نقطہ نظر

اشتہارات کا فتنہ: وقت سے قبل ہورہی ہیں فجر کی اذانیں

مسجدیں رمضان آتے ہی اشتہاروں سے پٹ جاتی ہیں اور بعد رمضان یہ سارے اشتہارات کوڑے دان کی نذرکئے جاتے ہیں حتی کہ رمضان میں بھی ان کا حشر کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

رمضان المبارک کی آمد کے موقع سے ہمارے دیار میں ختم سحر و وقت افطارکے جدول اور روزہ، اعتکاف، زکوٰۃ و عیدالفطر سے متعلق احکام پر مشتمل اشتہارات کی چھپائی اور ان کی تقسیم کا رواج کافی زور پکڑچکا ہے۔ لگ بھگ تمام دینی درسگاہیں اور ملی ادارے اسے اپنے لئے لازمی تصور کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بڑے اداروں کے مرکزی دفتر سے الگ اشتہار شائع کئے جاتے ہیں اور اس کے ذیلی اداروں سے الگ۔ مثلًا امارت شرعیہ، بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ، پٹنہ اپنا الگ اشتہار شائع کرتی ہے اور اس کا ایک ذیلی ادارہ ’دارالعلوم اسلامیہ، گون پورہ، پٹنہ‘ اپنا الگ اشتہار شائع کرتا ہے۔ اس طرح کے تمام اشتہارات میں ادارہ کی اہمیت کی وضاحت کے ساتھ ملت اسلامیہ سے مالی تعاون کی ایک اپیل ہوتی ہے جو ان کی اشاعت کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ راقم کا مشاہدہ یہ ہے کہ ان اشتہارات کو اب کوئی پڑھتا بھی نہیں، صرف ختم سحر و افطار کے اوقات دیکھنے تک ہی لوگ خود کو محدود رکھتے ہیں وہ بھی صرف اس ادارہ کے اشتہار کو جو ان کی نگاہ میں معتبر ہو اور یہ ہر صوبہ و علاقہ کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ لیکن ہر ادارہ اپنی شناخت بنانے کی فکر میں اپنا اشتہار ضرور شائع کرتا ہے اور اب تو تجارتی ادارے و مراکز بھی اپنی تشہیر کے لئے اس میدان میں کود پڑے ہیں۔

نتیجۃً مسجدیں رمضان آتے ہی اشتہاروں سے پٹ جاتی ہیں اور بعد رمضان یہ سارے اشتہارات کوڑے دان کی نذرکئے جاتے ہیں حتی کہ رمضان میں بھی ان کا حشر کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ بندہ نے آج ہی امارت شرعیہ کے لگ بھگ دو سو اشتہارات کو ایک مسجد کی فرش پر یوں ہی پڑے ہوئے دیکھا ہے جسے آج ۱۲؍ رمضان کے بعد بھی کوئی لینے والا نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان اداروں کو بھی اپنے اشتہارات کے حشر کا خوب اندازہ ہے، چنانچہ وہ ان کی معنویت کو ثابت کرنے کے لئے نت نئے اضافے کرتے رہتے ہیں مثلًا ان میں کیلنڈر کا شامل کرنا یا تاریخی یا قرآنی معلومات کا اضافہ کرنا وغیرہ اور ان کی چھپائی پر خوب توجہ دی جاتی ہے، بہترین سے بہترین کاغذ استعمال کئے جاتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ان کا حشرو ہی دیکھنے کو ملتا ہے جسے راقم نے سطور بالا میں ذکر کیا۔ اگر ان اشتہارات کا مقصد صرف منتہائے سحر اور افطار کے اوقات سے آگاہ کرنا ہے تو یہ مقصد ہر مسجد میں موجود دائمی اوقات کے کیلنڈر سے تو حاصل ہو ہی رہا ہے، پھر ملت کا اتنا بڑا سرمایہ ان اشتہارات کے اوپر کیوں خرچ کیا جارہا ہے ؟  رمضان کے علاوہ اور دنوں میں نماز و روزہ کے اوقات سے متعلق تمام تر رہنمائی آخر اسی دائمی اوقات کے کیلنڈر سے ہی حاصل کی جاتی ہیں جو مسجدوں میں موجود ہیں تو پھر رمضان میں ان اشتہارات کی آخر کیا ضرورت ہے؟  ماہ صیام کے گزرنے کے بعد شوال میں ہی دین دار افراد چھ روزے رکھیں گے تو کیا اوقات ختم سحر و افطار وہ ان نامور اداروں سے پوچھنے جائیں گے یا ان کا انحصار مسجد کے دائمی اوقات کے کلینڈر پر ہی ہوگا؟

پھر مجھے اپنے تدریسی زبان میں یہ Spoon-feeding Approach  لگتا ہے یعنی کسی کو اتنی مدد یا معلومات فراہم کرنا کہ اسے خود کے لئے سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ ایک بچے کو اگر ہمیشہ چمچہ سے کھلانے کی عادت لگادی جائے اور لقمے اس کے منہ میں ڈالے جاتے رہیں تو اپنا ہاتھ اس کام کے لئے استعمال کرنے کی اسے ضرورت کب محسوس ہوگی اور اس کی یہ صلاحیت کیوں کر نشو ونما پائے گی؟ نماز و روزہ کے فرض ہونے سے ہر فرد کے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان سے متعلق اوقات اور مسائل کی واقفیت رکھے اور لوگوں کو اس پر ابھارنا بھی چاہیے۔ اور جیساکہ بندہ نے عرض کیا اوقات کی جانکاری کے لئے دائمی اوقات کے کیلنڈر کافی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا زمانہ ہے اور انٹرنیٹ پر ایسی کئی سائٹس ہیں مثلًا www.salahtimes.com، www.islamicfinder.org، salah.com، hamariweb.com  وغیرہ جو انگلی کے ایک اشارے پر دنیا کے کسی بھی خطہ کے لئے یہ معلومات فراہم کردیتی ہیں۔ اگر امارت شرعیہ یا اس طرح کے دیگر ملی اداروں کو مسجدوں یا بازاروں میں موجود ان دائمی اوقات کے کیلنڈروں یا کتابچوں اور انٹرنیٹ پر موجود ان ویب سائٹس پر بھروسہ نہیں جس میں وہ حق بجانب ہوسکتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ علم جغرافیہ و علم ہیئت و توقیت کے ماہرین اور مستند علماء کرام کی ایک ٹیم بنائیں جو باریکیوں کے ساتھ تخریج اوقات صلوٰۃ کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا نظام الاوقات مرتب کریں جو ہندوستان کے مختلف خطوں کے لئے موزوں اور قابل استعمال ہو۔ اس نظام الاوقات کو کتابچہ اور پمفلٹ کی شکل میں مسجدوں کو فراہم کرایا جاسکتا ہے اور عوام الناس کو بھی مناسب ہدیہ پر دستیاب کرایا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی اسے اداروں کے ویب سائٹس پر بھی استفادہ عام کے لئے اپلوڈ کرایا جاسکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ہر سال اس مد میں ہونے والے بے شمار اخراجات کو روکا جاسکتا ہے بلکہ ملت کو اختلاف و انتشار سے بھی بچایا جاسکتا ہے جو ان اشتہارات کے مابین اوقات کے اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ گرچہ پٹنہ میں علماء کرام نے کم از کم ماہ مبارک میں ختم سحر و افطار کے اوقات میں یکسانیت اور اجتماعیت کو باقی رکھنے کی سعی کی ہے لیکن باوجود اس کے اختلافات دیکھے جارہے ہیں۔ یہاں بندہ صرف ایک اختلاف کی نشاندہی کررہا ہے جو ختم سحر واذان فجر سے متعلق ہے۔

 پٹنہ اور اس کے اطراف میں رمضان کا جو سب سے معتبر اشتہار تسلیم کیا جاتا ہے وہ ہے امارت شرعیہ کا اشتہار لیکن اس کے اور دائمی اوقات، اور انٹرنیٹ پر موجود نظام الاوقات میں بھی ۳؍منٹ سے لے کر ۶؍ منٹ تک کا فرق ہے اور ایک عام آدمی یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان میں سے کون بالکل صحیح ہے۔ بندہ یہاں صرف ایک ویب سائٹ www.islamicfinder.org  اورجناب محمد انس صاحب کے مرتب کردہ دائمی اوقات الصلوٰۃ برائے ہندوستان( مطبوعہ ادارہ اشاعت دینیات پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی، سنہ اشاعت ۲۰۰۳ء؁ ) سے امارت شرعیہ کے اشتہار میں دئے گئے اوقات کا رمضان کے صرف تین مختلف تاریخوں کا موازنہ کرکے قارئین پر یہ فرق واضح کردینا چاہتا ہے۔ ۱۷؍مئی ۲۰۱۸ء؁ یعنی یکم رمضان ۱۴۳۹؁ھ کو ختم سحر امارت شرعیہ کے اشتہار کے مطابق ۳؍۳۲ پر تھا جبکہ مذکورہ دائمی اوقات کے مطابق ۳؍۳۶پر اور www.islamicfinder.org کے مطابق ۳؍۳۸ پر۔ اسی طرح ۳۰؍مئی ۲۰۱۸ء؁ یعنی ۱۴؍ رمضان ۱۴۳۹؁ھ کو ختم سحر امارت شرعیہ کے اشتہار کے مطابق ۳؍۲۵، دائمی اوقات کے مطابق ۳؍۲۹ اور  www.islamicfinder.org کے مطابق ۳؍۳۱ پر ہوگا۔ پھر اسی طرح ۱۴؍جون ۲۰۱۸ء یعنی۲۹؍ رمضان ۱۴۳۹ ؁ھ کو ختم سحر امارت شرعیہ کے اشتہار کے مطابق ۳؍۲۳، دائمی اوقات کے مطابق ۳؍۲۶ اور  www.islamicfinder.org کے مطابق ۳؍۲۹ پر ہوگا۔ مذکورہ اعداد و شمار پر اگر آپ غور کریں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ دائمی اوقات الصلوٰۃ میں اور www.islamicfinder.org  پر دئے گئے ختم سحر کے اوقات سے امارت شرعیہ، پٹنہ کے اشتہار میں دئے گئے ختم سحر کے اوقات میں علی الترتیب لگ بھگ ۴ ؍منٹ اور ۶؍منٹ قبل کا فرق ہے۔ سال گزشتہ یہ فرق ۷؍منٹوں کا تھا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ۴-۶منٹ کا فرق احتیاطی بھی ہوسکتا ہے! جی میرا بھی یہی گمان ہے اور دائمی اوقات الصلوٰۃ میں درج ختم سحر کے وقت سے ۵-۶؍منٹ بلکہ ۱۰-۲۰؍منٹ قبل کھانے پینے سے رک جانے میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے لیکن قباحت تب ہوتی ہے جب اسی وقت پرہم آپ فجر کی اذان پکار دیتے ہیں (جیسا کہ ہمارے دیار میں رواج بن چکا ہے) جبکہ دوسرے نظام الاوقات کے مطابق ابھی فجر کا وقت شروع بھی نہیں ہوتا حالانکہ اذان کی صحت کے لئے نماز کے وقت کا ہونا شرط ہے۔ امارت شرعیہ کے اشتہار میں بھی اس بات کی تاکید موجود ہوتی ہے کہ فجر کی اذان ختم سحر کے دئے گئے وقت سے چند منٹوں کے بعد دیں لیکن اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ توجہ دلانے کے باوجود لوگ اسی مرقوم وقت پر اذان دینے کے لئے مصر دیکھے گئے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس دائمی اوقات الصلوٰۃ سے راقم نے امارت شرعیہ کے اشتہار کا موازنہ کیا ہے اس میں بھی یہ تاکید کی گئی ہے کہ فجر کی اذان ختم سحر کے دئے گئے وقت سے کم از کم ۵؍ منٹوں کے بعد دیں۔ تو اگر اس تجویز کو مدنظر رکھا جائے تو یہ فرق لگ بھگ ۹؍منٹوں کا ہوجاتا ہے۔

معاملہ کی سنگینی کا اندازہ آپ اس فتویٰ سے لگا سکتے ہیں جو ہندوستان کے ایک نامور فقیہ شیخ خالد سیف اللہ رحمانی صاحب (ولادت: ۱۹۵۶ء؁) نے اس سلسلہ میں دیا ہوا ہے۔ شیخ سے یہ سوال کیا گیا: ’’کیا اذان وقت شروع  ہونے سے پہلے دی جاسکتی ہے؟ مثلًا فجر کی اذان کا وقت ۵؍۳۷ منٹ پر شروع ہو تو کیا ۵؍۳۰ پر اذان دی جاسکتی ہے(یعنی ۷؍منٹ قبل) ؟‘‘۔تو ان کا جواب یہ تھا:’’اذان کا مقصد نماز کا وقت شروع ہوجانے کی اطلاع دینا ہے، اگر وقت شروع ہوجانے سے پہلے ہی اذان دے دی جائے تو یہ مقصد فوت ہوجائے گا، اور لوگ بھی غلط فہمی میں پڑیں گے، اس لئے ظاہر ہے کہ وقت شروع ہونے کے بعد ہی اذان دینی چاہیے، قبل از وقت اذان دینی درست نہیں، اور اگر دے دی جائے تو اس کا اعتبار نہیں، خواہ فجر کا وقت ہو یا کسی اور نماز کا وقت ہو، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا کہ بلال! جب تک صبح طلوع نہ ہوجائے اذان نہ دو : ’یا بلال! لا تؤذن حتی یطلع الفجر‘ (السنن الکبری للبیھقی، ۱؍۵۶۵، حدیث نمبر ۱۸۰۲)، نیز حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ حضرت بلالؓ نے ایک بار صبح (صادق) سے پہلے ہی اذان دے دی، تو آپؐ نے ان کو اعلان کرنے کا حکم فرمایا کہ بندہ سوگیا تھا:  ’ان العبد قد نام‘ (سنن ابوداؤد، ۱؍۷۹، حدیث نمبر ۵۳۲، باب في الأذان قبل دخول الوقت) تاکہ لوگوں کو غلط فہمی نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ فجر میں بھی وقت شروع ہونے کے بعد اذان دینا ضروری ہے، قبل از وقت اذان دینی درست نہیں اور اگر دے دے تو اذان کا لوٹانا واجب ہے، یہ حنفیہ کی رائے ہے، البتہ بعض فقہاء کے نزدیک صرف فجر کی نماز میں رات کے اخیر حصہ میں اذان دینے کی گنجائش ہے۔  ‘‘۔ ( شیخ خالد سیف اللہ رحمانی، کتاب الفتاویٰ، زمزم پبلشرز، کراچی، ۲۰۰۷؁ء، جلد ۲، ص ۱۲۹-۱۳۰)۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے مومنوں پر نماز وقت کے تعین کے ساتھ فرض کیا ہے اور ارشاد ربانی ہے: {اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا} یعنی ’’یقینًا نماز مومنوں پر مقرر وقتوں پر فرض ہے‘‘۔(النسآء: ۱۰۳)۔ اذان سے مقصود دراصل فرض نماز کے وقت کے داخل ہونے کا اعلان ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اذان وقت کے یقینی طور پر داخل ہونے سے قبل نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ کی صحابہ کرامؓ کو یہی تعلیم بھی تھی۔آپؐ نے فرمایا : ’’فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَلْیُؤَذِّنْ أَحَدُکُمْ، وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قُرْآنًا‘‘ یعنی ’’جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہے اور امامت وہ کرے جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث نمبر ۴۳۰۲، بروایت عمرو بن سلمہؓ)۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا : ’’صَلُّوا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِي أُصَلِّی، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَلْیُؤَذِّنْ  لَکُمْ أَحَدُکُمْ، وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ‘‘ یعنی ’’نماز ادا کرو جس طرح مجھے تم نے نماز ادا کرتے دیکھا ہے، پس جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک تمہارے لئے اذان کہے اور (اگر حفظ قرآن میں کئی لوگ یکساں ہوں تو) جو عمر میں تم سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب اخبار الآحاد، حدیث نمبر۴۶ ۷۲، بروایت مالک بن حویرثؓ)۔ فجر کی اذان کے لئے آپؐ نے حضرت بلال کو یہ ہدایت دی: ’’لَا تُؤَذِّنْ حَتّٰی یَسْتَبِیْنَ لَکَ الْفَجْرُ ھٰکَذَا، وَ مَدَّ یَدَیْہِ عَرْضًا‘‘۔’’تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمھارے لئے اس طرح واضح نہ ہوجائے اور آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے‘‘۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصّلاۃ، فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُوْلِ الْوَقْتِ، بروایت بلالؓ)۔ اس روایت کو محدثین نے مرسل کہا ہے لیکن اس کی تائید حضرت ابوذرؓ کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ آپؐ نے بلال ؓ سے یہ ارشاد فرمایا : ’’یا بلال إنک لتؤذن إذا کان الصّبح ساطعًا في السماء و لیس ذٰلک الصبح، إنما الصبح ھکذا معترضًا‘‘ یعنی ’’اے بلالؓ تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی، صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے۔ (مسند احمد، مطبوعہ دارالحدیث، قاہرہ، ۱۹۹۵ء؁، حدیث نمبر ۲۱۳۹۵)۔ لہٰذا نماز فجر کے لئے اذان طلوع فجر (صبح صادق ) کے تحقق کے بعد ہی ہونا چاہیے کیوں کہ اس کے بعدہی اس کاوقت شروع ہوتا ہے جو طلوع آفتاب تک رہتا ہے۔

اس لئے شیخ خالد سیف اللہ رحمانی صاحب اپنے فتوے میں منفرد نہیں ہیں۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں اذان کی شرائط کے بیان میں یہ مرقوم ہے:

’’وَ لَا یُؤَذِّنُ لِصَلَاۃٍ قَبْلَ دُخُوْلِ وَقْتِھَا، وَیُعَادُ فِي الْوَقْتِ لِأَنَّ الْأَذَانَ لِلْاِعْلَامِ، وَ قَبْلَ الْوَقْتِ تَجْھِیْلٌ، وَ قَالَ أَبُویُوسُفَؒ وَ ھُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّؒ یَجُوْزُ لِلْفَجَرِ فِي النِّصْفِ الْأَخِیْرِ مِنَ اللَّیْلِ لِتَوَارُثِ أَھْلِ الْحَرَمَیْنِ، وَالْحُجَّۃُ عَلَی الْکُلِّ قَوْلُہٗ عَلَیْہِ السَّلَامُ لِبِلَالٍؓ ’لَا تُؤَذِّنْ حَتّٰی یَسْتَبِیْنَ لَکَ الْفَجْرُ ھٰکَذَا، وَ مَدَّ یَدَیْہِ عَرْضًا‘‘‘

 ترجمہ:’’اور کسی بھی نماز کے لئے اس کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان نہ دی جائے اور (اگر دے دی گئی تو) وقت کے اندر اس کا اعادہ کیا جائے، کیوں کہ اذان اطلاع دینے کے لئے ہوتی ہے اور وقت سے پہلے (اذان) لوگوں کو جہالت میں ڈالنا ہے۔ امام یوسفؒ فرماتے ہیں اور یہی امام شافعیؒ کا بھی قول ہے کہ رات کے نصف اخیر میں فجر کے لئے اذان دینا جائز ہے اس لئے کہ اہل حرمین سے توارث کے ساتھ یہ عمل منقول ہے، اور سب کے خلاف حضرت بلالؓ سے آپؐ کا یہ فرمان حجت ہے کہ تم اس وقت تک اذان نہ دو یہاں تک کہ تمھارے لئے اس طرح فجر واضح نہ ہوجائے اور آپؐ نے چوڑائی میں اپنے ہاتھوں کو پھیلایا‘‘۔(احسن الہدایہ از مفتی عبدالحلیم قاسمی بستوی ترجمہ و شرح اردو ہدایہ از شیخ ابوالحسن علی ابن ابی بکر فرغانیؒ، مکتبہ رحمانیہ، لاہور،، جلد۱، صفحہ ۳۳۴)۔

اسی طرح عالم عرب کے ایک نامور فقیہ ڈاکٹر شیخ وہبہ مصطفی الزحیلیؒ (ولادت ۱۹۳۲ء؁ – رحلت ۲۰۱۵ء؁) اپنی شہرہ آفاق تصنیف الفقہ الاسلامی و ادلتہٗ  میں اذان کی شرائط کے بیان میں وقت کے داخل ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ باتفاق فقہاء اذان وقت سے قبل درست نہیں ہوتی اور بہ اتفاق فقہاء حرام ہے، اگر کسی نے اذان دے بھی دی تو وقت کے اندر اس کا لوٹانا ضروری ہوگا کیوں کہ اذان اعلان کے لئے ہے اور وقت کے ہونے سے پہلے ہی اذان دے دینا معاملہ کو مزید انجانا کرنے کے مترادف ہے لہٰذا قبل از وقت اذان حرام ہے کیوں کہ اس میں تلبیس اور جھوٹ ہے وقت کے شروع ہوجانے کے بارے میں ‘‘۔ (ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی،  الفقہ الاسلامی و ادلتہٗ  (اردو)،دارالاشاعت، کراچی، ۲۰۱۲ء، جلد۱، ص۴۶۲)۔

اسی طرح ڈاکٹر حافظ عمران ایوب لاہوری (ولادت ۱۹۷۹ء) جو پاکستان میں فقہ الحدیث فاؤنڈیشن کے بانی ہیں اپنی تصنیف فقہ الحدیث میں صبح صادق سے پہلے فجر کی اذان کی بحث میں اپنی اختتامی رائے یوں تحریر کرتے ہیں : ’’یاد رہے کہ فجر کے وقت سے پہلے دی ہوئی اذان نماز فجر کے لئے کافی نہیں ہوتی بلکہ بعد میں دوسری اذان دینی پڑے گی جیسا کہ حضرت بلال ؓ کے بعد ابن ام مکتومؓ اذان دیتے تھے۔ البتہ امام مالکؒ، امام احمدؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک پہلی اذان ہی نماز فجر کے لئے کفایت کرجاتی ہے جبکہ امام ابن خزیمہؒ، امام ابن منذرؒ، امام غزالیؒ اور اہل حدیث کی ایک جماعت اس کے ناکافی ہونے کی قائل ہے کیوں کہ اس کے کافی ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور یہی بات راجح ہے‘‘۔ (فقہ الحدیث ازحافظ عمران ایوب لاہوری؛ ترجمہ و تشریح کتاب ’الدرر البھیۃ‘ از امام شوکانیؒ، فقہ الحدیث پبلیکیشنز، لاہور، ۲۰۰۴ء، جلد۱، صفحہ ۳۳۱)۔

غور کیجیے کہ اکثر فقہاء اسی بات کے قائل ہیں کہ وقت سے قبل اذان درست نہیں اور اگر دی گئی تو وقت کے اندر اس کا اعادہ واجب ہے ورنہ نماز گویا بغیر اذان کے پڑھی گئی جبکہ جمہور فقہاء کے نزدیک فرض نمازوں کے لئے اذان سنت مؤکدہ ہے اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک فرض کفایہ ہے۔ رمضان میں وقت سے قبل فجر کی اذان دینے کی دوسری خرابی کا تعلق فجر کی دوگانہ سنت سے ہے جسے صبح صادق کے بعد ادا کرنے کا حکم ہے۔ راقم کامشاہدہ یہ ہے کہ اذان کے وقت کچھ لوگ پہلے سے مسجد میں موجود ہوتے ہیں اور اذان ختم ہوتے ہی وہ یہ دوگانہ ادا کرتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ اذان ۶؍منٹ قبل ہورہی ہے ( جیسا کہ راقم نے سطور بالا میں نشاندہی کی ہے) تو ۳؍ منٹ کا وقفہ اذان کے مکمل ہونے میں لگتا ہے اور آگے ۳؍ منٹ میں لوگ دو رکعت سنت ادا کرلیتے ہیں۔ اس طرح ان کی فجر کی سنت بھی مشکوک ہوجاتی ہے کیوں کہ صبح صادق کے داخل ہونے سے پہلے ادا کی گئی۔اس لئے بھی راقم کا خیال یہ ہے کہ فجر کی اذان احتیاطًا اشتہار میں مرقوم وقت سے کم از کم ۱۰؍منٹوں بعد دی جائے تاکہ وقت کا ہونا پوری طرح یقینی ہوجائے اور کسی قسم کا اختلاف بھی نہ رہے۔

ان تمام مباحث کے پیش نظر راقم کی عوام الناس سے یہ اپیل ہے کہ وہ اشتہارات میں درج ختم سحر کے وقت سے ۱۰-۲۰؍منٹ قبل  کھانے پینے سے یقینا فارغ ہولیں لیکن فجر کی نمازاس کے دس منٹ بعد ہی ادا کریں۔ ائمہ، مؤذنین اور مساجد کمیٹی کے ذمہ داران سے یہ اپیل ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ فجر کی اذان اشتہار میں مرقوم وقت سے دس منٹ بعد ہی ہو اور اس مسئلہ کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ درسگاہوں اور ملی اداروں سے یہ اپیل ہے کہ وہ اشتہارات کی چھپائی پر ملت کا سرمایہ ضائع نہ کریں اور چندہ کے لئے امارت شرعیہ یا دیگر صوبائی یا مرکزی مستند اداروں کی سند تصدیق کو ہی استعمال کریں۔ امارت شرعیہ اور اس طرح کے دیگر صوبائی و مرکزی اداروں کے ذمہ داران سے یہ اپیل ہے کہ وہ دائمی نظام الاوقات کی تیاری پر توجہ دیں جیساکہ بندہ نے سطور بالا میں مشورہ دیا ہے۔ جب تک یہ متبادل سامنے نہ آجائے صرف امارتیں ہی اشتہار شائع کریں جس میں ہر عمل کے لئے احتیاط کے وقفہ کو واضح طور پر بیان کیا جائے۔ خاکسار کو امید ہے کہ جملہ متعلقین اس کی باتوں پر ضرور توجہ دیں گے اور اگر نہ بھی دیں تو بندہ نے صدا بلند کرکے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس سیہ کار کی تحریر کو کسی فتنہ کا باعث ہونے سے محفوظ رکھے اور ان باتوں کو پیش کرنے میں جو کمی کوتاہی ہوئی اسے اپنے فضل سے معاف فرمائے، نیز بشمول بندہ تمام مسلمین کو ان باتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close