خصوصینقطہ نظر

الفاظ جو دلخراش ہوسکتے ہیں!

شیخ خالد زاہد

ہم پاکستانی کسی حد تک لکیر کے فقیر واقع ہوئے ہیں اور رہی سہی کثر ہمارے ملک میں رائج آمرانہ طرز حکومت نے پوری کردی، اسی طرح ہمارے ملک میں طاقتور ہمیشہ سے طاقتور ہے اور اسکی نظر میں اور اختیار میں خدا ہے جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے قتل کردے، ہماری اکثریت مظلوم کا شکار ہے اور اس مظلومیت کا فائدہ یہ طاقتور خوب اٹھاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ جو لکھنا اور پڑھنا جانتا ہے ہم اسے تعلیم یافتہ کہہ سکتے ہیں یہاں اضافہ کرنا چاہونگا اور وہ یہ کہ جو اپنی مادری زبان لکھ اور پڑھ سکتا ہے اسے تعلیم یافتہ کہا جاسکتا ہے۔ اس با ت سے لوگوں کی کثیر تعداد اختلاف کرے گی کہ ہم پاکستانی آج تک ترقی کا کوئی حقیقی پیمانہ مرتب نہیں کر سکے اور نا ہی کسی قسم کی کوئی وضاحت بیان کر سکے ہیں۔  ہیں تلاش کرنے سے قاصر ہیں اور ہر کوئی اپنی اپنی مرضی کے راستوں پر چل کر سمجھ رہا ہے کہ وہ ترقی یافتہ ہوگیا ہے۔

پاکستان میں ترقی کو سب نے اپنی اپنی مرضی سے سمجھا ہے کسی نے سمجھا کہ تعلیم انگریزی زبان میں دی جائے انگریزی طرز کا پہناوا رکھا جائے اور بے باکی کے فروغ کی علم برداری سے ترقی آاجائے گی، کسی نے سمجھا کہ غربت کو کسی بھی طرح سے مات دے دو چاہے اسکے کیلئے کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا کسی کا خون ہی کیوں نا بہانا پڑے ترقی ہوجائے گی، کسی کی سمجھ میں آیا کہ جدید اسلحہ کی افزائش کی جائے اور ایٹم بم بنالیا جائے گا تو ہم ترقی یافتہ کہلائے جانے لینگے، کسی کا خیال تھا کہ تمام طرز کے میڈیا کو کھلی چھٹی و آزادی دے دینے سے ترقی ہمارے قدم چومتی دیکھائی دے گی، انٹرنیٹ آیا، کمپیوٹر آیا اور پھر اسمارٹ فونز آگئے، ان چیزوں کی آمد اور عام آدمی تک رسائی نے اس بات کو کسی حد یقینی بنا دیا کہ اب تو ترقی آہی گئی۔ ہم آگے بڑھتے ہوئے ایک چیز کو یاد رکھیں کہ تعلیم یافتہ کی ہم صرف اسے کہتے ہیں جو پڑھنا اور لکھنا جانتا ہو، دنیا کے جن ذہنوں نے کلیہ اخذ کیا تھا کیا وہ جانتے تھے کہ بغیر سمجھ کے پڑھنا یا لکھنے سے تعلیم یافتہ قرار دینا کن کو خوش کرنے کیلئے کافی ہوگا۔ جی ہاں بغیر سوچے اور سمجھے کسی عمل کو کرنا بے نتیجہ تو ہوتا ہی ہے بلکہ اکثر نقصانات کا باعث بنتا چلا جاتا ہے۔

اسلام کے نام پر حاصل کیا جانے والا پاکستان، اپنے آپ کو اسلامائزیشن میں نا تو مبتلا کرسکا اور نا ہی بچاسکا۔ اسلام نے میعار کو ترجیح دی ہے جبکہ اسکے برعکس اسلام مخالفین نے مقدار کو اہم قرار دیا ہے۔  اب ان دونو ں باتوں کا موازنہ کرنا ہے کہ تعلیم یافتہ کہلوانے کی شرط کو دیکھئے اور اسلام مخالف چلانے والے نظام کو نافذ کرنے کی شرط کو دیکھئے۔  ہمیں سمجھ آجانا چاہئے کہ اگر میعار کی بات کی جاتی تو ہر طرف سکون ہوتا امن ہوتا، تقسیم کرنے والے لوگ سمجھدار ہوتے اور عدل و انصاف کا بول بالا ہوتا۔ آپ دو زندہ مثالیں لے لیجئے پہلی امریکہ کے صدر کی جو کہ باقاعدہ اسناد کے ساتھ تعلیم یافتہ بھی ہو مگر کیا اسکے اقدامات اور حرکات کسی جاہل سے بھی بدتر ہیں، دوسری مثال اپنے وطنِ عزیز کی لے لیجئے ملک کے اعلی و خودمختار ادارے کسی کو نااہل قرار دے دیتے ہیں مگر لوگ پھر بھی کسی جنازے کی طرح اسے کاندھوں پراٹھائے گھوم رہے ہیں۔  سب سے پہلے تو دنیا کو پڑھے لکھے کی تعریف میں ردوبدل کرنے کی ضرورت ہے۔  کیونکہ صرف پڑھ لینا یا لکھ لینا قطعی تعلیم یافتہ ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔

آج لوگ بہت واشگاف لفظوں میں یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ امریکہ سے پیچھا چھڑوانے کا بہترین وقت ہے۔  جبکہ پہلے اس بات کا چرچہ کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے حقیقی محبت جتانے کا وقت ہے جس جس نے پاکستان کو نقصان پہنچایاہے وہ خود کو پاکستانی قانون کے حوالے کردے۔  لیکن ابھی افسوس کا مقام گزرا ہی نہیں ہے قانون کیا کر رہا ہے، قانون جسکو دل چاہ رہا ہے سڑکوں پر گولیوں سے بھون رہا ہے آپ کراچی شہر میں ہونے والے گزشتہ دنوں کے واقعات دیکھ لیجئے۔ اس سے کہیں بہتر ہمارے وہ جوان ہیں جو وطن عزیزکی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں اپنی شہادت سے لرزہ طاری کرتے جا رہے ہیں۔  واپس ترقی کے عوامل کی طرف چلتے ہیں جہاں ابتک کی ترقی موبائل اور موبائل طرز کے مواصلاتی آلات تک پہنچ چکی ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل سلطان صلاح الدین ایوبی کی کہی ہوئی ایک بات شدت سے رقم ہونے کیلئے جیسے تڑپ رہی ہواور وہ یہ کہ اگر کسی قوم کو شکست دینی ہو تو اسکے نوجوانوں میں فحاشی پھیلادو۔ سلطان کی کہاوت خالص تجربہ کا نچوڑ تھی جب انکے مخالفین نے یہ حقیقت جان لی تھی کے مسلمانوں کسی بھی طرح سے شکست نہیں دی جاسکتی تو انہوں نے فحش مواد بمع برہنہ عورتوں کی تصاویر سلطان کی فوج میں کسی بھی طرح سے پہنچانا شروع کردی اور وہ وقت آن پہنچا کہ مسلمان سپاہی گھوڑوں کی پیٹ سے اتر کر قحبہ خانوں میں جتھوں کی صورت جمع ہونے لگے اور دشمن کے جال میں پھنستے چلے گئے۔ ایک ایسا وقت بھی ہم پاکستانیوں پر آیا جب بھارتی وزیرِ اعظم نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ اب ہمیں پاکستان سے جنگ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب ہم پاکستان کے ہر گھرمیں موجود ہیں۔ ۔  یہ فحاشی کا کاروباربہت خاموشی سے معاشروں میں سرائیت کرتا چلا گیا اور کاغذ کے صفحات سے شروع ہونے والی تحریک رکی نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ چلتی رہی اور جدت اختیار کرتی چلی گئی۔

انٹرنیٹ کی دستیابی سے ہر فرد مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہے سکا اور خصوصی طور پر یہ ان لوگوں کیلئے مہلک بنتا گیا جو صرف پڑھنا اور لکھنا جانتے تھے۔  یہ فحاشی کا کاروبار بہت چھپ چھپا کر چلا کرتا تھا اور اس مواد کے حصول کیلئے عمر کی بھی حد ہوا کرتی تھی۔ یہ اس وقت کی باتیں ہیں جب لوگوں کے پاس ایک دوسرے کیلئے وقت ہوا کرتا تھا، ایک دوسرے کے بچوں کی پرورش میں اپنا حصہ ڈالنا اپنی اولین ترجیح سمجھا جاتا تھا۔آج انٹرنیٹ اور موبائل نے تمام حمائل پردے چاک کر دئیے ہیں، ہم ترقی یافتہ یا ترقی پسند کہلوانے یا جانے جانے کیلئے اپنے بچوں کو ان تمام چیزوں سے خود ہی روشناس کروا رہے ہیں درپردہ ہم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں وہ مواد جسے عام فہم میں فحاشی کہا جاتا ہے تک خود ہی رسائی فراہم کر رہے ہیں۔  اب ہمارے نوجوانوں کو کسی سے چھپنے کی ضرورت نہیں ہے اب تو ہم سب ہی ایک دوسرے سے چھپتے پھر رہے ہیں۔

ترقی کو ایک سیڑھی اور اوپر چڑھنے والوں کا ڈھنڈھورا ہے کہ اب کچھ بھی چھپانا نہیں اور نا ہی چھپنے دینا ہے اور سب کا سب کچھ ظاہر کردینا ہے۔ جس کا یہ تو فائدہ ہوا کہ معاملات کی بروقت نشاندہی ہونا شروع ہوگئی مگر معاملات نتیجے سے ابھی بھی عاری ہیں اس کا سہرا سماجی میڈیا کے سرباندھنا پڑے گا۔ قصور میں ہونے والے واقعات کی چھان بین بہت بڑی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے مگر افسوس اس امر کا ہے کہ ہمارے ملک کے اشرافیہ بھی اس لت میں کسی نا کسی ملوث پائے جا سکتے ہیں۔  سوچنے والی بات یہ ہے کہ دنیا کی نامی گرامی خفیہ ادارہ جس کا تعلق اس پاکستان سے ہے کیا وہ بھی اس قصور واقع کے ذمہ داروں تک نہیں پہنچ پا رہی یا پھر پہنچنا نہیں چاہا رہی یا پھر پہنچ چکی ہے اور اس بات کو صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔  ہمیں بہت اچھی طرح سے علم ہے کہ یہ بارہویں صدی سے شروع ہونے والا کھیل اپنے منطقی حدف کی تقریباً پہنچ چکا ہے۔ در اصل فحاشی صرف مسلمانوں کیلئے ہی فحاشی ہے دوسرے مذاہب میں فحاشی اخلاقی اقدار میں آتی ہے جبکہ ہمارے ایمان سے ٹکراتی ہے۔  دشمن اپنا شکار کر چکا ہے اور اب اس شکار کو ذبح کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ قصور میں زینب نامی بچی بھی اس ہی شکار کی بھینٹ چڑھی ہے۔ معلوم نہیں پاکستانی لکھوں یا مسلمان، بہرحال ہم سازشوں کے گنجلک جال میں الجھے ہوئے ہیں۔  ہماراماحول انتہائی الودہ ہوچکا ہے اور ہم بہت بچے رہنے کے بعد بھی آلودہ ہوچکے ہیں۔

 آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے جس قسم کے اقدامات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جتنی بھی بھاگ دوڑ کی جارہی ہے یہ سب کے سب واجبی ہیں اور صرف دیکھاوے کیلئے ہیں۔ سدِ باب شائد ہمارے بس میں ہوتے ہوئے بھی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔  تعلیمی اصلاحات اور دیگر اصلاحات سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا، فرق صرف اور صرف اپنا قبلہ درست کرنے سے ہوسکتا ہے۔  ترقی کی حقیقت کو بھی کسی پیغام پاکستان کی طرح واضح کریں ورنہ گنجوں نے مصنوعی ناخن لگا لئے ہیں اور وہ اپنے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو زخمی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔  میری اپنی لکھنے والی برادری اور خصوصی طور پر اساتذہ سے بہت دلی درخواست ہے کہ اس سارے معاملے میں جتنا انکا کردار اہم ہے شائد والدین کا بھی نہیں ہے۔ آگے بڑہیں اور ان گرتی ہوئی قدروں کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔  اللہ کی مدد انکے لئے ہی ہوتی ہے جو مدد کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں آئیں ہم اپنے حصے کا چراغ جلاتے جائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close