معاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

افہام و تفہیم: وقت کی اہم ضرورت 

آج اس بات کی  شدید ضرورت ہے کہ نوع انسانی کو تمام مذہبی اور مسلکی اختلافات کو ختم کر کے  مل جل کر زندگی گزارنی چاہئے۔

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

آج اگر ہم دنیا کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت طشت ازبام ہوتی ہے کہ نوع انسانی نے مادی ترقی کے تقریبا تمام مراحل طے کر لیے ہیں۔  وہیں  آج ہمارا معاشرہ  انسانی اقدار، روحانی عروج، بقائے باہم، انسان دوستی، اور باہم  مذہبی اقدار کے تحظ کے تئیں تنگ نظری کا شکار ہے ، ماضی پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور کے مد مقابل نہ تو اس وقت نوع انسانی کے پاس اس قدر دولت کی ریل پیل تھی اور نہ اتنی کثرت سے عیش و عشرت کے اسباب تھے اس کے باوجود لوگوں میں باہم الفت، ہمدردی اور انسانی اقدار کی تمام علامتیں موجود تھیں، حقیقت میں حساس اور   زندہ معاشرہ  وہی کہلاتا ہے جو انسانی تحفظ، صالح فکر، سماجی ہم آہنگی اور قومی و ملی یکجہتی جیسی  روشن خطوط پر عمل پیرا ہو، آج کا معاشرہ ترقی کی جانب تو گامزن نظر آتا ہے مگر اخلاقی و روحانی اقدار سے کوسوں دور ہے نیز  باہم مذاہب کے تقدس  سے بھی برگشتہ ہے اسی طرح  رب  کائنات کے عرفان اور اس کی حقیقت سے بھی تجاہل عارفانہ برت رہا ہے، ان وجوہات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے کی سب سے بنیادی ضرورت ہے کہ سماج میں ان اقدار  و اخلاقیات کو واپس لایا جائے جو ہمارے معاشرہ کی اقبال مندی کی حقیقی بنیاد تھیں۔

مبصرین کا کہنا ہیکہ نشاة ثانیہ ( Renaissance) اور اس کے بعد تحریک اصلاح ( Reformation)  کے نتیجہ میں دنیا کے بارے میں لوگوں کے نقطئہ نظر میں اہم تبدیلی واقع ہوئی، غورو فکر اور بحث کے مناہج تبدیل ہوگئے   اس سے قبل دنیا کے بارے میں لوگوں کے افکار و خیالات الہامی علم پر مبنی تھے اور معاشرہ کی اساس وحی کی روشنی میں ترتیب پائی تھی۔ لوگوں کو اس بات کے ماننے میں کوئی تامل نہیں تھا کہ انسان اور خالق کائنات کا خالق و مالک ذات باری تعالی ہے اور وہی اس کو چلانے والا ہے، ظاہر ہے ان پاکیزہ افکار ہی کی بنیاد پر انسان اس کائنات میں  فوقیت رکھتا تھا۔

لیکن تحریک اصلاح کے بعد زندگی کا تصور بدل گیا اور دنیا کے بارے میں مادی تصور کو فوقیت حاصل ہوگئی۔ اب معاشرے کو فلسفیانہ بنیادوں پر استوار کیا جارہا ہے، علاوہ ازیں مذہب کو نجی زندگی کا معاملہ قرار دے دیا، نتیجتا رفتہ رفتہ انسان الہامی اور اسکی پاکیزگی میں ترتیب پانے والے علوم و فنون   انسانی حیات سے بے دخل ہوگئے۔ بلکہ سچائی تو یہ ہیکہ نقطئہ نظر کی اس تبدیلی نے مذہب، سیاسیات، سماجیات،، اخلاقیات، تاریخ اور مذہبیات غرض زندگی کے تمام شعبوں پر گہرے اثرات مرتسم کئے۔

 یہاں یہ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ 31/ اکتوبر 1517کو مارٹن لوتھر  ِ(Martin Luther)  نے اپنے پچانوے اعتراضات جرمنی کے شہر وٹن برگ (wittenburg) کے چرچ کے دروازے پر چسپاں کر کے چرچ سے آزادی کا جو اعلان کیا وہ مذہب سے آزادی کا اعلان ثابت ہوا۔ اس سے لوگوں کو حق و ناحق کا فیصلہ روایتی طریقہ کے مطابق کرنے کی آزادی مل گئی اسی طرح  مذہب کے حوالہ کرنے کے بجائے اپنی مرضی سے کرنے کا اختیار مل گیا۔ چنانچہ جب لوگوں نے کلیسا کا قانون ماننے سے انکار کردیا جس سے وحی کی روشنی میں ترتیب پانے والی اخلاقی تعلیمات بے معنی ہوکر رہ گئیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرانسیسی شخص جان کیلون ( John Calvin)  نے عیسائیت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنیوا میں سود پر قرض دینا جائز قرار دے دیا، اس سے قبل سود پر قرض دینا اور سودی کاروبار حرمت کے دائرے میں داخل تھا، اسی طرح فطرت پرستوں نے مذہب کو  انسانی زندگی میں سنگ گراں تک بتا ڈالا،

ظاہر ہے آج بھی دنیا میں ایسے افراد ہزاروں کی تعداد میں موجود پیں جو مذہب کو سماجی فلاح کے لئے روڑہ تصور کرتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہیکہ مذہبی پیشواؤں نے اپنے اپنے مذہب کا غلط استعمال کیا ہے، اگر مذاہب کا پیغام عوام تک جوں کا توں  پہنچا ہوتا  تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آج نوع انسانی کے مابین جو باہم خلیج و پرخاش نظر آرہی ہے اسکی مضر شعائیں   پورے طور پر ماندھ پڑ چکی ہوتیں۔

البتہ اس وقت اس گیتئی ہستی کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذاہب و ادیان کے سلسلہ میں باہم جو غلط فہمیاں ہو گئیں ہیں ان کو یکجا ہوکر  دور کیا جائے، اور فلاحی و انسانی اقدار اور اس کی عظمت کو تمام اہل مذاہب اپنے فکر اور عقیدہ پر مرتکز رہتے ہوئے  بحال کریں تبھی جاکر ایک صحتمند اور صالح سوسائٹی کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں اسلام نے انتہائی اہم اور روشن اصول و ضوابط مرتب کئے ہیں   اسلام نے تو یہاں تک رواداری کا معاملہ اختیار کیا ہیکہ اللہ کے علاوہ جن کی پوجا، عبادت کیجاتی ہے ان کو سب وشتم مت کرو ۔ ضمنا یہ عرض کرنا ضروری معلوم ہو تا ہے کہ ہندوستان تکثیری معاشرہ پر مبنی ہے یہاں متنوع افکار وخیالات، متعدد تہذیبوں کو ماننے والے موجود ہیں۔ لھذا باہم ادیان کے احترام کو ہر شخص اپنی زندگی کا نصب العین سمجھ لے تبھی جاکر ہندوستان کی عظمت میں چار چاند لگین گے۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ آج ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک میں جامعات یونیورسٹیز کے اندر انٹر فیتھ کے مراکز نہیں ہیں یقینا یہ افسوس کا مقام ہے کہ اتنے بڑے جمہوری ملک کی جامعات میں مذہبی اسٹڈی سینٹر نہیں ہیں، اس لئے اس پر آشوب دور میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ جامعات میں انٹر فیتھ ڈائلاگ، اور ریلجیس اسٹڈی سینٹر قائم کریں تاکہ مذہب کے نام پر جو سیاست کی گرم بازاری  ہو رہی ہے وہ ختم ہوسکے، اگر ہم یوروپ کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کی تقریبا تمام جامعات میں ریلجیس اسٹدی کا نظام قائم ہے، اسی طرح اس بات کی بھی سخت ضرورت ہے کہ ہندوستان کی جامعات میں Human Right  انسانی حقوق کے شعبے بھی قائم کیئے جائیں تاکہ انسانی قدروں کو بحال کیا جا سکے۔ بڑے فخر سے یہ بات عرض کررہا ہوں کہ وطن عزیز میں علیگڑہ مسلم یونیورسٹی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں تمام ادیان  کو پڑھایا جاتا ہے، اس کے علاوہ انٹر فیتھ ڈائلاگ کا  بھی مرکز ہے جس میں گاہ بگاہ تمام ادیان کے نمائندے یکجا ہوکر باہم اخلاقی قدروں، انسانی تحفظ، سماجی مساوات اور قومی و ملکی مفاد کی بنیاد پر اقوام وملل کو جوڑنے کی تبلیغ کرتے ہیں، آج اس بات کی  شدید ضرورت ہے کہ نوع انسانی کو تمام مذہبی اور مسلکی اختلافات کو ختم کر کے  مل جل کر زندگی گزارنی چاہئے۔

سب سے بڑے دکھ کی بات یہ ہیکہ وطن عزیز میں گزشتہ کئی بر سوں سے مذہب کے نام پر سیاست کا گھناؤنہ کھیل کھیلا جارہا ہے، مزید حیرت اس بات کی ہے کہ  اب تو ملک میں ذات پات کی  اوچھی بساط بچھائی جارہی ہے ان ناپاک منصوبوں سے ملک میں نفرت اور تشدد کو فروغ  مل رہا ہے، مبصریں کا ماننا ہے کہ جس ملک اور معاشرہ میں سیاست مذہب اور ذات پات کے نام پر کیجائے تو یقینا وہ ملک اور معاشرہ کسی بھی صورت میں ترقی اور فلاح کے راستہ پر گامزن نہیں ہوسکتا ہے۔

آخر میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اپنے ملک کو خوشحال اور یہاں کی عوام کو ہر میدان میں مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہیکہ  ہم ملک میں سیکولرزم کو مضبوط کریں، مذہب کو کوئی بھی گروہ اپنی ذاتی جائداد نہ سمجھے اور ملک میں  جو تعبیر وتشریح  مذہب کی کیجا رہی ہے اس پر قد غن لگنی چاہئے ، یوں تو کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہندوستان  دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے گویا ہیاں تما م مذاہب و ادیان کے علمبردار قیام پذیر ہیں متنوع افکار کے محافظ و نگراں موجود ہیں  اس کے باوجود ملک میں میں افرا تفری ہے اقلیتوں اور دلتوں پر مسلسل مظالم کئے جارہے ہیں آخر ایسا کیوں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہیکہ ملک میں پرائمری سطح سے لیکر اعلی تعلیم کا ملکمل بندوبست ہے مگر کتنی جامعات و کالجیز ہیں جن میں مذاہب کی تعلیم و تربیت سے طلباء کو آشنا کرایا جا تا ہے جب تک جامعات میں مذہبی تعلیم کا بندوبست نہیں کرتے ہیں اس وقت یوں ہی نئی نسل باہم دوسرے مذاہب کی تعلیمات سے متنفر ہوتی چلی جائےگی اس لئے قوموں اور مذہبوں کے باہم اتحاد کے لئے ضروی ہیکہ ملک  کی جامعات میں گاہ بگاہ مذہبی مذاکروں کا بھی نظام قائم کریں اور باضابطہ سرکاری و نیم سرکار اداروں انٹر فیتھ کے مراکز قائم کئے جائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close