نقطہ نظر

الزامی اور جوابی بیانیے

ابو فہد

الزامی اور جوابی بیانیےکسی بھی صورت میں مین اسٹریم کے بیانیے نہیں ہونا چاہئیں۔ مین اسٹریم کا بیانیہ صرف اور صرف تعمیری ہونا چاہیے، تعمیری بیانیے سے میری مراد تحقیقی،تخلیقی اور تجزیاتی بیانیوں سے ہے۔

بیشک الزامی اور جوابی بیانیوں کی بھی ضرورت ہے،کیونکہ ہر سماج کوعلوم وفنون، مشاہدات اور تجربات کے تبادلے کی ضرورت ہوتی ہے اور علم،فن، مشاہدہ اور تجربہ، یہ سب باہم مکالمات سے فروغ پاتے ہیں اور پھر برسہا برس کی بحث وتمحیث کے بعد کلیات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ پھر انہی کلیات سے آنے والی نسلیں فائدہ اٹھاتی ہیں ۔اس حد تک ہمیں الزامی اور جوابی دونوں بیانیوں کی ضرورت ہے۔ تاہم مین اسٹریم کا بیانیہ ہمیشہ تعمیری ہی ہونا چاہیے۔ الزامی اور جوابی بیانیے کو ہمیشہ ہی ثانوی حیثیت سے پنپنا اور آگے بڑھنا چاہیے۔اگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے برعکس یہ ہوا (جیسا کہ ابھی ہمارے مسلم معاشروں میں ہورہا ہے) کہ تعمیری بیانیہ ثانوی حیثیت اختیار کرجائے اور الزامی وجوابی بیانیہ مین اسٹریم کا بیانیہ قرار پاجائے اور پھراسے اس قدر استمراراور قرار حاصل ہوجائے کہ کسی کوبھی اس کے آگے اور پیچھے کچھ دکھائی ہی نہ دے، تویہی ہوگا کہ ہمارا تمام علمی ورثہ اعادہ وتکرار کا شکار ہوجائے گا۔ پورا علمی پروسس دائروی شکل اختیار کرجائے گا، جسے آگے بڑھنا نصیب نہیں ہوگا۔ جیسے بندھے ہوئے جانور کھونٹے کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں کہ وہ زنجیرکی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے، بسا اوقات وہ چاروں طرف گھوم سکتے ہیں مگروہیں تک جہاں تک زنجیر کی لمبائی انہیں جانے کی اجازت دے گی۔

تو دوستو! الزامی اور جوابی بیانیےکو بس ایک حد پر ہی رکھ لیں۔گرچہ  قرآن میں  دعوت دین کے تعلق سے  غیر اقوام کے ساتھ  حکمت وموعظت سے آگے بڑھ کر ’مجادلے‘ کا حکم بھی موجود ہے:  وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ  ﴿ النحل:١٢٥﴾۔اس کے علاوہ  قرآن میں مباہلے کابیان  بھی ہے۔ (آل عمران : 61) تاہم قرآن کے یہ ارشادات  اس معنیٰ میں بھی خاص ہیں کہ ان میں ان لوگوں سے مکالمے ،مجادلے اور مباہلے کا بیان ہے جو دین میں اہل قرآن سے الگ ہیں یعنی مسلمان نہیں ہیں۔ اور دوسرے  یہ کہ مجادلے والے بیان میں حسنِ مجادلہ کی شرط  بھی ہے۔ اوریہ کوئی مستزاد یا اضافی شرط نہیں ہے بلکہ بنیادی شرط ہے کیونکہ اس کے بغیر مجادلہ کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ مجادلے کا مقصد منکرین حق کو حق کی طرف راغب کرنا ہے اور انہیں یقین دلانا ہے کہ حق وہ نہیں جسے وہ حق سمجھ رہے ہیں۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ارشادات میں الزام بر الزام اور جواب در جواب والے مکالمے کی بات نہیں ہے بلکہ سادہ طورپر سمجھانے اور پہنچانے کی حد تک حکم ہے، اگر وہ سمجھ جائیں تو فبہا اور اگر نہ سمجھیں تو لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿الکافرون:٦﴾ کی حدود پر آجانے کا آپشن رکھا گیا ہے۔ تاہم مکاملہ اور مجادلہ بہر صورت جاری رہنا چاہیے۔اور جہاں تک آیت مباہلہ کا تعلق ہے تو یہ کج بحثی  اوربے وجہ کی ضد کے سامنے بند باندھنے کی آخری تدبیر  کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہ کوئی معمول کا عمل نہیں ہے بلکہ  کج بحثی کے توڑ کی ایک کارگر تدبیر ہے ۔

مگر ہم مسلمانوں کا معاملہ الٹا ہے، ہم نے جو الزامی اور جوابی بیانیہ کھڑا کیا ہے وہ اپنے ہی بھائی بندوں کے خلاف کھڑا کیا ہوا ہے اور وہ دین کے اساسی اور بنیادی احکام میں کم اور ذیلی وفروعی احکام ومسائل میں زیادہ ہے۔اس کا بڑا نقصان یہی ہے کہ ہماری سوچ، فکر، عملی سرمایہ اورتمام ذہنی وفکری کاوش ایک دائرے میں ہی حرکت کررہی ہے۔ حالانکہ ہماری ذہنی وفکری کاوشوں کی حرکت بھی طبعی حرکت کے مساوی ہونی چاہیے۔ ایک بالر جب گیند پھینکتا ہے تو وہ بیک وقت دو طرفہ حرکت کرتی ہے، ایک دائروی  حرکت  ہوتی ہے اور دوسری  مستطیل۔ بال  اپنے آپ میں بھی گھومتی ہے اور پھر سامنے کی طرف بھی جاتی ہے۔  اگر بال لٹّو کی طرح اپنے آپ میں ہی گھومتی رہے اور سامنے کی طرف نہ بڑھے  تو مطلوبہ نتیجہ  حاصل نہیں  ہو سکتا ۔اس صورت میں  بال بیٹس مین  تک پہنچ ہی نہیں پائے گی۔دوطرفہ حرکت کا یہی عمل ہماری تمام علمی کاوشوں میں بھی ہونا ضروری ہے۔چیزیں ، موضوعات اور مباحث بیشک دہرائے جائیں تاہم وہ آگے کی طرف بھی تو بڑھیں اور ان سے مطلوبہ نتائج بھی تو حاصل ہوں؟۔ اور یہ اسی وقت ہوگا جب ہم تعمیری بیانیے کو مین اسٹریم کا بیانیہ بنائے رکھیں گے۔الزام بر الزام اور جواب درجواب سے تو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ کم از کم اب تک تو کچھ نہیں ہوا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close