شخصیات

ہاشم انصاری ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے

راشدالاسلام

ویسے تو ایک دن ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے لیکن 21جولائی 2016 بروزجمعرات صبح کے تقریباً 5بجے بابری مسجدمقدمہ کے اہم فریق جناب ہاشم انصاری کی انتقال پرملال کی خبرسب سے پہلے سوشل سائٹ کے ذریعہ جنگل میں آگ کی طرح پھیلی توپورے ملک خصوصاً مسلمانوں میں غم کی لہردوڑگئی۔ بقول ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال اانصاری کہ وہ جب صبح کی نمازکیلئے نہیں اٹھے توگھروالوں نے جاکردیکھااورپایاکہ ان کی موت ہوچکی ہے۔ بہرکیف ہاشم انصاری نے بابری مسجد اورہندومسلم اتحادکیلئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی ان کے انتقال سے جو خلاہوئی ہے ، شایداس کا پر ہو نا ناممکن ہے۔ یقینا مرحوم ہاشم انصاری کا انتقال بہت بڑا سانحہ ہے۔مگر ایسے شخصیات کی اس دنیا فانی سے رخصت ہوجا نا ، جس شخص نے پوری زندگی ہندومسلم اتحاداوربابری مسجد کی بقایا کیلئے لڑائی لڑی،ایسے لوگوں کو دنیا سے کوچ کر جا نا بیحد افسوس ہوتا ہے۔ہاشم انصاری نے اپنی زندگی کا ہرایک لمحہ بابری مسجد کی بازیا بی کے تئیں وقف کیا،جس کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا ۔ہاشم انصاری کاشمار ان شخصیت میں سے تھا جو رخصت ہو تی ہیں، تو ایک تاریخ اپنے ساتھ لے جاتی ہیں اورہاشم انصاری کا ہمارے درمیان میںسے چلے جاناہمارے لئے کسی نقصان سے کم نہیں ہے۔

 ہاشم انصاری ایک لمبے عرصہ تک تنہا سینہ سپر ہو کر بابری مسجد کی لڑائی لڑتے رہے،وہ قانونی لڑائی میں بھی پیش پیش تھے اور انہوں نے ایودھیا میں رہ کر ہندو فرقہ پرستوں کی جبروستم اور جارحانہ عزائم کا ڈٹ کرآخری سانس تک مقابلہ کیا۔ 18دسمبر 1961کو جب سنی وقف بورڈ کے تحت بابری مسجد کا مقدمہ دائر کیا گیا تو اس کے مدعی ہاشم انصاری صاحب ہی تھے۔ ایودھیا کے کئی سادھو سنتوں سے ان کے گہرے مراسم تھے اور ان کے ساتھ ملکر انہوں نے اجودھیااور فیض آباد کے ماحول کو کئی بار خراب ہونے سے روکا بھی تھا۔ ہنومان گڑھ کے مہنت گیان داس اور رام جنم بھومی نیاس کے صدر رام چندر داس پرم ہنس سے بھی ان کے ذاتی مراسم تھے۔

ماہرین وسیاستدانوں کاکہناہے کہ ہاشم انصاری پر ہر قسم کا دباؤڈالا گیا کہ وہ بابری مسجد کی لڑائی سے دستبردار ہوجائیں اور رام مندر کی حمایت کریں۔ انھیں دھمکیاں بھی دی گئیں اور لالچ بھی دیاگیا لیکن اس مرد مجاہد اور درویش صفت انسان نے کسی کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ انھیں بابری مسجد مقدمہ سے دست برداری اور رام مندر کی حمایت کے لئے دو کروڑروپئے اور پٹرول پمپ کا آفر بھی دیا گیا تھالیکن ہاشم انصاری صاحب کسی بہکاوے میں نہیں آئے ۔ ہاشم انصاری ملک میں ہمیشہ امن وامان کے پیروکار تھے۔ جس کی وجہ سے مخالف بھی ان کا احترام کرتے تھے۔انصاری ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے ہندؤں کے تہوار پر ہاشم صاحب سادھو سنتوں اور ہندو دھرم گروؤں کو مبارکباد دینا نہیں بھولتے تھے، وہیں ہندو سادھو سنت مسلم تہواروں پر ان کے گھر جا کر مبارک باد دیتے تھے۔خبروں کے مطابق کچھ دن پہلے ہاشم انصاری نے کہا تھا کہ میں سن 1949 سے مقدمے کی پیروی کر رہا ہوں۔لیکن آج تک کسی ہندو نے مجھے ایک لفظ غلط نہیں کہا۔ ہمارا ان سے بھائی چارہ ہے، وہ ہم کو دعوت دیتے ہیں۔ میں ان کے یہاں خاندان کے ساتھ دعوت کھانے جاتا ہوں۔ہاشم انصاری کہا کرتے تھے کہ مقامی ہندو سادھو سنتوں سے ان کے تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے۔میں جب بھی ان کے گھر گیا، ہمیشہ اڑوس پڑوس کے ہندو نوجوان چچاچچا کہتے ہوئے ان سے باتیں کرتے تھے اورملتے تھے۔جناب ہاشم انصاری یہ بھی کہاکرتے تھے کہ تنازعہ اپنی جگہ، دوستی اپنی جگہ۔ خبریہ بھی کہ انصاری صاحب کہہ چکے تھے کہ وہ فیصلے کا بھی انتظار کر رہے ہیں اور موت کا بھی، لیکن چاہتے ہیں کہ موت سے پہلے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا فیصلہ دیکھ لیں۔انصاری کا خاندان کئی نسلوں سے ایودھیا میں رہ رہا ہے۔

1949 میں جب متنازعہ مسجد کے اندر مورتیاں رکھی گئیں، اس وقت انتظامیہ نے امن و امان کے لیے جن افراد کو گرفتار کیا، ان میں انصاری بھی شامل تھے۔پولیس انتظامیہ کی فہرست میں نام ہونے کی وجہ سے 1975 کی ایمرجنسی میں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور انہیں آٹھ ماہ تک بریلی سینٹرل جیل میں رکھا گیا۔6 دسمبر، 1992 کے بغاوت میں باہر سے آئے فسادیوں نے ان کا گھر جلا دیا لیکن ایودھیا کے ہندوؤں نے ان کے اور ان کے خاندان کو فسادیوں کی بھیڑ سے بچایا۔اس واقعہ کے بعد انصاری کو حکومت کی طرف سے جو کچھ معاوضہ ملا، اس سے انہوں نے اپنے چھوٹے سے گھر کو دوبارہ بنوایا اور ایک پرانی امبیسڈر کار خریدی تھی۔ہاشم انصاری اپنی ملی حمیت اور جرأتمندانہ سرگرمیوں کے نتیجہ میں 1954ء میں وہ پہلی بار گرفتار کیے گئے تھے اور کورٹ کی جانب سے ان پر 500 روپے کا جرمانہ بھی لگایا گیا تھا، 18دسمبر 1961ء میں جب جمعیۃ  علماکے ذریعہ سنی وقف بورڈ کی جانب سے جو مقدمہ دائر کرایا گیاتھا، اس وقت انہوں نے بحیثیت ایک نمائندہ مقدمے کی پیروی شروع کی تھی، یہ بھی ایک تاریخی واقعہ ہے کہ 1976ء میں ڈی آئی آر کے قانون کے تحت ان کی گرفتاری بھی ہوئی تھی اور مرحوم ہاشم انصاری نے تقریباً آٹھ مہینے تک بریلی سینٹرل جیل میں قید وبند کی صعوبت برداشت کی۔ ہاشم انصاری کی نصیحت کے مطابق اب اُن کے اکلوتے صاحبزادے محمد اقبال انصاری، بابری مسجد کے مقدمے کی پیروی کریں گے، تاہم یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ بابری مسجد ورام مندر کے تنازعہ کے باوصف، ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی اور رواداری  کے قیام میں ان کا بڑا اہم رول رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ اجودھیا کے حلقہ میں ہندو اکثریتی حلقوں اور مسلم سماج دونوں کے درمیان مقبول رہے اور اُن کے انتقال کے موقع پر بھی ان کے جسد خاکی کے ارد گرد بلاامتیاز اجودھیا وفیض آباد کے لوگ بڑی تعداد میں نظر آئے جن میں غیر مسلم برادران وطن کی بڑی تعداد تھی۔مرحوم ہاشم انصاری کی عمر 96سال تھی۔ آپ کوٹھیا، فیض آباد، اتر پردیش میں سال 1921 میں پیدا ہوئے لیکن جب وہ صرف گیارہ سال کے تھے کہ سن 1932 میں ان کے والد کی موت ہو گئی تھی۔ انہوں نے محض دوسری کلاس تک تعلیم حاصل کی اور پھر سلائی یعنی درزی کا کم کرنے لگے۔ بعد میں ان کی شادی پاس ہی کے ضلع فیض آباد میں ہوئی۔انصاری کے دو بچے ہوئے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ انصاری کے خاندان کی اقتصادی حالت ٹھیک نہیں رہی۔ بہرحال ہاشم انصاری  نے بابری مسجد کی بازیابی کے لیے جس طرح قانونی لڑائی لڑی وہ ایک تاریخ ہے، اس سلسلے میں ان کی جدوجہد اور خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء گو ہیں مرحوم کی مغفرت فرمائے اوراہل خانہ کوصبرجمیل عطافرمائے۔ آمین

راشدالاسلام

9810863428

rashid110002@gmail.com

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close