مذہبی مضامیننقطہ نظر

اسلامی سنت ختنہ پہ ملحدین کے اعتراضات اور ان کا سائنسی جواب

احید حسن

طالب علم ایف آرسی پی نیورولاجی لندن (پاکستان)

ختنہ کے حکم کے حوالے سے ہم اتنا کہنا چاہیں گے کہ مسلمان شخص تو اللہ تعالى كے حكم كى تقلید كرتا ہے، اور اسلام كا معنى اور تقاضا بھى يہى ہے كہ اللہ تعالى كے حكم كے سامنے سر خم تسليم كيا جائے، اور اس كى اطاعت بجا لائى جائے، چاہے اس حكم كى حكمت معلوم ہو يا معلوم نہ ہو، كيونكہ حكم دينے والا اللہ سبحانہ وتعالى ہے، جو كہ خالق، اور علم و خبير ہے.اور وہ اس كا يقين ركھتا ہے كہ اللہ تعالى نے اسے جو بھى حكم ديا ہے اس ميں كوئى نہ كوئى حكمت اور بندے كى اس ميں كوئى مصلحت ضرور پنہاں ہے، چاہے بندہ كو اس كا علم ہو يا وہ اس سے مخفى رہے۔

ختنہ كرنا شريعت كے ان محاسن ميں شامل ہوتا ہے جو اللہ تعالى نے اپنے بندوں كے ليے مشروع كيا ہے، اور اس سے وہ اپنے ظاہرى اور باطنى محاسن كى تجميل كرتے ہوئے اپنے آپ كو خوب صورت بناتے ہيں ، چنانچہ يہ ختنہ كرانا اس فطرت كى تكميل كرتا ہے جس پر اللہ تعالى نے انہيں پيدا فرمايا ہے، اور اسى ليے يہ ملت حنيفى ملت ابراہيمى ميں شامل ہے.اور ختنہ كرانے كى مشروعيت حنيفيت كى تكميل ہے كيونكہ جب اللہ سبحانہ وتعالى نے ابراہيم عليہ السلام سے وعدہ كيا كہ وہ انہيں لوگوں كا امام بنائےگا، اور يہ وعدہ فرمايا كہ انہيں بہت سے قبيلوں كا جد امجد بنائےگا، اور يہ كہ اس كى پشت سے بہت سے انبياء اور بادشاہ پيدا ہونگے اور ان كى نسل بہت زيادہ ہو گى.

اور اللہ سبحانہ وتعالى نے انہيں يہ خبر دى كہ وہ اس اور اس كى نسل كے مابين عہد كى علامت يہ بنائےگا كہ وہ ہر بچے كا ختنہ كريں گے، اور ميرا يہ عہد ان كے جسموں ميں علامت ہوگا، اس ليے ختنہ كرانا ملت ابراہيمى ميں داخل ہونے كى نشانى ہے۔درج ذيل فرمان بارى تعالى كى تفسير بھى بعض نے ختنہ ہى كي ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اللہ كا رنگ اور اللہ كے رنگ سے اچھا كونسا رنگ ہو سكتا ہے، اور ہم اسى كى بندگى كرتے ہيں ﴾البقرۃ ( 138 ).

يعنى اس سے مراد ختنہ ہے، چنانچہ ختنہ كرانا ملت ابراہيمى پر چلنے والوں كے ليے نصارى اور صليب كے پجاريوں كے رنگ ميں رنگنے كے مرتبہ ميں ہے، وہ اپنى اولاد اور بچوں كو رنگ كر يہ گمان كرتے ہيں كہ اب وہ نصرانى بن گيا ہے، چنانچہ اللہ تعالى نے اپنے حنفاء بندوں كے ليے حنيفيت كا رنگ مشروع كيا اور اس كى علامت ختنہ كرنا قرار ديتے ہوئے فرمايا:

﴿ اللہ كا رنگ اور اللہ كے رنگ سے كونسا رنگ اچھا ہے، اور ہم اسى كى عبادت كرتے ہيں ﴾البقرۃ ( 138 ).

چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالى نے ابراہيم عليہ السلام اور ان كى دين اور ان كى ملت كى طرف اضافت كرنے والے كا ختنہ كرانا علامت قرار ديا، اور عبوديت و حنيفيت كى نسبت سے منسوب كيا….

اگرکوئی شخص بلوغت کے بعد اسلام قبول کرے تو اس کے لیے ختنہ کروانا لازم ہے، البتہ نو مسلم اگر بڑی عمر والا ہو ، ضعیف و کمزور ہو، ختنہ کی تکلیف برداشت نہ کر سکتا ہو اور کوئی ماہر ،دین دار ڈاکٹر بھی اس کے لیے ختنہ کروانے کو جان لیوا قرار دے دے تو ایسے شخص کے لیے ختنہ نہ کروانے کی گنجائش ہے، تاہم ایسے شخص پر قضائے حاجت کے وقت نہایت اہتمام سے صفائی کرنا لازم ہو گا.

دنیا کی کوئی بھی بڑی طبی تنظیم نہ ختنہ کرنے کی حمایت کرتی ہے نہ مخالفت۔یعنی اس معاملے کا اختیار طبی ماہرین نے عوام کو دیا ہے۔اگر اس کے مضر طبی اثرات ہوتے تو لازمی ماہرین اس سے منع کرتے اور جو مضر اثرات ہیں وہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

ميُونسٹر يونيورسٹی کے بيجان فاتح مقدم نے کہا کہ ختنہ ايک نسبتاً معمولی سا عمل جراحی ہے جس کے خطرات بہت کم ہيں ليکن جس کے صحت اور حفظان صحت کے لیے طبی فوائد کو تسليم کيا جا چکا ہے۔جرمنی ميں طبی نگرانی ميں ختنے کا مجوزہ قانون
وفاقی جرمن حکومت صحيح طبی نگرانی ميں يہودی اور مسلمان لڑکوں کے ختنے کی اجازت دينے پر تيار ہے۔ جرمنی کی وزارت قانون نے اس حوالے سے ايک نئے قانون کے اہم نکات پيش کر ديے ہيں ۔

امریکی ریاست کیفلیورنیا میں واقع دی ٹرویک کلینک کے ماہر ڈاکٹر پائو ٹوریک نے برطانوی اخبار ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جن مردوں کے ختنے ہوچکے ہوں ان میں جنسی عمل سے پھیلنے والی بیماریوں میں مبتلا ہونے یا ان کے ذریعے ایسی بیماریاں پھیلنے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ ختنے کروانے سے مردوں کے عضو مخصوصہ کے کینسر کے چانس بھی کم ہوجاتے ہیں اور مردوں میں افزائش نسل کی قوت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہےامریکی محکمہ صحت سی ڈی سی کی جانب جاری گائیڈلائنز میں کہا گیا ہے کہ نومولود لڑکوں میں یہ عمل ان کی مستقبل کی زندگی کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذہبی یا ثقافتی بناء پر ختنے کے عمل سے گزرنے والے بچوں میں جنسی امراض، مثانے کے کینسر اور پیشاب کی نالی کے امراض کا خطرہ بہت کم ہوجاتا ہے۔ یہ رپورٹ 7 سال تک تحقیق کے بعد مرتب کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افریقہ میں ختنوں کے ذریعے ایڈز کے وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ امریکی محکمے کا کہنا ہے کہ ختنے کرانے والے مردوں میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خواتین سے جراثیم کی منتقلی کا خطرہ 50 سے 60 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مثانے کے کینسر کا خطرہ 30 فیصد اور پیشاب کی نالی میں کسی رکاوٹ کا امکان بھی کافی کم ہوجاتا ہے۔

اسی طرح رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سرجری کا عمل بالغ مردوں کے مقابلے میں نومولود سے 9 سال کی عمر کے بچوں کے لیے زیادہ محفوظ ہے ۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف شکاگو کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”ختنے کروانے سے مردوں کی ازدواجی کارکردگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اوران کے لیے یہ عمل دوسرے مردوں کی نسبت زیادہ تسکین کا باعث بھی بنتا ہے۔“ سائنسدانوں نے 360ایسے مردوں کی6ماہ تک ازدواجی کارکردگی اور معیار جانچا جن کے ختنے نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان کے ختنے کروا دیئے گئے اور پھر 24ماہ تک ان پر تحقیق کی گئی۔ حیران کن طور پر ختنے کروانے کے بعد ان میں سے 98فیصد مردوں کی ازدواجی کارکردگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ان میں سے 95فیصد کا کہنا تھا کہ ان کی شریک حیات بھی زیادہ خوش ہیں ۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ جن بچوں کے پیداہونے کے چند دن کے اندر ختنے کروا دیئے جائیں انہیں طبی اعتبار سے بھی اس کے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔..

صحرائے صحارا(افریقہ) سے منسلک ممالک ہونے والی سائنسی تحقیقات ثابت کر چکی ہیں کہ ختنہ کا عمل مخالف جنس سے جنسی عمل کرنے والے لوگوں میں ایڈز کا خطرہ کم کر دیتا ہے۔ لہذا عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او اور اقوام متحدہ ایڈز یعنی یو ان ایڈز نے صحرائے صحارا( افریقہ) سے منسلک ان ممالک میں ختنہ کے عمل کو ایڈز کے روکنے کے لیے اپنے حفاظتی منصوبے کا حصہ بنالیا ہے جہاں ایڈز کی شرح بہت ہے۔ختنہ کا عمل ہم جنس پرستوں اور ترقی یافتہ ممالک میں  ایڈز روکنے میں کتنا مفید ہے اس پہ ابھی مکمل سائنسی تحقیقات نہیں ہوسکی لیکن مخالف جنس سے جنسی تعلق رکھنے والے لوگوں میں ختنہ کے عمل سے ایڈز کے خطرہ کے کم ہونے کی بات ثابت ہوچکی ہے۔

ختنہ کے عمل ہیومن پیپلوما وائرس( Human papilloma virus)  سے ہونے والے سرطان یعنی کینسر، پیشاب کی نالی کی سوزش یا UTI اور عضو تناسل کے سرطان یعنی کینسر کا خطرہ کم کردیتا ہے۔لیکن ختنہ کا عمل جنسی ملاپ سے پھیلنے والے باقی امراض یعنی Sexually Transmitted diseases کا خطرہ کتنا کم کرتا ہے ابھی اس بارے میں تحقیقات مکمل نہیں ہیں ۔
2010ء میں ہونے والی  ایک تحقیق کے مطابق ختنہ کے عمل سے کسی پیچیدگی کا خطرہ چھوٹے بچوں میں 1.5% اور بڑے بچوں میں ۔ 6% ہے اور شدید یا جان لیوا پیچیدگیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔لہذا ختنہ جتنی جلدی کرا لیا جائے پیچیدگی کا خطرہ اتنا کم ہے۔
خون کا بہنا، انفیکشن، اور حد سے زیادہ یا جم جلد کا کاٹ دیا جانا اس عمل کی پیچیدگیاں ہیں اور ان کا خطرہ بھی بہت کم ہے اگر یہ عمل تجربہ کار فرد سے کرایا جائے۔

امریکن اکیڈمی آف پیڈیٹرکس کے مطابق ختنہ کے عمل کا جنسی فعل کا جنسی تحریک اور خواہش میں کمی بیشی کا کوئی منفی اثر نہیں ہے۔رائل ڈچ میڈیکل ایسوسی ایشن جو ختنہ کے خلاف سب سے زیادہ آواز اٹھاتی ہے وہ بھی اس عمل کو غیر قانونی قرار دینے کا نہیں کہتی بلکہ اس لئے اٹھاتی ہے کہ لوگ ناتجربہ کار افراد سے یہ عمل کرا کے بچوں میں کسی قسم کی پیچیدگی کے ذمہ دار نہ بنیں ۔
لیکن کچھ صورتیں ایسی ہیں جن میں ختنہ کا عمل نہیں کرنا چاہیے اور جب مجبوری زیادہ ہو تو شریعت بھی اجازت دیتی ہے کہ یہ عمل نہ کرایا جائے۔اس کی کچھ مثالیں پیشاب کی نالی کے سوراخ کا عضو تناسل میں غلط سمت میں کھلنا،عضو تناسل کے اگلے سرے کا خمدار ہونا، بچے کا وقت سے پہلے پیدا ہونا، بچے کی صحت کا مکمل طور پہ ٹھیک نہ ہونا، بچے کو خون بہنے کی بیماری یعنی ہیموفیلیا ہونا ہیں ۔ان صورتوں میں ختنہ نہیں کرانا چاہیے۔باقی سب صورتوں  میں ختنہ کے عمل سے بہت کم پیچیدگی کا خطرہ ہے اگر یہ تجربہ کار فرد سے کرائی جائے۔یہ پیچیدگیاں 12۔0 % صورتوں میں ہوتی ہیں اور شدید پیچیدگیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور جان لیوا پیچیدگیاں اتنی نایاب ہیں کہ اگر ہوجائے تو انہیں رپورٹ کرنا ہوتا ہے۔باقی ہر طرح کی چھوٹی پیچیدگیاں بیمارستان یا مطب یعنی ہسپتال میں داخل ہوئے بغیر قابل علاج ہیں ۔ ختنہ سے ہونے والے معمولی زخم ایک ہفتے سے دس دن میں ٹھیک ہوجاتے ہیں ۔
امریکن اکیڈمی آف پیدیٹرکس کے مطابق ختنہ کا فائدہ اس کے نقصان سے زیادہ ہے۔

ختنہ کا عمل قدیم آسٹریلیائی باشندوں یعنی ابوریجین اور پاپوانیوگنی، قدیم امریکی ازتک،انکا،مایان لوگوں ،چار ہزار قبل مسیح میں عرب لوگوں میں کی جاتی تھی جو کہ اسلام کے اس تصور کی تائید کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں عرب میں ختنہ لازمی قرار دیا گیا تھا اور یہ عمل قدیم عراق اٹ انتہائی دور واقع قدیم آسٹریلیائی باشندوں یعنی ابوریجین اور قدیم امریکیوں میں بھی رائج تھا جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رسائی نہیں تھی۔لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نعوذ بااللہ کسی اور تہذیب سے نقل کیا۔قدیم مصر میں اس عمل کی شہادت موجود ہے لیکن یہ شہادت دو ہزار قبل مسیح کے بعد کی ہے جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے پہلے گزر چکے تھے۔

ختنہ کا عمل نئے پیدا ہونے والے بچوں میں زندگی کے پہلے سال میں پیشاب کی نالی کی سوزش کا خطرہ بہت حد تک کم کردیتا ہے اور غیر ختنہ شدہ بچوں میں اس کا خطرہ دس گنا زیادہ ہے۔مزید برآں ختنہ کا عمل جنسی ملاپ کے ذریعے مخالف جنس میں ہونے والے بچہ دانی کے سرطان یعنی کینسر اور انفیکشن کا خطرہ کم کردیتا ہے۔مزید برآں یہ عضو تناسل کے اگلے حصے کی سوزش یا Balanitis,  Phillies,paraphernalia کا خطرہ کم کر دیتا ہے اور جنسی اعضا کی صفائی آسان کر دیتا ہے۔

لہذا اس ساری بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ ملحدین کی طرف سے اسلامی عمل ختنہ کو مضر صحت قرار دینا اور اسے جنسی استحصال قرار دینا محض تعصب پہ مبنی ہے جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور سائنسی پوسٹس ثابت کر چکی ہیں کہ ختنہ ایک مفید عمل ہے جس کے مضر اثرات بہت کم اور زیادہ پیچیدہ خطرات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

حوالہ جات:

http://dailyqudrat.com/world/11-Mar-2017/80441
http://www.opposingviews.com/counters/the-foreskin-is-bad-for-your-health
https://aimsfoundation.blogspot.com/2017/03/blog-post_8.html?m=1
https://www.dawnnews.tv/news/1013311
http://m.dw.com/ur/جرمنی-ميں -طبی-نگرانی-ميں -ختنے-کا-مجوزہ-قانون/a-16269579
http://m.kidshealth.org/en/parents/circumcision.html?WT.ac=
https://www.healthline.com/health/circumcision#followup5
http://www.nhs.uk/conditions/Circumcision/Pages/Introduction.aspx
http://www.webmd.com/sexual-conditions/guide/circumcision
http://www.mayoclinic.org/tests-procedures/circumcision/basics/what-you-can-expect/prc-20013585
Morris, BJ; Krieger, JN (November 2013). "Does male circumcision affect sexual function, sensitivity, or satisfaction?–a systematic review.”. The Journal of Sexual Medicine. 10 (11): 2644–57. PMID 23937309. doi:10.1111/jsm.12293.
Yang, Y; Wang, X; Bai, Y; Han, P (27 June 2017). "Circumcision does not have effect on premature ejaculation: A systematic review and meta-analysis.”. Andrologia. PMID 28653427. doi:10.1111/and.12851.
Jacobs, Micah; Grady, Richard; Bolnick, David A. (2012). "Current Circumcision Trends and Guidelines”. In Bolnick, David A.; Koyle, Martin; Yosha, Assaf. Surgical Guide to Circumcision. London: Springer. pp. 3–8. ISBN 978-1-4471-2857-1. doi:10.1007/978-1-4471-2858-8_1. Retrieved April 6, 2014. (Subscription required (help)).
"WHO and UNAIDS announce recommendations from expert consultation on male circumcision for HIV prevention”. World Health Organization. March 2007. Archived from the original on 2013-03-12.
American Urological Association. "Circumcision”. Archived from the original on 2013-08-25. Retrieved 2008-11-02.
Krill, Aaron J.; Palmer, Lane S.; Palmer, Jeffrey S. (2011). "Complications of Circumcision”. The Scientific World JOURNAL. 11: 2458–2468. ISSN 1537-744X. PMC 3253617  . PMID 22235177. doi:10.1100/2011/373829.
Neonatal Circumcision”. American Academy of Family Physicians. 2013. Archived from the original on 2015-07-21. Retrieved 2015-08-03
American Academy of Pediatrics Task Force on Circumcision (2012). "Technical Report”. Pediatrics. 130 (3): e756–e785. ISSN 0031-4005. PMID 22926175. doi:10.1542/peds.2012-1990. Archived from the original on 2012-09-20.
American Academy of Pediatrics Task Force on Circumcision (2012). "Technical Report”. Pediatrics. 130 (3): e756–e785. ISSN 0031-4005. PMID 22926175. doi:10.1542/peds.2012-1990. Archived from the original on 2012-09-20.
Friedman, B; Khoury, J; Petersiel, N; Yahalomi, T; Paul, M; Neuberger, A (4 August 2016). "Pros and cons of circumcision: an evidence-based overview.”. Clinical Microbiology and Infection. 22: 768–774. PMID 27497811. doi:10.1016/j.cmi.2016.07.030.
Morris BJ, Waskett JH, Banerjee J, Wamai RG, Tobian AA, Gray RH, Bailis SA, Bailey RC, Klausner JD, Willcourt RJ, Halperin DT, Wiswell TE, Mindel A (2012). "A ‘snip’ in time: what is the best age to circumcise?
BMC Pediatr. 12: 20. PMC 3359221  . PMID 22373281. doi:10.1186/1471-2431-12-20. Circumcision in adolescence or adulthood may evoke a fear of pain, penile damage or reduced sexual pleasure, even though unfounded.
Weiss HA, Larke N, Halperin D, Schenker I; Larke; Halperin; Schenker (2010). "Complications of circumcision in male neonates, infants and children: a systematic review”. BMC Urol. 10: 2. PMC 2835667  . PMID 20158883. doi:10.1186/1471-2490-10-2.
The American Academy of Pediatrics Task Force on Circumcision "Technical Report” (2012) addresses sexual function, sensitivity and satisfaction without qualification by age of circumcision. Sadeghi-Nejad et al. "Sexually transmitted diseases and sexual function” (2010) addresses adult circumcision and sexual function. Doyle et al. "The Impact of Male Circumcision on HIV Transmission” (2010) addresses adult circumcision and sexual function. Perera et al. "Safety and efficacy of nontherapeutic male circumcision: a systematic review” (2010) addresses adult circumcision and sexual function and satisfaction.
Larke N, Thomas SL, Dos Santos Silva I, Weiss HA (November 2011). "Male circumcision and human papillomavirus infection in men: a systematic review and meta-analysis”. J. Infect. Dis. 204 (9): 1375–90. PMID 21965090. doi:10.1093/infdis/jir523.
Rehmeyer C, CJ (2011). "Male Circumcision and Human Papillomavirus Studies Reviewed by Infection Stage and Virus Type”. J Am Osteopath Assoc. 111 (3 suppl 2): S11–S18. PMID 21415373.
American Academy of Pediatrics Task Force on Circumcision (2012). "Technical Report”. Pediatrics. 130 (3): e756–e785. ISSN 0031-4005. PMID 22926175. doi:10.1542/peds.2012-1990. Archived from the original on 2012-09-20.
Lissauer T, Clayden G (October 2011). Illustrated Textbook of Paediatrics, Fourth edition. Elsevier. pp. 352–353. ISBN 978-0-7234-3565-5.
Weiss HA, Larke N, Halperin D, Schenker I; Larke; Halperin; Schenker (2010). "Complications of circumcision in male neonates, infants and children: a systematic review”. BMC Urol. 10: 2. PMC 2835667  . PMID 20158883. doi:10.1186/1471-2490-10-2.
WHO and UNAIDS announce recommendations from expert consultation on male circumcision for HIV prevention”. World Health Organization. March 2007. Archived from the original on 2013-03-12.
Millett GA, Flores SA, Marks G, Reed JB, Herbst JH (October 2008). "Circumcision status and risk of HIV and sexually transmitted infections among men who have sex with men: a meta-analysis”. JAMA. 300 (14): 1674–84. PMID 18840841. doi:10.1001/jama.300.14.1674.
Kim H, Li PS, Goldstein M, Howard H; Li, Philip S; Goldstein, Marc (November 2010). "Male circumcision: Africa and beyond?”. Current Opinion in Urology. 20 (6): 515–9. PMID 20844437. doi:10.1097/MOU.0b013e32833f1b21.
Krieger JN (May 2011). "Male circumcision and HIV infection risk”. World Journal of Urology. 30 (1): 3–13. PMID 21590467. doi:10.1007/s00345-011-0696-x.
Siegfried N, Muller M, Deeks JJ, Volmink J; Muller; Deeks; Volmink (2009). Siegfried, Nandi, ed. "Male circumcision for prevention of heterosexual acquisition of HIV in men”. Cochrane Database of Systematic Reviews (2): CD003362. PMID 19370585. doi:10.1002/14651858.CD003362.pub2.
Jacobs, Micah; Grady, Richard; Bolnick, David A. (2012). "Current Circumcision Trends and Guidelines”. In Bolnick, David A.; Koyle, Martin;
https://islamqa.in

مزید دکھائیں

2 تبصرے

  1. فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی ضرور بتانا چا ہئیے کہ سنت ابراہیمی ختنہ مسلمانو ں تک کیسےپہونچا ؟ ۔عرب میں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اور بعد میں بھی غیر مسلم اقوام ختنے نہیں کروا رہی تھیں یا نہیں،عرب میں ۵۰۰ سنہ عیسوی میں بھی ختنے کا رواج تھا اور سنہ ۶۰۰ ھجری میں بھی ، اس کے بعد بھی ۔سوال یہ ہے کہ سنت ابراہیمی ختنہ فا ضل مضمون نگار کے مطا بق ختنہ كرانے كى مشروعيت حنيفيت كى تكميل ہے۔ کیسے اور کیوں؟ کیا ختنے کرانے والی تما اقوام کو مسلمان اور حنفی مان لیا جائے۔فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی بتانا چا ہئیے تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے لے کر ابو سفیان اور خالد ابن ولید سے لے کرحضرت عمر ؓ تک میں سے کیا کسی کا ختنہ قبول اسلام کے بعد ہواتھا یا وہ بھی رسول اکرم ﷺ کی طرح مختون پیدا ہوئے تھے،سوال یہ بھی ہے کہ احادیث کے مطابق سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ختنہ نوے سال کی عمر میں خود کلہاڑ ی کے ذر یعہ کیا تھا،تو کیا اس کے لئے ان پر کو ئی وحی نازل ہو ئی تھی، کسی خدا ئی حکم کی بنا پر انہوں نے ایسا کیا تھا؟۔سا ئنسی حقیقت کچھ بھی ہو ، بہت ساری باتیں کہی جا تی ہیں، یہ بھی کہا جاتاہے کہ پنج وقتہ نماز پڑھنے والے کی صحت بڑی عمدہ رہتی ہے،انہیں ورزش کئے بغیر ہی ہارٹ اٹیک کا کو ئی خطرہ نہیں رہتا، کیا نما ز نہ پڑھنے والے اور ورزش نہ کرنے والے سارے لوگ ہارٹ اٹیک سے مر جا تے ہیں؟یہی بات ختنہ کے سائنسی فوائد پر بھی کہی جاسکتی ہے۔ کیا ختنہ نہ کرانے والے بیشتر لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جس کا ذکر فا ضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔؟جہاں تک کسی سروے اور مطالعہ کا سوال ہے تو اس پر ایمان لانا لازم نہیں ہے،ہو سکتاہے اس کے دوسرے عوارض بھی ہوں۔ بقدرِ پیما نۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
    گر نہ ہو فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا۔

    1. فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی ضرور بتانا چا ہئیے کہ سنت ابراہیمی ختنہ مسلمانو ں تک کیسےپہونچا ؟ ۔عرب میں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اور بعد میں بھی غیر مسلم اقوام ختنے نہیں کروا رہی تھیں یا نہیں،عرب میں ۵۰۰ سنہ عیسوی میں بھی ختنے کا رواج تھا اور سنہ ۶۰۰ ھجری میں بھی ، اس کے بعد بھی ۔سوال یہ ہے کہ سنت ابراہیمی ختنہ فا ضل مضمون نگار کے مطا بق ختنہ كرانے كى مشروعيت حنيفيت كى تكميل ہے۔ کیسے اور کیوں؟ کیا ختنے کرانے والی تما اقوام کو مسلمان اور حنفی مان لیا جائے۔فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی بتانا چا ہئیے تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے لے کر ابو سفیان اور خالد ابن ولید سے لے کرحضرت عمر ؓ تک میں سے کیا کسی کا ختنہ قبول اسلام کے بعد ہواتھا یا وہ بھی رسول اکرم ﷺ کی طرح مختون پیدا ہوئے تھے،سوال یہ بھی ہے کہ احادیث کے مطابق سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ختنہ نوے سال کی عمر میں خود کلہاڑ ی کے ذر یعہ کیا تھا،تو کیا اس کے لئے ان پر کو ئی وحی نازل ہو ئی تھی، کسی خدا ئی حکم کی بنا پر انہوں نے ایسا کیا تھا؟۔سا ئنسی حقیقت کچھ بھی ہو ، بہت ساری باتیں کہی جا تی ہیں، یہ بھی کہا جاتاہے کہ پنج وقتہ نماز پڑھنے والے کی صحت بڑی عمدہ رہتی ہے،انہیں ورزش کئے بغیر ہی ہارٹ اٹیک کا کو ئی خطرہ نہیں رہتا، کیا نما ز نہ پڑھنے والے اور ورزش نہ کرنے والے سارے لوگ ہارٹ اٹیک سے مر جا تے ہیں؟یہی بات ختنہ کے سائنسی فوائد پر بھی کہی جاسکتی ہے۔ کیا ختنہ نہ کرانے والے بیشتر لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جس کا ذکر فا ضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔؟جہاں تک کسی سروے اور مطالعہ کا سوال ہے تو اس پر ایمان لانا لازم نہیں ہے،ہو سکتاہے اس کے دوسرے عوارض بھی ہوں۔ بقدرِ پیما نۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
      گر نہ ہو فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا۔

      حسن انصاری
      پٹنہ (بہار )۔ انڈیا
      فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی ضرور بتانا چا ہئیے کہ سنت ابراہیمی ختنہ مسلمانو ں تک کیسےپہونچا ؟ ۔عرب میں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اور بعد میں بھی غیر مسلم اقوام ختنے نہیں کروا رہی تھیں یا نہیں،عرب میں ۵۰۰ سنہ عیسوی میں بھی ختنے کا رواج تھا اور سنہ ۶۰۰ ھجری میں بھی ، اس کے بعد بھی ۔سوال یہ ہے کہ سنت ابراہیمی ختنہ فا ضل مضمون نگار کے مطا بق ختنہ كرانے كى مشروعيت حنيفيت كى تكميل ہے۔ کیسے اور کیوں؟ کیا ختنے کرانے والی تما اقوام کو مسلمان اور حنفی مان لیا جائے۔فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی بتانا چا ہئیے تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے لے کر ابو سفیان اور خالد ابن ولید سے لے کرحضرت عمر ؓ تک میں سے کیا کسی کا ختنہ قبول اسلام کے بعد ہواتھا یا وہ بھی رسول اکرم ﷺ کی طرح مختون پیدا ہوئے تھے،سوال یہ بھی ہے کہ احادیث کے مطابق سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ختنہ نوے سال کی عمر میں خود کلہاڑ ی کے ذر یعہ کیا تھا،تو کیا اس کے لئے ان پر کو ئی وحی نازل ہو ئی تھی، کسی خدا ئی حکم کی بنا پر انہوں نے ایسا کیا تھا؟۔سا ئنسی حقیقت کچھ بھی ہو ، بہت ساری باتیں کہی جا تی ہیں، یہ بھی کہا جاتاہے کہ پنج وقتہ نماز پڑھنے والے کی صحت بڑی عمدہ رہتی ہے،انہیں ورزش کئے بغیر ہی ہارٹ اٹیک کا کو ئی خطرہ نہیں رہتا، کیا نما ز نہ پڑھنے والے اور ورزش نہ کرنے والے سارے لوگ ہارٹ اٹیک سے مر جا تے ہیں؟یہی بات ختنہ کے سائنسی فوائد پر بھی کہی جاسکتی ہے۔ کیا ختنہ نہ کرانے والے بیشتر لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جس کا ذکر فا ضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔؟جہاں تک کسی سروے اور مطالعہ کا سوال ہے تو اس پر ایمان لانا لازم نہیں ہے،ہو سکتاہے اس کے دوسرے عوارض بھی ہوں۔ بقدرِ پیما نۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
      گر نہ ہو فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا۔

      حسن انصاری
      پٹنہ (بہار )۔ انڈیا
      فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی ضرور بتانا چا ہئیے کہ سنت ابراہیمی ختنہ مسلمانو ں تک کیسےپہونچا ؟ ۔عرب میں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اور بعد میں بھی غیر مسلم اقوام ختنے نہیں کروا رہی تھیں یا نہیں،عرب میں ۵۰۰ سنہ عیسوی میں بھی ختنے کا رواج تھا اور سنہ ۶۰۰ ھجری میں بھی ، اس کے بعد بھی ۔سوال یہ ہے کہ سنت ابراہیمی ختنہ فا ضل مضمون نگار کے مطا بق ختنہ كرانے كى مشروعيت حنيفيت كى تكميل ہے۔ کیسے اور کیوں؟ کیا ختنے کرانے والی تما اقوام کو مسلمان اور حنفی مان لیا جائے۔فا ضل مضمون نگار کو یہ بھی بتانا چا ہئیے تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے لے کر ابو سفیان اور خالد ابن ولید سے لے کرحضرت عمر ؓ تک میں سے کیا کسی کا ختنہ قبول اسلام کے بعد ہواتھا یا وہ بھی رسول اکرم ﷺ کی طرح مختون پیدا ہوئے تھے،سوال یہ بھی ہے کہ احادیث کے مطابق سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ختنہ نوے سال کی عمر میں خود کلہاڑ ی کے ذر یعہ کیا تھا،تو کیا اس کے لئے ان پر کو ئی وحی نازل ہو ئی تھی، کسی خدا ئی حکم کی بنا پر انہوں نے ایسا کیا تھا؟۔سا ئنسی حقیقت کچھ بھی ہو ، بہت ساری باتیں کہی جا تی ہیں، یہ بھی کہا جاتاہے کہ پنج وقتہ نماز پڑھنے والے کی صحت بڑی عمدہ رہتی ہے،انہیں ورزش کئے بغیر ہی ہارٹ اٹیک کا کو ئی خطرہ نہیں رہتا، کیا نما ز نہ پڑھنے والے اور ورزش نہ کرنے والے سارے لوگ ہارٹ اٹیک سے مر جا تے ہیں؟یہی بات ختنہ کے سائنسی فوائد پر بھی کہی جاسکتی ہے۔ کیا ختنہ نہ کرانے والے بیشتر لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جس کا ذکر فا ضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔؟جہاں تک کسی سروے اور مطالعہ کا سوال ہے تو اس پر ایمان لانا لازم نہیں ہے،ہو سکتاہے اس کے دوسرے عوارض بھی ہوں۔ بقدرِ پیما نۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
      گر نہ ہو فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا۔

      حسن انصاری
      پٹنہ (بہار )۔ انڈیا

متعلقہ

Close