سیاستنقطہ نظر

آبادی کا تناسب نہیں کچھ عناصرکاذہنی توازن بگڑ گیا ہے!

ہم سمجھ کوچاہیئے کہ جموں کی عظمت کوبڑھانے کیلئے ہندومسلم سکھ عیسائی کابھید بھاؤ ترک کرکے مثبت سوچ کوپروان چڑھایاجائے

تنویراحمدخطیب

(جموں)

مورخہ 11 اپریل 2018 کے دِن جموں وکشمیرکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہیجب بارایسوسی ایشن جموں نے ’جموں بند‘کی کال دی جو چارمدعوں (۱) کٹھوعہ کی ایک خانہ بدوش معصوم مسلمان بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی اورقتل کے ملزمان کی حمایت میں معاملے کی سی بی آ ئی جانچ، (۲) جموں سے برما(روہنگیا)سے فسادات کی وجہ سے ہجرت کرکے یہاں جموں میں آکرعارضی طورمقیم پناہ گزینوں کوجموں بدرکرنا، (۳) وزارت قبائلی امورکی ایک میٹنگ، کے منٹس جس میں خانہ بدوش گوجربکروالوں کوسرکاری اراضی سے ہٹانے سے قبل متعلقہ وزیرکے ساتھ مشاورت کولازمی قراردیاگیاتھا ‘کوکالعدم قراردینے اورنوشہرہ کو ضلع کادرجہ دینے مانگ پرمبنی تھی۔ چارمیں سے تین مانگوں کوجموں کی سب سے بڑی تاجرانجمن چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹریزکے صدرنے ایک پریس کانفرنس کے دوران بلاجوازقراردیتے ہوئے کہاکہ، پہلے دومدعے عدالت عالیہ اورعدالت عظمیٰ کے دائرہ اختیارمیں ہیں، ٹرائبل ڈیپارٹمنٹ کی میٹنگ کے منٹس سے متعلق انہوں نے کہاکہ یہ کوئی حکمنامہ نہیں ہے بلکہ منٹس ہیں جن کی کوئی آئینی حیثیت نہیں اورنوشہرہ کوضلع کے درجہ کی یقین دہانی سرکارنے کرائی ہوئی ہے۔ اتناہی نہیں چیمبرآف کامرس کے صدرنے یہاں تک کہہ دیاکہ بارایسوسی ایشن مخصوص طبقے کے خلاف ایجی ٹیشن پراُتررہی ہے جس کاجموں کے مفادات سے کوئی لیادینانہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیرمناسب ایجی ٹیشن کوہم صحیح نہیں ٹھہراسکتے ہیں ۔ قارئین آپ کوبارایسوسی ایشن جمو ں کی حماقت آمیزجموں بندکال کااحساس ہوگیاہے، اسی دن راقم جانی پورسے جموں شہرکی طرف آرہاتھاکہ، میں کیادیکھتاہوں وکلاء کاجلوس سڑکوں پرآگے بڑھ رہاہے اوروکلاء زورزورسے ’’گوبیک روہنگیائی، آصفہ کیس کی سی بی آئی جانچ کراؤ اورخانہ بدوشوں کے سرکاراراضی پرقبضے کوچھڑاؤ، نوشہرہ کوضلع کادرجہ دو‘‘کے نعرے بلندکررہے تھے۔ اسی اثنا ء میں مقامی چینل کا ایک صحافی کہیں سے آدھمکااوراس نے مجھ سے جموں بندکال سے متعلق میرے تاثرات بیان کرنے کیلئے سوال پوچھا۔ اچانک پوچھے گئے سوال کامیرے دماغ میں یہ جواب آیاکہ بات صرف روہنگیائی پناہ گزینوں کوجموں بدرکرنے کی نہیں ہے۔ یہاں پردیگرممالک کے باشندے بھی بستے ہیں جن میں 80فیصدلوگ نیپالی ہیں، اس کے علاوہ تبتی اوربنگلہ دیشی بھی بستے ہیں اگرروہنگیائی پناہ گزینوں کونکالناہے تونیپالیوں، تبتیوں اوربنگلہ دیشیوں کوبھی نکالنے کی مانگ ہونی چاہیئے۔ جب سب کو نکالوگے توتب یہ مانگ جائزہوگی۔ میں نے کہاکہ آج یہاں پرجموں صوبہ کے پیرپنچال اور وادی چناب کے لوگ بھی یہاں رہ رہے ہیں، کیاان کوبھی نکالوگے ؟، اگرایساہوگاتوجموں میں رہے گاکون ؟۔ میراجواب سن کر صحافی ہکابکارہ گیا اوروہ یہ بات بھانپ گیاکہ یہ شخص میراہم خیال نہیں ہے !، جموں کے شدت پسندعناصرکاہم خیال نہیں ہے لہٰذااس نے مجھ سے کنارہ کشی کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔

اس کے بعد پھرمیرے ذہن میں مختلف واقعات سلسلہ وار اُبھرتے گئے کہ کس طرح سے جموں کی پرامن فضا کوایک مخصوص ذہنیت رکھنے والے اپنی سوچ میں ڈھالناچاہ رہے ہیں اوراس کے لیے وہ ہرکوئی ہتھکنڈہ استعمال کرنے سے بھی گریزنہیں کررہے ہیں ۔ بارایسوسی ایشن اوراس کے حمایتیوں کے مطالبات ایک مخصوص طبقے کیخلاف ایک منظم سازش کاعندیہ اورسوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ کٹھوعہ ضلع کی تحصیل ہیرانگرکے رسانہ گاؤں میں ایک مندرمیں پجاری، اس کے بیٹے اوراس کے ساتھیوں وپولیس اہلکاروں کی جانب سے آٹھ سالہ معصوم خانہ بدوش بچی کیساتھ اجتماعی عصمت ریزی اوراس کے بعدقتل معاملہ کاجہاں تک تعلق ہے اس کاایس سی /ایس ٹی ایٹروسٹیز ایکٹ کے ساتھ بھی گہراتعلق ہے۔ چونکہ بکروال خانہ بدوش طبقہ ہے اورایک جگہ سے دوسری جگہ اپنے مال مویشی کے ساتھ ہجرت کرنااس کی صدیوں پرانی روایت رہی ہے اورجنگلوں میں رہنااوراس میں گزربسرکرناہی ان کی کُل زندگی ہوتی ہے۔ گذشتہ دنوں پورے ہندوستان میں ایس سی /ایس ٹی سمیت دیگرپسماندہ طبقوں سے متعلق ایٹروسٹیزایکٹ میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے ترمیم پربھارت بندہواتھا، جوایس سی /ایس ٹی طبقوں کے حقوق کوتحفظ فراہم کرتاہے۔ فاریسٹ رائٹس ایکٹ جموں وکشمیرمیں ابھی تک لاگونہیں کیاگیاہے اوریہ ایکٹ لاگوکرناوقت کاتقاضاہے۔ دراصل یہ ایکٹ جنگلوں پرخانہ بدوشوں کے حقوق اوران کی رہائش کوجائزٹھہراتاہے۔ کرائم برانچ کے مطابق رسانہ کے گاؤں میں معصوم بچی کی عصمت دری اورقتل کامقصدمقامی خانہ بدوش مسلمانوں میں خوف وہراس پیداکروہاں سے کھدیڑناتھا، بہت سے واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ جب ان خانہ بدوش گوجربکروالوں کوجنگلی اراضی سے جبراً اٹھایاگیااوران کے کلوں کومسمارکردیاگیا اوریہ معصوم لوگ کچھ نہ کرسکے کیونکہ ایٹروسٹیز ایکٹ اورفاریسٹ ایکٹ جموں وکشمیرمیں لاگوہی نہیں ہیں ۔ ہردوقوانین کی عدم موجودگی میں فرقہ پرست عناصر انہیں کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ہراساں کرتے رہے ہیں اورکٹھوعہ سانحہ بھی مقامی مندرکے ایک پجاری (دیکھ ریکھ کرنے والا)سانجی رام کی ایماء پروحشیوں نے انجام دے کرپوری انسانیت کوشرمساکردیا۔

روہنگیائی پناہ گزینوں کاجہاں تک سوال ہے، یہ مسئلہ ایک دہائی سے زیادہ کانہیں ہے۔ فرقہ پرستوں کوجب مسلمانان جموں کوتنگ طلب کرنے کاکوئی بہانہ نظرنہیں آیاتوروہنگیائی پناہ گزین جن کی 95فیصد تعدادمسلمان ہے ان کاہدف بن گئی۔ اس سے پہلے عموماً جموں کی مسلم بستیوں مثلاً بٹھنڈی، سنجواں، سدھرا، کوٹ بھلوال وغیرہ کوفرقہ پرست نشانہ بناتے تھے اوریہ واؤیلامچاتے تھے کہ ان بستیوں میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے جس سے جموں میں آبادی کاتناسب بگڑرہاہے اورہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعدادزیادہ رہی ہے۔ خانہ بدوش گوجربکروال جن کے پاس اپنی زمین نہیں ہوتی ہے اورصدیوں سے مصیبتوں سے بھری زندگی گذارتے آئے ہیں ۔ جہاں جنگل ملتے ہیں وہاں ڈیرہ جمالیتے ہیں، جنگلی اراضی پراپناعارضی ڈیرہ لگانا جموں کے فرقہ پرستوں کوایک آنکھ نہیں بھاتاتھا اوروہ فرقہ پرستی کوہوادے کرسرکارکوانہیں جنگلات کی اراضی خالی کرانے کیلئے اکساتے تھے اوریہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔

اگردیکھاجائے تو گوجربکروال طبقہ کے لوگ جنگلوں کے محافظ ہیں اوراس طبقہ سے جموں وکشمیرکی اون، دودھ اورگوشت کی صنعتیں جڑ ی ہوئی ہیں لیکن انہیں کچھ عناصرتعصب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں جس کے نتیجے میں رسانہ کٹھوعہ میں پیش آئے انسانیت سوزواقعات رونماہوتے ہیں ۔ گذشتہ تین برسوں میں جے ڈی اے اورمحکمہ جنگلات نے انہدامی کاروائیوں میں زیادہ ترمسلم بستیوں کوہی نشانہ بنایااورمسلمانوں سے ہی قبضہ چھڑایاہے، اس کے برعکس ہندوؤں کے پاس سرکاری اراضی کوبازیاب کرانے کیلئے کوئی قدم نہ اٹھایاجوکہ کھلی فرقہ پرستی کی عکاسی کرتی ہے۔ اب جب ان فرقہ پرستوں نے دیکھاکہ جموں کی بٹھنڈی، سدھرا، کوٹ بھلوال، سنجواں وغیرہ میں جومسلمان آبادہورہے ہیں وہ توریاست کے ہی باشندے ہیں اورخانہ بدوش قبیلوں کوجبراً کھدیڑنے کی سازشیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں توآہستہ آہستہ مسلم دشمنی پرمبنی یہ سازش کچھ عرصہ کیلئے ٹھنڈے بستے میں رہی لیکن روہنگیائی پناہ گزینوں کے جموں میں عارضی طورپرقیام کوفرقہ پرستوں لوگوں نے پھرسے اپنی سیاست اورمسلم دشمنی پرمبنی مذموم ہتھکنڈوں وسازشوں کوحتمی انجام تک پہنچانے کیلئے روہنگیائی پناہ گزینوں کوجموں بدرکرنے کی مانگ کواُٹھایاگیااورجموں بارایسوسی ایشن نے غیرمنطقی مانگوں کوایجی ٹیشن میں بدلنے کیلئے ہرممکن کوششیں کیں لیکن جموں کے امن پسندلوگوں نے 11اپریل 2018کی جموں بندکومستردکیاجس کیلئے جموں کے لوگ مبارکبادکے مستحق ہیں۔

مسلم دشمنی کی جہاں تک بات ہے جموں سے مسلمانوں کوختم کرنے کی سوچ اورذہنیت آج کی نہیں بلکہ 1947سے بھی پہلے کی ہے، چونکہ اس وقت جموں میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی تھی اس وقت بھی وقتاً فوقتاً یہاں کی پرامن فضاکوپراگندہ کرنے کیلئے ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لوگ آکر یہاں پراپنی زہریلی وغلیظ سوچ کو پروان چڑھانے کیلئے مختلف حربوں کااستعمال کرتے تھے جس سے یہاں کاپرامن ماحول اکثرخراب ہوتاتھا لیکن پھربھی یہاں کے لوگوں نے ان کی ہرسازش کاڈٹ کرمقابلہ کیااوراسے ناکامیاب کردیا۔ 1947 کادورجس نے بھی دیکھاہے یاجس نے تاریخ کامطالعہ کیاہے۔

اس کیلئے یہ اندازہ لگانامشکل نہیں کہ کس طریقے سے فرقہ پرست سوچ یہاں کامیاب ہوئی، پورے ہندوستان سے فرقہ پرست عناصر نے یہاں کے خرمن امن کوآگ لگائی اورنتیجتاً 5سے 6لاکھ مسلمانوں کاقتل ناحق کیاگیا۔ لاشوں کے ڈھیرلگائے گئے۔ عورتوں کی عصمتیں لوٹی گئیں، چناب کے پانی کوخون سے لال کردیاگیا۔ توی آج بھی شہادت دیتی ہے کس طریقے سے مجھے انسانی خون سے آلودہ گیا تھا۔ یہاں میں کامریڈکرشن دیوسیٹھی۔ رام پیارے صراف، ویدبھسین، اوم پرکاش صراف وغیرہ انسانیت کے ہمدردوں کاذکرکرناچاہتاہوں جنھوں نے مسلمانوں کوقتل عام سے بچانے کیلئے کاوشیں کیں اورسینکڑوں مسلمانوں کوبچانے میں کامیاب بھی رہے۔ ان کے انسانیت کے تئیں جذبے کوتہہ دِل سے سلام پیش کرتاہوں جنھوں نے پرآشوب دورمیں بھی انسانیت کے پرچم اورعلم کوپوری طرح نیچے گرنے سے بچانے میں کلیدی رول اداکیا۔ مسلمانوں کاقتل عام یہ ایک بہت بڑی سازش تھی اس میں سامراجی ذہنیت کابہت بڑاعمل دخل تھااس کے برعکس اگرکشمیرکودیکھاجائے 1947میں اہلیان کشمیرنے ثابت کیاکہ ہم اسلام کوماننے والے ہیں اسلام انسانیت کادرس دیتاہے، کچھ لوگ جو کشمیرسے نکل رہے تھے، کشمیرکے تانگہ بان والوں نے انہیں بحفاظت جموں پہنچایا لیکن پھران تانگہ بان والوں کے ساتھ نگروٹہ میں کیاہوا وہ سب تاریخ میں سیاہ الفاظ سے درج ہے۔ جموں کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے جہاں آرایس ایس کی سوچ صف اول میں تھی وہیں کہیں نہ کہیں شیخ عبداللہ کی سامراجی سوچ نے بھی فرقہ پرستوں کے منصوبوں کوعملانے میں معاون کرداراداکیا۔

وجہ صرف یہ تھی کہ جموں کے لوگوں نے شیخ عبداللہ کی قیادت کوکبھی تسلیم نہیں کیا۔ اسی لیے جموں میں جوکچھ ہوا شیخ عبداللہ اس کوخامو ش تماشائی بن کردیکھتارہا، لوگ مرتے گئے، گھرویران ہوگئے جن لوگوں نے شیخ عبداللہ کی انانیت کو کبھی تسلیم نہ کیا جب شیخ عبداللہ نہ رہے تب شیخ عبداللہ کو جموں کاخیال آیااوروہ بھی سب تاریخ میں درج ہے۔ کامریڈکرشن دیوسیٹھی کی’عہدِ رفتہ ‘کی مشہورزمانہ کتاب ہے جس میں وہ رقمطراز ہیں کہ ہم شیخ عبداللہ سے جب ملے توہم نے کہا کہ ایک جگہ پربہت سی مسلمان عورتوں کوقیدکرکے رکھاگیاہے آپ فوری طورپر ان کووہاں سے نکالنے کیلئے اقدامات کریں شیخ عبداللہ کاجواب تھا کیا تم بھی پاکستان جاناچاہتے ہو؟۔ اس سے آپ شیخ عبداللہ کی ذہنیت کااندازہ لگاسکتے ہیں ۔ بعدازاں قبائلی حملوں کی آڑمیں ہندوستان کی فوج کاجموں وکشمیرمیں آنا اورپھرایک جگہ کمان پُل پرپہنچ کررُک جانا، پھراُسی سوچ کی بات آتی ہے جوسوچ یہاں پر مسلمانوں کی آبادی کوختم کرناچاہتی تھی۔ ایک طرف سے جموں سے مسلمانوں کوصاف کیاگیا تودوسری طرف سے بہت ساعلاقہ جوقبائلی حملوں کے بعد اس طرف چلاگیاتھا، یہاں پرنہرواورشیخ عبداللہ کی سوچ نے ایسے گہرے گھاؤ جموں کشمیرمیں لگائے جوصدیوں تک بھرنے میں نہیں آئیں گے۔ طاقت کے بل بوتے پرجموں کے مسلمانوں کی آوازکودبایاگیا۔ نہروکی سوچ تھی کہ جموں کے مسلم علاقے ان کے قبضے میں ہی رہیں لیکن مسلمان یہاں نہ رہیں۔

اتناکچھ ہوتے ہوئے بھی چانکیائی سیاست کے پیروکاروں نے جموں کشمیرکی عوام کوچین سے رہنے نہ دیا، وقتاً فوقتاً مختلف قسم کے نعرے دے کر یہاں کے پرامن ماحول کوخراب کیاجاتاتھا۔ کبھی ایک ودھان، ایک پردھان اورایک نشان کی باتیں ہوتی تھیں اورکبھی وندے ماترم کی بات ہوتی۔ کبھی جن من گن کی بات ہوتی۔ مقصد صرف اورصرف جموں کشمیرمیں چانکیائی سیاست کوپروان چڑھاناتھا۔ شیاماپرشادمکرمی جوچانکیائی سیاست کاایک لیڈرتھا، ہربار وہ جموں کشمیرمیں آکر یہاں لوگوں میں تقسیم کی سیاست کے بیج بوتاتھا۔ اس کے لیے ہم ساراقصوران لوگوں کونہیں دے سکتے ہیں کچھ نہ کچھ اس میں ہمارے نام نہاد لیڈران کابھی رول ہے ہے خواہ، شیخ عبداللہ ہو یادیگرلیڈران جنھوں نے ہمیشہ ریاست جموں وکشمیرمیں مسلمانوں کے جذبات واحساسات کویک طرف رکھ کرصرف اورصرف اپنی سیاست کودوام بخشنے کیلئے ہمیشہ آنکھیں موندکررکھیں ۔ جموں میں 1947میں جولوگ یہاں سے اپنی جائیدادچھوڑکرچلے گئے تھے کس طریقے سے اس جائیداد کواپنی جاگیرسمجھ کر لوٹااورتقسیم کیاگیا۔ کشمیرکے لیڈروں کوصرف یہ فکرہوتی تھی کہ جموں میں ہمیں کوئی غلط اندازمیں نہ دیکھے اس لیے جموں میں جوکچھ غلط ہوتاہے اس پروہ خاموش رہتے ہیں ۔ اگرکچھ بولیں گے کیامعلوم ہندوستان کرسی چھین لے۔ جعلی سٹیٹ سبجیکٹ کی بدولت اس وقت غیرسرکاری اعدادوشمارکے مطابق کم ازکم 5لاکھ لوگ جموں کے مختلف علاقوں میں بسے ہوئے ہیں ۔ سرکاری نوکریاں کررہے ہیں، بڑے بڑے کاورباری بن گئے ہیں ۔ سیاستدان ہیں ۔ غوروفکرکرنے کی بات ہے کہ جب ان کوسٹیٹ سبجیکٹ دیاگیا توکیالیڈران کومعلوم نہ تھا یہاں پر جعلی سٹیٹ سبجیکٹ کی چھان بین کرنے کیلئے مختلف کمیشن بنائے گئے مگروہ رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئی۔ آبھی نہیں سکتی۔ اگرتحقیقات عمل میں لائی جائے تو فاروق عبداللہ کابٹھنڈ ی کامکان وہ بھی سٹیٹ سبجیکٹ کی دین ہی کانتیجہ نکلے گا۔

جموں وکشمیر میں فرقہ پرستوں کی آخری بڑی کال ’’سدھراچلو‘‘جو2008کی امرناتھ اراضی تنازعہ کے دوران دی گئی، اس وقت فرقہ پرست عناصرکی ذہنیت غلاظت کی انتہاپرتھی، سدھراچلوکال سے دوروزقبل چنورمیں فدائن حملہ ہوتاہے جس کی وجہ سے فرقہ پرستوں کے حوصلوں کے غباروں کی ہوانکل جاتی ہے اورفرقہ پرستوں کامنصوبہ کامیاب ہوتے ہوتے رہ گیا۔
یہاں پنتھرس پارٹی کے سرپرست بھیم سنگھ کے دوغلے پن کی بات کرناچاہوں گا، وہ ایساتاثردیتے ہیں کہ وہ گولان کی پہاڑی پرکرنل قذاقی اوریاسرعرفات نیزصدام حسین سے گھنٹوں باتیں کیاکرتے تھے۔ موصوف جموں میں ایک بات اورکشمیرمیں دوسری بات کرنے کیلئے جانے جاتے ہیں، ابھی حکومت بنے ہوئے دودن بھی نہیں ہوئے تھے کہ انہوں نے جموں کشمیرمیں گورنرراج نافذکرنے کامطالبہ کردیاتھا، بھیم سنگھ بھی کٹھوعہ کے ایک مندرمیں پجاری کی ایماء پردرندوں کی جانب سے انجام دیاگئے آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت دری اورقتل واقعے کے ملزمان کی حمایت میں سی بی آئی جانچ کرکے بارایسوسی ایشن کی حمایت کرنا ان کی فرقہ پرست ذہنیت کامنہ بولتاثبوت پیش کرتاہے۔ یہاں پرغیرقانونی طریقے سے دفعہ 370کی خلاف ورزی کرکے بسائے گئے بہاریوں اوردیگر ریاستوں کے لوگوں نیزغیرقانونی طورپرسٹیٹ سبجیکٹ بناکرگورکھانگر، ترکوٹہ نگر، گاندھی نگر، قاسم نگروغیر ہ میں رہ رہے لوگوں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتے، انہیں ریاست بدرکرنے کیلئے آوازنہیں اٹھاتے ہیں ۔ حکومت کوبھی سنجیدگی سے غوروفکرکے ساتھ ساتھ تحقیقاتی کمیشن قائم کرنا چاہیئے اورغیرریاستی لوگوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ تمام بزنس مینوں (کاروباریوں )کی جانچ ہونی چاہئیے اوردیکھناچاہیئے کہ کتنے لوگ سٹیٹ سبجیکٹ بناکر ریاستی باشندہ بن کریہاں کے وسائل کی لوٹ مارکررہے ہیں اورتحقیقات عمل میں لانے کے بعدان کوریاست بدرکرناچاہیئے۔

ریاست جموں، کشمیراورلداخ تین خطوں پرمشتمل ہے، ایک خطے کے لوگ جب دوسرے خطے میں جاتے ہیں تورنگ برنگے گلدستے کی شان دوبالاہوتی ہے۔ جموں کی معیشت کاکچھ حدتک انحصارکشمیراورکشمیرکی معیشت کاانحصارجموں پرہے اوراسی طرح لداخ کی معیشت بھی جموں اورکشمیرخطوں کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی ہے۔ ہم سمجھ کوچاہیئے کہ جموں کی عظمت کوبڑھانے کیلئے ہندومسلم سکھ عیسائی کابھید بھاؤ ترک کرکے مثبت سوچ کوپروان چڑھایاجائے، اسی میں جموں، کشمیراورلداخ خطوں کی ترقی وبہبودمضمرہے۔ جہاں تک ڈیموگرافی تبدیل کرنے کاتاثردیاجارہاہے یہ چندفرقہ پرستوں کی ذہنیت ہے، یہ دھرتی یہاں کے ہرباشندے کی ہے، اورسبھی صدیوں سے مل جل کررہتے آئے ہیں، آبادی کاتناسب بگاڑنے کی باتیں کرنے والوں کایقیناذہنی توازن بگڑگیاہے جن کے سرپہ مسلم دشمنی کاجنون سوار ہے اوروہ جموں کوتباہ وبربادکرنے پہ تلے ہوئے ہیں، ایسے عناصرسے اہلیانِ جموں کشمیرکوبلالحاظ مذہب وملک ہوشیاروخبرداررہنے کی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close