نقطہ نظر

اب لفظ مل گئے تو میرے ہاتھ کٹ گئے!

محمد خان مصباح الدین

 میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

 میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے

پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہیکہ اگر بندوق اور تلوار سپاہ سالاروں کا زور بازو ہے تو قلم ایک ادیب اور دانشوروں کا ہتھیار ہے ۔ دنیا میں جہاں بندوقوں اور تلواروں کی کوکھ سے نفرت دہشت اور بغاوت نے جنم لیاہے تو وہیں قلم نے امن وسلامتی کی فضاء ہموار کی ہے۔اسیطرح بندوق اور تلوار جسم پر وار کرکے انسانیت کا خاتمہ یا  اپاہج اور معزور بنا دیتے ہیں جبکہ قلم کی حکمرانی انسان کے دل سے شروع ہوکر اس کے شعوراور لاشعور، تخیل اور تخلیق جیسی صلاحیتوں پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔بندوقوں اور تلواروں سے بوئی گئی فصلوں سے کبھی پھول نہیں کھلے۔

آئیے میں آپکو لے چلتاہوں ادب کے ایوانوں میں اور دیکھتے ہیں اقبال جیسا قلم کا دھنی قلم کی عظمت اور تلوار کی زیرگی کو کس طرح بیان کرتاہے۔ اقبال کے نزدیک قلم جب لوح و قلم بن جاتاہے تو پھر تقدیر کے فیصلے اوپر نہیں نیچے ہوا کرتے ہیں اور تلوار کی نفی اقبال نے ان الفاظوں میں کی۔؂

  اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی 

     ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

اور ایک او ر موقع پر کچھ یوں کہا:؂ 

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتاہے بھروسہ

  مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتاہے سپاہی

تاریخ انسانیت پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں اہل علم اور اہل ادب لوگوں نے نسل انسانی کے دلوں پر راج کیا ہے۔ انہوں نے قلم کے ذریعے پوری دنیا میں امن و آشتی کا پیغام پھیلایا ہے اور وقت کے جابر اور سفاک حکمرانوں کے خلاف بازور قلم علم جہاد بلند کیا ہے۔

قارئین کرام!

جس طرح ایک شاعر قوم اور سماج کا آئینہ دار ہوتا ہے بالکل اسیطرح ایک قلمکار اور صحافی بھی قوم وملک اور سماج کا آئینہ ہوتا ہے اور اس کے سامنے وہی شخص بیٹھنے یا اپنی زبان کھولنے کی ہمت کر سکتا ہے جس کے دامن پے کوئی داغ نہ ہو, ملک کا کوئی عام انسان ہو یا سیاسی رہنما ہوں یا اسیطرح پولیس افسران ہوں یا سرکاری ملازمت کرنے والے افراد ہوں ہر شخص ایک صحافی اور قلمکار سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ انکے سوالات کا دائرہ اتنا وسیع ہوتا ہیکہ بڑے سے بڑا تعلیمی لیاقت والا انسان اور زبان کا دھنی انسان بھی انکے سامنے اپنے آپ کو مجبور اور بے بس پاتا ہے اور ہر اعتبار سے اپنے آپ کو محصور پاتا ہے,ایک سچا صحافی جب بھی اپنی قلم کو حرکت دیتا ہے یا اپنی زبان کھولتا ہے تو ہر وہ انسان جو سچائی کا کا پیروکار ہواسکے فکر و فن کی داد دیئے بنا نہیں رہ پاتا اور اسکی بات ہر انسان ماننے کو تیار ہو جاتا ہے کیونکہ انکے بولنے اور لکھنے کا انداز اتنا نرالہ اور خوبصورت ہوتا کہ لوگوں کو انکی باتیں تسلیم کرنی پڑتی ہے۔

قارئین کرام!

آج ہم بات کرینگے ایک سچے صحافی گوری لنکیش کی جس نے حق بیانی کی ظاقت سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا  مگر سچائی کی قیمت انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھو کر ادا کرنی پڑی.

گوری کی پیدائش2 جنوری 1962 کو کرناٹک کے ایک لنگایت خاندان میں ہوئی. ان کے والد پی_ لنکیش کننڑ کے مشہور مصنف، شاعر اور صحافی تھے اس کے ساتھ ساتھ، وہ ایوارڈ یافتہ فلم پروڈیوسر بھی تھے. سال 1980 میں ، انہوں نے لنکیش نامی ہفتہ واری رسالہ کننڑ زبان میں شروع کیا. ان سے تین اولاد تھے – گوری، کویتا اور اندرجیت, کویتا نے فلم کو ایک پیشہ کے طور پر اپنایا اور بہت سے اعزاز حاصل کیے. گوری نےصحافت کو ہی اپنا مقصداور پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا ,بطورصحاف انکی پیشہ ورانہ زندگی بنگلور میں ‘ٹائم آف انڈیا’ کے ساتھ شروع ہوئی. چیدانند راجگھٹ سے شادی کرنے کے بعد، وہ دہلی میں کچھ دنوں تک رہیں . اس کے بعد وہ بنگلور واپس لوٹ گئیں اور ‘سنڈے’ میگزین میں ایک صحافی کے طور پر 9 سال تک کام کیا. انھوں نے انگریزی اور کننڑ دونوں زبانوں پر مکمل عبور حاصل کیا تھا.

انہوں نے بنگلور میں رہ کر بنیادی طور پر کننڑ زبان میں صحافت کرنے کا فیصلہ کیا. سال 2000 میں انکے والد پی, لنکیش کا دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت ہوگئی, اس وقت گوری دہلی میں اناڈو کے تیلگو چینل میں کام کر رہی تھیں . اس وقت تک انہیں صحافت کے میدان میں 16 سال کا تجربہ ہو چکا تھا. والد کی موت کے بعد انہوں نےاپنے بھائی اندرجیت کے ساتھ  ‘لنکیش ہفتہ واری رسالہ’ کے پبلیشر(ناشر)  سے ملاقات کی اور رسالہ کو بند کرنے کو کہا. ناشر نے اس سے انکار کیا اور میگزین کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا. گوری نے ہفتہ وار لنکیش اخبار میں ترمیم کرنے کی ذمہ داری قبول کی اور اندرجیت نے کاروباری کی مسؤلیت سنبھالی. لیکن 2001 میں دونوں بھائی بہن کے درمیان میگزین کے نظریات پر اختلافات پیدا ہوا. 2005 میں یہ اختلاف کھل کر ہر کسی کے سامنے آگیا اور یہ اختلاف کافی آگے بڑھتا رہا پھر دونوں کے بیچ کافی نوک چھوک چلتی رہی آخر کارگوری لنکیش نے  اپنا کننڑ میگزین  15 روزہ ‘گوری لنکیش میگزین’ کے نام سے شائع کرنا شروع کردیا.

قارئین کرام!

اس ایمان فروشی کے دور میں غیرت مند اور اپنے ضمیر کی حفاظت کرنے والے لوگ انگلیوں پے گنے جا سکتے ہیں ,ایسے لوگ جو اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ادا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اس ریاکاری دور میں ملنا بہت ہی مشکل ہے آج جبکہ سارا میڈیا بکاو ہوچگا ہے دوسری اصطلاح میں گودی میڈیا ہو چکا ہے,سچاصحافی اور حق کی نمائندگی کرنے والے قلمکار بہت ہی کم ہیں ,ان گنے چنے لوگوں میں ایک نام بلا چوں چرا روش کمار کا لیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنی صحافت سے ہمیشہ حق کی نمائندگی کی ہے اور سچ کو ہمیشہ اجاگر کیا ہے اور آج بھی اپنا کام نہایت ایمانداری سے کرتے آ رہے ہیں ان کے اس جذبے کو سلام!

اسی سلسلے کی ایک کڑی گوری لنکیش بھی تھیں جنکو چند دنوں پہلے موت کی آغوش میں لٹا دیا گیا انکا جرم صرف یہی تھا کہ انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا نہ کرکے بلکہ حق اور انسانیت کا ساتھ دیا اور سچائی کو ہمیشہ عوام کے سامنے عبادت سمجھ کے پیش کیا مگر کچھ دہشت پسندوں نے 5 ستمبر، 2017 کو، جبکہ وہ اپنے گھرکی چوکھٹ راجیش وری نگر، بنگلور میں  پہونچ کر دروازہ کھول رہی تھیں کہ حملہ وروں نے بندوق کی گولیوں سے چھلنی کر ڈالا اسطرح سچ کی نمائندگی کرنے والی ایک خاتون کو شاید یہ سونچ کے مار ڈالا گیا کہ اب کوئی دوسرا اس جیسا حق کی صدا بلند والا یا سچائی کو قوم وملک اور عوام کے سامنے لانے والا نہیں اٹھے گا مگر انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ:

  رات جب کسی خُورشید کو شہید کرے

تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی

حملہ ور اپنا کام کرکے چلے گئے مگر دنیا کی پانچویں طاقت کہی جانے والی اس ملک کی پولیس اور انتظامیہ ابھی تک کسی بھی معاملے تک پہونچنے سے قاصر ہے,گوری کے قتل پر ہندوستانی صحافیوں اور دانشوروں نے وسیع پیمانے پر اسکی مذمت کی اور کئی جگہوں پر  صدائے احتجاج بھی بلندکیا گیا اور بہت سے مشہور صحافی دلی کی پریس کلب میں جمع ہوئے اور اس کی مذمت کی اور جنتر منتر پر مزاحمت کا انتظام بھی کیا. اور اسی طرح سوشل میڈیا جیسے فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر بھی اسکی مذمت جاری ہے ماحول اور حالات بتاتے ہیں کہ اگر مجرمین کو پکڑ کر انہیں سزا نہ دی گئی یا شدید ردعمل کا اظہا نہ کیا گیا تو حالات اچھے نہیں ہونگے.

قارئین کرام!

گوری کو ان کی انقلابی صحافت کی وجہ سے بہت سارے مصائب کا سامنا کرنا پڑا, 2005 میں پولیس نےانکانام نکسلی حملے سے متعلق ایک رپورٹ میں لیا. اس کے بعد انہیں لنکیش میگزین اور اپنے بھائی سے الگ ہونا پڑا, پھر بھی انہوں نے اپنی جدوجہد’گوری لنکیش پتریکے’ نامی پندرہ روزہ میگزین نکال کر جاری رکھا جسکی قیمت 15 روپیے ہے 13 ستمبر کا اداریہ انکا آخری اداریہ ثابت ہوا,انکے میگزین میں انکا ایک کالم ہوتا تھا جسکا عنوان ہوتا تھا گوری "کنڈا ہاگے”یعنی (جیسا میں دیکھا) اس بار انکا اداریہ جعلی نیوز کے تعلق سے تھا جسکا عنوان تھا "پھینک نیوز کے زمانے میں "

اس اداریہ میں کیا لکھا گیا تھا؟ اور انکی انقلابی تحریر کا طرز کیا ہوتا تھا؟ اور کس انداز میں انکی باتیں ہوا کرتی تھی؟ میں اسکا  ترجمہ اپنے لفظوں میں لکھنے کی کوشش کر رہا ہون:

"اس ہفتے کے تعلق سے، میرے دوست ڈاکٹر واسو نے گوئبلس کیطرح بھارت میں جعلی نیوز بنانے والوں کے بارے میں لکھا ہے اس طرح کی زیادہ تر فیکٹریاں مودی بھگت ہی چلاتے ہیں .  جھوٹ کی فیکٹریوں سے پیدا ہونے والے نقصان کو میں اپنے اس اداریے میں بتانے کی کوشش کرونگی . ابھی پرسوں گنیش چترتھی تھی اس دن سوشل میڈیا پر ایک جھوٹ پھیلایا گیا اور جھوٹ پھیلانے والے سنگھ لوگ تھے,وہ جھوٹ کیا ہے؟ وہ یہ ہیکہ کرناٹک سرکار جہاں طے کریگی وہیں گنیش کی مورتی رکھنی ہوگی اور 10 لاکھ بطور ڈیپوزٹ جمع بھی کرنا ہوگا,مورتی کی لمبائی کیا ہوگی اس کے لیے سرکار سے اجازت لینی ہوگی, اور جس راستے پر غیر مذاہب کے لوگ بستے ہیں اس راستے سے  گنپتی ویسرجن (منتقلی)کے لیے نہیں جا سکتے,پٹاخے وغیرہ نہیں جلا سکتے, اس جھوٹ کو سنگھ کے لوگوں نے خوب پھیلایااور یہ جھوٹ اتنی تیزی سے پھیلا کہ آخر میں میں کرناٹک پولیس کمشنر آر _کے _ دتا کو پریس بلانی پڑی اور صفائی دینی پڑی کہ حکومت نے ایسا کوئی قانوں نہیں بنایا ہے,یہ سب جھوٹ ہے.

اس جھوٹ کی بنیاد جب ہم نے پتہ کرنے کی کوشش کی تووہ جاکر پہونچا POSTCARD.NEWS نام کی ویب سائٹ پر یہ ویب سائٹ پکے ہندوتو وادیوں کی ہےجسکا کام ہی یہی ہے کہ ہر روز جعلی خبریں بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جائے,11 اگست کو POSTCARD.NEWS میں ایک ہیڈینگ لگائی گئی "کرناٹک میں طالیبان سرکار” اس ہیڈینگ سے پورے صوبے میں جھوٹ پھیلانے کی کوشش کی گئی, سنگھ کے لوگ اس میں کامیاب بھی ہوئے. جو لوگ کسی نا کسی وجہ سدھارمیا سرکار سے ناراض رہتے ہیں ان لوگوں نے اس جعلی نیوز کو اپنا ہتھیار بنا لیا,حیرت اور دکھ کی بات یہ ہیکہ لوگوں نے بنا سونچے سمجھے اسے سچ بھی مان لیا,اپنے کان,ناک,اور عقل کا استعمال ہی نہیں کیا.

پچھلے ہفتے جب رام رحیم نامی ایک ڈھونگی اور فریبی بابا کو عصمت دری کے الزام میں سزا سنائی گئی تو سوشل میڈیا پر کئی بی جے پی نیتاوں کی تصویریں وائرل ہونے لگی , اس فریبی بابا کیساتھ ہندوستان کے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ساتھ ہریانہ کے بی جے پی نیتا کی تصویریں اور ویڈیوز منطر عام پر آنے لگے, اس سے بی جے پی اور سنگھ کا گروہ پریشان ہو گیا,اس کے مقابلہ گرمیت بابا رام رحیم کے بازو میں کیرل کے سی پی ایم کے صوبائی وزیر پنرائی وجین کے بیٹھے ہونے کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی لیکن یہ تصویر فوٹوشاپ تھی,اصلی تصویر میں کانگریس نیتا اومن چانڈی بیٹھے ہیں لیکن انکے جسم پر وجین کا سر لگا دیا گیا اور سنگھ کے لوگوں نے اسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا شکر ہے سنگھ کا طریقہ کامیاب نہیں ہوا کیونکہ کچھ لوگ فورا اسکا اصلی فوٹو نکال لائے اور سوشل میڈیا پر سچائی سامنے لے آئے دراصل، گزشتہ سال تک راشٹریہ سنگھ سیوک کے جعلی نیوز پروپیگنڈہ کو روکنے یا اس کو بے نقاب کرنے کے لئے کوئی بھی نہیں تھا لیکن اب بہت سے لوگ اس کام میں جمع ہو گئے ہیں ، جو کہ اچھی بات ہے کیونکہ اس طرح سے جعلی خبروں کا سلسلہ جاری تھا لیکن اب جعلی خبروں کے ساتھ، حقیقی خبر بھی شائع ہونا شروع ہو گئی ہے اور لوگ بھی پڑھ رہے ہیں ,مثال کے طور پر، 15 اگست کو وزیر اعظم مودی نے جب لال قلعہ سے خطاب کیا،تو اس کا تجزیہ 17 اگست کو خوب وائرل ہوا تھا. دھروراٹھی نے اسکا تجزیہ کیا. دھرو راٹھی دیکھنے میں کالج کے بچے جیسا ہے لیکن پچھلے کئی سالوں سے وہ سوشل میڈیا پر مودی کے جھوٹ کی پول کھول دیتا ہے,پہلے یہ ویڈیوز ہم جیسے لوگوں کو ہی دکھ رہا تھا عام آدمی تک نہیں پہونچ رہا تھا مگر 17 اگست کا ویڈیو ایک دن میں ایک لاکھ لوگوں تک پہونچ گیا(گوری لنکیش مودی کو اکثر بوسی بسیا لکھا کرتی تھیں جسکا مطلب ہوتا ہے کہ جب بھی منہ کھولینگے جھوٹ ہی بولینگے)دھرو راٹھی نے بتایا کہ ریاستی بیٹھک میں ، ‘بوسی بسیا’ کی سرکارنے  ایک مہینے پہلے کہا کہ 33 لاکھ نئے ٹیکس ادائیگان آئے ہیں .

یہاں تک کہ اس سے پہلے،  وزیر مالیات جیٹلی نے 91 لاکھ نئے ٹیکس ادائیگان کو منسلک ہونے کی بات  کہی تھی,آخر میں ، اقتصادی سروے میں کہا کہ صرف 5 لاکھ 40 ہزار نئے ٹیکس ادائیگان شامل ہوئے ہیں ,تو اس میں کونسا سچ ہے، دھرو راٹھی نے اس سوال کو اپنے ویڈیو میں اٹھایا ہے,آج کا مین سٹریم میڈیا مرکزی حکومت اور بی جے پی کے دیئے گئے لفظ اور اعداد و شمار کو ہوبہو پھیلاتا رہتا ہے مین سٹریم میڈیا کے لئے لفظ حکومت کی بات چیت کا لفظ بن گیا ہے. اس میں بھی جو ٹی وی نیوز چینلز موجود ہیں ، وہ اس کام میں دس قدم آگے ہیں .مثال کے طور پر، جب رامناتھ کووند نے صدر جمہوریہ کا حلف لیا، تو بہت سے انگریزی ٹی وی چینلوں نے خبر شائع کیا کہ کووند کے صدر بنتے ہی ایک گھنٹے میں ٹویٹر پر انکے فالوورس کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے.اور وہ چلاتے رہے کہ 30 لاکھ اضافہ ہوا، 30 لاکھ اضافہ ہوا.

ان کا مقصد یہی بتانا تھا کہ کتنے لوگ کووند کی حمایت کر رہےہیں . بہت سارے ٹی وی چینل آج راشٹریہ سنگھ سیوک کی ٹیم کی طرح ہو گئے ہیں .جو صرف سنگھ کا ہی کام کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہیکہ اس دن سابق صدر پرنب مکھرجی کا سرکاری اکاونٹ نئے صدر کے نام ہو گیا۔ جب یہ تبدیلیاں ہوئی تو، راشٹر پتی بھون کے فالوورس اب کووند کے فالوورس بن گئے ہیں . اس بارے میں ایک اور بات قابل غور ہے کہ30 لاکھ سے زائد افراد پرنب مکھرجی کو بھی ٹویٹر پر فالو کرتے تھے.

آج راشٹریہ سنگھ سیوک کے پھیلائے ہوئے جعلی خبرون کی سچائی کو سامنے لانے کیلیےبہت سے لوگ سامنے آچکے ہیں ,دھرو راٹھی ویڈیو کے ذریعہ یہ کام کر رہے ہیں ,پرتیک سنہا altnews.in کی ویب سائٹ سے یہ کام کر رہے ہیں , ہوکس سلییر,بوم اورفیکٹ چیک نام کی ویب سائٹ بھی یہی کام کر رہی ہے ساتھ ہی ساتھ  THEWIERE.IN, SCROLL.IN, NEWSLAUNDRY.COM, THEQUINT.COM جیسی ویب سائٹ بھی مستعد ہیں ,میں نے جن لوگوں کا نام ذکر کیا ہے ان لوگوں نے حال ہی میں کئی جالی خبروں کا پردہ فاش کرکے سچائی کو اجاگر کیا ہے, انکے کام سے سنگھ کے لوگ کافی پریشان ہو گئے ہیں ,ان لوگوں میں کئی باتیں اہمیت کی حامل ہیں کہ یہ لوگ روپیئے پیسے کیلیے یہ کام نہیں کرتے بلکہ انکا ایک ہی مقصد ہیکہ فاسسٹ لوگوں کی جھوٹ کی فیکٹری کو عوام کے سامنےلایا جائے.

کچھ ہفتے پہلے بنگلور میں زوردار بارش ہوئی اس وقت سنگھ کے لوگوں نے ایک فوٹو شائع کرایا اور ہیڈینگ میں لکھا تھا کہ ناسا نے مریخ پر لوگوں کے چلنے کی فوٹو جاری کی.اس فوٹو کو مریخ کا بتا کر سنگھ کا مقصد بنگلور کا مزاق اڑانا تھا تاکہ لوگ یہی سمجھیں کہ بنگلور میں سیدھا رمیا کی سرکار نے کوئی کام نہیں کیا ہے,یہاں کے راستے تک خراب ہیں اسطرح کا پروپیگنڈہ کر کے جھوٹی خبریں پھیلانا سنگھ کا مقصد تھا لیکن یہ خبر خود انکے لیے برا ثابت ہوئی کیوں کہ یہ فوٹو مہاراشٹر کا تھا جہاں خود بی جے پی کی سرکار ہے.

حال ہی میں پچھم بنگال میں جب دنگے ہوئے تو آر ایس ایس کے لوگوں نے دو پوسٹ جاری کئے ایک پوسٹ کی ہیڈینگ تھی”بنگال جل رہا ہے”, اسمیں پروپرٹی جلنے کی تصویر تھی,دوسری تصویر میں ایک عورت کی ساڑی کھینچی جا رہی ہے اور ہیڈینگ ہے کہ "ہندو عورت کیساتھ ظلم و زیادتی”۔ بہت جلد اس تصویر کی حقیقت سامنے آگئی پہلی تصویر 2002 کے گجرات دنگوں کی تھی جب مودی جی وہاں کے وزیر اعلی تھے,دوسری تصویر بھوجپوری فلم سنیما کی تھی. صرف آر ایس ایس ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے مرکزی وزیر بھی جعلی خبروں کو پھیلانے میں ماہر ہیں .

مثال کے طور پر مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے ایک فوٹو شیئر کیا جس میں کچھ لوگ ترنگے میں آگ لگا کر اسکو جلا رہے تھے جسکی ہیڈینگ میں لکھا گیا یوم جمہوریہ کے موقعے پر حیدرآباد میں ترنگے کو آگ لگایا جا رہا ہے,ابھی گوگل امیج سرچ ایک اپلیکیشن آیا ہےجس میں آپ کوئی بھی امیج سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کب کی اور کہاں کی ہے,پرتیک سنہا نے یہ کام کیا کہ اس اپلیکیشن کے ذریعہ گڈکری کے شیئر کئے گئے اس فوٹو کی سچائی کو اجاگر کر دیا پتہ چلا کہ یہ فوٹو حیدرآباد کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے جہاں ایک بنیاد پرست تنظیم بھارت کےخلاف ترنگاجلا رہی ہے.

اسی طرح، ایک ٹی وی پینل کے بحث میں ، بی جے پی کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ سرحد کےمضافات میں فوجیوں کو ترنگا لہرانے میں کتنی مشکلیں پیش آتی ہیں تو پھر جے این یو جیسی عالمی یونیورسٹی میں ترنگا لہرانے میں کیا دقت ہے؟ یہ سوال پوچھ کر سنبت پاترا نے ایک تصویر دکھائی بعد میں پتہ چلا کہ یہ ایک مشہور تصویر ہے مگر اس میں موجود لوگ ہندوستان کے نہیں بلکہ امریکی سپاہی ہیں دوسری جنگ عظیم کے دوران جب امریکی سپاہیوں نے جاپان کے ایک جزیرے پر قبضہ کیا تب انہوں نے اپنا چنڈا لہرایا تھا مگر بذریعہ فوٹوشاپ سنبت پاترا لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے لیکن یہ بات انہیں کافی بھاری پڑی سوشل میڈیا پر لوگوں نے انکا کافی مزاق اڑایا.

مرکزی وزیر پیوس گوئل نے حال ہی میں ایک تصوریر اشتراک کی اور اسپر لکھا کہ ہندوستان حکومت نے000’50 کلومیٹر راستوں پر 30 لاکھ ایل ئی ڈی بلب لگا دیئے ہیں مگرجو تصویر انہوں نے لگائی وہ پھینک نکلی,جو دراصل ہندوستان کی نہیں بلکہ جاپان کی 2009 کی تصویر تھی اسی گوئل نے پہلے بھی ایک خبر ٹویٹ کی تھی کہ کوئلے کی فراہمی میں حکومت نے 25,900 کروڑ کی بچت کی ہے,اس ٹویٹ کی تصویر بھی جھوٹ نکلی.

 چھتیس گڑھ کے پی ڈبلیو ڈی وزیر راجیش موڈت نے ایک برج کا فوٹو شیئر کیا اور اپنی سرکار کی کامیابی بتائی اس ٹویٹ کو دو ہزار لوگوں نے لائک کیا بعد میں پتہ چلا کہ یہ تصویر ہندوستان کی نہیں بلکہ ویتنام کی ہے. ایسے جعلی نیوز پھیلانے میں ہمارے کرناٹک کے آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈر بھی کم نہیں ہیں , کرناٹک کے ایم پی پرتاب سمہا نے ایک رپورٹ شیئر کیا اور کہا کہ یہ TIMES OF INDIA میں آیا ہے اسکی ہیڈلائن یہ تھی کہ ہندو لڑکی کو مسلمان نے چاقو مار کر ہتھیا کردی,دنیا بھر کو اخلاقیات کا درس دینے والے پرتاب سمہا نے سچائی جاننے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی.کسی بھی اخبار نے اس خبر کو شائع نہیں کیا تھا بلکہ فوٹوشاپ کے ذریعہ کسی دوسری خبر میں ہیڈ لائن لگا دیا گیا تھا اور ہندو مسلم رنگ دے دیا گیا تھا اور اسکے لیے ٹائمس آف انڈیا کا نام استعمال کیا گیا,جب ہنگامہ ہوا کہ یہ جعلی خبر ہے تو ایم پی نے اسے حذف کر دیا لیکن معافی نہیں مانگی فرقہ وارانہ فساد اور جھوٹ پھیلانے پر بھی کسی طرح کے افسوس کا اظہار نہیں کیا,جیسا کہ میرے دوست واسو نے اس بارکےکالم میں لکھا ہے,اس بار میں نے بھی ایک جعلی خبر شائع کر دیا, پچھلے اتوار پٹنہ کی ایک اپنی ریلی کی تصویر لالو یادو نے فوٹوساپ کر کے پھیلا دی تھوڑی دیر میں دوست ششی دھر نے بتایا کہ یہ فوٹو جعلی ہے,نقلی ہے میں نے فورا ہٹایا اور غلطی بھی مانی یہی نہیں بلکہ اصلی اور جعلی دونوں تصویروں کو ٹویٹ بھی کیا اس غلطی کے پیچھے فرقہ وارانہ طور پر بھڑکانے یا پروپیگنڈہ کرنے کی منشا نہیں تھی,فاسسٹوں کے خلاف لوگ جمع ہو رہے تھے اسکا پیغام دینا میرا مقصد تھا.

مکمل طور پر جو لوگ جعلی خبروں کو بے نقاب کررے ہیں انکو میرا سلام!

میری خواہس ہے کہ انکی تعداد اور زیادہ بڑھے_

قارئین کرام!

یہ تھا گوری لنکیش کا آخری مگر سچائی سے لبریز اداریہ جسے پڑھنے کے بعد سچ کی تائید کرنے والا انسان یہ کہے بنا نہیں رہ سکتا کہ گوری لنکیش واقعی حقیقت اور سچائی کی مکمل تصویر تھیں انکے اس جزبے کو ہمارا سلام.

انکی موت پر بہت سے صحافیوں اور قلمکاروں نے دکھ کا اظہار کیا مگر روش کمار پر اسکا بہت ہی زیادہ اثر پڑا انہوں نے اپنے دکھ کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ!کل سے زندہ لاش کیطرح گھوم رہا ہوں ایسا لگتا ہے مجھے بھی مار دیا گیا ہے,دوست اور چاہنے والوں کے برابر فون آ رہے ہیں سب یہی کہہ رہے ہیں سچ بولنا چھوڑ دو ورنہ تم بھی ایک دن خاموش کر دیئے جاو گے.

اسیطرح ابھیسار شرما نے نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ گھر والے کہہ رہے ہیں سوال کرنا بند کر دو اور اپنی اور اپنے بچوں کے بارے میں سونچو.

جہاں انکی موت سے دیش کے بہت سے لوگ دکھی اور سوگ کی حالت میں ہیں وہیں کچھ لوگ انسانیت سے پرے ہٹ کر گوری لنکیش کے دامن پے گالیوں اور بھدی باتوں کی بوچھار بھی کر رہے ہیں ,بی جے پی حکمراں یہاں تک کہہ رہے ہیں اگر آر ایس ایس کے خلاف نا لکھتی تو آج زندہ ہوتی وہیں کچھ غنڈے کہتے ہیں کہ ایک کتیا کتے کی موت مر گئی شاید ان کے ماں باپ نے انہیں سکھایا ہیی نہیں کہ بڑے اور چھوٹوں سے کس طرح بات کی جاتی ہے اور زندہ اور مردہ دونوں کے نام کس ڈھنگ سے لیئے جاتے ہیں مگر کیا کریں جنکا خون ہی خالص نہ ہو ان سے ادب و احترام یا انسانیت کی امید نہیں کی جا سکتی ، افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے ملک کے وزیر اعظم ایسے غنڈوں کو ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں گویا وہ ہندوستان کے لیے کوہینور ہیرا لے آیا ہو یا اس نے کوئی میدان سر کر لیا ہو.

 یہ ملک کہاں جا رہا ہے اور اسکا انجام کیا ہوگا اللہ بہتر جانتا ہے_

اس حقیقت سے پوری کائنات واقف ہیکہ سچ کڑوا ہوتا ہے مگر اسکی تاثیر میٹھی ہوتی ہے گوری لنکیش کی موت سے ظاہر ہے فائدہ انہیں کو ہو سکتا ہےجس کو انکے قلم کی طاقت سے خوف تھا یا وہ لوگ جو اپنے چہرے پے دوہرا نقاب رکھ کر انسانیت اور مذہب کا بیوپار کرتے ہیں اور سیاست کی فضا کو زہر آلود کر رہے ہیں . بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ انکی موت کے پیچھے سنگھ کا ہاتھ ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ ان کے خلاف لکھتی تھیں یہان تک کہ امیت شاہ جیسے بی جے پی کے بڑے عہدے پے فائز شخص کو گوری کی صحافت کیوجہ سے جیل کی ہوا  کھانی پڑی . گوری کی موت سے سچ کی نمائندگی کرنے والے ڈرے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ سب کو ڈرا دو اور جو نہ ڈرے اسے قتل کر دو تاکہ کوئی سوال نہ کرے. جب معاملات نا اہلوں کے سپرد ہو جائیں تو انصاف,انسانیت, حق,  سچائی, طرقی,محبت,امن,سکون,بھائی چارہ,صلح,کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جا سکتی_

عوام بیدار ہوجائے تو سب کچھ ہو سکتاہے ورنہ آج وہ ,کل میں ,پرسوں آپ_

تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو

تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو

وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا

بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close