نقطہ نظر

آزادی اور انقلاب کا فرق

 عمر فراہی

جب ہم اپنے شعور میں آئے اور قومی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کیا تو اتفاق سے ہندوستان میں فسادات اور قتل و غارت گری کا سلسلہ عام تھا۔ بھیونڈی میرٹھ ملیانہ مرادآباد بھاگل پور اور ممبئ کے فسادات کی وجوہات جو بھی رہے ہوں سرکاروں نے فسادات کے اسباب پر غور کرنے اور اس پر قابو پانے کی بجاےُ عوام کو صرف مفروضات اور کمیشنوں کے فریب میں تو مبتلا رکھا مگر کسی بھی کمیشن کی رپورٹ پر کوئی ایماندارانہ فیصلہ نہ ہو سکا نیز ذہنی طور پر مسلمانوں کو پاکستان اور آئی ایس آئی سے منسلک کرکے ان کی وطنی وفاداری پر جو داغ لگایا گیا وہ ہنوز جاری ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اب اس آئی ایس آئی کے مفروضے نے آئی ایس آئی ایس کی شکل اختیار کر لی ہے اور حکمراں طبقات کی ذہنیت میں کوئی فرق آیا بھی ہے تو بس اتنا کہ مسلمان آزادی کے بعد فسادی سے دہشت گرد بنا دیاگیا۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا ان کے مذہب کی وجہ سے ہوتا رہا ہے بلکہ ملک کی ناکارہ سیاسی قیادت نے دیگر عوام کو مسلمانوں سے خوفزدہ کرنے کیلئے ایسے مفروضے تلاش کیے تاکہ ان کی ناکامی پر پردہ پڑا رہے۔ اگر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کا سبب مذہبی فرقہ پرستی ہوتا تو ملک کے دیگر کمزور اور پسماندہ طبقات کے لوگ سکون سےہوتے مگر ایسا نہیں ہے۔ سیاستدانوں کی بدعنوانیوں نے عدلیہ سے لیکر پولس محکمہ, میڈیا اور کارپوریٹ انڈسٹری تک کو پراگندہ کر رکھا ہے بلکہ ان کے آپسی گٹھ جوڑ سے ملک میں جو بدحالی کا ماحول ہے کسانوں کی خودکشی اور ہر روز حوا کی بیٹیوں کی لٹتی ہوئی عصمتوں کی داستان اتنی دردناک اور طویل ہے کہ اب نہی عن المنکر کے علمبردار بھی اس پس و پیش میں ہیں کہ ملک کے خستہ اور بوسیدہ سیاسی ڈھانچے کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے یا تعمیر کرنے کی۔ یہاں تک کہ عورتوں کی اسی غیر محفوظ عزت و آبرو کے تناظر میں ایک شدت پسند سیاسی تحریک کے لیڈر راج ٹھاکرے کو بھی سخت شرعی قوانین کے نفاذ کی وکالت کرنا پڑی۔ حالانکہ اس مسئلے کا کوئی حل کسی کے پاس بھی نہیں ہے کہ ملک کے سیاسی ڈھانچے کو درست کیا بھی جائے تو کہاں سے اور تعمیر ہو بھی تو تخریب کے بغیر کیسے ممکن ہے۔ پھر بھی سوال اٹھنا بھی لازمی ہے کہ کسی بھی مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تو ضرور ہوگا۔ جواب بالکل آسان ہے کہ نظام کی تبدیلی یا ایک اور انقلاب مگر پھر ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟ 1947 میں انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم یہ انقلاب تو لا چکے اب تبدیلی کیسے ممکن ہے۔ ذہن میں پھر ایک سوال اٹھتا ہے کہ 1947 میں ہم نے جو آزادی حاصل کی کیا وہ حقیقت میں آزادی تھی یا انقلاب۔ اگر یہ آزادی تھی تو اس آزادی کا فائدہ کسے ملا۔ اگر یہ تبدیلی تھی تو پھر انگریزوں کے دور سے بہتر کیا ہے۔ اگر انقلاب تھا تو اس انقلاب کا نظریہ کیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ تو یہ آزادی تھی اور نہ ہی انقلاب بلکہ ہندوستان, پاکستان اور بنگلہ دیش کی شکل میں یہ صرف اقتدار کا بٹوارہ تھا جو انگریزوں کے ہاتھ سے چند سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو منتقل ہوگیا۔ ہمارے خیال سے کسی بھی معاشرے میں انسانوں کی ذہنی اور روحانی تربیت کے بغیر ان کے اپنے حق میں کوئی بھی تبدیلی سودمند نہیں ہوسکتی اور اس تربیت کا نظم نہ تو آزادی سے پہلے ہی کیا گیا اور نہ آزادی کے بعد۔ مسلم حکومتوں کے زوال کے بعد انگریزوں کے دور میں جہاں اونچی ذات کے ہندو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے پسماندہ طبقات کا استحصال کیا وہیں مسلم جاگیر داروں نے بھی کہیں سے اس اونچ نیچ کی دیوار کو منہدم کرنے کیلئے اپنی اسلامی روایت اور غیرت کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا۔ اسی بحث کے سلسلے میں ایک بار ہم نے اپنے نانا مرحوم جنھوں نے انگریزوں کا دور بھی دیکھا تھا اور اسلامی تاریخ کے معلم بھی تھے ان سے سوال کیا تھا کہ جب ہمیں اسی طرح خوف اور دہشت کی زندگی بسر کرنا تھا یا ہندو اکثریت والے ملک میں مسلمانوں کی سلامتی کے خطرات لاحق تھے تو پھر ہم پاکستان کیوں نہ چلے گئے؟ یہ بات ہمارے ذہن میں اس لئے بھی آئی کہ کم سے کم ایک مسلمان ملک میں تو انسانوں کی زندگی کو گائے سے کمتر نہیں سمجھا جاتا اور اس کی عزت و آبرو محفوظ رہ سکتی تھی۔ اس بات سے قطع نظر کہ آج پاکستان میں بھی مسلمانوں کے حالات ہندوستان سے بہت مختلف نہیں ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ بٹوارے کے بعد پاکستان نے بھی مغربی طرز سیاست اور معاشرت کو ترجیح دی مگر لوگوں کی فکر کو ان کی انسانی فطرت کی طرف موڑنے کیلئے سرکاری سطح پر کسی طرح کی اسلامی تعلیمات کا کوئی نظم نہیں کیا گیا۔ لیکن بعد کے حالات میں خود ہندوستان میں نہ صرف مسلمان مسلم اکثریتی علاقوں میں محفوظ آشیانہ تلاش کرتے رہے بلکہ دلتوں کی اپنی بقا بھی مسلسل خطرے میں رہی۔ یہ طبقہ آج بھی اونچی ذات کے لوگوں کے ظلم کا شکار ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کا بٹوارہ نہ ہوا ہوتا تو مسلمانوں کے خلاف یہ ظلم اور زیادتی اتنی انتہا کو نہ پہنچتی کیا ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہے کہ دلتوں نے کون سا بٹوارہ کیا تھا کہ انہیں آج تک اپنے مذہب کو تبدیل کر لینے میں ہی عافیت نظر آرہی ہے۔ مذہب کی اس تبدیلی کے بعد بھی دلتوں کو کہاں تک عافیت مل رہی ہے یہ بھی ایک سوال ہے۔ جس کا جواب دلت ہی دے سکتے ہیں لیکن پاکستان چلے جانے کے سوال پر ہمارے نانا مرحوم نے مولانا ابولکلام آزاد کی فکر کے حوالے سے وہی جواب دیا جو اکثر ہمارے سیکولر علماءِ دین کا خیال رہا ہے کہ اگر ہندوستان کے سارے مسلمان پاکستان چلے جاتے تو یہاں کی غیر مسلم آبادی کو اسلام کی دعوت کون دیتااور کل اگر حشر کے میدان میں یہ لوگ ہم سے سوال کر دیں کہ تم نے ہمیں اسلام سے آشنا نہیں کیا جس کی وجہ سے ہم جہنم میں ڈالے جارہے ہیں تو ہم اس کا کیا جواب دیں گے۔ میں اس وقت ان کے اس جواب سے مطمئن تو نہیں ہوسکا لیکن میرے پاس بھی کوئی دوسرا حل نہیں تھا کہ میں ان کے سوال کا جواب دے کر انہیں مطمئن کر سکتا۔ مگر بعد کے حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ دعوت و تبلیغ میں مصروف مسلم تنظیمیں جن لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کیلئے مخلص تھیں نہ تو وہ انہیں تبدیل کر سکیں یا پھر وہ مستقبل کے جدید مادی انقلاب کو سمجھنے سے بھی قاصر رہیں۔ رفتہ رفتہ ہوا یوں کہ یہ تحریکیں جو آزادی کے بعد بہت ہی جوش و خروش سے ابھری تھیں ان کے افراد اور ان کی بعد کی نسل بھی اس مادہ پرستانہ نظام کے دلدل میں الجھ کر رہ گئیں۔ اب تو دجالی میڈیا نے ذاکر نائیک کو لیکر ملک کے ماحول کو جس طرح پیچیدہ بنا دیا ہے یہ صورتحال بھی ایک آزاد جمہوری ملک کیلئے کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ جیسا کہ دس سالہ تحریک کے بعد اب ذاکر نائیک پر یہ الزام بھی لگایا جارہا ہے کہ انہوں نے آٹھ سو لوگوں کو اسلام قبول کروانے میں مالی مدد کی ہے۔ یہ الزام کہاں تک درست ہے اور یہ درست بھی ہے تو کیا کسی ایسے شخص کی مدد کرنا اس لئے جائز نہیں کہ اس نے اپنے خیال اور عقیدے کو تبدیل کر لیا ہے۔  دوسری بات ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مسلمانوں کو بڑے کا گوشت کھانے پر بھی دہشت سے گذرنا پڑ رہا ہو کیا کوئی مسلمان کسی ہندو کو جبراً یا لالچ دیکر مسلمان بنا سکتا ہے۔  یقیناً ایسا نا ممکن ہے لیکن ملک کا کوئی بھی میڈیا اور کوئی بھی سیاسی لیڈراپنے ہندو ووٹ بینک کی لالچ میں ذاکر نائیک کی حمایت میں آنے کیلئے تیار نہیں ہے تو کیوں؟ اس کا مطلب قومی عصبیت کا زہر ہمارے ذہنوں میں ابھی تک سرایت ہے اور ملک کی آبادی معاشی اور معاشرتی طورپر پر تو تبدیل ہونے کیلئے تیار ہے اور تیزی کے ساتھ جدید فحش معاشرے کی طرف گامزن ہے مگر ذہنی طورپر کسی صالح اور مثبت تبدیلی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ پھر ہم کیسا معاشرہ چاہتے ہیں اور کیا اس معاشی اور معاشرتی تبدیلی کا شکار صرف غیر مسلم ہی ہے یا مسلمان بھی اسی لعنت کا شکار ہیں۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ تبدیلی انسان کی فطرت میں شامل ہے اور یہ دنیا ہر پل بدل رہی ہے اس لئے تبدیلی کی ضرورت نہ صرف ہندوستان اور غیر مسلم برادران وطن کو ہے بلکہ وقت کے لحاظ سے تبدیلی مسلمانوں میں اور دعوت و تبلیغ میں مصروف تنظیموں کے اندر بھی آنا ضروری ہے۔  دعوت و تبلیغ میں مصروف مسلمان تنظیمیں کیا لائحہ عمل اختیار کر سکتی ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہیے یہ کوئی نایاب نسخہ بھی نہیں ہے مگر اکثر ہماری تنظیمیں بھی ایسے کاموں میں زیادہ مصروف ہیں جن میں لوگوں سے واہ واہی اور تعریفی کلمات زیادہ سننے کو ملتے ہیں۔ جیسے کہ دعوتی غرض سے اجتماعات , کانفرنس اور سمپوزیم وغیرہ منعقد کرکے بھیڑ اکٹھا کرکے کامیابی کا ڈنکا تو پیٹا جاتا ہے اور فرض کی ادائیگی سے بری ہو جانے کی بات بھی ہوتی ہے۔ مگر دعوت کے ذریعے تبدیلی کا جو اصل نصب العین ہے وہ کبھی پورا نہیں ہوتا۔ جب ہم تحریکی ذمہ داران سے سوال کرتے ہیں تو وہ بہت ہی اطمینان کے ساتھ جواب دیتے ہیں کہ ہمارا کام ہے لوگوں تک اپنی بات پہنچا دینا باقی ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔ بات تو بالکل معقول ہے لیکن فرض کر لیجئے کہ اللہ نے چند لوگوں کو ہدایت دے بھی دی اور اس ہدایت کی وجہ سے وہ اپنی ذات برادری اور خاندان سے نکال دیے گئے تو انہیں راحت پہنچانے کیلئے بھی کیا ہمارے پاس کوئی فلاحی منصوبہ ہے۔ اگر نہیں تو پھر ہزاروں لاکھوں کے خرچ سے منعقد اجتماعات اور کانفرنس میں اور ایک عام موذن کی آواز حیٰ علی الفلاح میں کیا فرق ہے۔ یہ بات ہم اس لئے لکھ رہے ہیں کہ جب کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرتا ہے تو اسے اپنے سابقہ مذہب سے بغاوت کی صورت میں لوگوں اور خاندان کی طرف سے سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ دعوت و تبلیغ میں مصروف تنظیموں کے پاس بھی فلاح و بہبود کا کوئی نظم نہ ہونے کی وجہ سے ان نو مسلموں کو اکثر دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی اچھے خاندان کا مسلمان ان نو مسلموں کو جلدی اپنی لڑکی بھی نکاح میں نہیں دیتا۔ ہم مختصراً بس اتنا کہنا چاہیں گے کہ مسلم تنظیمیں دعوت و تبلیغ اور کانفرنس میں اپنا بہت وقت ضائع کرنے سے زیادہ اپنی بستی اور علاقے کو ایک ایسے مستحکم اور پر امن ماحول اورمعاشرے میں تبدیل کرنے کی فکر اور سعی کریں کہ ایک مسجد اور بستی میں کوئی فرق نہ رہ جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر یہ بات غیر مسلموں کو بھی سمجھنے میں دقت نہیں ہوگی کہ حیٰ علی الفلاح کا مطلب کیا ہے اور وہ خود بخود اسی طرح حیٰ علی الصلواۃ کی آواز پر آپ کے علاقے کی طرف دوڑ پڑیں گے جیسا کہ لوگ یوروپ کی خوبصورت وادیوں میں بسنے کیلئے یوروپی ممالک کے سفارت خانوں کے سامنے ویزے کیلئے صف در صف قطار لگائے کھڑے ہیں۔ یہی فرق ہے آزادی اور انقلاب میں اگر ہم سمجھیں تو ….!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close