نقطہ نظر

آزادی: حقیقت یا افسانہ

محمدخان مصباح الدین

 لفظ "آزادی” بظاہر لکھنے اور بولنے میں بہت آسان اور سہل سا محسوس ہوتا ہے مگر اسکو حقائق کا لبادہ پہنانے میں اور اسے حیات انسانی میں شامل کرنے کے لئے بہت سی قربانیاں ,آلام ومصائب, دکھ درد, قید وبند کی صعوبتیں سب درکار ہیں تب جا کے کہیں آزادی کی فضا ہموار ہوتی ہے.

دنیا میں جب کوئی قوم غلام ہو جاتی ہے تو بد قسمتی اس قوم کے ذہن وفکر کی پرواز رہ جاتی ہےاور اسکی ہر چیز پر غلامی کی مہر ثبت ہو جاتی ہے اس لئے غلام قوم کے افراد اپنے آقاوں کی روش پر چلنا انکے طرز معاشرت کواپنانا اور انکی ہر بات کی تائید کرنا اپنا شیوہ بنا لیتے ہیں اور اسپر فخر کرتے ہیں .

اورنگ زیب رحمةالله عليه کے انتقال کے بعد آپسی انتشار کا ماحول گرم ہوا دلوں میں چھپے ہوئے بغض  وحسد سامنے آنے لگے آپسی بھید بھاو کا بازار گرم ہوتا گیا لوگ ایک دوسرے کےخون کے پیاسے نظر آنے لگے امن و سکون مروت ووفاداری گویا اٹھتی چلی جا رہی تھی ہر طرف انتشار ہی انتشار تھا. ایسےمیں ان تماشائیوں نے جو بہت پہلے سے موقعے کی نزاکت  کا انتظار کر رہے تھے اس انتشار کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور طاغوتی سونچ کے ساتھ انہوں نے اپنے ناپاک قدم اس ملک کی زمیں پے رکھے اور سراج الدولہ کو شکشت دے کر سب سے پہلے بنگال پھر کلکتہ اسی طرح مدراس اور دھیرے دھیرے اپنے ناخونی پنجے ہندوستان کی شہہ رگ تک میں جھبوتے چلے گئے اور 1865ء میں مکمل قبضہ کر لیا.پھر کیا تھا طلم و بربریت کی روداد شروع ہوئی, خون میں تڑپتی لاشیں ,کٹے پھٹےسر,خون کی ندیاں ,گلی چوراہے پے لٹکتی ہوئی لاشیں ,جگہ جگہ پھانسی کے پھندے,بندوق کی گولیوں سے انسانوں کی نشانے بازی مظالم کے ہزاروں ہتھکنڈے عام ہوتے چلے گئے.

مگر تاریخ کو وہ دن بھی یاد ہے کہ جب ظلم وبربریت حد سے تجاوز ہوئی تو مسلمانوں کی  رگوں میں دوڑنے والا خون جوش مارنے لگا اور غلامی کے خلاف علم بغاوت بلند ہونے لگا..

قارئین کرام! مسلمانوں کی تاریخ اپنے دامن میں ہزاروں ایسی مثال سموئے ہوئے ہے کہ انہوں نے غلامی کو کبھی قبول نہیں کیا بلکہ اسکے خلاف ہمیشہ علم بغاوت بلند کیا ہے.کیونکہ جب ایک پرندے کی فریاد یہ ہو سکتی ہے کہ…

 "الحبس ليس مذهبي وليس فيه طربي”

تو پھر انسان غلامی کو کیونکر برداشت کر سکتا تھا وہ بھی وہ انسان جسے مومن ہونے کی صورت میں سربلندی کا وعدہ کیا گیا ہو, چنانچہ مسلمانوں نے غلامی کے خلاف ہر طرح سے آواز اٹھائی کونکہ انہیں دنیا کو بتانا تھا کہ!

  اصولوں پے جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے

 جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے

یہی وہ قوم ہے جس نے ہر دور میں باطل کے ہر ریلے کے سامنے بند باندھا!

  وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ھادی

   زمیں ہند کی جس نے ساری ہلا دی

ہندوستان کا وہ دور جو جنگ آزادی سے متصف ہے تنگ نظری اور تعصب کی عینک اتار کر وسیع ظرفی کے ساتھ تمام حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو صرف اور صرف ایک ہی قوم نطر آئیگی جس نے خلوص اور نیک جذبے کے ساتھ استعماری قوتوں اور انگریزی ظلم واستبداد کے خلاف آزادی کا علم لہرایا اور پوری سرگرمی سے جنگ میں شریک رہی بلا شبہ وہ قوم قوم مسلم ہی کی نظر آئیگی.

تاریخ کے صفحات پر مسلمانوں کی قربانیاں سنہرے لفظوں میں نقش ہیں اور ہندوستان کی زمین اب تک ان کے خون سے لالہ زار بنی ہوئی ہے انہوں نےانگریزون کی مخالفت میں اپنی جانیں قربان کیں , پھانسیوں پر لٹکائے گئے,جیل کی سزائیں کاٹیں ,کالا پانی بھیجے گئے,انکی جائدادیں ضبط ہوئیں اور بھوکا پیاسارکھ کر انہیں مسلسل پیٹا گیا.

 کچھ ایسے نقش بھی راہ وفا میں چھوڑ آئے ہو

  کہ دنیا دیکھتی ہے اور تم کو یاد کرتی ہے

سب سے پہلے ولی اللہی خاندان نے انگریزوں کے برے ارادے کو محسوس کرکے ان کے خلاف علم جہاد بلند کیا پھر کیا تھا ….

  لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

دھیرے دھیرے یہ سلسلہ سیلاب کی شکل اختیار کرتا گیا مسند درس پر بیٹھ کر قرآن و حدیث کا درس دینے والے علماء بھی میدان میں آ گئے اور انگریزوں کے خلاف محاذ بنا کر منزل کی جانب بے سروسامانی کے عالم میں ہی نکل پڑے اس مسافت کو طے کرتے ہوئے انکے قدم مسلسل لہو لہان ہوتے رہے,بہت سے نشیب وفراز آئے,خارزار وادیاں , مصائب کے پہاڑ رونما ہوئے مگر ہر بار ظالم کو منہ کی کھانی پڑی, آلام ومصائب نےانکے ارادوں کو پست نہیں ہونے دیا بلکہ انہوں نے ہمیشہ زندی دلی اور جرات مندی کا ثبوت دیا.

مگر جنگ آزادی کے دوران ہم وطنوں کی منافقت بھی سامنے آئی کچھ لوگ یہ کہہ کر ساتھ دینے سے انکار کرنے لگے کہ انگریزوں کی قیادت (نعوذباللہ)خضر علیہ السلام کر رہے ہیں . اور آر ایس ایس جس کا آزادی کی لڑائی میں کوئی کردار نہ تھا بلکہ ستم ظریفی دیکھیئے کہ اس گروہ نے ملک کے خلاف کام ضرور کیا اور انگیزوں کی چاپلوسی میں برابر لگے رہے اور ملک کو دیمک کی طرح چاٹنے کا کام کرتے رہے اور انکے  منصوبے بہت ہی زہر آلود ہوا کرتے تھے آر ایس ایس  نے جنگ آزادی کے دوران ہی یہ منصوبہ بنایا کہ ہندوستان کو سو سالوں کے اندر مسلمانوں سے خالی کر کے ہندو راشٹر بنانا ہے مسلمانوں کے خاتمے کیلیئے انہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر مختلف پروپیگنڈے استعمال کیئے مگر کامیاب نہ ہو سکے….

 طوفان کر رہا تھا میرے عزم کا طواف

  دنیا سمجھ رہی تھی  کشتی بھنور میں ہے

اتنا ہی نہیں آزادی کے دوران آستین کے سانپوں نے نے زبان و ادب کا بھی مسئلہ اٹھایا طرح طرح کی حیلہ سازی کی اور آج بھی کرتے آ رہے ہیں .مولانا ابوالکلام آزاد رحمةالله عليه نے سچ کہا تھا کہ دنیا چاہے جتنی ترقی کر لے مگر ہندووں کی تنگ نظری کبھی ختم ہونے والی نہیں

قارئین کرام!!

 اسوقت کا ہندوستان تو اپنی قربانیوں کے ساتھ 15 اگست  1947ء کو آزاد ہو گیا لیکن کیا آج کا ہندوستاں حقیقی معنوں میں آزاد ہے؟کیاملک کے ہر باشندے اور ہر مذہب کے لوگوں کو ان کے اصلی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے؟ کیا ہمیں وہ ساری آزادی حاصل ہے جوہندوستان کے آئین  میں نقش ہے ؟؟ اگر نہیں تو کس بات کا ناچ گانا؟کیسی آزادی کیسی خوشی؟اسبات کی خوشی کہ ہمارےساتھ ہر جگہ دوہرا  معیار اختیار کیا جاتا ہے؟اسبات کی خوشی کہ ہمیں بچوں کی جان بچانے کے عوض میں نوکری سے صرف اس لیئے دست بردار کر دیا جاتا ہے کیوں کہ ہم ایک مسلمان ہیں ؟یا اسبات کی خوشی کہ ہمیں گائے کے نام پر ایک بھیڑ آکر قتل کر دیتی ہے اور پورا ملک تماشائی بن کر ہماری بربادی پے بت بنا رہتا ہے؟ میں تشدد کی بات نہیں کر رہا بلکہ ہندوستان کا آئین مجھے اسبات کی پوری آزادی دیتا ہے کہ میں کسی بھی شخص کے خلاف, یا اسکے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہوں .

 اس ملک کو تمام مذاہب کے لوگوں نے مل کر آزاد کرایا ہے لہذا اس میں سب کا برابر کا حق ہے 15 اگست اور 26 جنوری کے دن صرف ميٹھائياں کھا کر خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اگر ہم اپنا تجزیہ کر لیں کہ آج تک ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے تو زیادہ بہتر ہوگا.

  آپکو یاد رکھنا چاہیئے کہ دنیا میں ہر ذمہ داری کے تقاضے ہیں اور وہ تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں ۔دنیا میں ٹھوکریں انہیں کو لگتی ہیں جو چلتے ہیں جو پاوں توڑ کر بیٹھ جاتے ہیں انہیں ٹھوکر کبھی نہیں لگتی، گرتے وہی ہیں کہ جو دوڑینگے کانٹے انہیں کے تلووں میں چبھتے ہیں کہ جو دوڑتے ہیں اگر ہم نے ذمہ داری کا بوجھ اٹھایا ہے تو طرح طرح کی پریشانیاں ہمیں پیش آئینگی اگر ہم میدان میں دوڑ رہے ہیں تو قدم قدم پے ہمکو ٹھوکروں سے دوچار ہونا پڑیگا اس سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیئے اس سے ہمیں اکتانا نہیں چاہیئے مرد بن کر ان تمام ذمہ داریوں کو اٹھانا چاہیئے اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنا چاہییے اگر ایک زندہ انسان ہے اور اسکی رگوں میں گرم اور زندہ خون دوڑ رہا ہے تو اس کے لیئے بیماریاں بھی ہیں ٹھوکریں بھی ہیں مصیبتیں بھی ہیں طرح طرح کی پریشانیاں بھی ہیں-

تو زندگی کے یہی معانی ہیں کہ ہم بوجھ اٹھائیں بوجھ اسطرح نہ اٹھاہیں کہ گھبرا جائیں مردوں کی طرح ہمت کے ساتھ اٹھائیں

تمام اہل وطن کو اک دلی مشورہ۔۔

چراغوں کے سفر میں اگر دبدبہ ہو آندھیوں کا

تو انجام ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

یہ دنیا نفرتوں کی آخری اسٹیج میں ہے

علاج اسکا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close