انٹرویو

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مآثر محمد سے ایک انٹرویو

مقدسہ فلاحی

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم ’’مہاتیر محمد‘‘ نے کویت کے مشہور میگزین’’ المجتمع‘‘ کے چیف ایڈیٹر محمد سالم الراشد کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ٹکراؤ سے گریز کی پالیسی کو ملیشیا کی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی وجہ قرار دیا ، انہوں نے عرب ممالک کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عرب ممالک اپنے معاشروں میں باہمی تعاون، برداشت اور ایک دوسرے سے کے ساتھ مل جل کررہنے کی فضا کو فروغ دیں اور اور قربانی کا ایسا جذبہ پیدا کریں جس سے سیاسی مفاہمت پیدا کی جاسکے تو خطے میں امن و استحکام اور ترقی ناممکن نہیں۔ یاد رہے کہ ملیشیا وہ ملک ہے جو طویل عرصے تک نسلی تصادم کی تباہ کاریوں کا شکار رہا ہے،اور آج امن وامان کے قیام،باہمی تعاون کے فروغ ،اور عوام کے درمیان نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتیازات کے ازالے میں دنیا کے لئے ایک مثالی نمونہ بن چکا ہے ہے۔ ملیشیا نے اپنی اقلیتوں سے ابتدا کرتے ہوے معاشرے کی تمام نسلوں کے درمیان پہلے مساوات قائم کی اورپھران کے درمیان عہدوں ، مراتب اور دولت کی عادلانہ تقسیم کو یقینی بنایا حالانکہ اس سے پہلے دولت پر ایک مخصوص طبقہ کی اجارہ داری تھی، ملیشیا دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔ اوریہی ملیشیا کی اقتصادی ترقی کا راز ہے۔ مہاتیر محمد سے سیاسی اور اسٹراٹیجک نوعیت کے بہت سے سوالات کئے گئے ذیل میں ان کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد سے سوال کیا گیا کہ ملیشیا نے زبردست اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی اسلامی شناخت بھی باقی رکھی، آخر ان میں توازن کیسے قائم ہوا، اس سوال کے جواب میں مہاتیر محمد نے کہا کہ قرآنی تعلیمات اس سلسلے میں ہماری راہنما تھیں ،کیونکہ قرآن مجید ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کے حصول پر اکساتا ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا اور آخرت کے کاموں میں توازن پیدا کریں اور اس طرح بحیثیت مسلمان اقتصادی ترقی حاصل کرنا،اور فرد اور معاشرے کے ارتقاء کو یقینی بنانا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا کہ ملیشیا میں بہت سے ادیان ومذاہب،فرقے،نیز نسلی اور سماجی طبقات پائے جاتے ہیں ،آپ نے ان کو کس طرح یکجا کیا اور ملیشیا کی ترقی میں سب کو کیسے شریک کر پائے۔ مہاتیر محمد نے کہا :میں اس بات کا اعادہ کرونگا کہ قرآن اس سلسلے میں بھی ہماراراہنما تھا ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ تمہیں تمہارا دین اور ہمیں ہمارا دین مبارک‘‘ اسلام میں زور زبردستی نہیں ہے۔دیگر مذاہب کے لوگوں کو عقیدہ کی مکمل آزادی حاصل ہے،اگر کوئی شخص بخوشی اسلام قبول کرنا چاہتاہے تو اس کا ستقبال ہے لیکن ہم کسی کو اس پر مجبور نہیں کریں گے،اسی لئے آپ کو ملیشیائی عوام کے مختلف طبقات کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا کہ جب آپ وزیر اعظم تھے تو آپ نے ان چیلنجز کا کس طرح سامنا کیا جو ملیشیا کے لئے آپ کے ترقیاتی پروگرام کو ناکام بنانا چاہتے تھے تو مہاتیر محمد کا کہنا تھا : کسی بھی معاشرے میں اختلاف رائے کا ہونا ضروری ہے ،اور اگر آپ اپنی کسی خاص پالیسی کو نافذ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو لازما عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا اور ان کے سامنے اسکے محرک کی وضاحت کرنی ہوگی ،اس طرح سے اعتماد بحال ہوگا اور مخالفت میں کمی واقع ہوگی لیکن پھر بھی کچھ مخالفتوں کا آپ کو لازما سامنا کرنا پڑے گا ،لیکن اس وقت آپ کو تحمل اور برداشت سے کام لینا ہوگا۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا کہ مشرق وسطی میں ہونے والی اسٹراٹیجک تبدیلیوں کا آپ قریب سے مشاہدہ کر رہے ہیں ، آپ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں ، اور آپ کو خطہ کا مستقبل کیسانظر آرہا ہے۔ مہاتیر محمد نے کہا: قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ تمام مؤمن بھائی بھائی ہیں۔اس لئے مسلمانوں کے لئے نا ممکن ہے کہ وہ وہ لالچ کے جذبہ سے یا دنیا کے حصول کی خاطر باہم دست وگریباں ہوں۔رہا دیگر ادیان کے ساتھ ہمارا تصادم تو اسے گفتت و شنید کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہئے۔جنگ کا مطلب تباہی و بربادی ہوتا ہے چاہے اس میں غلبہ ہی کیوں نہ حاصل ہو جائے۔لیکن پر امن گفت و شنید کا مطلب طرفین کا فائدہ ذرا سی کمی بیشی کے ساتھ۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیاکہ حلیف ملکوں کی صف میں ملیشیا کہاں کھڑا ہے ۔ مہاتیر محمد نے کہا: ہم اپنے درمیان اور دنیا کے مختلف ملکوں کے درمیان باہمی احترام پر مبنی دوستانہ تعلقات کیْ ْْْضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے،رہا اپنے خطے کے ممالک کے ساتھ حلیفانہ تعلقات کا معاملہ تو ملیشیاآسیان کا ممبر ہے،جس میں دس ممالک شامل ہیں، لہذا فطری طور پر بین الاقوامی دنیا میں ہمارا ایک وزن اور حیثیت ہے ، بعض پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہمارے اختلافات بھی ہیں لیکن ہم اسے پر امن طورپر حل کرنے کوشش کریں گےَ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا : ایران مشرق وسطی کا ایک طاقتور اور اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ملک ہے کیا آپ کے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں؟ مہاتیر محمد کا جواب تھا: ایران کے ساتھ ہمارے اچھے ڈپلومیٹک تعلقات ہیں ، ہمارا یہ ماننا ہے کہ ایران پر امریکا کابڑھتا دباؤ اسے خطہ میں امریکی پالیسیوں سے ٹکراؤ پر مجبور کرے گا اور میرے خیال میں یہ بہتر نہیں ہوگا،جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم اپنے سیاسی مخالفیں کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات کی پالیسی روا رکھتے ہیں، ہمارا یہ ماننا کی ٹکراؤ کی پالیسی مفید نہیں اس کا احساس خود امریکا کو ہو گیا اور اس نے ایران کے تعلق سے برسوں سے جاری اپنی پالیسی میں تبدیلی پیدا کی اور ایران کے ساتھ گفت و شنید کی میز پر آ بیٹھا،اس سے دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ اور دشمنی میں کمی آئے گی اور ایران سے پابندیوں کے ہٹ جانے کی صورت میں ہمارے اور ان کے درمیان تجارتی لین دین کو فروغ حاصل ہوگا، مہاتیر محمد سے پوچھا گیا: شام میں روسی دخل اندازی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ مہاتیر محمد کا جواب تھا:شام کے بارے میں امریکا اور روس دونوں کا الگ الگ نقطۂ نظر ہے اور اسی کے تحت ہر ایک شامی مسئلہ میں اپنی پالیسیاں روا رکھے ہوے ہے ۔ امریکا شام میں بشار الاسد کی حکومت کو گرانا چاہتا ہے ، اسی لئے وہ عوام کو بشار الاسد کے نظام سے لڑا رہا ہے ۔ جبکہ روس بشار الاسد کی حکومت کو قانونی حکومت سمجھتا ہے اس لئے وہ اس کی مدد کر رہا ہے۔ شام کی بغاوت کو بھڑکانے میں امریکا نے پوری طرح سے حصہ لیا ہے اور باغیوں کو مالی عسکری اور تربیتی مدد فراہم کی اور کر رہا ہے تاکہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو، ٹھیک یہی کام روس بھی بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ کر رہا ہے تاکہ بغاوت کو کچلا جا سکے، روس بمباری میں باغیوں اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان کوئی فرق نہیں کر رہا ہے،گویا اب حقیقت حال یہ ہے کہ شام کی سرزمیں پر لڑی جانے والی یہ جنگ دراصل دو بڑی طاقتوں ’’امریکا اور روس ‘‘ کے درمیان لڑی جانے والی جنگ بن گئی ہے جس میں سرزمین شام اور اس کے باشندے تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا : کیا ملیشیا اپنے اقتصادی وزن کو دیکھتے ہوئے مشرقی ایشیائی ملکوں کے درمیان کوئی علاقائی کردار ادا کرنا چاہے گا۔ مہاتیر محمد کا جواب تھا:ہم سمجھتے ہیں کہ ملیشیا کا اقتصادی وزن امریکہ اور روس جیسی طاقتوں کے مقابلے میں کافی کم ہے، اس لئے ہم یورپ کی پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے اور نہ ہی خطہ میں روس کے عزائم کو بدل سکتے ہیں،اس لئے ہمارا ایک غیر جانبدارانہ موقف ہے ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ شام میں جاری جنگ انتہائی فضول ہے، اس لئے عوام کو چاہئے کہ وہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ قتل و غارت گری اور تشدد کے بجائے بیلٹ باکس کے ذریعے کرنے کی کوشش کریں، مہاتیر محمد سے پوچھا گیا :آنے والے دنوں میں ملیشیا اپنی اقتصادی ترقی کو مزید تیز رفتار بنانے کے لئے کیا منصوبے رکھتا ہے ؟ مہاتیر محمد کا جواب تھا: میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ تجارتی تبادلہ ہی اقتصادی ترقی حاصل کرنے کا بہترین راستہ ہے،اور ہم تیزی سے دوست ملکوں کی فہرست میں اضافہ کر رہے ہیں، تاکہ تجارتی لین دین کی اعلی سے اعلی مقدار کو پہنچا جاسکے اور ہمارے ملک کی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہو۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا : چین کے حالیہ اقتصادی بحران کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ پر اس کے منفی اثرات ہونگے؟ مہاتیر محمد کا جواب تھا:چین کے ساتھ ہمارے 2000 سال پرانے تعلقات ہیں،وہ ہم پر نہ کبھی حملہ آور ہوا اور نہ قتل وغارت گری کی، 1509ء میں یورپینس ہمارے یہاں آئے اور آنے کے دو سال بعدہم پر حملے ہوئے،اس لئے چین ہمارا قریبی ملک ہے ، اس کی ایک عالمی حیثیت ہے، اور ایک کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود ہمارے اور ان کے درمیان تجارتی لین دین ہے، اور جب تک ہمارے درمیان ٹکراؤ نہیں ہوتا تجارتی لین دین جاری رہے گا، مہاتیر محمد سے پوچھا گیا : آپ نے عرب بہاریہ کے واقعات کو یقیناًگہری نظر سے دیکھا ہوگا، آپ کا کیا خیال ہے ،کیا یہ عرب ملکوں کے لئے بہار تھی یا خزاں،کیا اس خطہ میں جو انارکی پھیلی ہوئی ہے اس کا سبب یہی بغاوت ہے، آپ اپنے سیاسی تجربہ کی روشنی میں اس کا انجام کیا دیکھتے ہیں۔ مہاتیر محمد کا جواب تھا: جب عوام حکومتوں کی تبدیلی کے لئے مسلح جدوجہد کا سہارا لیتے ہیں تو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے،اور کبھی کبھی پورا ملک اس کی نذر ہو جاتا ہے، اس لئے میرے خیال میں بنیادی طور سے عوام کو پہلے اپنے ہر طبقہ کو ہم خیال بنانا چاہئے تاکہ تبدیلی کے عمل کو آسان بنایا جاسکے،جس طرح ملیشیا میں ہوا، ملیشیا ئی عوام کے تمام طبقوں کا حکومت کی تبدیلی پر پہلے اتفاق ہوا، اور پھر فوج بھی ان کی ہم خیال ہو گئی اور اس طرح حکومت اپنا تخت چھوڑنے پر مجبور ہو گئی، عام طور سے اس طرح کی صورت حال میں جب عوام کی جانب سے مسلح جدوجہد شروع کی جاتی ہے تو حکومت کی جانب سے ایک مخالف عسکری قوت کھڑی کی جاتی ہے جیسا کی شام میں ہورہا ہے، اس طرح کی صورت حال میں چاہے باغی جیتیں یا حکومت دونوں صورتوں میں شام کی بربادی طے ہے۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا : کیا ترقی کے سلسلے میں ملیشیا کے تجربہ کو عرب ممالک پر بھی آزمایا جا سکتا ہے۔آپ کے خیال میں عرب ممالک کی ترقی کی راہ میں کیا مشکلات حائل ہیں۔ مہاتیر محمد کا جواب تھا: یقیناًملیشیا کے تجربہ کو عرب ممالک پر آزمایا جا سکتا ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ اقتدار کی ہوس دل سے نکالی جائے ۔اور کچھ چیزوں کو دوسروں کے لئے قربان کرنے کا جذبہ پیدا ہو،کسی بھی قسم کی رسہ کشی سے گریز کیا جائے،کیونکہ اس سے امن واستحکام متاثر ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں معاشرہ میں ہونے والی ہر طرح کی ترقی رک جاتی ہے۔ ملیشیائی معاشرہ جس میں مختلف طبقات زندگی گزارتے ہیں جن میں چینی ، ہندوستانی، اور ملیشیائی لوگ ہیں،تاریخ کے ایک موڑ پر ہم نے یہ طے کیا کہ معاشرہ کا ہر طبقہ ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کا جذبہ پیداکرے تاکہ ایک ایسا توازن قائم کیا جاسکے جس سے سیاسی اتفاق رائے قائم ہو اور یہ سیاسی اتفاق رائے ملک کو ترقی اور امن و استحکام کی راہ پر لے جائے۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا :آپ خلیجی ممالک کی تنظیم ’’جی سی سی‘‘ کے تجربہ کو کس حد تک کامیاب دیکھتے ہیں؟،کیا یہ خلیجی ملکوں کے عوام کے خوابوں کو پورا کرتی ہے؟۔ مہاتیر محمد کا جواب تھا:خلیجی ممالک چھوٹے ممالک ہیں، اور طاقتور بھی نہیں ہیں،پھر بھی یہ دولت کی تقسیم میں ایک دوسرے کی شرکت کو یقینی بناتے ہیں ،اور اپنے آپ کو ہر طرح کے ٹکراؤ اور رسہ کشی سے دور رکھتے ہیں،مثلا امارات کا پٹرول اصلا ابو ظہبی میں تیار ہوتا ہے تاہم اس کا نفع دبی ،شارقہ ، اور امارات کے دیگر علاقوں پر بھی تقسیم ہوتا ہے ،یہی شراکت کا اصل مفہوم ہے ، اسی لئے ہم خلیجی ملکوں کو زیادہ مستحکم پاتے ہیں،اسی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے یہاں مشکلات نہیں ہیں ، چھوٹی موٹی مشکلات ہیں لیکن حد درجہ کا استحکام بھی ہے جو ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا : تعلیم کے متعلق آپ کا کیا نقطہ نظر ہے، قوموں کی ترقی میں تعلیم کا کیا کردار ہے، اور آپ نے تعلیم کے لئے کیا کیا۔ مہاتیر محمد کا جواب تھا:تعلیم کا مسئلہ انتہائی اہم ہے، تعلیم نہ ہو تو ملک کا انتظام و انصرام چلانا، اور سیاسی ،اقتصادی اور علمی چیلنجز کا مقابلہ کر نا انتہائی دشوار ہوتا ہے اور بہت سی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے، اس لئے تعلیم کسی ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل کر دیتی ہے۔ مہاتیر محمد سے پوچھا گیا، مالی اور انتظامی بدعنوانیاں قوموں کے درمیان پھیلا ہوئی ایک عام وبا ہے،آپ نے اس مرض کا کیسے سامنہ کیا، اور کس طرح اس کا خاتمہ ہو، مہاتیر محمد کا جواب تھا:بدعنوانی کا تعلق براہ راست قیادت سے ہے، اگر حاکم بدعنوان ہوگا تو پوراا ملک بدعنوان ہوگا، اور اگر حاکم صالح ہوگا تو ایسے حکومتی ادارے قائم ہونگے جو بدعنوانیوں پر گرفت کریں گے، اور ان کے تحقیق و تفتیش میں سرگرم ہونگے، اگر حاکم گڑ بڑ ہو تو اس طرح کے ادارے پروان نہیں چڑھ سکتے اور نہ ہی بدعنوانیوں پر لگام لگ سکتی ہے، مہاتیر محمد سے پوچھا گیا، کیا ملیشیا کی حکومت عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ مختلف میدانوں میں تعاون کا ارادہ رکھتی ہے ، اس سلسلے میں کیا مشکلات درپیش ہونگی ، اور کیا مواقع میسر ہیں، مہاتیرمحمد کا جواب تھا: حکومتوں کی سطح پر تعاون موجود ہے، تمام اسلامی ملکوں اور بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ ہمارے گہرے روابط ہیں،خاص طور سے تعلیم کے میدان میں ہمارے روابط دیرینہ ہیں ،مختلف اسلامی ملکوں کے طلبہ ملیشیا آتے ہیں اور مختلف کورسز میں تعلیم حاصل کرتے ہیں،تمام اسلامی ملکوں کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات بھی قائم ہیں، اور ملیشیا مختلف میدانوں میں اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ انٹرویو کے اختتام پر مہاتیر محمد سے پوچھا گیا آپ ان سوالات کے علاوہ مزید کچھ کہنا چاہیں گے ؟ مہاتیر محمد کا جواب تھا: ملیشیا کوبطور ایک رول ماڈل دیکھا جاتا ہے، لوگ ملیشیا کے تجربہ کو اپنے اپنے ملکوں میں دہرانا چاہتے ہیں۔اس لئے میں کچھ اساسی باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ، میرے خیال میں اس سلسلے میں صلح جوئی ، برداشت، دوسروں کو خوش آمدید کہنا، جو ہماری روشن اسلامی تعلیمات کے اہم اجزاء ہیں ترقی کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، میرے خیال میں ہم بحیثیت ایک مسلمان نماز روزے پر تو بہت زور دیتے ہیں لیکن اسلام کی دیگر اہم تعلیمات کو نظر انداز کردیتے ہیں، حالانکہ اس دور میں ان پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے، مثلا انصاف پسندی ، حسن انتظام ، اخوت ، اور صلح جوئی ، ہم اپنی پوری قوت داڑھی بڑھانے پر صرف کرتے ہیں ، تاہم یہ حقیقت بھی مد نظر رہنی چاہئے کہ ایک مسلمان کے لئے داڑھی کٹوانا تو ممکن ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے یہ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے بھائی کا قتل کرے ، اور نہ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ و ہ اسے ناراض کرے، میں مشرق وسطی کے اپنے مسلمان بھائیوں سے کہنا چاہونگا کہ وہ اپنے داخلی جھگڑوں کو ترک کریں ، اور اسلام کی تعلیمات کو اپنائیں جو ان کی زندگی کو ہموار کریں گی، کیونکہ ہمارا دین ہمیں زندگی کا ایک اسلوب سکھاتا ہے،

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close