نقطہ نظر

ابھی امید زندہ ہے!

فاشزم اور سیکولرزم دونوں موت کے قریب آچکے ہیں اور اپنی آخری لڑائی لڑرہے ہیں۔

محمد انور حسین

پچھلے کئی دنوں سے ملک عجیب و غریب خبروں سے گونج رہا ہے۔ خبریں بھی ایسی کہ جس کو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہ تو سنا جارہا ہے نہ دیکھا جا رہا ہے۔ ملک کی کیی ریاستوں سے ایک کے بعد دیگرے زنابالجبر کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ زنا بالجبر کے واقعات پہلی بار ہورہے ہیں۔ ہوس پرست اور ذہنی آوارگی سے متاثر لوگوں کی طرف سے یہ عمل پہلے بھی ہوتا رہا ہیے، اور پوری دنیا میں ہر روز ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ ایک عام بات ہے۔

لیکن اب جو کچھ ہورہا ہے اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ اب یہ زنا بالجبر کے واقعات فاشزم کا ایک نیا روپ ہے اور اس کو دہشت پھیلانے کے ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ طریقہ انتہائی شرمناک اور بربریت سے بھرا ہو اہے۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ ہتھیار  انتہائی طاقتور ثابت ہوگا اور اس کے ذریعے خصوصیت سے دلت اور مسلم طبقہ میں خوف کا ماحول پیدا کیا جاسکےگا۔

اسطرح کے واقعات اور اس کے گنہ گاروں کی تائید کا جو تماشہ کیا جارہا ہےاس سے پورے ملک میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہر ماں باپ کے دل میں غیر محفوظ ہونے کا احساس پیدا ہوگیا ہے۔ ان واقعات کی تفصیلات بھی عام ہونے والے واقعات سے مختلف  ہے۔ اور ساتھ ہی خوفناک اور بربریت سے بھری ہوئی بھی ہے۔

لیکن یہی خوف اب دھیرے دھیرے غصہ میں تبدیل ہورہا ہے۔ ملک بھر میں کینڈل مارچ کے ذریعے بلا لحاظ مذہب و ذات عورتیں، مرد اور بچے سب اپنے ہاتھوں میں شمعیں جلاتے ہوئے اس ظلم کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ اور خاطیوں کو سزاے موت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ انڈیا گیٹ سے گلی گلی تک پہنچ رہا ہے۔

یقیناََ کچھ لوگ ہیں جو بربریت اور دہشت کا ماحول پیدا کرنا چاہ رہے ہیں اور اپنی پوری قوت بھی صرف کر رہے ہیں۔ لیکن ایک پر امید آدمی کو ان اندھیروں میں روشنی نظر آجاتی ہے۔ فاشزم کے اس اندھیرے کے خلاف پورا ملک شمع جلا رہا ہے اور ہر ایک جگنو بننے کو تیار ہے۔ آپ ا سے جذبات سے مغلوبیت میں نکلے ہوے الفاظ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے جب کوئی قوم و نظریہ اپنی کامیابی کی عمارت ظلم اور نفرت پر کھڑی کرتی ہے تو اس کی زندگی بھی بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ نظریاتی سطح پر فاشزم کی موت ہوچکی ہے اب اس کے زندہ ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے یہ بجھتے ہوے چراغ کی آخری پھڑپھڑاہٹ ہے۔

لیکن دوسری طرف سیکولر ازم بھی اس مسیلہ کا حل نہیں ہے۔ آزادی کے ان ستر سالوں میں سیکولر ازم بھی بوڑھا ہوگیا ہے اور اس کی کمزوری اور نقاہت نے فاشزم کو ابھرنے کا موقع دیا جو پچھلے ستر سالوں سے انڈر کرنٹ سے نکل کر سطح آب پر آنے کی جدوجہد کر رہا تھا لیکن پانی کا جھاگ اور بلبلہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتا۔

فاشزم کا بدترین چہرہ سامنے آنے کے بعد پورا ملک سیکولرازم کے بوڑھے کو امید کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے جس کے پاس سواے حسرت بھری نگاہوں کے کچھ نہیں ہے۔ فاشزم اور سیکولرزم دونوں موت کے قریب آچکے ہیں اور اپنی آخری لڑایی لڑرہے ہیں۔
ملک کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک اہم سوال ہے۔ چند امکانات ہیں وہ یہ کے فاشزم اور سیکولرزم اپنی شدید ترین لڑایی کے بعد ختم ہوجائیں گے۔

اس کے بعد یہ ہوگا کہ پورا ملک ایک نیے نظریہ کی طرف دوڑے گا۔ ایک طرف مابعد از جدید یت کی انارکی یا CHAOS اس کے ہاتھ آے گا۔ دوسری طرف اس کو اسلام ایک نظام زندگی کی حیثیت میں امید کی کرن کے طور پر دکھائی دے گا۔ لیکن اسلام کے خلاف پہنائی گیی تعصب کی عینک اترتے اترتے وقت لگ سکتا ہے۔ راج ٹھاکرے جو مسلمانوں سے تعصب کے لیے مشہور ہیں نے بیان دیا کہ ملک میں اسلامی شریعت کا قانون زنا بالجبر کے معاملے میں لاگو کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ بہت آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ملزمین کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔

اس معرکہ میں نظریاتی سپر پاور بننے کا موقع اسلام کو ہے۔ اسلام اور اس کی تعلیمات میں وہ حقیقت ہے جس کو دنیا قبول کرے گی۔  پچھلے دنوں کچھ آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ بھارت میں اسپین کی تاریخ دوہرایی جاے گی اور مسلمانوں کے وجود کو ختم کردیا جاے گا۔
لیکن مجھے تاریخ کا وہ واقعہ یاد آگیا جب اسپین میں بادشاہوں کی انارکی اور بربریت نے تانڈو پیدا کر رکھا تھا۔ کاونٹ جولین جس نے دو مرتبہ مسلمانوں کے حملہ کو ناکام کردیا تھا اسی کاونٹ جولین کی بیٹی کے ساتھ بادشاہ راڈرک نے شاہی محل میں عصمت دری کی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے کاونٹ جولین خود موسی بن نصیر کے پاس اسپین پر حملہ کی دعوت دینے پہنچا اور طارق بن زیاد نے اس اندلس کو فتح کیا اور اسلام کی عظمت نے وہاں انصاف قایم کیا۔

ہم میں طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم تیار ہونا پڑے گا تو عظمت اسلام کی تاریخ دوہرایی جاے گی۔  یہاں بھی لٹتی ہویی عورت کی چیخیں اور بد دعائیں راییگاں نہیں جاے گی۔ چاہے ہو کوئی بھی عورت ہو۔  آصفہ کی چیخوں نے بھی وہاں کی وادیوں کو ہلا ڈالا اور برفیلی پہاڑیوں کا برف اب پگھلنے لگا۔

پورے ملک میں ایک خاص قوم کے متعلق غیر محفوظ، ہونے کا احساس پیدا ہوا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسا کردار پیش کریں جس سے سماج میں ہمارا اعتماد بڑھے۔ اس صورتحال میں کرنے کے  کچھ اہم کا م یہ ہوسکتے ہیں کہ ہم اس ملک کے لوگوں سے رابطہ بڑھاییں۔  انصاف کی اس جدوجہد میں ہم ان کا ساتھ دیں۔  مسایل کو ملی، مذہبی اور علاقائی  عصبیتوں سے ہٹ کر دیکھیں۔ ہماری خواتین اور نوجوانوں میں سوشل اکٹیوزم پروان چڑھاییں۔ سماجی رابطہ کو زیادہ مضبوط کریں۔

حکمت و دانائی کے ساتھ اسلام کو ایک متبادل کے طور پر پیش کریں۔  یہ جلتی ہوئی لاکھوں شمعیں پتہ نہیں کب توحید کی روشنی دینے لگے:

"دیکھ زنداں کے پرے رنگ چمن ذوق بہار۔ ۔ ۔ "

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close