شخصیات

نوم چومسکی: حیات کے چند گوشے

چومسکی نے سات دسمبر 1928 کو فلاڈلفیا کے ایک متوسط یہودی گھرانے میں جنم لیا۔ اس خاندان کے افرا دعلم و ادب میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔اس کا والد ولیم  جنوبی امریکہ میں میر لوس پارک، پنسلوانیا  میں واقع یہودی اساتذہ کی تربیت کے گریٹز کالج (Gratz College) میں عبرانی کا پروفیسر تھا۔ اس کے والداور والدہ ایلسی چومسکی  روسی یہودی مہاجر تھے۔زمانہ طالب علمی ہی سے اس نو خیز طالب علم کو معاشرتی زندگی میں بڑھتی ہوئی طوائف الملوکی کے مسموم اثرات کے بارے میں تشویش تھی۔ وہ اس امر پر مضطرب رہتا کہ جہاں بھی جنگل کا قانون نافذ ہوتا ہے وہاں کے سم کے باعث تمام رُتیں بے ثمر ،آبادیاں پُر خطر،زندگیاں مختصراورآہیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ دس برس کی عمر میں اس نے یورپ میں بڑھتی ہوئی فسطائیت، ریاستی جبر اور عصبیت کے خلاف ایک مضمون لکھا۔ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد چومسکی نے سولہ سال کی عمر میں امریکہ کی ممتاز یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں داخلہ لیا۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں حصول تعلیم کے دوران چومسکی کو زیلگ ہیرس  (Zellig S. Harris) جیسے ممتاز ماہر لسانیات کی رہنمائی میسر آئی۔  1740میں علم کی روشنی کے سفر کا آغاز کرنے والی یونیورسٹی آف پنسلوانیا شہری علاقے میں تین سو دو ایکڑ پر محیط ہے۔ دنیا میں اس جامعہ کا تیرہواں نمبرہے اور امریکہ کی چوتھی اہم جامعہ ہے۔ اس جامعہ میں بیس ہزار کے قریب طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سے پانچ ہزار کے قریب طلبا و طالبات بیرونی ممالک سے تحصیل علم کے لیے یہاں داخل ہیں۔ان طلبا کی تدریس پر تین ہزار اساتذہ مامور ہیں جن میں بین الاقوامی شہرت کے حامل تین سو اساتذہ کا تعلق بیرون ممالک سے ہے۔ اس قدیم جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا نے عملی زندگی کے اہم شعبو ں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔اس جامعہ میں دوران تعلیم چومسکی نے لسانیات،ریاضی اور فلسفہ میں اختصاصی مہارت حاصل کی اور اپنی صلا حیتوں کا لوہا منوایا۔ ا س جامعہ کے اساتذہ بالخصوص زیلگ ہیرس نے اپنے نوخیز شاگرد چومسکی کی صلاحیتوں کو جس صدقِ دل سے صیقل کیا اس کے اعجاز سے چومسکی کا لسانیات میں استغراق اوج کمال تک پہنچ گیا۔ چومسکی کے تمام اساتذہ اور ہم جماعت طلبا اس کے جذبۂ انسانیت نوازی،جمہوریت نوازی،امن پسندی، باریک بینی،معاملہ فہمی،جدت خیا ل، علم دوستی،حریت فکر، یہودیت اور لسانیات پر عالمانہ دسترس کے مداح تھے۔ اس جامعہ سے چومسکی نے 1949 میں بی اے کاامتحان امتیازی نمبر حاصل کر کے پاس کیا۔ 1951میں ایم اے کیا۔ایم اے میں چومسکی نے The Morphophonemics of Modern Hebrew کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا۔  1955 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پی ایچ ڈی کے لیے اس نے ہئیتی تبدیلی کے تجزیاتی مطالعہ پر مقالہ لکھا۔زیلگ ہیرس نے ہارورڈ یونیورسٹی کے جن نامور اساتذہ سے چومسکی کو متعار ف کرایا ان میں ریاضی دان ناتھن فائن، فلسفی ہینری نیلسن گڈ مین اور فلسفی ڈبلیو  وی کوائن کے نام قابل ذکر ہیں۔

1949 میں چومسکی نے اپنے بچپن کی رفیق کار،ساتھی اور ذہین ہم جماعت، ماہر تعلیم کیرل ڈورس شاٹز سے شادی کر لی۔ یہ شادی بہت کامیاب رہی،ان کے تین بچے ہوئے۔دونوں ایک دوسرے کے ہم خیال اور ہم مسلک تھے۔بچوں کی پیدائش پر والدین بہت خوش تھے۔بچوں کی تعلیم و تربیت پر چومسکی اور اس کی اہلیہ نے بھرپور توجہ دی۔ ان کے بچے اویوا،ڈیانی اور ہیری  کامیاب زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شادی کا یہ بندھن انسٹھ سال تک نہایت خوش اسلوبی سے بر قرار رہا۔ کیرل کی 2008 میں کینسر کے عارضے کے باعث وفات کے بعد چومسکی نے چھیاسی سال کی عمر میں چالیس سالہ ولیریا وسرمین  سے 2014 میں دوسری شادی کرلی۔

جب انسان کے سینے میں حسرتیں گھر کرلیں تو غموں کے ازدحام میں جی کا گھبر ا جانا ایک فطری بات ہے۔دائمی مفارقت دینے والوں کی یادیں قلبِ حزیں کے لیے سوہانِ روح بن جاتی ہیں۔ان اعصاب شکن حالات میں واحد مُونسِ ہجراں صبر بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ہر سُو بچھے ہوئے دکھوں کے جال سے بچنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔کوئی چارہ گر ایسا نہیں ملتا جو غم فراق کا مداوا کرے اور ہجر کے دامنِ چاک کورفو کرے۔کسی کے دُکھ در دبانٹنے کے لیے جس عالی ظرفی،وسعتِ نظر، صبر و تحمل،بے لوث محبت،ایثار اور انسانی ہمدردی کی احتیاج ہے،قحط الرجال کے موجودہ دور میں وہ عنقا ہے۔اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالنے کے بجائے چومسکی نے جب عقد ثانی کا غیر متوقع فیصلہ کیا تواحباب کی شادمانی،سنجیدہ طبقے کی حیرانی،ہجر و فراق کی بھٹی میں جلنے والوں کی کچھ نہ کر سکنے پر پشیمانی،حاسدوں کی چرب زبانی،بے تاب اُمنگوں کی بے کرانی اور دِلِ شکستہ کی فتنہ سامانی عجب گُل کھلا رہی تھی۔چومسکی نے اپنی تخلیقی فعالیت کو مہمیز کرنے کی خاطرجو فیصلہ کیا وہ اس کے دِل کی آواز تھی۔دِل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچ گئے اور تخلیقی وجدان کی جو بات اب چل نکلی ہے اب جانے کہاں تک پہنچے۔

چومسکی نے فکر و خیال،تخلیقِ ادب اور تنقید و تحقیق کے سب معائر اور نمونے بدل ڈالے۔جدید لسانیات میں فکر انگیزخیالات اور متنوع تجربات و اختراعات کی وجہ سے یورپ میں اس رجحان ساز ادیب کو بابائے جدید لسانیات قرار دیا جاتا ہے۔ اس نے لسان،اذہان اور تخلیقی وجدان کے مروّج معائر کو لائقِ اعتنا نہ سمجھا۔ اس نے تقلید کی مہلک روش سے دامن بچاتے ہوئے جدت اور اختراع کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کو نصب العین بنایا۔اس نے عزم صمیم سے کام لیتے ہوئے افکارِ تازہ کی شمع ِ فروزاں تھام کرسعیٔ پیہم کو شعار بنا کرجہانِ تازہ کی جانب روشنی کے سفر کا آغاز کرنے پر اصرار کیا۔سرمایہ دارانہ نظام،استعمار و استبداد کا فسطائی جبر،سُپرطاقتوں کی من مانی فرما ں روائی،طالع آزما اور مہم جُو عناصر کی شقاوت آمیز یلغار کے خلاف اس نے ہمیشہ نہایت جرأ ت مندانہ موقف اپنایا۔معاشرتی زندگی میں پس ماندہ،مفلوک الحال اور غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی کے دِن پورے کرنے والی سسکتی ہوئی انسانیت کے ساتھ اس نے جو عہدِ وفااستوار کیاہمیشہ اسی کو علاج گردشِ لیل و نہار سمجھا۔اسے اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ محرومیاں،مجبوریاں اور نا انصافیاں انسان کو مزاحمت اور بغاوت پر مائل کرتی ہیں۔ کسی کوان اسباب و عوامل پر نظر ڈالنے کی فرصت ہی نہیں کہ آخر لوگ معاشرتی زندگی میں خوف و دہشت پھیلانے کے جان لیوا منصوبے کیوں بناتے ہیں۔اس کا خیال ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہاں کامظلوم طبقہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے فسطائی جبر کے سامنے سینہ سپر ہو جاتا ہے۔جہاں تک شہرت کا تعلق ہے یہ تو انسان کو اس کے اچھے افعال کے باعث مل جاتی ہے۔جہاں تک کردار کا تعلق ہے وہ انسان خود پیش کرتا ہے اور اس کا جائزہ اس کے معاصرین لیتے ہیں۔چومسکی نے امریکی ماہر نفسیات اور ماہر کردار(Behaviorist) بی ایف سکنر نظریہ کردار کے بارے میں بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیااور کردار کے بارے میں مروج و مقبول تصورات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

کردار اور رویوں کا سلسلہ روز و شب سے گہرا تعلق ہے۔ اس عالم آب و گل میں جب کوئی شخص چاہتوں، اُمنگوں اور اُمیدوں کے گل ہائے رنگ رنگ کھلنے کی توقع لیے منزلوں کی جانب قدم بڑھاتاہے تو راہ میں ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں جو کھلتے گلاب کو خار مغیلاں سے چھید ڈالتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ انسان کو جو کردار ودیعت کیا جاتا ہے وہ جوابی حرکت کی اساس پر استوار ہوتا ہے۔ اس سے یہ تاثرملتا ہے کہ ہر انسان کا روّیہ اورکردار ہی اس کی شناخت قرار پاتا ہے۔ جب کسی انسان کا مطالعہ احوال، شخصیت کا تجزیہ اور فکروخیال کے موضوعات پر تحلیل نفسی کا مر حلہ آتا ہے توکردار کو کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے گویا انسان کاکردا ر جہاں دروں بینی کی کلید ہے وہاں کسی خاص شخص کے مستقبل کے عزائم اور روّیوں کے بارے میں پیش بینی کے سلسلے میں کردار بے حد ممد ومعاون ثابت ہوتاہے۔کسی بھی ہزیمت اور ناکامی کو غلطی کا نتیجہ قراردنیا بہت بڑی ناانصافی ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ درپیش حالات اور جان لیوا مراحل میں کسی خاص شخص نے جو کردار ادا کیا اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہو۔مسموم ماحول میں کٹھن حالات سے دل برداشتہ ہوکرمُردوں سے شرط باندھ کر سوجانا، بے عملی،کاہلی،بُزدلی اور مایوسی کا شکار ہو کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا رہنااپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسی مہلک غلطی ہے جس کا مداوا ممکن ہی نہیں۔ معاشرتی زندگی میں رنجش،بغض و عناد،حقارتوں،مصلحتوں،چاہتوں،محبتوں،وفا اور بے وفائی کا غیر مختتم سلسلہ جاری ہے۔کسی شخص کی شقاوت آمیز نا انصافی،توہین، نفرت و حقارت اور عناد کو محسوس کر کے لبِ اظہار پر تالے لگا لینا اور کبھی حر ف شکایت لب پر نہ لانا عالی ظرفی،فراخ دلی،وسعت نظر اور صبر و تحمل کی دلیل ہے۔اسی سے کسی بھی شخص کے کردار کی پختگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔صبر و تحمل کے ایسے پیکر کو دیکھ کر وہ سادیت پسندمتفنی جو ظلم،ناانصافی اور دل آزاری کو وتیرہ بناتا ہے خود اپنے تئیں بے بس،لاچار،بے وقعت اور ہیچ محسوس کرتا ہے۔اس کے بر عکس اگر ذاتی انتقام کا ہدف بننے والا شخص بھی جارح کی طر ح پست سطح پر اُتر کر اسی طرح عامیانہ انداز میں اس کی لاف زنی اور بے ہُودہ گوئی کا جواب دے تو یہ اس کی شخصیت و کردار کے مکمل انہدام پر منتج ہوتا ہے۔جارح اسے اپنی کامیابی پر محمول کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مخاطب نے بھی اس جیسا کردار اپنا لیاہے۔اب وہ دونوں ایک جیسے ہیں کیوں کہ مخاطب کو بھی اس نے اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے۔اپنی اس کامیابی پر وہ خوشی سے پُھولا نہیں سماتا۔کردار میں ترک و انتخاب کا مر حلہ بہت باریک بینی،ریاضت،ارتکاز توجہ اور صبر و تحمل کا متقاضی خیال کیا جاتا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ ناکامی،ہزیمت یا کسی بھی محاذ سے پسپائی بھی فعال انسان کے کردار کے اختتام کی نشانی ہرگز نہیں بل کہ کسی بھی انسان کا حسرت ناک انجام اس وقت ہو جاتا ہے جب وہ سعیٔ پیہم،ستیز اور جہد للبقاکے تصور کو پس پشت ڈال کر بیزارر کُن مایوسی اور نااُمیدی کا شکار ہو جاتا ہے مافوق الفطرت عناصر کی موہوم امداد، سایوں پر انحصار،محیر العقول کرشموں کے ظہور اورسرابوں کی جستجو میں جی کا زیان کرتا ہے۔یہی وہ مہلک روّیہ ہے جو کسی بھی فرد کے کردار اور شخصیت کی تباہی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا ہے۔

ایک فعال اور مستعد تخلیق کار کی حیثیت سے چومسکی نے ادراکی معرفت،لسانیات،تحلیل نفسیات پر مبنی فلسفیانہ مباحث،تاریخ،سماجی اور معاشرتی تنقید،تہذیب و ثقافت اور سیاست جیسے اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے متنوع موضوعات پر اپنی وقیع تحریروں سے قارئین کو مثبت شعور و آگہی سے متمتع کرنے کی مقدور بھر کوشش کی۔ ہسپانوی،لاطینی امریکہ اور پُر تگال کے باشندوں کی زبان کے ماہر گبرئیل جیکسن کے تصور کا تنقیدی مطالعہ چومسکی کا اہم کام ہے۔ اس کا شمار ادراکی معرفت کی سائنس کی تفہیم کو زیر بحث لانے والے ان ممتاز دانش وروں میں ہوتا ہے جنھیں اس شعبہ کے بنیاد گزار کی حیثیت حاصل ہے۔عالمی سیاست کے نشیب وفراز پر چومسکی نے ہمیشہ گہری نظر رکھی ہے۔جنگ ویت نام(آغاز یکم نومبر 1955،اختتام:تیس اپریل1975)پر چومسکی نے ہمیشہ گہری تشویش کا اظہار کیا اور امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی اور جنگی جنون کو ہدفِ تنقید بنانے میں کبھی تامل نہ کیا۔چومسکی کی پیش بینی پر مبنی اندیشے درست تھے اس تباہ کن جنگ نے شمالی ویت نام،جنوبی ویت نام،لاؤس،کمبوڈیااور ہند چینی کے عوام کو ہر شعبۂ زندگی میں ناقابل اندمال صدمات سے دو چار کر دیا۔شمالی ویت نام کے عوام نے بالآخر استعماری قوتوں کو پسپا کر دیا اور سلطانیٔ جمہور کی راہ ہموار ہو گئی۔چومسکی نے جنگ ویت نام میں امریکی مسلح افواج کی شمولیت پر اپنے شدید کرب اور تحفظات کا بر ملا اظہار کیا۔ 1967 میں جنگ ویت نام کے موضوع پر اپنے ایک مضمون Essay on the subject میں چومسکی نے امریکی حکومت کی داخلی اور خارجی حکمت عملی پر گرفت کی اور اس پر کڑی تنقید کی۔اس نے ویت نام میں امریکی یلغار کو استعمار سے تعبیر کیااور اس اقدام کو بلاجواز قرار دیا۔اپنی حق گوئی اور بے باکی کے باعث چومسکی کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔حریت ضمیر سے جینے اور حریت ِفکر و عمل کا علم بلند رکھنے کے سلسلے میں چومسکی کی جد و جہد کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بر صغیر میں سید محمد جعفر زٹلی،مولانا ظفر علی خان،حسرت موہانی،احمد ندیم قاسمی،فیض احمد فیض،احمد فراز،حبیب جالب، رام ریاض اورصہبا اختر نے اس سے کہیں بڑھ کر آزادیٔ اظہار کے لیے جد و جہد کی اور قید و بند کی صعوبتیں بر داشت کیں۔اُردو زبان میں حریت فکر کا پہلا مجاہد سید محمد جعفر زٹلی ہے جس نے مغل بادشاہ فرخ سیر کے فسطائی جبر کے خلاف کھل کر اظہار خیال کیا۔جس کے نتیجے میں اس زیرک اور جری شاعر کو ایک بُزدل اور عیاش مطلق العنان بادشاہ نے دار پر کھنچوا دیا۔ اُردو زبان کے جری تخلیق کاروں نے ہوائے جورو ستم میں بھی حریت فکر کی شمع فروزاں رکھی۔اردو زبان کے ادیبوں نے کبھی مصلحت کی پروا نہ کی اور نہ ہی الفاظ کو فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کیا۔احمد ندیم قاسمی کی نظم ’’پتھر‘‘، حبیب جالب کی نظم’’ دستور‘‘ اور احمد فراز کی نظم ’’محاصرہ‘‘ ا اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔اکتوبر 1967 میں چومسکی کو پہلی مرتبہ پابند سلاسل کیا گیا۔زندان کے ایام اسیری کے دوران میں اس کی ملاقات ممتاز امریکی ادیب، سیاسی کارکن،مورخ،صحافی،ناول نگار،اداکار،فلم سازاور ڈرامہ نگار نارمن میلر (Norman Mailer) سے ہوئی۔ نارمن میلر(1923-2007) بھی چومسکی کی طرح حکومتی پالیسی پر تنقید کے باعث ان دنوں ریاستی جبر کی زد میں تھا۔امریکی صدر نکسن(عہدہ صدارت:بیس جنوری1969تانو اگست1974) نے چومسکی کو اپنے ذاتی انتقام اور غیظ و غضب کا نشانہ بنایا۔چومسکی نے ابتلا اور آزمائش کی ہر گھڑی اور ہوائے جورو ستم میں رخِ وفا کو بجھنے نہ دیا اور حوصلے اور اُمید کی شمع کو ہمیشہ فروزا ں رکھنے کی تلقین کی۔اس نے سرمایہ داری،استعماراور ایٹمی طاقتوں کے جبر کے خلاف ہمیشہ کھل کر لکھا اور کسی مصلحت کی پروا نہ کی اور استبداد کے سامنے سپر انداز ہونے سے انکار کردیا۔چومسکی نے واضح کیا کہ ہر شعبۂ زندگی سے وابستہ لوگ قلزم ہستی سے حقائق اور صداقتوں کے گہر ہائے آبدار بر آمد کرنے کے آرزو مند ہیں۔المیہ یہ ہے کہ سب تلخ حقائق اور صداقتیں ہر طرف پھیلی ہوئی پراپیگنڈا مشینری کی اُڑائی ہوئی دُھول اور ابلقِ ایام کے سُموں کی گرد میں نہاں ہو تی چلی جا رہی ہیں۔اپنے اسلوب کے بارے میں اس کا ہمیشہ سے یہی اصرار رہا ہے کہ وہ تو صرف پردہ اُٹھاتا ہے تا کہ پوشیدہ حقائق اور نہاں صداقتیں منظر عام پر لائی جا سکیں۔یہ کوئی غیر معمولی کام نہیں کوئی بھی شخص یہ اہم خدمت انجام دے سکتا ہے مگر اس کے لیے والہانہ انداز کی حامل اور قلبی وابستگی کی مظہر تحقیق اور منطقی دلائل کو رو بہ عمل لانا از بس ضروری ہے۔

لسانیات، ادراکی نفسیا ت، حیاتیاتی سائنس، فلسفہ، منطق، کمپیوٹر سائنس کے شعبوں میں اس یگانہ ٔ روز گار فاضل نے اپنی فقیدالمثال کامیابیوں کے جھنڈے گاڈر دیئے۔ اس کے علاوہ سیاسی سماجی اور معاشرتی زندگی کے مسائل کے بارے میں اس کے انقلابی تصورات کی گونج پوری دنیا میں سنائی دینے لگی۔ اس کی تخلیقی فعالیت اور حریت فکر و عمل کی بنا پر اسے دنیا کا ممتاز مفکر قرار دیا جاتا ہے۔چومسکی نے1947 میں امریکی ماہر لسانیات پروفیسر زیلگ ہیرس (1909-1992 Zailig Haris) سے لسانیات کے موضوع پر اکتساب فیض کیا۔نوم چو مسکی نے اپنے فکر انگیزخیالات کو اپنے منفرد انداز میں چومسکی سلسلہ مراتب میں پیش کیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ لسانیات میں الفاظ و معانی کے تضادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جملوں کو کئی درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ لسانیات میں جملوں کی تقسیم کا یہ مرحلہ قواعد کے پیچ در پیچ سلسلے کی اساس پر استوار ہوتا ہے۔جملوں کے اظہار و ابلاغ کی پیچیدگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی گو ناگوں سلسلوں میں تقسیم کے تصور کو کمپیوٹر سائنس نے بہت اہم قرار دیااور اس سے مستفیدہونے کی سعی کی چومسکی نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں پانچ برس (1951-1955) تک تدریسی خدمات انجا م دیں۔ 1636سے فروغ علم کے لیے کام کا آغاز کرنے والی اس ممتاز جامعہ میں چومسکی کا تقررسوسائٹی آف فیلوز میں ہوا۔اسی جامعہ میں چومسکی نے  1955 میں اپنی ٹرانسفار میشنل گرامر(Transformational grammar) کی تھیوری پیش کی۔  1955 میں ماہر لسانیات مورس ہیلےکے تعاون سے چومسکی امریکہ کے ممتاز ادارے ایم آئی ٹی سے، جو  1861 سے قائم ہے، وابستہ ہو گیا اور یہ وابستگی اب تک برقرار ہے۔ ابھی چومسکی نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کا پہلا باب ہی لکھا تھا کہ ایم آئی ٹی کی طرف سے اسے تقرر نامہ مل گیا۔ اس تاریخی ادارے میں اس نے کامرانیوں کے نئے باب رقم کیے۔ وہ انتیس سال کی عمر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا اور  1961 میں بتیس سال کی عمر وہ پروفیسر کے منصب پر فائز ہوا۔  1966 میں سینتیس سال کی عمر میں وہ موقوفہ مسند (Endowed Chair) کا حق دار ٹھہرااور 1976میں سینتالیس سال کی عمر میں اسے انسٹی ٹیوٹ کا پروفیسر مقرر کیا گیا جو بڑے اعزاز و امتیاز کی بات ہے۔  1957 میں جب اس کی معرکہ آرا تصنیف Syntactic Structures  شائع ہوئی تواس کی پُوری دنیا میں پزیرائی کی گئی۔اس کتاب کو جدید لسانیات کے شعبے میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔دنیا بھر سے بیالیس جامعات نے چومسکی کو اعزازی ڈگریوں سے نواز ا ہے۔ چومسکی کو ملنے والے اہم ایوارڈز درج ذیل ہیں:

گگنہائیم فیلوشپ؛ 1971، نفسیات میں امتیازی سائنسی حصولیابیوں کے لیے APA ایوارڈ، 1984؛ آرویل ایوارد، 19871،1989؛ بنیادی سائنسز میں کیوٹو پرائز، 1988؛ ہیلم ہولٹز میڈل، 1996؛ کمپیوٹر اور ادراکی سائنسز میں بنجمن فرینکلن میڈل، 1999؛ سڈنی پرائز، 2011۔

چومسکی حیات اور ادبی خدمات کاجائزہ لینے کی غرض سے متعدد محققین نے مقالات اور تصانیف پیش کی ہیں۔اس کی سوانح حیات بھی مرتب کی گئی ہیں جنھیں قارئین  ادب نے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ چومسکی کے سوانح نگاروں میں رابرٹ برسکی کا نام بہت اہم ہے۔اس محقق نے اپنی کتاب (Noam Chomsky: A Life of Dissent )میں چومسکی کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 1997 میں شائع ہونے والی اس سوانح حیات کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ رابرٹ برسکی کوچومسکی کی حیات،علمی و ادبی خدمات اور نظریات کے بارے میں استناد کا درجہ حاصل ہے۔

چو مسکی کے اسلوب پر عالمانہ دسترس رکھنے والے اور اس کے طرز زندگی کا نہایت قریب سے مشاہدہ کرنے والے ایک اور سوانح نگار والف گانگ بی سپر لچ نے  2006 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب (Noam Chomsky: Critical Lives) میں اس ماہر لسانیات کی زندگی کے نشیب و فراز پر حقیقت پسندانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اس سوانح نگار کا خیال ہے کہ چومسکی ایک ایسا گوشہ نشین ادیب ہے جس نے نمو دو نمائش سے ہمیشہ اجتناب کیا اور ستائش وصلے کی تمنا سے بے نیاز رہتے ہوئے پرورش لوح و قلم کو اپنا شعار بنایا۔اس کے اسلوب کا عمیق مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چومسکی کو اس بات کا یقین ہے کہ سعی پیہم سے انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔اس نے محنت کشوں کو یہی پیغام دیا کہ وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے میں انہماک کا مظاہرہ کریں۔ یاد رکھنا چاہیے خانۂ فرہاد کی تابانی فرہاد کی جانفشانی اور شر ر تیشہ کی ضوفشانی کی مر ہون منت ہے۔قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں تھوتھا چنا ہمیشہ گھنا باجتا ہے ساتھ ہی کاتا اور لے دوڑا کی روش نے چربہ ساز،کفن دُزد،جعل ساز اور سارق حشراتِ ادب کی جسارت سارقانہ نے تخلیق ادب کو بازیچۂ اطفال بنا دیا ہے۔اس قماش کے مہا مسخرے، چکنے گھڑے اور تھالی کے بینگن جہاں بھی جاتے ہیں دو طرفہ ندامت اور ذوق سلیم سے متمتع لوگوں کی ملامت ان کا تعاقب کرتی ہے۔چومسکی نے خود ستائی کو ہمیشہ نا پسند کیا اور اپنی دھن میں مگن رہتے ہوئے اپنے دِل پر گزرنے والے سب موسموں کا احوال دیانت داری سے زیبِ قرطاس کیا۔ چومسکی کے زیرک سوانح نگار والف گانگ سپر لچ نے لکھا ہے :

Noam Chomsky is one of the most notable contemporary champions of people.He is also a scientist of the highest calibre. But is he great material for a biography? Certainly not, if you ask the subject. an intensely private man, he is horrified to be considered the main character in the story.He jokes about the notion that people come to see him, listen to him,even adore him, when in fact he is the most boring speaker ever to hit the stage. (1)

چومسکی ایک کثیر التصانیف ادیب ہے جس نے دو سو سے زائد کتب اور ایک ہزار سے زائد تحقیقی مقالات لکھ کر علم وادب کی ثروت میں اضافہ کیا ہے۔ اپنی ابتدائی زندگی میں چومسکی نے جرمنی سے تعلق رکھنے والے انارکسٹ مفکر روڈالف راکر  کی تصانیف کا مطالعہ کیا اور ان سے گہرے اثرات قبول کیے۔(2) چومسکی نے روڈالف راکر کی تصنیف ’’The tragedy of Spain ‘‘کا کم عمری میں مطالعہ کیا تھا۔بہت جلد چومسکی نے اپنے لیے ایک جداگانہ طر ز فکر کا انتخاب کیا۔چومسکی کی تصانیف کے ایڈیشن ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں۔عالمی ادبیات میں چومسکی کی خدمات کے اعتراف میں اس کے مداح یہ بات بر ملا کہتے ہیں کہ چومسکی اس پائے کا ادیب ہے جسے لمحے نہیں بلکہ آنے والی نسلیں صدیوں تک یاد رکھیں گی۔تاریخ اور اس کے مسلسل عمل پر گہری نظر رکھنے والے حقیقت پسند ادیب اس حقیقت سے با خبر ہیں کہ جس شان سے اٹلی کے ماہر فلکیات گلیلیو، فرانسیسی فلسفی اور ریاضی دان رینے دیکارت، برطانوی ماہر طبیعات نیوٹن، موسیقار موزارٹ اور سپین کے مجسمہ ساز پبلو پکاسونے جریدۂ عالم پر اپنا دوام ثبت کر دیا،اسی طرح چومسکی کی لسانی، علمی و ادبی خدمات کی بنا پر اس کا نام لوح جہاں پر درخشاں حروف میں لکھا جائے گا۔ دنیا بھر میں اس کے لاکھو ں مداح موجود ہیں جو اس کی تصانیف کو بڑے اشتیاق سے خریدتے ہیں۔ چو مسکی کی چند اہم تصانیف کی فہرست مضمون کے آخر میں درج کی گئی ہے۔

چومسکی کی چند اہم تصانیف

لسانیات میں ادراکی انقلاب کو مہمیز کرنے کے سلسلے میں چومسکی کا سال 1950سے شروع ہونے والاکردار کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے فکر انگیز تصورات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبان کوادراکی سائنس کا درجہ حاصل ہے۔ لسانیات کے ماہرین کا خیا ل ہے کہ پیغامات کی ترسیل و تفہیم اور اظہار و ابلاغ کے سلسلے میں ذہن و زبان اورادراکی نفسیات کی اہمیت مسلمہ ہے۔اس لیے چومسکی نے اس پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ چومسکی نے اپنے خیالات کا اظہار یو ں کیا ہے :

So far we have considered the linguist’s task to be that of producing a device of some sort (called a grammar) for generating all and-only-the sentences of a language, which we have assumed were somehow given in advance. We have seen that this conception pf the linguist’s activities leads us naturally to describe languages in terms of a set of levels of representation, some of which are quite abstract and non-trivial.In particular, it leads us to establish phrase structure and transformational structure as distinct levels of representation for grammatical sentences. We shall now proceed to formulate the linguist’s goals in quite different and independent terms which, however, lead to very similar notions of linguistic structure.(3)

لسانی گرامر کے بارے میں چومسکی کا خیال ہے کہ اس کے وسیلے سے اظہار و ابلاغ کے نئے در وا ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس عمل کے دوران تکلم اور سماعت کے سلسلے ایسے جوڑے اور سیٹ بناتے ہیں جو صوتیات،نحویات اور لسانیات میں کلیدی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ چومسکی نے ایک ادراکی ماڈل کے ذریعے لسانی عمل کی تفہیم کی سعی کی ہے:

اشارات —— PM —— نحوی نمائندگی

دیگر اطلاعات —  —لسانی نمائندگی ——صوتی نمائندگی (4)

چومسکی نے ایس آئی ( SI) کی صورت میں لسانی جوڑے کو اپنے ماڈل میں جگہ دی ہے۔اس نے ایس(S) سے صوتی نمائندگی مراد لی ہے جب کہ وہ آئی ( I ) کولسانی نمائندگی کا ایسامظہر قرار دیتا ہے جو بیان کی تشریح و توضیح کی استعدا درکھتا ہے۔بادی النظر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ یہ ایک ایسا لسانی ماڈل ہے جو اپنی کارکردگی کے اعتبار سے ایک خاص آہنگ رکھتا ہے اور اس کا انسلاک آوازوں اور مفاہیم سے ہے۔یہ ایک ادراکی ماڈل ہے جسے چومسکی نے پی ایم (PM) کا نام دیا ہے۔ یہی لسانی ماڈل چومسکی کے خیال میں لسانی گرامر کی نمائندگی کا آئینہ دار ہے۔اسے وہ ایک ایسے ادراکی لسانی آلے سے تعبیر کرتا ہے جو اشارات،نوائے دل کشا اور آہنگ و صوت کو درآمدی معلومات کے طور پر وصول کرنے کے بعدبر آمدی اظہارات کے مختلف رُوپ سامنے لاتا ہے جن کا کرشمہ نحوی،لسانی اور صوتی نمائندگی کی صورت میں دامنِ دِل کھینچتا ہے۔لسانیات کے موضوع پر چومسکی کے درج ذیل کتب کو مستند سمجھا جاتا ہے :

Current Issues in Linguistic Theory (1964), Aspects of the Theory of Syntax (1965), The Sound Pattern of English (with Morris Halle, 1968), Language and Mind (1972), Studies on Semantics in Generative Grammar (1972), and Knowledge of Language (1986).

چومسکی نے لسانیات میں ٹرانسفارمیشنل گرامر(Transformational Grammar) کی تھیوری پیش کی۔اس کا خیال ہے کہ زبانوں کی نوعیت خلقی اور فطری ہے۔ان زبانوں میں جو اختلافات اور امتیازات دیکھنے میں آتے ہیں ان کے پسِ پردہ اظہار و ابلاغ کے تیزی سے بدلتے ہوئے معائر،فکر وخیال کی حد بندیاں،فہم وادراک کی مقداروں کے تعین کے معاملات کار فرما ہیں جنھیں اذہان پر حاوی کر دیا گیا ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طفلِ مکتب کے لیے نئی زبانیں سیکھنا سہل ہے،اس کے بر عکس جوانوں اور معمر لوگوں کے لیے نئی لسانیات کی آموزش نہایت کٹھن مر حلہ ہے۔ لسانیات میں چومسکی کے تنظیمی ڈھانچے (Chomsky Hierarchy) کو اس کا معرکہ آرا تصور قرار دیا جاتا ہے۔اس نے لسانی گرامر کو ایسے گروپوں میں منقسم کر دیاجونشیب وفرازکی کیفیت میں اظہاری صلاحیتوں کے ابلاغ کا وسیلہ ہیں۔اس کے تصورات اپنی معنی خیزی اور نتائج کے لحاظ سے حیران کن ثا بت ہوئے۔ لسا نیات کے موضوع پر چومسکی کی ان معر کہ آرا کتب کی ہر سو دھوم ہے۔ سیاسی زندگی میں چومسکی کو ایک آزاد خیال سوشلسٹ سمجھا جاتاہے۔

دنیا بھر کی ممتاز جا معات میں چومسکی نے توسیعی لیکچرز دئیے ہیں۔ان کی تصانیف لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوئی ہیں۔ چومسکی کا شمار ان ممتاز ادیبوں اور مورخین میں ہوتا ہے جن کا سب سے زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے۔اپنے ہاتھ میں سونے کا قلم تھام کر افلاس کے عقدے حل کرنے والے اس دانش ور نے بڑے ٹھاٹ اور کروفر سے زندگی بسر کی ہے۔دنیا بھر کے مفلس و قلاش، محکوم،مظلوم و محروم طبقوں اور پس ماندہ اقوام کے غم میں درد انگیز نالوں سے لبریز تصانیف پیش کرنے والے اس مصنف نے مسلسل سات عشروں سے دکھی انسانیت کے ساتھ جو عہدِ وفا استوار کر رکھا ہے اسی کو حصول رزق بسیار کا موثر ترین وسیلہ بھی سمجھ رکھا ہے۔اس نے بلاشبہ اپنی تحریروں سے اپنے قارئین کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا لیکن اس کی نجی زندگی کے شب و روزاور شاہانہ انداز کو دیکھ کر لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔آخر سب اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کواکب کی تابانی اور چکا چوند اپنی جگہ مگر ان کی اصلیت کچھ اورہوتی ہے۔


مآخذ

  1. Wolfgang B. Sperlich: Noam Chomsky: Critical Lives,Reaktion Books,London,2006,Page,8.
  2. Robert Barsky:Noam Chomsky: A Life of Dissent,MIT press London, 1998, p 28
  3. Noam Chomsky:Synt

 1. Manufacturing Consent, 1988

2. Understanding Power, 2002

3. Hegemony or Survival

4. Chomsky on Anarchism, 2005

5. Failed States, 2006

6. Profit over People, 1999

7. Necessary Illusions, 1989

8. Who Rules the World? 2016

9. Deterring Democracy, 1991

10. The Fateful Triangle, 1983

11. The Year 501, 1992

12. Syntactic Structures, 1957

13. How the World Works, 2011

14. Language and Mind, 1968

15. American Power and the New Mandarins, 1969

16. Powers and prospects, 1996

17. Hopes and Prospects, 2010

18. Pirates & Emperors, Old & New, 1986

19. Gaza in Crisis, 2010

20. The Essential Chomsky, 1999 Rethinking Camelot, 1993

22. Because We Say So, 2015

23. 9-11 Book by Noam Chomsky, 2001

24. The Chomsky Reader, 1987

25. Aspects of the Theory of Syntax, 1965

26. What Uncle Sam really wants, 1992

27. Masters of Mankind: Essays and Lectures, 1969-2013

28. Imperial Ambitions, 2005

29. The Prosperous Few and the Restless Many, 1994

30. Rogue States: The Rule of Force in World Affairs, 2000

31. Secrets, lies, and democracy, 1994

32. On power and ideology, 1987

33. The culture of terrorism, 1988

34. The Washington connection and Third World fascism, 1979

35. Propaganda and the Public Mind, 2001

36. At war with Asia, 1969

37. For Reasons of State, 1973

38. The Sound Pattern of English, 1968

39. Keeping the rabble in line, 1994

40. World Orders Old and New,1994,

41. What We Say Goes, 2007

42. The New Military Humanism, 1999

43. What Kind of Creatures Are We? 2015

44. Government in the Future, 2005

45. Knowledge of Language: Its Nature, Origin, and Use, 1986

46.Perilous Power. The Middle East and US Foreign Policy. Dialogues on Terror, 2006

47. Making the Future, 2012

48. Problems of Knowledge and Freedom, 1971

49. Chomsky on Mis-Education, 2000

50. On Palestine, 2015

مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

Close