ltd, London. Pg.14
5:Ibid. Pg 15
6: ibid. Pg 15.
7:R. M. Frank, Al-Ghazali and the Ash’arite School, Duke University Press London 1994
8:Anwar, Sabieh (October 2008), "Is Ghazali really the Halagu of Science in Islam?”, Monthly Renaissance 18 (10), http://www.montholyrenaissance.com/issue/conten.aspx?id=1016, retrieved 2008 – 10 – 14.
9:Taneli Kukkonen (2000), "Possible Worlds in the Tahafut al-Falasifa: Al-Ghazali on Creation and Contingency” Journal of the History of Philosophy 38 (4): 479-502
10:Annotated translations by Richard Joseph McCarthy (Freedom and Fulfillment, Boston:

Twayne, 1980; Deliverance From Error, Louisville, Ky:: Fons Vitae, 1999) and George F. McLean
(Deliverance from error and mystical union with the Almighty, Washington, D. C:: Council for Research in Values and Philosophy, 2001). An earlier translation by William Montgomery Watt was first published in 1953 (The faith and practice of al-Ghazali, London: G. Allen and Unwin)
11:Gerhard Bowering, Encyclopedia Iranica, s.v. Ghazali
12:McCarthy 1980, p.66
13:William James, Varieties of Religious Experience, Harvard University Press, 1985, p. 319 [=2002 Modern Library Paperback Edition, p. 438].
14: Gardet, L., "djuz” in Encyclopaedia of Islam,CD-ROM Edition, v. 1.1, Leiden: Brill, 2001
15:Dr. Suwaidan, Tareq (13 July 2002), "Challenges Fecing the Islamic Reawakening”, Salam Magazine FAMSY’s 20th Annual Conference, RMIT Melbourne) (May -August 2002), http://www.famsy.com/salam/Challenges0802.htm, retrieved 2008 – 02 – 14.
16:Marmura, Michael E (1973) "Causation in Islamic Thought”. In Wiener, Philip P. Dictionary of the History of Ideas. ISBN 0684132931http://xtf.lib.virginia.edu/xtf/view?docld=DicHist/uvaBook/tei/DicHist.xml;chunk.id=dv l-
Retrieved 2009 – 12 – 02.
17:Ragep, F. Jamil (200lb), "Freeing Astronomy from Philosophy: An Aspect of Islamic Influence on Science”, Osiris, 2nd Series 16 (Science in Theistic Contexts: Congnitive Dimensions): 49 – 64 & 66 -71
18:Adi Setia (2004), "Fakhr Al-Din Al-Razi on Physics and the Nature of the Physical World : A Preliminary Survey”,Islam & Science 2, http://findarticles.com/p/articles/mi_m0QyQ/is_2_2/is_n9532826/, retrieved 2010-03-02
19:Huff, Toby (2003), The Rise of Early Modern Science : Islam, China, and the West, Cambridge University Press, p. 175, ISBN 051529948
20:Savage-Smith 1995, pp. 94 – 5
21:Savage-Smith 1995, pp. 95 – 6
22:Savage-Smith 1995, pp. 83 , 94
23:Savage-Smith 1995
24:Craig, William Lane (June 1979), "Whitrow and Popper on the Impossibility of an Infinite Past”, The British Journal for the Philosophy of Science 30 (2): 165 – 170 [165-6]
25:History of logic : Arabic logic, Encyclopaedia Britannica
26:Hallaq, Wael B.(1985-1986), "The Logic of Legal Reasoning in Religious and Non-Religious

Cultures: The Case of Islamic Law and the Common Law”, Cleveland State Law Review 34: 79-96 [91-3]
27:Haque 2004, p. 366
28:Haque 2004, p.367
29:Simon Kemp, K.T. Strongman, Anger theory and management: A historical analysis, The American Journal of Psychology, Vol. 108, No. 3.( Autumn , 1995), pp. 397 – 417
30:Haque 2004, pp. 367-8
31:Haque 2004, p. 368
32: H – Net Review: Eric Ormsby on Averroes (Ibn Rushd): His Life, Works and Influence
33:The Influence of Islamic Thought on Maimonides (Stanford Encyclopedia of Philosophy)
34:Tony Street (July 23, 2008). "Arabic and Islamic Philosophy of Language and Logic”. Stanford Encyclopedia of Philosophy. htt://plato.stnford.edu/entries/arabic-islamic-language. Retrieved 2008 – 12 – 05.
35:Savage – Smith 1995, pp. 83, 94 – 5
36:Shanab, R.E.A. 1974. Ghazali and Aquinason Cousation. The Monist: The International Quarterly Journal of General Philosophical Inquiry 58.1: p.140
37:Lewes, Geoge Henry (1867). The History of Philosophy from Thales to Comte. Vol. 2: Modren

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close