نقطہ نظر

افراط لفظ بھی زبان کے نقائص میں سے ہے

ادریس آزاد

قران سے بات شروع کرتاہوں۔ بہت سے لوگ پورے یقین کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ قران کے کسی ایک لفظ کے کئی کئی معنی نکل سکتے ہیں۔ یہ بات قطعاً درست نہیں ہے۔ قران کا تو خیر اپنا الگ اعجاز ہے، کسی بھی زبان میں اگر ایسا ہو کہ ایک لفظ کے کئی معنی نکلتے ہوں تو وہ اس زبان کی کمزوری کی نشانی ہے، قطعاً فخر کی بات نہیں۔

اصل میں یہ غلط فہمی اس لیے پیدا ہوجاتی ہے کہ جس حقیقت کو ایسے احباب بیان کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں اس میں ایک منطقی مغالطہ کی وجہ سے قضیہ کو معکوس کربیٹھتے ہیں۔

اصل بات اِس کے بالکل اُلٹ ہے۔ یعنی اَپ سائیڈ ڈاؤن ۔ مطلب اگر کسی زبان میں ایک معنی کی کنسٹرکشن کے لیے کئی کئی الفاظ ہوں تو یہ اعجاز کی بات ہوتی ہے۔

کسی زبان میں ایک معنی کے مختلف پہلوؤں اور گوشوں کے لیے مختلف الفاظ ہوں تو زبان کو بلیغ سمجھا جاتاہے۔چنانچہ بالکل الٹ ہوگئی نا بات؟ ذرا دیکھیے تو!

۱۔ کسی ایک لفظ کے کئی کئی معنی نکلتےہیں
۲۔ کسی ایک معنی کے لیے کئی کئی لفظ ہیں

اب دیکھیں! دونوں جملے ساتھ ساتھ لکھے تاکہ ایک دوسرے کے الٹ ہونا صاف نظر آجائے۔

چنانچہ کسی بلیغ زبان کے لیے پہلا جملہ درست نہیں۔ دوسرا جملہ درست ہے اور یہ بات مصدقہ ہے۔

یہی عربی زبان کا ایک زمانے تک خاصہ رہا ہے۔ یعنی کسی ایک معنی کو زیادہ سے زیادہ متعین کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ الفاظ کا استعمال۔

مثلا اونٹ بچہ ہے تو الگ نام، اونٹ بڑا ہے تو الگ نام، اونٹ کالا ہے تو الگ نام، اونٹ پیلا ہے تو الگ نام، اونٹ موٹا ہے تو الگ نام، اونٹ پتلا ہے تو الگ نام، اونٹنی بچی ہے تو الگ نام، اونٹی بڑی ہے تو الگ نام، علی ھذالقیاس۔ یہ ہوتاہے اعجاز۔

اس سے تفہیم میں ابہام کم سے کم ہوتا چلا جاتاہے۔ بولی کے نمائندے آپس میں جب بات کرتے ہیں تو ایسے مخصوص الفاظ کی وجہ سے بہت کم وقت میں بہت زیادہ اور بہت ٹھیک بات سمجھ سکتے ہیں۔

کیونکہ ان کی بولی میں الگ الگ کیفیت اور الگ الگ شئے کے لیے الگ الگ نام ہیں۔ معنی تک پہنچنے کے لیے الفاظ کی انفرادیت کا یہ عالم کسی بھی زبان کے بلیغ ہونے کی نشانی ہے اور عربی تو مصدقہ طور پر بلیغ ترین زبان رہی ہے۔

اس لیے ایسا کیسے ہوسکتاہےکہ عربی زبان، اور وہ بھی قران میں آکر لفظوں کے قحط کا شکار ہوجائے؟ بالکل بھی نہیں۔ فلہذا قران کے ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی نہیں نکلتے بلکہ اس کے برعکس ہے۔ قران کے کسی ایک معنی کے کئی کئی پہلوؤں کے لیے کئی کئی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

قیامت کے لیے ایک لفظ نہیں ہے، کئی الفاظ ہیں۔ محشر، یوم العذاب، یوم یبعثون، یوم الحساب، یوم الدین، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔ تو کیا ہم ان سب الفاظ کا ایک ہی ترجمہ کریں؟ یعنی قیامت کا دن؟ یہ تو ہماری اپنی زبان کا نقص ہے۔ یعنی ہمارے پاس ان سب الفاظ کے لیے الگ الگ الفاظ نہیں تھے چنانچہ ہم نے مجبور ہوکر ایک ہی لفظ سے تمام الفاظ کا ترجمہ کرڈالا۔

ایک اور چیز جس کا ذکر میں نے عنوان میں کیا ہے، وہ ہے ’’افراطِ لفظ‘‘۔ کسی زبان میں اگر ایک متعین معنی کے لیے ایک متعین لفظ موجود ہے تو اسی متعین معنی کے لیے دو الفاظ نہیں ہونے چاہییں۔ کیونکہ معنی عین(exactly) وہی ہے، دونوں الفاظ کا۔ اگر کوئی زبان اس مسئلہ کا شکار ہے تو وہ نقص کا شکار ہے۔ یہ سارا خیال مجھے اس لیے آیا کہ ابھی

ایک دوست کے ساتھ کچھ گفتگو ہورہی تھی اور انہوں نے فرمایا:

’’ادریس صاحب! آپ نے افتخار صاحب کو ایک اصطلاح، ’’علم غائب‘‘ استعمال کرنے پر ٹوکا ہے، جب کہ آپ کا اپنا کہنا ہے کہ زبان کو دامن کشادہ رکھنا چاہیے اور نئے نئے الفاظ کو ہمیشہ ویلکم کہنا چاہیے‘‘

تو میں نے جواب دیا کہ:

’’اس معنی کے لیے ایک اصطلاح پہلے سے موجود ہے، ’’علم ِ غیب‘‘۔ عین اسی معنی کے لیے دوسری اصطلاح ’’علم غائب‘‘ ایجاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس طرح تو زبان افراطِ لفظ کا شکار ہوجائے گی۔ہاں جب بھی معنی کی کیفیت میں تھوڑی سی تبدیلی آئے نیا لفظ ضرور ایجاد ہونا چاہیے لیکن ان دونوں کے معانی، علم غائب اور علم غائب میں تو کوئی فرق نہیں‘‘

خیر! میری ذاتی رائے میں ایک متعین معنی کے لیے ایک سے زیادہ الفاظ کسی زبان کی کمزوری کی نشانی ہیں۔

بات ختم کرنے سے پہلے اُس خیال کو مکمل کرتا جاؤں جو اِس پوسٹ کے شروع میں عرض کیا کہ بعض لوگ ایک بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ قران کے الفاظ کے ایک سے زیادہ معنی نکلتے ہیں۔

ایسا بالکل نہیں ہے۔ خود قران نے اپنے معنی متعین کرنے کا طریقہ اپنے اندر بیان کیا ہے اور اس طریقہ کی رُو سے ہم کسی بھی غیر متعین معنی کو خود قران کے طریقہ پر متعین کرسکتے ہیں۔ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو صدیوں تک اپنی ڈی کنسٹرکشن کے مسئلہ کا حل اپنے اندر ساتھ لے کر وارد ہوئی ہے۔ قران پاک میں آیات ہیں جن کا مفہوم ہے کہ

قران میں دو طرح کی آیات ہوتی ہیں۔ ایک کا نام ہے ’’محکم آیات‘‘ اور دوسری کا نام ہے ’’متشابہہ آیات‘‘۔ محکم آیات وہ ہوتی ہیں جن کے معنی متعین ہے اور متشابہہ آیات وہ ہوتی ہیں جن کے معنی متعین نہیں ہیں۔ تب جولوگ علم میں راسخ ہیں معنی متعین کرنے کا عمل وہ انجام دیتے ہیں۔

وہ اُن آیات کے معنی قران کے بتائے ہوئے طریقے پر متعین کرسکتے ہیں۔ قران نے محکم کی بات کرکے متشابہہ کا مسئلہ حل کردیا۔ فرض کریں ہم دو ایک جیسی آیات لیتے ہیں،

وللہ یھدی من یُرید
وللہ یھدی من یُنیب

پہلی آیت کا ترجمہ ہے، ’’اللہ اُسے ہدایت دیتاہے جسے ہدایت دینے کا اللہ ارادہ کرلے‘‘ جبکہ دوسری آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ اُسے ہدایت دیتاہے جو اللہ کے آگے جھک جائے۔

صاف نظر آرہاہے کہ ایک ہی نحوی ترکیب کی مالک دو آیات میں معنی نکالنے والے نے ایک کی ضمیر اللہ کی طرف اور دوسری کی ضمیر بندے کی طرف لوٹادی ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتاہے؟

جملہ نحوی ترکیب کے اعتبار سے بالکل ایک جیسا ہے لہذا معانی لازمی طور پر ایک جیسی ساخت کا جملہ بنائیں گے۔ اب ہم ان آیات کا مسئلہ کیسے حل کرینگے؟ ضمیر کس کی طرف لوٹنی چاہیے؟ اللہ کی طرف یا بندے کی طرف؟ ’’اللہ جسے چاہے ہدایت دیتاہے‘‘ میں ضمیر اللہ کی طرف لوٹی ہے۔ ’’بندہ جھکھتاہے تو اللہ ہدایت دیتاہے‘‘، اس آیت میں ضمیر بندے کی طرف لوٹی ہے۔

اِس مسئلے کا حل کیسے ہو؟

ایک طریقہ ہے۔ یہ دیکھا جائے کہ آیا ان میں سے کوئی ایک آیت محکم ہے؟ اگر کوئی ایک آیت بھی محکم ہوئی تو دوسری آیت کا ترجمہ ہم اسی محکم آیت کے مطابق کرلینگے۔ ان آیات کو غور سے دیکھتے ہیں،

آئیے تھوڑی سی ڈی کنسٹرکشن کرتے ہیں:

اگر ہم دونوں آیات میں ضمیر کو دونوں کی طرف یعنی اللہ کی طرف بھی اور بندے کی طرف بھی لوٹا کر دیکھیں تو کیا ہوگا؟ دونوں کے دو دو ترجمے وجود میں آئے،

پہلی آیت کے دو ترجمے

اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اللہ سے جو چاہے ہدایت لے لے
۔۔

دوسری آیت کے دو ترجمے

جو اللہ کے آگے جھک جائے ہدایت لے لے
اللہ جس کے آگے جھک جائے اسے ہدایت دے دے

ذرا غور کریں تو دوسری آیت کا ہمیں فوراً پتہ چل رہاہے کہ دوسری آیت اصل میں ایک محکم آیت ہے۔ کیونکہ اس کے دو تراجم میں سے دوسرا ترجمہ قبول ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ بندے کے سامنے نہیں جھکتا۔ بندہ اللہ کے سامنے جھکا کرتاہے۔ چنانچہ فیصلہ ہوگیا کہ دوسری آیت، محکم ہے۔ اب ہم پہلی آیت کے دونوں تراجم کو دیکھتے ہیں:

اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اللہ سے جو چاہے ہدایت لے لے

اس آیت کا معنی متعین نہیں ہے چنانچہ یہ ایک متشابہہ آیت ہے۔ لیکن اگر ذرا غور کریں تو اُس آیت ’’جو اللہ کے آگے جھک جائے‘‘ کی موجودگی میں یہ متشابہہ نہیں رہتی۔ گرامر ایک جیسی ہونے کی وجہ سے ہم جملے کی ساخت سے واقف ہیں۔

اس لیے لازمی ہےکہ ہم اس آیت کا وہ معنی قبول کریں جس میں ضمیر محکم آیت کی طرز پر لوٹائی گئی ہے اور وہ ترجمہ ہوگا۔ ’’اللہ سے جو چاہے ہدایت لے لے‘‘۔

ایک بار اتنا طے ہوگیا تو ’’اللہ سے جو چاہے عزت لے لے اور اللہ سے جو چاہے ذلت لے لے‘‘ جیسی کئی متشابہہ آیات خود بخود کھُلتی چلی جائیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close