نقطہ نظر

اختلافی مسائل میں ندوۃ العلماء کا مسلک اور مولانا سلمان حسینی ندوی کا رویہ

محمد شاہد خان ندوی

ندوۃ العلماء اپنی وسعتِ نظری، اعتدال پسندی، زبانِ ہوشمندی، بالغ نظری اور فکری بالیدگی  کیلئے سارے عالم میں مشہور ہے۔ ندوہ نے کبھی تفریق باہم کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی دلوں کو توڑنے اور سماجی انتشار کا ذریعہ بننے والے نظریات کو عام طرز استدلال میں جگہ دیا۔ مولانا علی میاں رحمتہ اللہ علیہ طلبہ کے سامنے کی گئی اپنی تقریروں میں دلوں کو جوڑنے پر اتنا زور دیتے تھے کہ ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ شاید اس سے زیادہ بڑا مسئلہ امت کے سامنے کوئی اور نہیں ہے۔ علامہ اقبال کے تمام اشعار کے نہ صرف وہ شیدائی تھے بلکہ اقبال کا مرد کامل بنانے کی دھن ان پر سوار تھی، اقبال کے اس شعر کو اکثر پڑھتے تھے کہ:

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیر تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں

ان کی اقبال فہمی پر بھلا کس کو کلام ہو سکتا ہے۔ روائع اقبال اور نقوش اقبال ان کی ایسی کتابیں ہیں جس کو قارئین محبوب کے خطوط کی مانند تکیہ کے نیچے رکھتے ہیں کہ جب طبیعت بوجھل ہوئی تازگی طبع کے لئے پڑھ لیا۔ مولانا رحمتہ اللہ علیہ مذکورہ شعر کی تشریح بہت دلچسپ انداز میں کرتے تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ دل شکستہ ہو کر روئے تو صرف اللہ کی یاد میں روئے تاکہ وہ نرم ہو اور خدا کی قربت حاصل کرے، لیکن کسی انسان کا دل کوئی دوسرا انسان  توڑ دے اور دلوں میں دوریاں پیدا کر دے تو وہ تڑپ اٹھتے تھے،ان کی تحریک پیام انسانیت اسی تڑپ کی پیداوار ہے۔

1992 کی بات ہے جب ہندستان کی تاریخ میں ایک بہت ہی نازک موڑ آیا، لال کرشن اڈوانی کی رام مندر تحریک نے پورے ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا تھا، ہر طرف فرقہ وارانہ نفرت کا ماحول گرم ہوگیا۔ ہندو احیائیت کا بھوت اتنا بے لگام ہوگیا کہ جمہوری قدریں بھی طویل انسانیت پسند ہندوستانی تہذیب کے اثاثہ کو بچا نہیں سکی اور آخر کار 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت نے ہر حساس دل کو بے چین کر دیا۔اسوقت پورا ہندستان سلگ رہا تھا، کم عمری کے باوجود میں محسوس کر پا رہا تھا کہ فرقہ واریت کی بدبو سے میرا دم گھٹ رہا ہے۔ یوپی کا ہونے کی وجہ سے اس واقعہ کا اثر مجھ پر قدرے زیادہ ہی تھا۔ ایسے ماحول کے پس منظر میں 1993 میں میرا داخلہ ندوۃ العلماء کے عربی کے اونچے درجات میں ہوا، جب میں ندوہ العلماء لکھنؤ پہونچا تو اسے اپنے تصور سے بڑھکر پایا، بھلا ہو بھی کیوں نہیں ، آخر وہ حضرت مولانا علی میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کاعہد زریں  تھا ندوہ جانے سے قبل میں ان کی کتاب قصص النبیین پڑھ چکا تھا، اور اہل علم کے درمیان ان کے نام کا چرچا اس عظمت اور احترام سے ہوا کرتا تھا کہ میرا یہ تصور قائم ہو گیا کہ شاید یہ پہلے زمانہ کے کوئی عالم دین رہے ہوں گے، پہلی بار جب میں اپنے داخلہ کے سلسلے میں ندوہ کے مہمان خانہ میں وارد ہوا اسوقت میری عمر سترہ سال کے آس پاس رہی ہوگی، صبح سویرے کا وقت تھا ندوہ کے بڑے بڑے اساتذہ ایک بزرگ کے سامنے بڑے ادب سے دو زانو بیٹھے ہوئے تھےاور کسی موضوع پر گفتگو چل رہی تھی، میں نووارد تھا بڑوں سے ملاقات کے آداب سے بھی ناواقف تھا اسلئے سیدھا ان بزرگ سے مصافحہ کرنے چلا گیا، بزرگ نے مصافحہ کیا سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اگر آپ کوکوئی ضرورت ہو تو تھوڑی دیر کے بعد ملئے، مجھ جیسے نووارد دھقانی طالبعلم پر اس بزرگ  کے حسن اخلاق کا یہ پہلا اثر تھا، جب میں نے سنا کہ یہی بزرگ ‘علی میاں ندوی ‘ہیں تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، اسکے بعد میرا ندوہ میں داخلہ ہوگیا، میرے لئے ندوہ کا ماحول سابقہ دوسرے مدارس کے ماحول سےیکسر جداگانہ تھا۔

ندوہ اپنے ساتھ ماضی کی ایک شاندار تاریخ لئے ہوئے تھا وہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کے خوابوں کا دبستان تھا وہ مولانا آزاد، مولانا عبدالسلام ندوی، مولانا عبدالباری ندوی مولانا ریاست علی ندوی اور مولانا شاہ معین الدین ندوی کے خوابوں کا گہوارہ تھا ان کے علم کی شعائیں ندوہ کے دروبام سے سورج کی اجلی کرن کی طرح پھوٹ رہی تھیں ، ان کے تہذیبی ورثہ سے ندوہ کی فضا مشکبار تھی ماضی کے اس میراث کو اٹھائے ندوہ کا قافلہ مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں رواں دواں تھا یہاں اچھے اور قابل اساتذہ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس کہکشاں کو مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی محنت سے اکٹھا کیا تھا، ندوہ کا پہلا مقصدِ قیام ‘ وسیع المشربی ‘ تھا اور ندوہ اسکی منھ بولتی تصویر تھا، اہلحدیث علماء میں یہاں مولانا عبدالنورصاحب  اور مولانا یعقوب صاحب جیسے انتہائی قابل اساتذہ تھے جن کی علمی لیاقت اور بلند اخلاقی کا سکہ چلتا تھا، اساتذہ سے لے کر طلبہ تک سبھی اس کا اعتراف کرتے تھے اورمولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ مولانا نورعظیم مرحوم کی دل سے بڑی قدراور ان کی علمی صلاحیتوں پر بڑا بھروسہ کیا کرتے تھے، یہاں دارالعلوم دیوبند کے فضلاء میں مولانا برہان الدین سنبھلی قاسمی صاحب، مولانا زکریاسنبھلی قاسمی صاحب اور مولانا عتیق الرحمن بستوی قاسمی صاحب جیسے جید اساتذۂ کرام موجود تھے جو بلاشبہہ ہندستان کے صف اول کے فقہاء میں جگہ پاتے ہیں ، اسی طرح جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے انتہائی قابل و مشفق استاذ مولانا شہباز احمد اصلاحی صاحب بھی یہاں فریضہ تدریس انجام دیتے تھے جن کو مولانا علی میاں چلتی پھرتی لائبریری کہا کرتے، اسکے علاوہ مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور کے فرزند ارجمند مولانا مظہر کریمی صاحب بھی ندوہ میں بحیثیت استاد موجود تھے۔

ان کے علاوہ فرزندانِ ندوہ کی ایک جماعت تھی جو آسمان علم وادب کے چاند ستارے بن کر علم کی روشنی ہر طرف بکھیر رہے تھے ان میں سرفہرست مولانا عبداللہ عباس ندوی رحمہ اللہ، مولانا محب اللہ لاری ندوی، مولانا رابع حسنی ندوی مولانا واضح رشید ندوی مولانا سعید الاعظمی ندوی مولانا ناصر علی ندوی رحمہ اللہ مولانا برجیس احمد ندوی رحمہ اللہ، مولانا بشیر احمد ندوی  اور مولانا عارف سنبھلی ندوی رحمہما اللہ جیسے لائق وفائق اساتذہ موجود تھے، یہ رنگ برنگا گلدستہ مولانا علی میاں رحمہ نے بڑےاخلاص اور محنت سے سجایا تھا ان میں سے ہرشخص ایک انجمن تھا اتنے قابل اساتذہ کی موجودگی میں ندوہ اپنے اسلاف کی روش پر گامزن تھا،ندوہ کا فقہی مسلک، مسلک حنفی رہا ہے لیکن تشدد سے کوسوں دور، کلاس روم میں جب مولانا زکریا صاحب حدیث پڑھاتے اورکھینچ تان کر بھی مسلک حنفی کی افضلیت ثابت نہ کرپاتے تو کہتے کہ میاں دیکھو یہاں اس حدیث کی تحنیف کرنی پڑے گی اسی طرح سے مولانا نیاز صاحب بھی جب کئی مسئلوں میں لاکھ کوششوں  کے باوجود مسلک حنفی کی افضلیت  ثابت کرنے میں ناکام ہوجاتے تو کہتے کہ دیکھو میاں یہاں امام صاحب کا ساتھ چھوڑنا پڑے گا،مولانا ناصر علی صاحب مرحوم بخاری کا درس دیتے تو مسلک حنفی کو عقل ونقل کی بنیاد پر افضل ثابت کرنے کی کوشش کرتے لیکن دوسرے مسلک کو نہ ولن بنا کر پیش کرتے اور نہ ہی برا بھلا کہتے، مولانا برہان صاحب تحفۃ الاحوذی کے بارے میں کہتے کہ اگر تھوڑاسا مسلکی تشدد نکال دیا جائے تو اس سے اچھی ترمذی کی کوئی شرح ہو ہی نہیں سکتی، اہلحدیث اور شافعی طلبہ اساتذہ سے کھل کر اپنے مسلک کی وکالت کرتے ان سے جرح کرتے اور اساتذہ ان کے اشکالات کا کبھی برا نہیں مانتے،غرضیکہ کہ ندوہ کا ماحول تنگ نظری اور تعصب سے بالکل پاک تھا اور ایک ایسا ماحول تھا کہ جیسے کسی گلشن میں رنگ برنگے پھول ہوں اور ان پھولوں سے بھینی بھینی خوشبو آرہی ہو، بعینہ یہی حال ندوہ کا تھا جس کی گواہی ہر ندوی فرزند آج بھی دے سکتا۔

ندوہ کے اسٹیج پر ہم نے کبھی بھی کسی استاذ یا طالبعلم کو نہ کسی مسلک کو نشانہ بناتے ہوئے سنا اور نہ ہی کسی مکتب فکر کو لعن طعن کرتے دیکھا، اسلئے پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ندوہ کی عمومی فضا اس طرح کے تعفن سے ہمیشہ پاک رہی۔

ندوہ العلماء عربی زبان وادب کےلئے سارے ہندستان میں ہی نہیں بلکہ عالم عربی میں بھی مشہور ہے، عربی زبان کی ترویج واشاعت میں ندوہ کا مقام بہت اہم ہے یہاں تفسیرپڑھانے کا انداز بھی بہت نرالا ہے، یہاں کا نصاب تفسیر کوکسی خاص نقطہ نظر کے مطابق تیار نہیں کیا گیا ہے اسی لئے ایک آدھ عربی تفسیر کی کتابوں کو چھوڑ کر کوئی خاص تفسیر داخل نصاب نہیں ہے بلکہ طلباء اور اساتذہ اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف تفسیروں کا مطالعہ کرکے آتےہیں اور اساتذہ براہ راست قرآن کی سورتوں کی تفسیر کرتے ہیں اور طلباء بھی امتحان میں اپنے ذوق کے مطابق مختلف تفسیروں کامطالعہ کرکے امتحان کا پرچہ حل کیا کرتے ہیں یہ خصوصیات ندوہ کو دوسرے ہندستانی مدارس سے ممتاز کرتی ہیں

ندوہ کی مجموعی فضا پہلے بھی وسیع المشربی کا عملی نمونہ پیش کرتی تھی اور آج بھی اسی روش پر قائم ہے۔ ندوہ کے لئے ایسا کرنا بالکل فطری بات ہے کیونکہ یہ ادارہ بلکہ پوری تحریک ہی “خذ ما صفا ودع ما کدر” کے شاندار رہنما اصول پر مبنی ہے، وہاں کی فضا میں کسی بھی مسلک کے طالبعلم کو کبھی کوئی گھٹن محسوس نہیں ہوتی تھی اور مجھے بھروسہ کہ آج بھی نہیں ہوتی ہوگی۔ میانہ روی، اعتدال پسندی، علمی وفکری آزادی اسکا تہذیبی و ثقافتی ورثہ ہےاور یہی ندویت کا طرۂ امتیاز ہے، شدت پسندی، انتہا پسندی، تکفیر وتنکیر اس کے مزاج سے ہرگز میل نہیں کھاتا۔

ہمارے زمانہ میں اکثر طلباء یہ بات کہا کرتے تھے کہ اسّی کی دہائی میں ندوہ نے دو ممتاز فرزند پیدا کئے ایک مولانا سجاد نعمانی ندوی صاحب اور دوسرے مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب، ایک تفسیر اور فکر ولی اللہی کے ماہر تو دوسرے حدیث کے نکتہ شناس، مولانا سجاد صاحب ہمارے زمانہ میں ندوہ چھوڑ کر جا چکے تھے اسلئے ان سے استفادہ کا موقع نصیب نہیں ہوا لیکن مولانا سلمان صاحب کو قریب سے دیکھنے سمجھنے اور ان سے حدیث پڑھنے کا موقع ملا۔

مولانا سلمان صاحب اپنی جوش خطابت کیلئے شروع سے مشہورتھے لیکن اسی کے ساتھ وہ ایک بہترین استاذ بھی تھے، طلباء کے دلوں میں ان کیلئے بڑی عزت تھی، اکثر طلباء انھیں اپنا آئیڈیل مانتے تھے،مولانا جب حدیث پڑھاتے توحدیث کا ذائقہ محسوس ہوجاتا جب تفسیر پڑھاتے تو آیتوں کو دل میں اتار دیتے، عربی میں تقریر کرتے تو آبشار کی طرح رواں ہوجاتےاردو میں خطاب فرماتے توبجلی کی طرح کوندتے، ہم لوگ نوجوان تھےاور جوش و جنوں سے لبریز بھی۔ مولانا کا خطاب سن کر ہمیں بہت مزا آتا ایسا لگتا کہ جیسے ہندستان بہت جلد دارالاسلام میں تبدیل ہوجائے گا اور ہر جگہ اسلام کا بول بالا ہوگا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بابری مسجدکی شہادت کے بعد جب ماحول بہت خراب تھا اور غالبا 1993 میں لکھنؤ کی بارہ دری میں تحریک پیام انسانیت کا ایک پروگرام ہوا تھا جس کے روح رواں حضرت مولانا علی میاں صاحب تھے، مولانا علی میاں رحمہ اللہ کے ساتھ رام ولاس پاسوان اسٹیج شئر کررہے تھے اتفاق سے اس پروگرام کی نظامت مولانا سلمان صاحب کے ہاتھ میں تھی مولانا نے جوش خطابت میں یہ کہ دیا کہ ہم نے رام ولاس پاسوان صاحب جیسے لوگوں کو یہاں اسلئے بلایا ہے کہ وہ غریبوں اور مظلوموں کیلئے آواز اٹھاتے ہیں ورنہ ان کے جیسے ہزاروں رام ولاس پاسوان ہمارے پاؤں کی ٹھوکروں میں ہیں ، مولانا نے جوش میں بہت بڑی بات کہدی تھی جسے یقینا میڈیا لے اڑتا اور بات کا بتنگڑ بناتا، ہال میں کچھ دوسرے قسم کے عناصر بھی گھس آئے تھے مولانا علی میاں کی بے چینی کو فورا استاذ محترم مولانا سلمان صاحب نے بھانپ لیا۔ انھیں احساس ہوگیا کہ جوش خطابت میں وہ کچھ زیادہ بول گئے ہیں چنانچہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئےانھوں نے فوراموضوع کو سنبھال لیا.

اسی طرح غالبا 1995 یا 96 کا زمانہ تھا جب ندوہ میں قادیانیت کے خلاف کانفرنس ہورہی تھی اور مسجد اقصی کے امام ‘شیخ صیام ‘کا عربی زبان میں بڑا زوردار خطاب ہوا۔ اسکی ترجمانی کی ذمہ داری مولانا سلمان صاحب کے حصہ میں آئی، مولانا نےبڑی زوردار ترجمانی کی اور ساتھ ہی اپنے پر جوش طبیعت کا عنصر بھی شامل کر دیا جسکی وجہ سے  پورا مجمع نعرہ تکبیر کی صداؤں سے گونج اٹھا؛ ایسا لگتا تھا کہ جیسے بھیڑ بے قابو ہوجائے گی، وہ عالمی سطح کا پروگرام تھا حکومت کے نمائندہ چپہ چپہ میں ہر چیز کی رپورٹنگ پر معمور تھے میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا علی میاں صاحب مولانا سلمان صاحب کو اشارہ کررہے ہیں کہ ذرا وہ اپنے جوش کو خرد کا لگام دیں ، آخر مولانا موصوف نے خود کو روکا، یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت مولانا علی میاں صاحب بقید حیات تھے اور کہیں نہ کہیں وہ مولانا سلمان صاحب کو قابو میں کرلیا کرتے تھے۔

ندوہ پہونچنے کے بعد میں نے استاذ محترم کے تعلق سے اسی طرح کے ایک اور جذباتی خطاب کا چرچا سنا تھا غالبا نوے کی دہائی میں دلی کے اندر ایس آئی ایم کی ایک بڑی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں شیعہ طبقہ کے دانشوران کی نمائندگی بھی شامل تھی، ندوہ سے حضرت مولانا علی میاں صاحب کی نمائندگی کیلئے مولانا سلمان صاحب کو بھیجا گیاتھا  مولانا نے وہاں اسٹیج پر امام خمینی کے شیعہ اسلامی انقلاب پرسخت اور نامناسب تنقید کر دی۔ اس طرح کی کوئی بات دراصل کانفرنس کی اس روح کے خلاف تھی جس کے لئے اس کا انعقاد عمل میں آیا تھا۔ پھر کیا تھا اسٹیج پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ مولانا کو کسی طرح بچ بچا کر اسٹیج سےباہر لے جایا گیا۔

اللہ نے استاذ محترم کو بڑی علمی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ مولاناموصوف اگر صرف تصنیف وتالیف اور علمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھتے تو ایک وقیع لٹریچر امت اسلامیہ کو دے سکتے تھے، مولانا کی ابتدائی ایام  کی چند تصانیف ہی قابل ذکر ہیں ، شاہ صاحب کی الفوز الکبیر کا مولانا نے عربی میں ترجمہ کیا جوکہ آج بھی داخل نصاب ہے اسی طرح اصول حدیث میں بھی طلباء کیلئے ایک ہلکی پھلکی کتاب مرتب کی تھی وہ بھی داخل نصاب ہوا کرتی تھی، تاریخ دعوت وعزیمت کی ایک جلد کا عربی میں آپ نے ترجمہ کیا ہے۔ مولانا علی میاں رحمہ اللہ علیہ کی سوانح حیات’ پرانے چراغ ‘ کی دوجلدوں کو عربی میں منتقل کیا ہے۔ اسکے علاوہ عربی زبان میں

الأمانة في ضوء القرآن

مشعال المصابيح شرح مشكاة المصابيح للتبريزي

لمحة عن الجرح والتعديل

الإمام ولي الله الدهلوي وآراؤه في التشريع الإسلامي

والتعريف الوجيز بكتب الحديث

المدخل إلى دراسة جامع الترمذي لکھی، استاذ محترم کی ذیادہ ترکتابیں ان ابتدائی ایام کی ہیں جب وہ ایک ساتھ کئی کشتیوں پر سوار نہیں ہوئے تھے، کاش کہ مولانا اسی راستہ پر چلتے رہتے تو بڑا علمی مقام پیدا کرسکتے تھے، لیکن صلاحیتیں جب غلط رخ پر پڑجاتی ہیں یا انسان جب وہ سارے کام کرنے لگ جاتا ہے  جس میں اسکا اختصاص (Specialisation) نہیں ہوتا تو کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا بلکہ وہ کام بننے کے بجائے مزید بگڑ جاتا ہے اور صلاحیت، وقت اور توانائی سب کا زیاں ہوتا ہے، یہی انجام کچھ مولانا کا بھی ہوا، مولانا کے دل میں ملت کا درد تھا اور شاید آج بھی ہے۔ وہ ملت کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن وہ اپنی افتادی طبع، حسینی جوش اور بڑی حد تک آمریت پسندانہ مزاج سے مجبور ہیں ۔ مولانا ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کبھی ثابت نہ ہو سکے، کبھی کوئی کام مستقل مزاجی سے نہیں کیا، نا ہی ٹھیک سے اس کی پلاننگ کی،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انھوں نے شباب مارکٹ میں ‘شباب میچول فنڈ’ کےنام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا جو چند سالوں میں ہی اپنی عمر طبعی کو پہونچ گیا۔ پھر مولانا نے شباب ہاسپٹل قائم کیا جو کبھی باضابطہ نہیں چلا ,اسوقت بھی نام کی تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اس ہاسپٹل کا وجود ہے لیکن کمرشیل کانٹریکٹ کے تحت وہ دوسرے افراد کے ہاتھوں میں ہے، مولانا نے ایک طبیہ کالج بھی قائم کیالیکن وہ بھی بے ہنگم طریقہ سے چل رہا ہے۔ اکثر اساتذہ تنخواہ کیلئے پریشان رہتے ہیں اور طلبہ امتحان دینے کیلئےحیران و سرگرداں ۔

شباب کے نام سے ایک مکتبہ کا قیام بھی عمل میں آیا تھا، نہیں معلوم کہ وہ اب بھی چل رہا ہے یا بند ہوگیا، مولانا نے سعوی عرب سے تعلیم مکمل کرکے ہندستان واپس آنے کے بعد سب سے پہلے’جمعیۃ شباب اسلام ‘قائم کیا تھا جس کا مختلف مقامات پر ماہانہ کیمپ لگتا تھا اکثر طلباء مولانا کی خوشنودی اور کچھ طلبہ بریانی اورسیروتفریح کے شوق میں ان کیمپوں میں شریک ہوتے تھے اسکی بھی کچھ خاص افادیت نہیں تھی، مولانا نے کٹولی ملیح آباد میں ایک عربی مدرسہ قائم کیا تھا وہ بھی عام مدرسوں کی طرح ہی چل رہا ہے لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ وہاں کے طلبہ خود کو ندوہ کے طلباء سے برتر سمجھتے تھے۔ ان کے اس احساس برتری کی وجہ کیا تھی ؟ نہیں معلوم !

مولانا کو کبھی دلداری کرنی بھی نہیں آئی۔ اکثر جن لوگوں نے ان کے ساتھ اپنی زندگیاں لگادیں ، مولانا نے ایک جھٹکے میں انھیں باہر کاراستہ دکھادیا، اس سلسلہ میں ان ان کا رویہ اقبال کے اس شعر کا مصداق ہے:

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے

کہ امیر  کارواں  میں  نہیں  خوئے   دلنوازی

اس سلسلے میں متعدد مثالیں موجود ہیں جن کو یہاں عمداً قلم انداز کیا جارہا ہے۔

مولانا محترم نے سیاست میں بھی زور آزمائی کی ہے اور ان کی سیاسی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ 2012 کے یوپی انتخابات سے قبل مولانا نے تقریبا چھبیس سیاسی پارٹیوں کا ایک وفاق تشکیل دیا۔ لیکن بدقسمتی سے ایک سیٹ پر بھی ان کا کوئی امیدوار کامیاب نہ ہوسکا اور یوپی میں اکھلیش یادو کی سرکار بن گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کے حق میں نتائج کا اعلان ہوتے ہی مولانا نے فورا اپنا موقف بدل دیا اور ایک پریس ریلیز جاری  کرکے سماج وادی پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کا سپورٹ کررہے تھے اسی لئے جہاں جہاں آپ کے امیدوار مضبوط تھے وہاں ہم نے اپنا امیدوار اتارا ہی نہیں ۔

ادھر گزشتہ چند سالوں سے مولانااپنے متنازعہ بیانات کو لے کر سرخیاں بٹورتے رہے ہیں ، بدنام زمانہ تنظیم ‘ الداعش ‘ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے خودساختہ امیر المؤمنین بننے کا اعلان کرتے ہی مولانا نے اسےمبارکبادکا پیغام بھیج دیا، پھرجب ان کی اسلام مخالف سرگرمیوں کی وجہ سےپوری دنیامیں ان کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں تو استاذ محترم نے بھی اپنے بیان سےرجوع کرنے میں عافیت سمجھی۔

جماعتی ومسلکی نزاعات میں بھی استاذ محترم کا جواب نہیں ، ایک طرف مولانا کلیم پھلتی صاحب کے خلاف محاذ کھولا اور ان کے خلاف ایک کتاب لکھ ماری تو دوسری طرف حیدرآبا سے لے کر بحرین تک اپنی متعدد تقریروں میں اہلحدیثوں کو قابل گردن زدنی ہونے کی قرارداد پاس کردی۔

یہ بات جگ ظاہر ہے کہ مولانا سلمان صاحب نے جامعۃ الامام ملک محمد بن سعود سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے اور سعودی عرب کے بڑے بڑے مشائخ سے استفادہ بھی کیا ہے کئی دہائیوں تک  وہ وہاں سے اپنے پروجیکٹس کیلئے فنڈ لاتے رہے ہیں لیکن چند سالوں قبل ان کی وہاں کے لوگوں سے بھی کھٹ پٹ ہوگئی جس کے نتیجہ میں ان کے کچھ پروجکٹس کیلئے فنڈ رک گیا۔ پھر کیا تھا مولانا بپھرگئےاور سعودی حکومت کے خلاف پورا محاذ کھول دیا پھر سعودی عرب نے ان پر اپنے ملک میں داخلہ پر پابندی عائد کردی اسوقت سے لےکر ابتک مولانا سعودی حکومت کے خلاف زہرافشانی کررہےہیں ، ہم ہرگز ہرگز سعودی عرب کی اخوان، حماس اور قطر مخالف پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی منحرف و متشدد سلفیت کی تائید کرتے ہیں ، لیکن ندوی روایات کی پامالی اور ندوہ کی بدنامی دیکھتے ہوئے ہمیں بہت رنج ہوتا ہے مولانا کا جوش جنوں دعوتی حکمت ومصلحت سے پرے ہے جس سے فتنہ دم توڑنے کے بجائے اور بھڑک اٹھتا ہے یہ ہرگز ندویت کا مزاج نہیں ہے ابھی حال ہی میں مولانا کے اسی جذباتی اور غیر موضوعی  خطاب کے نتیجے میں عمان حکومت نے انھیں اپنا ملک چھوڑنے کا حکم نامہ صادر کیااور مولانا اس واقعہ سے تجاہل عارفانہ برتتے رہے پھر اسکے بعد مولانا نے ای ٹی وی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے جہاں سعودی حکومت اور سلفیوں پر حملہ کیا، وہیں یوگی اور مودی حکومت کا بچاؤ کیا آخر کیا وجہ ہے کہ مولانا سعودی حکومت کے خلاف تو نعرۂ حق بلند کرنے میں پیچھے نہیں ہٹتے، لیکن ہندستان میں مودی حکومت کے مظالم کے خلاف ان کی زبان خاموش رہتی ہے؟، ابھی  چند ماہ قبل مارچ 2017 کا واقعہ ہے کہ حاجی کالونی دوبگہ لکھنؤ میں  سیف اللہ نامی مسلم نوجوان کو پولس نے دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں چاروں طرف سے گھیر کر موت کے گھاٹ اتاردیا اسوقت مولانا عامر رشادی نے بڑی جرأت کے ساتھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور مسلمانوں کی پست ہوتی نفسیات کو سہارا دیا لیکن لکھنؤ میں وہیں اسی محلہ سے تھوڑے سے فاصلے پر مولانا کی رہائش کے باوجود حکومت کی اس بربریت کے خلاف مولانا کی زبان گنگ رہی۔

ذیل کی سطروں میں ہم اختلافی مسائل میں ندوی روایت پر گفتگو کریں گے کہ اختلافی مسائل میں ہمارے بزرگوں کا کیا طریقہ کار رہا ہے۔

ہندستان میں شیعہ سنی، سنی وہابی، وہابی بریلوی، تبلیغی جماعت وجماعت اسلامی کے مسائل نئے نہیں ہیں ، ہماری قوم نے سب سے زیادہ توانائی انھیں اختلافی مسائل میں ضائع کی ہے انھیں سب مسائل سے اکتاکر ندوہ کی بنیاد پڑی تھی اوربانیان ندوہ نے وسیع المشربی کاراستہ اپنایا تھاجس پر وہ ہمیشہ کاربند رہا، اگر کبھی کسی سے اختلاف ہوا بھی تو وہ تہذیب کے دائرے میں علمی و فکری اختلاف کی حد تک رہا، اکابر علماء دیوبند اور اکابر علماء اہلحدیث کا ہمیشہ ندوہ آنا جانا رہااور ان دونوں طبقوں کی بعض بڑی شخصیات ندوہ کی مجلس شوری کی رکن بھی رہیں ، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ علامہ سید سلیمان ندوی سے لے کر مولانا علی میاں رحمہ تک کسی ندوی نے ندوہ کے پلیٹ فارم سے اس طرح کی لٹریچر بازی یا بیان بازی کی ہو، میں نے حضرت مولانا علی میاں صاحب کا دور نظامت دیکھا ہے اور ان کے طریقہ اختلاف کو بھی دیکھا ہے مولانا علی میاں صاحب کو مولانا مودودی رحمہ اللہ کی کتاب ‘ چار بنیادی اصطلاحیں ‘سے علمی وفکری اختلاف ہوا تو مولانا نے ‘ عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح’ نامی کتاب لکھی، وہ کتاب دیکھنے کے لائق ہے مولانا نے بڑے ادب اور پورے علمی وقار کے ساتھ اختلاف کیاچونکہ مولانا کا مزاج ندویت کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا اسلئے اس کتاب کی طباعت ایک بار کے بعد دوسری بار نہیں کی گئی، یہی  وجہ ہے کہ مولانا کا جماعت اسلامی کے بڑے ذمہ داران کے ساتھ تعلق میں فرق نہیں آیا، مولانا ابواللیث صاحب اصلاحی سابق امیر جماعت اسلامی ہند برابر ندوہ تشریف لاتے تھےاور مولانا سے ملاقات کرتےتھے اگر مولانا لکھنؤ میں موجود نہ ہوتے  تو بغرض ملاقات تکیہ کلاں رائے بریلی تشریف لے جاتے، اسی طرح جب ہندستان میں مختلف جماعتوں کے درمیان آپسی غیر ضروری مسلکی وفروعی اختلافات بڑھ کر عالم عربی تک پہونچنے لگے اور دانستہ یا نادانستہ طور پر بعض ہندستانی تحریکات اور علماء و مشائخ کی کردار کشی کی جانے لگی تو مولانا نے ضرورت محسوس کی کہ اسکا منفی ردعمل کے بجائے مثبت انداز میں ‘ جواب دیا جائے چنانچہ مولانا مرحوم نے عربی زبان میں ‘ الاضواء ‘ نامی کتاب لکھی جو بعد میں اردو زبان میں ‘ بصائر ‘کے نام سے شائع ہوئی اس کتاب میں مولانا نے  ہندستان میں برپا ہونے والی دینی واصلاحی تحریکات اور اکابر علماء ہند ومشائخ دیوبند کی  زندگی اوران کے کارناموں کو اجاگر کیاجن کے متعلق عالم عربی میں غلط فہمی پھیل رہی تھی۔

مولانا نے اپنی دعوت میں ہمیشہ حکمت کا اسلوب اپنایا، انہوں نے عرب حکام کو بھی جھنجھوڑا اور انھیں خطاب کرتے ہوئے بعثت نبوی کے مقاصد سے آگاہ کیا کہ نبی عربی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد ہرگز دنیاوی ترقی کا حصول نہیں تھا اور اسمعیات ‘ کے نام سے کتابوں کی پوری ایک سیریز لکھی،جس میں مولانا نے مصر، شام، عراق اور عالم عربی کو خاص طور پر خطاب کیا، مولانا کے عرب حکام کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات رہے۔ وہ عوام و خواص اور حکمراں طبقہ کے درمیان ایک پل کا کام کرتے تھے۔ لوگوں کو جوڑنا اور منفی اور بیجا تنقید سے احتراز کرتے ہوئے دعوتی اور علمی پیرایہ میں اپنی بات پیش کرنے کا امتیازی ملکہ ان کو حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عرب حکام ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے ان کی وسعت نظری و قلبی اور دعوتی حکمت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ ہندستانی مسلمانوں کے ہر طبقہ میں یکساں مقبول رہے، جماعت اسلامی، اہل حدیث، اہل دیوبند، تبلیغی جماعت کے افراد برابر ندوہ آتے اور مولانا بھی ان کے پروگراموں میں شرکت فرماتے۔ لکھنؤ ایک زمانہ میں شیعہ و سنی فسادات کیلئے مشہور تھا لیکن مولانا علی میاں اور مولانا کلب صادق صاحب کی بیدار مغز قیادت نے لکھنؤ کے ماحول کو پرسکون بنادیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر جناب مولانا منت اللہ رحمانی صاحب کا جب انتقال ہوا تو اگلی صدارت کیلئے بورڈ کی نظر انتخاب مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ ہی پر پڑی، اسکی بنیادی  وجہ ان کی  غیر متنازعہ شخصیت تھی، خود مولانا رابع صاحب کے مسلم پرسنل لاء بورڈ کا صدرمنتخب کئے جانے کی بنیادی وجہ بھی ان کی غیر متنازعہ شخصیت ہی ہے، اسی روایت کا جیتا جاگتا تسلسل خود مولانا سعیدالاعظمی ندوی صاحب بھی ہیں ، مولانا ہندستانی مسلمانوں کے ہر طبقہ میں یکساں مقبول ہیں ، مولانا کو اہلحدیث حضرات ہمیشہ اپنے بڑے پروگراموں میں مدعو کرتے ہیں ، غرض کہ اکابرہ ندوہ نے اسی ندوی روایت کی پاسداری کی ہے جو اسکا مقصد وجود تھا آج عرب وعجم میں ندویوں کی جو عزت ہے وہ ان کی اسی اعتدال پسندی کا نتیجہ ہےجسے استاذ محترم مولانا سلمان حسینی صاحب بری طرح پامال کررہے ہیں آج ان کی وجہ سے ندوہ اور ندویوں کی پورے عالم میں بدنامی ہورہی ہےاگر وہ یہ سارے کارنامےندوہ کے استاذ ہونے کی حیثیت سے نہ انجام دیتے، تو شاید اسکا نقصان اسقدر نہ ہوتا لیکن آج عالم عربی ہمیں اپنے آپ کو ندوی بتاتے ہوئے ڈر محسوس ہونے لگا ہے آخر نہ جانے ندوہ کی انتظامیہ کی کیا مجبوری ہے جو ان پر لگام نہیں کستی، مجھے پورا یقین ہے اگر یہ کام ندوہ کے پلیٹ فارم سے کوئی اور شخص کررہا ہوتا تو ندوہ کی انتظامیہ اب تک اسے نکال باہر کرچکی ہوتی۔

میں نے ندوہ کے تہذیبی ورثہ کو ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے دیکھ کر یہ تحریر قلم بند کی ہے، اگر اسے نہیں روکا گیا تو ندوہ اور ندویوں کو اسکا بڑا خمیازہ بھگتنا پڑےگا، مجھے قدیم وجدید ندویوں سے امید ہے کہ وہ اب بھی اسی آزادئ فکر کے ساتھ جیتے ہوں گے جو ان تک ان کے اسلاف سے وراثۃً منتقل ہوئی ہے وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہیں گے، اگر کوئی شخص ندوی روایات کو نقصان پہونچائے گا تو اسے روکیں ٹوکیں  گے پھر وہ چاہے ہمارا مربی ومحسن ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ اجتماعی مفادشخصی مفاد سے اوپر ہوتا ہے۔ ندوہ کی انتظامیہ سے بھی میری گزارش ہےکہ وہ مولانا کے لئے بھی کچھ حدود مقرر کرے، یوں بھی مولانا ماشاء اللہ اتنے کثیر المشاغل ہو چکے ہیں کہ اگر وہ ندوہ کی تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں سے سبک دوش بھی ہو جایئں تو ان کے پاس کرنے کے لئے بے شمار کام موجود ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

3 تبصرے

  1. مولاناعلی میاں ندوی کےتعلق سےرواداری کاجومظاہرہ کیاگیاہےوہ بوجوہ غلط ہے.
    مولاناندوی رحمہ اللہ,شیعہ رہنماؤں کےساتھ تومجلس ومیٹنگ کرتےتھےلیکن جب منظورنعمانی علیہ الرحمہ نے,,ایرانی انقلاب وشیعیت,,پرکتاب لکھی تومولاناعلی میاں ندوی علیہ الرحمہ نےاس کتاب پرمبسوط مقدمہ لکھا.
    مولاناندوی صاحب,کےجماعت اسلامی والوں سےبہت اچھےتعلق تھےلیکن افسوس کہ مودودی صاحب جب بسترمرگ پرتھے,تب علی میاں صاحب کوان کی کتاب میں تنقید نظرآئی جب کہ اصل کتاب 1945 میں لکھی گئی اورندوی صاحب تنقید فرمارہے1979 میں,.
    مودودی صاحب کوکنگ فیصل ایوارڈ ملتاہےتومولاناندوی فرماتےہیں کہ میں اپنی کسی ایک کتاب کوبھی اس ایوارڈ کےبرابرنہیں سمجھتالیکن ایک سال بعد جب وہ اس ایوارڈسےسرفرازہوتےہیں توتعمیرحیات میں اپنی مسرت کااظہارفرماتےاوردارالمصنفین میں اپنی شان میں سپاس نامہ ملاحظہ فرماتےہیں.
    رباط میں عالمی اسلامی کانفرنس میں مودودی کی اردوتقریرکاعربی ترجمہ فرماتےہیں اورابواللیث اصلاحی کوخط لکھ کرمسرت کااظہارفرماتےاورمنظورنعمانی صاحب کےیہاں خط بھیج کراپنی طبیعت کاانقباض ظاہرکرتےہیں…

متعلقہ

Close