دیگر نثری اصنافنقطہ نظر

اردو کی ترویج و ترقی: روڈ میپ

احمد نثارؔ

اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں سرگرم سرکاری نیم سرکاری و غیر سرکاری ادارے کیا ایسا کرسکتے ہیں؟ چند تجاویز و مشورے ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے ادارے محرک ہوجائیں تو ممکن بھی ہے۔ تجاویز کی فہرست کچھ یوں ہے۔

* اردو اداروں میں سرکاری دخل اندازی نہیں کی جائے۔

* چاپلوسوں کو اداروں میں داخلے کی ممانعت پر مہر لگایا جائے۔

* بجٹ کی کوئی قید نہ رکھی جائے، یعنی زیرو بجٹ کی صورت رکھی جائے، جتنا بجٹ لگتا جائے گا اتنا فراہم کرتے جانا۔

* اداروں کو بین الاقوامی ادارے جیسے مائکروسوفٹ، گوگل سے یم۔او۔ یو۔ برائے فروغ اردو اشتراک کیا جائے۔

* بھارت سرکار کے ادارے سی ڈیک (CDAC) اورٹی ڈی آئی ایل (TDIL۔ MIT) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اشتراک اور تکنیکی پروگرام جیسے کمپیوٹر، کمپیوٹر تکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مشترکہ پروگرام کو ڈیزائن کیا جائے۔

* جدید ٹیکنالوجی اوسی آر، اسپیچ ریکگنیشن و دیگرایڈوانسڈ پروگرامنگ کی ڈیزائننگ کیا جاسکتا ہے۔

* اردو پیڈیا کا جدید طور پر نئے رنگ و ڈھنگ میں شروعات کرنی چاہئے۔ قومی کونسل اگر نہیں کرسکتی تو کوئی متحرک ادارہ اس کی ذمہ داری لے سکتا ہے۔ لہٰذا اس کام کے لئے کسی قابل ادارے کا انتقاب کرکے کام کو آگے بڑھانا چاہئے۔

* موجودہ نااہل اور ناقابل افسران و دیگر کو فی الفوری خارج (کیوں نکہ جدید ٹیکنالوجی سے ان کا واسطہ کوسوں دور کا بھی نہیں ہے) کرنی چاہئے یا پھر ان کا تبادلہ طلب کرنا چاہئے۔ نئی ٹیم کا انتخاب کر ان کو مہاراتی تربیت دیتے اور دلواتے ہوئے اداروں کو مضبوط کرنی چاہئے۔

* یونیورسٹیوں کے احباب صرف سیمینار اور مشاعروں کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بیچاروں کو اس کے علاوہ کچھ آتا بھی نہیں ہے۔ جدید نسل کے نمائندے کچھ اچھے پروگرام لے کر آئیں تو انہیں بھرپور تائید کرتے ہوئے مواقع فراہم کرنی چاہئے۔ جتنے بھی ادارے ہیں ان میں قابل نوجوان نسل کی نمائندگی کو خوش آمد کرنی چاہئے۔

* صرف ان نوجوان ماہرین کو جگہ دینی چاہئے جو سچ مچ ماہر (ضروری میدانوں میں) ہوں۔ ایسا نہ ہوں کہ کسی کی سفارش پر آئے اور کرسی سے تاقیامت چپک جائے۔

* ماضی میں جو بھی حضرات اداروں کا حصہ رہے ہوں، انہیں دوبارہ نہ ڈائرکٹرشپ نہ ہی رکنیت ملنی چاہئے۔ ہاں قابل نتائج دینے والوں کو دوبارہ موقع ملنا ہی چاہئے۔

* ٹیکنیکل ایکسپرٹس کو ملازمت وہ بھی پروجیکٹ کے ماتحت ہائر کرنا چاہئے۔

* کوالیٹی کا خیال رکھتے ہوئے ماہرین کو پروجیکٹس کی ذمہ داری دینا چاہئے۔

* پرائیویٹ ٹرانسلیٹرز کو پروجیکٹس کی ذمہ داری دینا چاہئے۔

* ای بْک پبلکیشن پر زور دینی چاہئے۔ کیونکہ جو بھی کتابیں شائع ہورہی ہیں ان کو نہ کوئی پڑھتا ہے اور نہ ہی کوئی خریدتا ہے۔سارا پیسا برباد ہورہا ہے، اس لئے ای بک پبلشنگ پر ہی زور دینی چاہئے، خواہ یہ بات احباب کو گوارا ہو یا نہ ہو۔ ایسے احباب کو اس ای بک پبلکیشن کی افادیت کو سمجھانا چاہئے۔ ان کو کاپی رائٹ بھی دینی چاہئے۔ اگر کوئی اسپانسر آتا ہے تو اس کو جزوی مدد سے شائع کرنے کی ترغیب دینی چاہئے نہ کہ کلی مدد پر ترجیح دینی چاہئے۔

* ڈیجیٹل لائبرری کا قیام بڑے پیمانے پر کرنا چاہئے، اس لائبرری سے نیشنل آرکائیوس اور ہر یونیورسٹیز سے جوڑ کر ایک بڑا سرکل بنانا چاہئے۔ اور اس سے ہر اردو والے سے رابطہ کرنا چاہئے۔

* یونانی طبی کتابوں کو بھی ڈیجیٹائز کرکے اس لائبری میں اندراج کرواؤں گا۔ اس پروجیکٹ کے لئے ابن سینا اکیڈمی علی گڑھ سے رابطہ کرکے اچھے نتائج لانی چاہئے۔ ہو سکے تو ان کی لائبرری کو ڈیجیٹائز کرکے اس کا انسلاک کونسل کی لائبرری سے کروانی چاہئے۔

* ریسرچ اسکالروں کے لئے حمایتی پروگرام بڑے پیمانے پر کرنی چاہئے۔ نوجوانوں کے اشتراک سے ایک نئی تحریک شروع کرنی چاہئے۔

* غیر ضروری سیمینارز ختم کروں گا۔ جس میں صرف یونیورسٹیز کے پروفیسرز آتے ہیں مقالہ پڑھتے ہیں جو کبھی شائع ہونے کی صورت نہیں دیکھے گا۔ ایسے فضول پروگراموں کو رد کرنی چاہئے۔

* جو ضروری سیمینار منعقد کئے جائیں ان کے ریسرچ پیپرز پر ریویو کرواؤں گا اور کتاب کی شکل دوں گا خواہ وہ ای بک ہی کیوں نہ صحیح، جو آئندہ نسل کی آنکھوں سے گزرے اس لیے اسے ڈیجیٹل لائبرری میں جگہ دوں گا اور اس کی تشہیر بھی کرنا چاہئے۔

* ہائی اسکول کے طلباء میں تحریری و تقریری مقابلے، بیت بازی، ادبی نشستیں اور انہیں قومی ریاستی ضلعی اور تحسیلی سطح پر انعامات اور ایوارڈ دینی چاہئے۔

* بچوں کے ادب اور سائنس کی دنیا جیسی کتابوں کو ہر اسکول ہر مدرسے تک پہنچاؤں گا، اور انہیں بچوں اور اساتذہ سے لکھی گئی تحریروں کو ترجیع دینی چاہئے۔ جو گاؤں دیہاتوں یا اربن ایریا کے اسکولز ہوں۔

* ہائی سکول، جونیئر کالج اور ڈگری کالج کے طلباء کے لئے خصوصی ٹریننگ پروگرام، جن کی مدد سے اردو کو گھر گھر پہنچایا جائے گا۔

* اردوسے منسلک اساتذہ کو قومی ریاستی اور ضلعی سطح پر اعزازات و ایوارڈس دوں گا۔ ہر مدرس و ٹیچر کے اشتیاق کو متحرک کرنی چاہئے۔

* سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں کام کرنے والے اردو احباب کو اسکالرشپس، پروجکٹ سپانسرشپ وغیر ہ فراہم کروں گا۔

* ان سب پر نگرانی کرنے والوں کو ایمانداری کی بنیاد پر عارضی طور پر اپائنٹ کروں گا۔ انہیں بین الاقوامی سطح پر ٹریننگ فراہم کروں گا۔

* موبائل ٹیب، کمپیوٹر و دیگر گیزیٹس کی کمپنیوں سے درخواست کر کے ہر موبائل میں اردو زبان کی سہولت کا انتظام کروں گا۔

* چونکہ ملک میں اس کونسل کو اردو زبان کی اتھاریٹی مانا جاتا ہے، اس لئے اس کو قومی سطح پر لسانی، ادبی، ثقافتی، سائنسی، سماجی، صحافتی و تکنیکی ریسرچ سینٹرز کو قائم کرنی چاہئے۔

* شعراء پر ریسرچ بہت ہوچکا، اب اردو میں ٹیکنالوجی پر زور دینی چاہئے۔

* مشاعروں میں شاعری کم تقریر زیادہ کرنے والوں کو نو اینٹری بورڈ لگا نی چاہئے۔ مسخرہ پن زیادہ ہوچکا اب سنجیدگی سے کام کرنے پر ترغیب دینی چاہئے۔

* مشاعرے بھی ادبی ثقافتی ہوں نہ کہ سیاسی، ٹھوس اقدام اٹھانی چاہئے اور شائستہ مشاعروں کے انعقاد پر زور دینی چاہئے۔

* ملک کے ہر خطے کو اہمیت دیتے ہوئے ہر عالمی پروگرام کو ایک ایک منتخب شہر میں انعقاد کرنی چاہئے۔

* کسی بھی اردو پروگرام کے لئے یونیورسٹی، کالج، اسکول، اخبار، ادبا، شعرا، رضاکارانہ تنظیمیں و دیگر کو درست تناسب سے مدعو کرنی چاہئے۔ یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی محروم نہ رہ گیا ہو۔

* اگلے سیمیناروں میں نئے احباب کو مدعو کرنی چاہئے۔

* بزرگ ادیب، شعرا، صحافی، کاتب و دیگر ضرورتمند حضرات کو ماہانہ پینشن کا انتظام ہونا چاہئے۔

* سیول سروسیز کے تقابلی امتحانات میں حصہ لینے والے اردو طلباء کو فری کوچنگ سینٹرز رکھنی چاہئے۔ جس میں کوچنگ کے لئے ماہر احباب مقرر ہوں اور یہ خیال رکھنا چاہئے کہ فیکلٹی سچ مچ ماہر ہوں اور کسی بھی قوم و ملت کے کیوں نہ ہوں۔

* سیول سروسیز کے وہ طلباء جو اردو کا انتخاب کئے ہوں خواہ وہ قومی سطح کے ہوں یا ریاستی سطح کے انہیں بھر پور معاشی و تعلیمی امداد کے لئے اقدام کرنی چاہئے۔

* اردو میڈیم کے اساتذہ کو ماہر بنانے کے پروگرام ہر ریاست کے تعلیمی شعبہ کے اشتراک سے ٹریننگ فراہم کرنی چاہئے۔

* ایسا نہ ہو کہ چاپلوس چیئرمن اور ڈائرکٹروں کے پاس کوئی ٹھوس پروگرام نہ ہو اور بس رقم خرچ کرنے کے لئے سال کے اواخر میں (مارچ میں) بھڑبھڑاہٹ سے پروگرام کردیں اور سرکار کو بھی خوش کردیں کہ دیکھو ہم نے بجٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ بقیہ بچا بجٹ

سرکار کی تجوری میں محفوظ کردیا۔

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

2 تبصرے

متعلقہ

Close