شخصیات

سرکار غوث الاعظم کی عظمت و محبوبیت

ﷲ رب العزت قرآن کریم میں اپنے محبوب بندوں سے محبت بھرے انداز میں ارشاد فرما رہا ہے ۔فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ وَشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُوْن(القرآن سورہ بقرہ 2،آیت 151)(ترجمہ: میری یاد کرو، میں تمھارا چرچا کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔)
اس آیت میں پیاربھرے انداز میں سکھایا جارہا ہے کہ مجھے یا د کرو اور حقیقتاً یہ بندے کا حق ہے کہ وہ اپنے رب کی یاد میں ہمہ دم مصروف رہے اور بندے کا یاد کرنا ہی اصل زندگی ہے اس لئے جہاں تک تعلق ہے خدا کی یاد اور اس کے ذکر کا تو کائنات کی ہر مخلوق اپنے اپنے طور پر ذکر و تسبیح میں مشغول ہے ۔ ارشاد باری ہے: سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم(ترجمہ: اﷲ کی تسبیح بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں او رجو کچھ زمینوں میں ہے اور وہی عزت والا حکمت والا ہے)(القرآن سورہ صف 41، آیت 1تا 3)
اور بندے کو بھی اس کی یاد کرتے رہنے کا حکم ہے ۔ قرآن مقدس میں اﷲ نے اپنے بندوں کو اپنے ذکر کی طرف متوجہ کیا ۔ اپنے رب کو یاد کرو اپنے رب کی یاد سے غفلت نہ برتیں۔ جب ہی تو یادِ الہٰی میں زندگی گزارنے والے خدا کے مقبول بندے ہوگئے۔ اﷲ کی یاد میں ہر وقت مصروف رہنے کی وجہ کر اﷲ رب العزت نے ان کے لئے دارالجزا کے دروازے کھول دئیے اور اﷲ نے اپنے ان محبوب بندوں کے ذکر کوبلند کر دیا اور تا قیامت ان کا چرچا ہر انسان کی زبان پر رہے گا۔
محبوب سبحانی کی افضلیت
اﷲ رب العزت قرآن کریم میں اپنے محبوب بندوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُوْ تِیْہِ مَنْ یَّشآءُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌیَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشآءُ وَاللّٰہُ ذُوْ الْفَضْلِ الْعَظِیْم(القرآن، سورہ آل عمران 3،آیت نمبر 76؍73) (ترجمہ: تم فرمادو کہ فضیلت اﷲ کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرماتاہے اور اﷲ وسعت والا علم والا ہے،اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اﷲ بڑے فضل والا ہے) ۔اس آیت کریمہ سے مسلمانوں کو دو ہدایتیں ہوئیں ۔ ایک یہ کہ مقبولانِ بارگاہ ِ خدا میں اپنے سے ایک کو افضل دوسرے کو مفضول نہ بنایئے کہ فضل تو اﷲ رب العزت کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ دوسرے یہ کہ جب دلیل سے کسی کی افضلیت ثابت ہو تو اس میں اپنے نفس کی خواہش اپنے ذاتی علاقہ ،نسب یا نسبت کو افضل نہ بتائے کہ فضل و عظمت ہمارے ہاتھ نہیں کہ اپنے آبا ء و اساتذہ و پیر کو اوروں سے افضل کر ہی لیں ۔جسے خدا نے افضل کیا وہی افضل ہے اگرچہ ہمارا ذاتی علاقہ اس سے کچھ نہ ہو ۔ یہ اسلامی شان ہے۔ مسلمانوں کو اسی پر عمل کرنا چاہئے۔ اکابر خود رضائے الہٰی میں فنا تھے اﷲ رب العزت کی عطا پر خوش تھے۔
اﷲ کے مقبول بندے اولیا ء کہلاتے ہیں ۔ ان مقبولوں میں تو بعض تقویٰ ، عبادت کرکے ولی بنتے ہیں بعض پیدائشی ولی ہوتے ہیں ۔ یہ ولایت عطائی ہے ۔ دیکھوبی بی مریم وعیسیٰ علیہ السلام کے حبیب نجار اور موسیٰ علیہ السلام کے جادوگر آناً فاناً ایمان لائے اور ولی بن گئے۔ ولی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ولی تشریعی ، ولی تکوینی۔ ولی تشریعی ہر چالیس مسلمانوں میں ایک ہوتا ہے ۔ ولی تکوینی خاص جماعت ہے جیسے حضور غوث الاعظم ، قطب، ابدال ، خواجہ غریب نواز رحمتہ اﷲ علیہ ۔ یہ تمام اولیائے کرام ہر طرح کے خوف و ڈر سے بے خوف ہیں۔ ارشاد باری ہے۔’’ترجمہ: سن لو بے شک اﷲ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم ہے اور وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں انھیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔ اﷲ کی باتیں بدل نہیں سکتی۔یہی بڑی کامیابی ہے ۔(القرآن ، سورہ یونس:10 ٰآیت 41تا46)
تمام اولیا ئے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ غوث الاعظم مرتبہ ولایت میں سب کے سردار ہیں اور رتبہ محبوبیت پر فائز ہیں۔ آپ نے پوری زندگی خدا کی یاد میں گزاردی اور خدا کے ذکر کو اتنا بلند کیا اور رسول ﷺ کی سنتوں کو اتنا بلند کیا کہ خدا نے آپ کو بھی بلند ی عطا کردی اور اپنا محبوب قرار دیا۔ جب خدا کے محبوب ہوگئے تو فرماتے ہیں کہ خدا مجھے کھلائے گا تو کھاؤں گا، خدا مجھے پلائے گا تو پیوں گا۔ جب یہ مقام حاصل ہو گیا تو پھر ’’غوث الاعظم ‘‘ ان بندوں میں شامل ہوگئے کہ کسی کام کا ارادہ کیا تو وہ بھی خدا نے پوراکردیا۔
سرکار غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کی تعلیمات
اتباعِ قرآن و سنت رسول اﷲﷺ : حضرت قطب ربانی نے ارشاد فرمایا ۔’’اس میں شک نہیں کہ تیرا نفس اﷲ کی مخلوق اور ملک ہے،لیکن دنیا کی شہوانیات ولذات اور اسباب ِ نمرود و تکبراسے راہ راست سے برگشتہ کئے ہوئے ہیں۔کیونکہ یہ چیزیں انسان کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہیں۔ پس اگر تو اﷲ کی اطاعت و فرماں برداری کے لئے نفس کی مخالفت اختیار کرے گا تو میری جانب یہ جہاد ہوگا اور فلاح و بہبود کا ذریعہ جہادِنفس کے بعد اﷲ سے تیری دوستی اور عبودیت پایہ ثبوت کو پہنچے گی اور تجھے پاک و صاف اور خوشگوار نعمتیں عطا کی جائیں گی۔تمام اشیائے کائنات تیری تابع ہوں گی اور تیری خدمت و تعظیم کریں گی۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ جو شخص خدا کا مطیع ہوجاتا ہے دنیا اس کی مطیع ہوجاتی ہے۔(فتوح الغیب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ، صفحہ 35، مقالہ نمبر 10، ناز پبلشنگ ہاؤس، دہلی)
اہل اﷲ کا اجر: آپ نے مزید ارشاد فرمایا ۔’’جس شخص نے اﷲ تعالیٰ سے دینِ برحق کی خدمت اور تبلیغ و اشاعت صدق و خلوص کے ساتھ کی اﷲ خود اس کااجرو ثواب بن جاتا ہے اور دنیا و عقبیٰ میں اسے عزت و آبرو عطا فرماتاہے۔ فرمایا اﷲ تعالیٰ نے ۔’’تم اﷲ کی مدد کرو(یعنی اس کے دین کی نشر واشاعت کرو) وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا۔ پس میں تمھیں تاکید کرتاہوں کہ اﷲ کے کلام کی تبلیغ و اشاعت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤاور تسلیم و رضا کو اپنا شعار بناؤ۔ جو مسلمان اﷲ کے کلام اور اس کے نبی کی سنت کی تبلیغ و اشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف کردیتاہے اس کا اجر وثواب فی سبیل اﷲ جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ ہے اور اﷲ تعالیٰ کی نصرت و اعانت ہمیشہ اس کے شاملِ حال رہتی ہے۔
نفس امارہ کی مخالفت توحید کی تکمیل ہے: قطب الاقطاب نے ارشاد فرمایا۔’’تو اﷲ تعالیٰ کے احکام اور افعال کا احترام کرتے ہوئے اپنی خواہشات و لذات کو فنا کردے،کیونکہ اس عمل سے تیرے دل میں علم الہٰی کا ظرف ہونے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی۔ تعلق باﷲ کو مضبوط بنانے کے لئے فاسق و غافل مخلوق سے قطع تعلق کرنا نہایت ضروری ہے اور اپنی خواہشات سے فنا ہوجانے کی علامت یہ ہے کہ نفع و نقصان ، دفع ضرر و شر، اسباب دنیاوی اور جد وجہد کے تمام معاملات میں اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کے بجائے ان امور کو کلی طور پر اﷲ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے اور قاضی الحاجات سمجھا جائے۔ خدا کو مختار کل نہ سمجھ کر اپنے نفس پر اعتماد کر لینا ہی شرک ہے۔ صرف اﷲ تعالیٰ ہی زمانہ ماضی میں اپنے ہربندہ کے امور و معاملات کا کفیل و ذمہ دار رہا ہے۔ زمانہ حال میں بھی وہی وکیل و ذمہ دار ہے اور مستقبل میں بھی وہی رہے گا۔ اور اس کی یہ نگرانی و ذمہ داری اس وقت بھی تھی جب تو بطن ِمادر میں تھا اور پھر ماں کی آغوش میں ایک شیر خوار بچہ تھا اور خدا کے ارادے کی خاطر اپنے ارادے سے فنا ہوجانے کی علامت یہ ہے کہ تو کسی خواہش و مراد کا تصور نہ کرے۔ اس لئے کہ ارادہ خداوندی سراسر خیر و بہتری ہے اور اس میں تیرا قصد کرنا بھی شرک ہو جائے گا۔ خواہشات ِنفسانی کی نفی سے اﷲ کا فضل تجھ پر جاری رہے گا۔ سینہ فراخ و کشادہ ہوگا، چہرہ روشن و پر نور ہوگا اور تعلق باﷲ کی روحانی توانائی پاکر تو کائنات کی تمام چیزوں سے بے نیاز ہوجائے گا۔(فتوح الغیب مقالہ نمبر 4،صفحہ 21تا22)
التزامِ دعا کی تاکید
حضرت قطب ربانی نے ارشاد فرمایا: یہ کبھی نہ کہنا کہ میں اﷲ تعالیٰ سے سوال نہیں کروں گا۔ کیونکہ سوال اگر معیوب و ممنوع ہے تو مخلوقات کے سامنے ممنوع ہے نہ کہ خالق و پروردگار کے سامنے۔ اﷲ تعالیٰ سے اپنی تمام حاجات وضروریات کے لئے سوال کرنا اور پے در پے سوال کرنا بندہ کے لئے موجب سعادت و نیک بختی ہے اور توحید و ایمان کا واضح ثبوت ہے۔ لہٰذا میں تجھے تاکید کرتا ہوں کہ اپنی ہر ضرورت کے لئے اﷲ تعالیٰ کے حضور سوال کر کہ اسی میں دنیا و عقبیٰ کی سعادت ہے۔ اگر تیری طلب کی گئی چیز علم الہٰی میں تیرے لئے مفید ہوگی اور باعثِ راحت و ترقی ہوگی تو وہ تجھے نہیں ملے گی۔ بہر کیف تجھے دعا کی قبولیت یا فعل ِ الہٰی کے خلاف کوئی حرفِ شکوہ و شکایت ہرگز زبان پر نہیں لانا ہوگا۔ پس اپنی ہر حاجت و ضرورت کے لئے اﷲ کے حضور سوال اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے سوال کرنے کا حکم دیا اور بندہ کو پے درپے دعاکی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ۔’’میرے حضور دعا کرو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔‘‘ نیز فرمایا ۔’’ اﷲ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو۔‘‘ اس کے علاوہ فرمایا۔’’ میں اپنے بندوں سے بہت قریب ہوں۔ جب بھی کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔‘‘ اﷲ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا۔’’اﷲ سے قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے دعا مانگا کرو اور یہ کبھی نہ کہہ میں تو اس سے سوال کرتاہوں لیکن وہ میری دعا قبول نہیں کرتا۔ لہٰذا میں آئندہ اس سے دعا نہیں کروں گا۔کیونکہ ایسا کہنا کفر ہے۔‘‘ حدیث شریف میں وارد ہے کہ قیامت کے دن بندہ اپنے نامہ اعمال میں کچھ ایسی نیکیاں دیکھے گا جو اس نے دنیا میں نہ کی ہوں گی اور نہ وہ انھیں جانتا ہوگا۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو یہ نیکیاں پہچانتاہے؟ مومن کہے گا میں نہیں جانتا یہ نیکیاں میرے لئے کہاں سے آئی ہیں۔ پھر اسے بتایا جائے گا کہ یہ نیکیاں تیرے ان سوالوں اور دعاؤں کی جزا ہیں جنھیں دنیا میں تو نے مانگا تھا اور کسی مصلحت کی بنا پر قبول نہیں کیا گیا تھا اور ایسی جزائے عظیم اس وجہ سے ہے کہ مومن اﷲ تعالیٰ سے سوال کرنے اور ذکر و عبادت میں حاصل یقین و ایمان اور موحّد ہے نیز وہ اپنے فطری اور طبعی جذبۂ عدل کی بنا پر ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھنے والا ہے۔اور حقدار کو اس کا قدرتی اور حقیقی حق دیانت داری کے ساتھ پہنچانے او رادا کرنے والا ہے ۔پس یاد رہے کہ بارگاہِ الہٰی سے بندہ کے دعا و سوال کا اجر و فائدہ ضرور عطا فرمایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ رحیم و کریم اور غنی ومغنی اﷲ تعالیٰ کے اسمائے صفاتی ہیں اور اﷲ تعالیٰ اپنے در کے سائل کو مایوس و نا امید نہیں کرتا۔(فتو ح الغیب مقالہ نمبر 44، صفحہ 170)
سیدنا غوث الاعظم رضی اللّٰہ عنہ کی نصیحت
پیرانِ پیر، امام الاولیاء ،قطب الاقطاب،سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ ’’پہلے اپنے نفس کو نصیحت کر پھر غیر کو نصیحت کر۔ جب تک تجھے خود اصلاح کی حاجت ہو تو غیر کی طرف متوجہ نہ ہو، تجھ پر افسوس کہ جو خود نا بینا ہے دوسرے کو کیا راہ دکھائے گا۔ڈوبتے ہوؤں کو دریا سے وہی بچا سکتاہے جو خود اچھا تیرنے والاہو۔
رب تعالیٰ کی طرف بندوں کی رہنمائی وہی کر سکتا ہے جو خود اﷲ تعالیٰ کو پہچانتا ہو۔(الفتح الربانی، تصوف و طریقت جلداول صفحہ ۹۵:سید شاہ تراب الحق)
آپ نے فرمایا ۔’’اگر بنیاد مضبوط نہ ہو تو اوپر کی عمارت مضبوط ہونے کا فائدہ نہیں۔ اگر بنیاد مضبوط ہو اور اوپری تعمیر میں نقص آجائے تو اس نقص کی تلافی ہو سکتی ہے۔ اعمال کی بنیاد توحید و اخلاص ہے جس کی یہ بنیاد کمزور ہو اس کے پاس کچھ نہیں۔‘‘ آپ مزید ارشاد فرماتے ہیں۔’’ تمام حرام کاموں سے بچے۔اپنے پیر ومرشد سے مجاہدہ اور ذکر (عبادت) کے لئے رہنمائی لے پھر روزاپنا محاسبہ بھی کرے اور کوشش کرے کہ لہو و لعب اورشیطانی تفریحات سے دور رہے۔ یہ چیزیں غفلت کا باعث بنتی ہیں۔ جو گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اس کا دل نرم ہوجاتا ہے اور حرام سے بچے اور حلال رزق کھائے اس کی فکر میں پاکیزگی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ بات فراموش نہ کرے کہ دین کے راستے میں مشکلات اور آزمائش آیا کرتی ہیں۔ جتنی آزمائش زیادہ ہوگی اس میں صبر کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ بس مومن کو چاہئے کہ اعتراف شکست نہ کرے اور رحمت الہٰی سے ہرگز مایوس نہ ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ حسنہ بھی ہمارے لئے روشن مثال ہے۔
واہ کیا مرتبہ ہے اے غوث بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے ہے قدم اعلیٰ تیرا
اپنی نیکیوں پر مغرور نہ ہونے کی تلقین : سرکار غوث اعظم نے ارشاد فرمایا’’تیرا اپنی نیکیوں پر اترانا،ان نیکیوں کو اپنے نفس سے منسوب کرنا اور خلق میں اپنی راست بازی پر فخر کرتے پھرنا صریحاً شرک اور گمراہی ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے اور نیکیوں کی توفیق اﷲ تعالیٰ ہی کی تائید و توفیق اور فضل و کرم سے ہے اس کے بر عکس اگر کوئی شخص شرک وکفر اور طرح طرح کے گناہوں سے بچتا ہے تو پھر وہ بھی سراسر اﷲ کی امداد و اعانت اور تائید و نصرت سے ہے۔پس تو اﷲ تعالیٰ کی تائید و توفیق اور نصرت و اعانت کا اعتراف کرنے میں بخل و تعمل سے کیوں کام لیتا ہے اور نیکی اور بدی سے بچنے کو محض اپنے نفس کی طرف کیوں منسوب کرتا ہے حالانکہ بڑے بڑے جلیل القدرانبیاء اور اولیاء اﷲ بھی ہمیشہ یہ ہی کہتے رہے کہ لا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم،یعنی اﷲ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور نواہی سے محفوظ رہنے کی توفیق صرف اﷲ کی تائید و نصرت سے ہے۔اﷲ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا نیک عمل کرو اور نیک عملوں کی توفیق اﷲ تعالیٰ سے چاہو۔گناہوں سے بچنے کے لیے نفس عمارہ کو مغلوب کرو،اپنے پروردگار کی قربت چاہو اور اﷲ کے بن جاؤ(غنیۃ الطالبین،فتوح الغیب مقالہ نمبر 70،صفحہ نمبر 179)
اﷲ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو سید نا غوث الاعظم کی تعلیمات و نصیحت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری دنیا و آخرت کامیاب ہو ۔ آمین ثم آمین ۔
مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close