عالم اسلامنقطہ نظر

اسلامی حمیت کا زوال

وصیل خان

سعودی عرب کے فرمانرواشاہ فیصل شہید اس وقت بہت شدت سے یاد آئے جب موجودہ سعودی حکمرانوں کے عجیب و غریب احکامات و فیصلے ایک کے بعد ایک سامنے آنے لگے۔ ان میں سردست دو خبریں ایسی ہیں جو کسی بھی اسلام پسند یا دوسرے معنوں میں حق پسند افراد کو متوحش کرنے کیلئے کافی ہیں۔ پہلی خبر تو یہ کہ ۱۸۷۰ءسے سنیما ہالوں پر عائدشدہ پابندی اب ختم کردی گئی اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلئے وہاں کے حکمرانوں نے اصلاحات کی دوڑ میں خود کو شامل کرنے کا زورشور سے اعلان کردیا ہے اس طرح سعودی عرب میں تقریبا ً چار دہائیوں کے بعد دارالحکومت ریاض میں ۱۸؍اپریل سے پہلا سنیماگھر کھل جائے گا۔ سنیما گھر چلانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اے ایم سی کے مطابق رواں ماہ کی ۱۸؍تاریخ کو وہ سعودی عرب میں اپنا پہلاسنیما گھر کھولے گی۔ کمپنی کے ترجمان رائن نونان نے بتایا کہ سعودی حکومت کے پبلک انویسمنٹ فنڈ کی ایک ذیلی کمپنی اور اے ایم سی کے درمیان یہ معاہدہ طے پاچکا ہے جس کی روسے کمپنی کا پہلا سنیما گھرسعودی مملکت کی راجدھانی ریاض میں کھولا جائے گا۔

سرکاری میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس تعلق سے اے ایم سی کے ساتھ ایک معاہدے میں یہ طے کیاہے کہ اگلے پانچ برسوں کے دوران ملک کے ۱۵؍شہروں میں ۳۰سے ۴۰سنیما ہال کھول دیئے جائیں گے اور یہ تعداد یہیں تک محدود نہیں رہے گی، کمپنی نے۲۰۳۰ تک ان سنیماگھروں کی تعداد ۱۰۰تک لے جانےکے عزم کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمپنی اس وقت دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد سنیما گھر چلارہی ہے۔

دوسری خبر اس سے بھی زیادہ سنگین ہے جس نے نہ صرف پوری دنیا کے مسلمانوں کو بے چین کرکے رکھ دیا ہے بلکہ خود سعودی  عرب اور دیگر عرب ممالک کی اس قدیم پالیسی کے برخلاف ہے جو انہوں نے اسرائیلی بربریت اور فلسطینی سرزمین پر اس کے ناجائز قبضے کے خلاف اپنا رکھی ہے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ فلسطینیوں پر مسلسل مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، ان کی ہی زمین پر قابض ہوکر آج انہی پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔ امریکی و برطانوی سامراج نہ صرف اسرائیل کی طرف داری کررہے ہیں بلکہ ہر طرح سےتعاون دے کر اسے مضبوط بھی کررہے ہیں اور اسرائیل طاقت اور غرور کے نشے میں چور نہتے فلسطینیوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کئے ہوئے ہے۔ ایسے میں سعودی ولی ٔ عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ بیان کہ اسرائیل کو بھی اپنی سرزمین پر رہنے اور دنیا بسانے کا حق حاصل ہے، کہاں کا منصفانہ اور دانش مندانہ فیصلہ ہے۔ یہ کون کہتا ہے کہ اسرائیل کو نہیں بسنا چاہیئے بلا شبہ اسے بھی یہ بنیادی حق ملنا چاہیئے لیکن کسی دوسرے کی ملکیت پر نہیں خود اپنی ذاتی زمین پر جو متنازعہ نہ ہو۔ برطانیہ اور امریکہ نے اپنی طاقت کے بل پر کمزورفلسطینیوں کی زمین پراسے بسادیا اور عرب کچھ نہ کرسکے، اس کا مطلب یہ تو نہیں نکالاجاسکتا کہ فلسطین اور دیگر عرب اس ظلم و بربریت اور ناجائز قبضے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ولی ٔ عہد کے کہنے کا مطلب صاف ہے یعنی اسرائیل جہاں ہے وہ چاہے غصب شدہ زمین ہی کیوں نہ ہو اب وہی اس کا جائز مقام ہے اور وہ وہیں رہے کیونکہ اسے بھی آباد ہونے کا حق ہے۔

اگر کوئی یہ تجویز پیش کرے کہ پورے خطہ ٔ عرب میں حدود اربعہ کے اعتبار سے سعودی عرب سب زیادہ طویل وعریض زمین پر آباد ہے وہ ازراہ خلوص ایک ٹکڑا اسرائیل کو بسنے کیلئے تحفتا ہبہ کردے تو کیا سعودی مملکت اس پر راضی ہو جائےکیونکہ اسرائیل کو تو بسنے اور آباد ہونے کا تو حق ملنا ہی چاہیئے تو کیا یہ دلیل آپ کو قائل کرسکتی ہے، نہیں ہرگز نہیں۔ کیونکہ جو غلط ہے وہ غلط ہے، وہ کبھی درست نہیں ہوسکتا وہ کبھی قابل تسلیم نہیں ہوسکتا۔ رحم کا جذبہ بہر حال قابل تعریف ہے لیکن ایسا رحم ہر گز قابل قبول نہیں ہوسکتا جو کسی دوسرے کے ساتھ بے رحمی کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ فلسطینی عوام پچاس سال سے زائد عرصے سے ظلم کا شکار ہیں، اقوام متحدہ جیسا ادارہ موجود ہے، امریکہ جو خود کو امن و انصاف کے قیام کا سب سے بڑا داعی کہتا ہے اور پوری دنیا سے دہشت گردی مٹانا چاہتا ہے مگر فلسطینیوں کے ساتھ تعاون و ہمدردی کے بجائے انہیں ہی دہشت گرد قراردیتا ہے او ر جو صحیح معنوں میں دہشت گرداور غاصب ہے اسے امن کا خوگر کہتا ہے اور دوست بنائے ہوئے ہے۔ ہمیں امریکہ اور اس کے ہمنوا ممالک سے کوئی شکایت نہیںوہ وہی کررہے ہیں جو ان کے مفاد میں ہے اور آئندہ بھی وہی کریں گے کیونکہ یہ ان کی فطرت میں شامل ہے، لیکن جن کے اندر اسلامی حمیت موجود ہے وہ نہ خوداس طرح کی زیادتیوں کے مرتکب ہوں گے اور نہ ہی وہ کسی اور کے مظالم اور جرم کی تائید کریں گے۔

شاہ فیصل اس لئے بے طرح  یاد آئے کہ وہ اسلامی حمیت سے لبریز ایک مثالی اور مدبر حکمراں تھے جو عرب ہی نہیںدنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے فکر مند رہتے تھے۔ انہوں نے ایک ایسے غیر سودی عالمی بینک کے قیام کی منصوبہ بندی شروع کی تھی جس سے پوری دنیا کے مسلمان مستفید ہوسکتے تھے، لیکن وقت نے وفا نہ کی اور ان کا یہ خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہ ہوسکا اور اسی حمیت اسلامی کی پاداش میں انہیں قتل بھی کردیا گیا۔ یہ وہی شاہ فیصل تھے جن کے سامنے مشہور عالم دین مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی نے جب تاریخی پس منظر میں اسلامی خلفاء کی دیانتداری، صداقت اور انصاف پسندی کے واقعات سنائے، ماضی اور حال کے فرق کا موازنہ کیا تو ان پر رقت طاری ہوگئی اور وہ سسکیوں کے  ساتھ روپڑےان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

حرم شریف کی توسیع کے بعدتوسیع شدہ حصے پر شاہ فیصل کو دورکعت نماز شکرانہ اداکرنی تھی، بادشاہ کیلئے مصلیٰ بچھایا گیا لیکن شاہ کے وہاں پہنچنے سے قبل کہیں سے کوئی بدو آیا اور اسی جگہ نماز کیلئے کھڑا ہوگیا، محافظین اسے ہٹانے کیلئے دوڑ پڑے تبھی شاہ بھی پہنچ گئے انہوں نے محافظین کو روک دیا اور دوسری جگہ نماز ادا کرلی، نماز کے بعد ایک بلیغ خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے ایک بدو کی شکل میں ہمارے پاس ایک فرشتہ بھیجا جو ہمیں بھولاہوا وہ سبق یاد دلانے آیا تھاجو ہم بھول چکے ہیں یعنی ہم اس زمین پر بسنے والے  انسانوں میں تفریق نہ کریں، امیر غریب، شاہ و گدا کی دیوارکھڑی نہ کریں ظلم و طغیان کو روکیں اور روئے زمین کو امن سے معمور کردیں۔ تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ وہ ہم پر غضبناک نہیں ہے ورنہ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ آج پھراسی اسلامی حمیت کی ضرورت ہے، اور وہی جذبہ ٔ ایمانی مطلوب ہے جو ہمارے اسلاف کا سرمایہ تھا اور ہمارا حال یہ ہے کہ اس میں اضافہ تو درکنار اس کا تحفظ بھی نہیں کرپارہے ہیں دعا کی جانی چاہیئے کہ اللہ ہمیں پھر اسی سابقہ مقام پر پہنچادے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close