نقطہ نظر

اصل بیماری: خود احتسابی سے دوری

ابراہیم جمال بٹ

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ’ ’جب تم دیکھو دنیا کے لوگ دنیا کے ہی پیچھے بھاگ رہے ہیں  تو اُس وقت اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارا نفس تم سے کیا فرمائش کر رہا ہے، اگر وہ اسی دوڑ کے لیے تمہیں  بھی اکسانے کی کوشش کر رہا ہے تو خوب جان لو کہ تمہیں  خود پر ہی وار کر کے خود سے ہی جنگ کرنی پڑے گی اور اگر اس وقت اس جنگ سے فرار اختیار کر لیا تو تمہارا بھی وہی حال ہونا ہے جو باقی لوگوں  کا ہونا ہے۔ اور اگر اس وقت خود کے خلاف خود ہی تلوار اُٹھالی تو تمہارا سرخرو ہونا طے ہے۔‘‘

 اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایک مسلمان کو اپنا محاسبہ آپ کرنا چاہیے۔ کیوں  کہ ہر شخص اپنے آپ سے بخوبی واقف ہے، اسے معلوم ہے کہ ’میرا ضمیر مجھے کس جانب اشارہ کر رہا ہے‘۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک مشہور قول ہے کہ’’اپنا حساب لو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔‘‘گویا خود ہی اپنا محاسب بننا خود کو فائدہ پہنچانے کے برابر ہے، اور اپنا محاسبہ آپ نہ کرنا خود ہی اپنا دشمن بننے کی مانند ہے۔ اس لحاظ سے بحیثیت مسلمان ہمیں  ہر حال میں  اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔یہ احتساب نہ صرف انفرادی طور پر ضروری ہے بلکہ اسے اجتماعی زندگی میں  بھی بڑی اہمیت ہے، قوموں  کے عروج زوال میں  احتساب کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔

 یہی احتساب قوموں  کی روح بن جاتا ہے اور اسی کے نہ ہونے کی وجہ سے قوم ترقی سے تنزلی کا شکار ہو جاتی ہے۔آج مسلم ممالک کے درمیان جو مسائل ومشکلات کے پہاڑ ہیں  ان کی ایک وجہ حکومتی سطح پر احتساب کا نہ ہونا بھی ہے۔مسلم ممالک ہر جگہ غیروں  کے باجگذار بن چکے ہیں  حالانکہ سب کا یکجا ہوجا نا ایک ایسی طاقت ہے جس کے آگے کوئی نہیں  ٹک سکتا تھا، لیکن افسوس ہم ایک ملت ہونے کے باوجود بھی اس قدر سخت ہو گئے ہیں  کہ ایک دوسرے کو برداشت ہی نہیں  کر پا رہے ہیں ۔ اس سب کا ثمر ہماری اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

 لفظ احتساب کا سن کر مومن کو تازگی محسوس کرنی چاہیے کیوں  کہ اس عارضی وفانی دنیا میں  ہی مومن کا حساب ہو جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ اس سے آخرت کے دربار میں  باری تعالیٰ حساب لے۔ اسی لیے مومن کو دعا کے طور پر سکھایا گیا ہے کہ وہ باری تعالیٰ سے یہ دعا مانگا کرے  ’ ’اے میرے خدا میرا حساب آسان بنا دے‘‘  دنیا میں  ہی حساب ہونا مومن کے ایمان کی تازگی کا باعث بن جاتا ہے۔ مومن کی دنیا قید خانہ اور آخرت میں  جنت جب کہ کافر کی دنیا جنت ہے اور آخرت جہنم۔ اس لحاظ سے مومن کو ہر حال میں  اس عارضی اور فانی قید خانہ میں  ہی اپنا محاسبہ کر کے اپنے لیے ابدی اور لاثانی جنت میں  قیام گاہ بنانا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں  خود احتسابی پیدا ہو جائے تاکہ ہماری انفرادی زندگی بھی کامیابی سے ہمکنار ہو اور اجتماعی زندگی بھی کامیابی سے گزرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close