نقطہ نظرہندوستان

آر.ایس.ایس سے ڈائلاگ‎

عزیر احمد

کافی دن گزر گئے، اپنے مسائل میں ایسا الجھا کچھ لکھنے کی توفیق نہ ہوسکی، بہت دنوں بعد قلم اٹھایا، تو یہی نہیں سمجھ آیا کہ کس مسئلے پہ لکھوں ، چاروں طرف مسئلوں کا انبار لگا ہوا ہے، ایک طرف ٹرمپ افغانستان پہ سب سے بڑا Non-Nuclear بم گرا کر تقریبا تین کیلو میٹر کے دائرے میں سب کچھ تباہ کرچکا ہے، دوسری طرف رجب طیب اردگان ریفرنڈم جیت گئے ہیں ، ان کی جیت کو جہاں اسلام پسند لوگ اسلام کی جیت سے تعبیر کررہے ہیں ، وہیں دوسری جانب انٹرنشنل میڈیا اسے جمہوریت کے جنازے سے تعبیر کررہا ہے، شمالی اور جنوبی کوریا میں بھی رسہ کشی بڑھتی جارہی ہے، سیریا بھی کفن میں لپٹا دکھائی دے رہا ہے، پوری دنیا میں Nationalism اور Protectionism کی لہر چلتی دکھائی دے رہی ہے، Globlisation اور لبرلزم اپنے خاتمے کی طرف تیزی سے گامزن ہے، اسی درمیان کہ میں انہیں سوچوں میں غلطاں و پیچاں تھا کہ میری نظر موہن بھاگوت کے اس قول پہ پڑی کہ "Every thing could be negotiated exept Hindu Rashtra”  ہندو راشٹر کے سوا ہر چیز پہ بات کی جاسکتی ہے.

دل میں خیال آیا کہ لاؤ کچھ آر.ایس.ایس سے ڈائیلاگ کے بارے میں لکھتے ہیں ، اکثر آر.ایس.ایس کے ٹکڑوں پہ پلنے والے ہمارے مسلم مفکرین اور انٹلیکچولس اس بات کی طرف دعوت دیتے نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کو اب آر.ایس.ایس سے دوری ختم کردینی چاہیئے، اور مخالفت کا راستہ چھوڑ کر اس کے ساتھ ڈائیلاگ کا راستہ اپنانا چاہیئے، بات کسی حد تک درست ہے کہ مسلمانوں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیئے، مسلمان آ تو جائیں گے مگر کیا آر.ایس.ایس اپنی آئیڈیالوجی سے کنارہ کشی اختیار کرسکتی ہے..؟

آر.ایس.ایس کیا ہے، کیوں ہے، اس کی آئیڈیالوجی کیا ہے، اس کے بارے میں کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ،  بحیثیت تنظیم اور زمینی سطح پہ کام کرنے کے وہ واقعی اس قابل ہے کہ اس کی تقلید کی جائے، لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنے میں اس کی روش کو اپنایا جائے، جس اخلاق اور ایمانداری سے اس کے ورکر کام کرتے ہیں ، شاید ہی دنیا کی کسی اور تنظیم کے ورکر ویسا کرتے ہوں ، یقینا جس Dedication اور Passion کے ساتھ وہ کام کرتے ہیں ، وہ انہیں کا خاصہ ہے، ہم مسلمان اس کا عشر عشیر بھی نہیں کرپاتے، ہمارے یہاں عہدے کی لالچ ہر کسی میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے، انا ضد اور بات بات پہ غصہ ہوکر الگ تنظیم بنا لینا ہمارے یہاں ایک عام بات ہے.

 آر.ایس.ایس کے پاس ایک ویزن ہے، اور وہی ان کا ڈریم پروجیکٹ ہے، اس کے کارکنان اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اسی کا خواب دیکھتے رہتے ہیں ، اور وہ ہے "ہندو راشٹر” کی آستھاپنا. آر.ایس.ایس کی آئیڈیالوجی کے مطابق ہر عاقل بالغ عالم جاہل ہندو کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی آستھاپنا کے لئے کوشش کرے اور اس کے قیام کے لئے جانی و مالی قربانیاں پیش کرے.

یہ اس کا وہ Basic Idea ہے جسے وہ کسی صورت میں ترک نہیں کرسکتی، اس کے مطابق Hindu صرف ایک Non-Minority Community نہیں ہے بلکہ بحیثیت مذہب وہ ایک Way of Life ہے، جسے Dominent دیکھنا ہی ایک ہندو کا خواب ہونا چاہیئے.

یہاں پہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب آر.ایس.ایس اس آئیڈیا کو ترک نہیں کرسکتی جس پہ دوسروں تنظیموں اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اختلاف کی بناء قائم ہے تو پھر ان کے ساتھ ڈائیلاگ کا فائدہ کیا ہے؟

یہاں ایک بات ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے آر.ایس.ایس کبھی بھی اقلیتوں کے ساتھ Direct Confrontation کی راہ اختیار کرے گی، بلکہ وہ ہمیشہ ان کی نظر میں خود کو اچھا اور اقلیتوں کا ہمدرد یا کم سے کم غیر مخالف بناکر پیش کرے گی، مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے ذیلی Fractions اور جماعتوں کے ذریعہ اقلیتوں پہ ظلم بھی کروائی گی، اور یکم دکا Brutal act کو انجام دلوا کر انہیں خوف میں مبتلا رکھے گی، اور انہیں نفسیاتی اور اعصابی طور پہ اس حد تک مفلوج کرنے کی کوشش کرے گی کہ انہیں سمجھ ہی نہیں آئے گا کہ وہ خدائی آفت سمجھ کے صبر کریں یا پھر کسی تنکے کا سہارا لیکر اپنی شناخت اور مذہبی پہچان بچانے کی کوشش کریں .

اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اگر آر.ایس.ایس اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے تو اقلیتوں کو ملک سے باہر نکال پھینکے گی، یا انہیں مار کاٹ کر ختم کردے گی، کیونکہ اسے بھی پتہ ہے اقلیتیں اقلیت میں ضرور ہیں مگر اتنی بھی اقلیت میں نہیں کہ ان کو ختم کرنا آسان ہو، بلکہ ایسی کوئی بھی کوشش ملک کو Civil War کے ایندھن میں جھونک دے گی اور پھر ملک کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا.

آر.ایس.ایس بس اتنا چاہتی ہے کہ ملک سیکولر اسٹیٹ نہ رہ کر ایک Hindu State میں تبدیل ہوجائے، جس میں Hiduism گورنمنٹ کا مذہب ہو، Hindu اول درجے کے شہری ہوں ، اور بقیہ اقلیتوں کو دوسرا درجہ حاصل ہوں ، Hindu Culture نیشنل کلچر ڈکلیئر کردیا جائے، اور ہندو مذہب کی ترویج و اشاعت میں گورنمنٹ اہم رول ادا کرے، اور پوری دنیا میں ہندو مذہب کیو پھیلانے کی بھرپور کوشش کرے، تاکہ ہندوستان ساری دنیا کے ہندؤوں کی امیدوں کا مرکز بن سکے، اور بقیہ جو دیگر مذاہب کے لوگ ہندوستان میں ہیں ، وہ بھی رہیں ، مگر حکومت میں ان کی شرکت Nominal  ہو، جب چاہیں ، جیسی چاہیں ان پہ پابندیاں عائد کی جاسکیں .

آر.ایس.ایس کی یہی وہ آئیڈیالوجی ہے جس کی وجہ سے ملک کا سیکولر طبقہ پریشان ہے، اسے معلوم ہے کہ اگر آر.ایس.ایس اپنے مقاصد میں  کامیاب ہوگئی تو ملک ٹوٹنے کے کگار پہ پہونچ جائے گا، اس کے ملٹی کلچر اور Multi-Religion کی خوبصورتی کہنا جائے گی، عدلیہ پہ بھی ہندوانہ رنگ غالب آجائے گا، موجودہ Constitution کو ہٹا کر نیا Constitution بنانے کی کوشش کی جائے گی، جو ہندو کلچر اور رسم و رواج سے ہم آہنگ ہوگا، Freedom of Expression اور Freedom of religion کا خاتمہ ہوجائے گا، حکومتی سطح پہ گھر واپسی اور Assimilation کی شروعات ہوجائے گی. میڈیا کو بھی Hinduaized کردیا جائے گا اور ہرچیز میں ہندو کلچر جھلکنے لگے گا.

لہذا آر.ایس.ایس سے کسی بھی قسم کے ڈائیلاگ کا کوئی فائدہ نہیں جب تک کہ آر.ایس.ایس اپنے ہندو راشٹر کے نظریہ کو طلاق نہیں دیتی ہے، اس سے پہلے اس کے ساتھ ڈائیلاگ صرف اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے اور آر.ایس.ایس کی ہمدردی حاصل کر اس کے پھینکے گئے ٹکڑوں پہ زندگی پالنے کی ایک کوشش ہوگی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Close